فروری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

تعلق بالمساجد سے روح کو زندہ کیجیے

ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن | فروری ۲۰۲۶ | تذکیر

Responsive image Responsive image

 ایک مسلمان کو اپنے مسلم معاشرے اور اجتماعیت کے ساتھ مربوط رہنے کے لیے ہروقت ایسی سرگرمیوں کی ضرورت ہے جو اس کے اس تعلق کی تشکیل اور نشو و نما میں بھرپور کردار ادا کریں ۔ اس مقصد کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ مساجد کے ساتھ ربط و تعلق ہے ۔ اس کے لیے دنیا کے ہجوم سے تھوڑا دُور ہونا ضروری ہے۔ ہم اپنی مصروفیات کا جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے گھر میں قیام کی برکتوں سے روح کو زندہ ، تروتازہ اور نشو و نما دینے والے ماحول میں مساجد سے جڑنے کی بہت ضرورت ہے۔ 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تمھیں وہ چیزیں نہ بتاؤں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے؟ وہ چیزیں: ناگواری کے وقت مکمل وضو کرنا، زیادہ چل کر مساجد کی طرف جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا‘‘۔پھر ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں: ’’یہی مسجد کے ساتھ تعلق ہے، یہی مسجد کے ساتھ تعلق ہے، یہی مسجد کے ساتھ تعلق ہے‘‘۔ (موطا ، امام مالک) 

یہ حدیث اس ایمانی و روحانی قوت کی وضاحت کرتی ہے جو ایک مسلمان کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ مسجد سے جڑ جاتا ہے، وہاں جا کر بیٹھتا ہے ، اور اللہ کے گھر میں فرشتوں کے ماحول میں کچھ وقت گزارتا ہے ۔ یوں مسجد مسلمان کے لیے ایک روحانی کلینک بن جاتی ہے جس سے وہ بے نیاز نہیں رہ سکتا، لہٰذا یہاں حاضری اور زیارت ضروری ہے، ایسی حاضری نہیں جو سرسری، رسمی اور نہایت مختصر ہو، جو صرف فرض ادا کرنے کی حد تک ہو، بلکہ یہ محبت کرنے والے کی حاضری ہو ، جس شخص کا دل اپنے رب کے گھر کی طرف کھنچا رہتا ہے، وہ وہاں مہمان بننا پسند کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اس کے شدید تعلق اور محبت کی بنا پر اسے رب کے گھر میں زیادہ دیر ٹھہرتے اور وقت گزارتے دیکھیں گے۔ وہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے، اور یہ 'مسجد کے ساتھ ’تعلق‘ کے ان مفاہیم میں سے ایک ہے جس کی طرف حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے۔ 

مساجد کے ساتھ تعلق کے بارے میں ملاء اعلیٰ (فرشتے) جھگڑتے ہیں کہ اس کے عظیم ثواب کی وجہ سے،اسے کیسے لکھا جائے؟جو شخص اس تعلق کی حفاظت کرتا ہے وہ خیر کے ساتھ جیتا ہے اور خیر کے ساتھ مرتا ہے، جیسا کہ حدیث نبویؐ میں آیا ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے پوچھا: ’اے محمدؐ،، میں نے عرض کیا: ’میں حاضر ہوں اے میرے ربّ، اور تیری سعادت چاہتا ہوں‘، اللہ نے فرمایا: ’ملاء اعلیٰ کس بارے میں جھگڑتے ہیں؟‘ میں نے عرض کیا: ’اے رب، کفارات کے بارے میں، جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے پیدل چل کر جانے کے بارے میں۔ اور ناگواریوں کے باوجود مکمل وضو کرنے کے بارے میں، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے کے بارے میں۔ جو شخص ان کاموں کی اہتمام کے ساتھ ادائیگی کرے گا، وہ خیر کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ مرے گا‘ ۔( کتاب التوحید ، ابن خزیمہ) 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مساجد سے تعلق قائم رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ ایک حدیث میں اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہےجس میں دوسرے انعامات کی خوش خبری بھی سنائی گئی ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ فرشتے اس بندے کو اللہ کے گھر میں بیٹھنے کے دوران گھیر لیتے ہیں، اور اس کے لیے رحمت اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں، پھر وہ نماز کا ثواب حاصل کرتا رہتا ہے(جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے) جب تک وہ اپنی جائے نماز پر رہتا ہے، چاہے وہ نماز پڑھ چکا ہو۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ لے پھر اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے تو فرشتے اس پر مسلسل درود بھیجتے رہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اور اگر وہ اپنی جائے نماز سے اُٹھ کر نماز کا انتظار کرتے ہوئے مسجد میں ہی بیٹھ جائے تو وہ نماز میں ہی شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اگلی نماز پڑھ لے‘‘۔ 

مسجد کے ساتھ تعلق ہی کو اُمت مسلمہ کی رہبانیت قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ روایت ہے: کہا گیا: یارسولؐ اللہ! ہمیں رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دیجیے، تو آپؐ نے فرمایا: ’’میری امت کی رہبانیت مسجدوں میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنا ہے‘‘۔ (کتاب الزھد ، ابن المبارک) 

مسجدوں کے ساتھ تعلق اصحابِ رسولؐ کی سنت تھی جس کی وہ پابندی کرتے تھے، اور ایک دوسرے کو اس کی ترغیب دیتے تھے، بلکہ اس میں تعاون کرتے تھے، اور اپنی مسجدوں میں اس کا اہتمام کرتے تھے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایسا کرتے دیکھا، تو ان کے اس عمل کی قدر افزائی فرمائی، اور انھیں خبر دی کہ اللہ ان کے اس عظیم فعل سے راضی ہے۔ 

روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے کسی حجرے سے باہر تشریف لائے، تو اپنی مسجد میں سات صحابہ کو دیکھا جو عرب اور موالی ( آزاد کردہ غلاموں) میں سے تھے۔ آپؐ نے ان سے ان کے بیٹھنے کا سبب پوچھا، تو انھوں نے کہا: ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپؐ نے اپنی انگلی زمین پر ماری، پھر تھوڑی دیر سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے رب عزوجل نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’وہ فرماتا ہے: جس نے نماز کو اس کے وقت پر ادا کیا، اور اس کی حدود کو قائم رکھا، تو اس کے لیے میرے ذمے ایک عہد ہے کہ میں اسے اس کے ذریعے جنت میں داخل کروں گا، اور جس نے نماز کو اس کے وقت پر ادا نہیں کیا، اور اس کی حدود قائم نہیں رکھیں، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی عہد نہیں، اگر میں چاہوں تو اسے آگ میں داخل کروں، اور اگر میں چاہوں تو اسے جنت میں داخل کروں‘‘۔(مسند ابن ابی شیبہ) 

کئی صحابہ کرامؓ روایت کرتے ہیں کہ انتظارِ صلوٰۃ کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آیت تَـتَجَافٰى جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (السجدہ۳۲: ۱۶) ’’اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں‘‘، اُس نماز کے انتظار کے بارے میں نازل ہوئی جسے عتمہ (عشاء) کہا جاتا ہے۔ (العلل الکبیر للترمذی) 

ایک اور آیت کے نازل ہونے کا سبب بھی انتظارِ صلوٰۃ ہے، جیسا کہ داؤد بن صالح سے روایت ہے، انھوں نے کہا، مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے کہا: اے میرے بھتیجے! کیا تم جانتے ہو کہ آیت:اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا ۝۰ۣ (اٰل عمرٰن۳:۲۰۰) کس بارے میں نازل ہوئی؟ میں نے کہا: نہیں، تو انھوں نے کہا: اے بھتیجے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی غزوہ کا انتظار نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ یہ نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے۔ (تفسیر الطبری) 

مساجد کے ساتھ تعلق کے نفسیاتی فوائد 

جو شخص مساجد کے ساتھ تعلق اور اس کی ترغیب دینے والی آیات و احادیث پر غور کرتا ہے، وہ یہ جانتا ہے کہ یہ محض ایک عام عبادت نہیں، یا محض ایک پُرسکون جگہ پر ٹھہرنا نہیں، بلکہ یہ روح کی غذا ہے، تاکہ وہ زندگی کی تھکاوٹوں اور مصروفیتوں کے مقابلے میں مضبوط و مستحکم ہو، اور روح پر حملہ کرنے والی منفی قوتوں پر قابو پایا جائے، تاکہ روح بوڑھی نہ ہو، بلکہ جوان رہے اور مشکلات پر قابو پانے کی اپنے اندر صلاحیت رکھے۔ 

اسی طرح مساجد کے ساتھ تعلق اللہ تعالیٰ کے گھر میں اس کی پناہ حاصل کرنا ہے، اور رحمٰن کی میزبانی میں رہنا ہے، جس سے نفس کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اور اس کا مومن کے نفس پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ 

مساجد کے ساتھ تعلق میں مساجد کو آباد کرنے اور انھیں اس بے رُخی اور نظراندازی سے بچانے کا احیاء ہے جو ہم آج اس غالب مادی تہذیب کے سائے میں دیکھ رہے ہیں، اور یہی وہ مفہوم ہے جس کو قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا ہے: 

فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللہُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْہَا اسْمُہٗ۝۰ۙ يُسَبِّــحُ لَہٗ فِيْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۝۳۶ۙ رِجَالٌ۝۰ۙ لَّا تُلْہِيْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ  وَاِيْتَاۗءِ الزَّكٰوۃِ ۝۰۠ۙ يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ۝۳۷ (النور۲۴: ۳۶-۳۷)  

(اُس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) اُن گھروں میں پائے جاتے ہیں جنھیں بلند کرنے کا، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے۔ اُن میں ایسے لوگ صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے ہیں جنھیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کر دیتی۔ وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آ جائے گی۔ 

مساجد کے ساتھ تعلق کو زندہ کرنے کے طریقے 

اُمت کے افراد، جماعتوں اور ذمہ داران پر واجب ہے کہ وہ امت میں مساجد کے ساتھ تعلق کو زندہ کریں۔ اس تعلق کو زندہ کرنےوالے ذرائع میں سے چند نہایت اہم یہاں بیان کیے جاتے ہیں: 

  • جمعہ کے خطبات اور متعدد دروس کو مساجد کے ساتھ تعلق اور اس کی فضیلت کے بارے میں امت کو یاد دہانی کرانے کے لیے خاص کرنا۔ 
  • مسجد کو بستی کا مرکز بناتے ہوئے تزکیہ و تربیت کا ذریعہ بنایا جائے اور معاشرتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ 
  • ریڈیو اور ٹیلی ویژن پروگرام جو امت کو مساجد کے ساتھ تعلق قائم کرنے کی ترغیب دیں۔ 
  • ویڈیو کلپس نشر کرنا اور پوسٹس بنانا جو مساجد کے ساتھ تعلق کی ترغیب دیں۔ 
  • مساجد کو اس طرح تیار کرنا جو نمازیوں کو راحت کا احساس دلائے اور ان کے دلوں میں مساجد کے ساتھ محبت پیدا کرے۔ 
  • نمازیوں کا نمازوں سے کافی دیر پہلے آنا، اور ان کے بعد بھی کافی دیر تک ٹھیرنا۔ 
  • احادیث میں بیان کی گئی مدت کو مساجد میں ٹھیرنے کے لیے مختص کرنا، جیسے فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک ٹھیرنا، اور اسی طرح مغرب اور عشاء کے درمیان مسجد میں ٹھیرنا۔ 
  • مسجد میں دروس کی حوصلہ افزائی کرنا جو لوگوں کو مساجد میں ٹھیرنے کی اجازت اور موقع فراہم کریں۔ 
  • لوگوں کو مسجد جانے اور وہاں جماعتوں کی صورت میں موجود رہنے کی عادت ڈالنا، تاکہ وہ ایک دوسرے کو مساجد کے ساتھ تعلق کو زندہ کرنے کی ترغیب دیں۔