’’ان شاہی خاندانوں کو دیکھیے جو زبردستی اپنی طاقت کے بل بوتے پر امتیازی حیثیت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنے لیے وہ عزّت، وہ ٹھاٹھ، وہ آمدنی، وہ حقوق اور وہ اختیارات مخصوص کر رکھے ہیں جو دوسروں کے لیے نہیں ہیں۔یہ قانون سے بالاتر ہیں، ان کے خلاف کوئی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا، یہ چاہے کچھ کریں، ان کے مقابلے میں کوئی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی، کوئی عدالت ان کے نام سمن نہیں بھیج سکتی‘‘۔(سلامتی کا راستہ،ص ۱۹)
بادشاہوں کو حاصل استثنا کے بارے میں مولانا مودودیؒ کے کہے گئے اِن الفاظ پر ۸۵سال کا عرصہ بیت چکا۔ بادشاہوں پر نفرین بھیجنے والے ثناخوانِ تقدیس مغرب نے جمہوریت، آزادی اور مساوات کے تصورات کو روندا۔ انسانیت کو ملکوں میں خود تقسیم کرنے والوں نے جمہوریت کاشت کرنے کے نام پر انھی ملکوں کی سرحدوں کو بار بار پامال کیا۔ پھر اقوام متحدہ کے فیصلہ ساز ادارے سلامتی کونسل کےپانچ مستقل ممبر ممالک کو تاحیات یہ اختیار دے دیا کہ اگر اقوام متحدہ کے تقریباً سو ممالک کے ممبران ایک متفقہ قراراداد پاس کردیں،پھر سلامتی کونسل کے اجلاس میں مستقل اور غیر مستقل پندرہ ممبران میں سے چودہ اس کی حمایت کردیں تو بھی صرف ایک مستقل ممبر کا ویٹو انتہائی ڈھٹائی سے ساری محنت پر پانی پھیر سکتا ہے۔
الہامی تقدیس کو چیلنج کرنے والے آزاد خیالوں نے یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے نظریئے کو یہ تقدیس بخشی کہ کوئی محقق یا صحافی ہٹلر کے ہاتھوں ۶۰ لاکھ یہودیوں کے قتل کی مبالغہ آرائی پر تنقیدی سوال اُٹھائے تو اس کی جگہ مغربی ممالک کی آزاد فضا نہیں، جیل ہے۔ قانونی مساوات اور قانون کی حکمرانی کے علَم برداروں اور ان کے مقامی خوشہ چینوں نے صدورِ مملکت کو یہ اختیار دیا کہ جب طویل عدالتی عمل کے بعد کوئی قتل کی سزا کا حق دار قرارپا جائے تو صدر مملکت اس قاتل پر ترس کھاتے ہوئے اس کی سزا معاف کرسکیں، یعنی مقتول کے وارثوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکنے کا اختیار۔ حد یہ کہ ’ووٹ کو عزّت دو‘ اورجمہوریت، جمہوریت کا راگ الاپنے والی پارٹیاں اور شخصیات صدر اور طاقت ور اداروں کو قانون سے بالاتر رہنے کا تاحیات استثنا دے دیں تو یہ بات جمہوریت اور انسانیت نوازی کے علَم برداروں اور اسلام کی سربلندی کی خواہش رکھنے والے دونوں طبقات کی فکرمندی کا موضوع بننا چاہیے۔
تاحیات استثنا حاصل کرنے والی یہ شخصیات ہوں یا ممالک،کیا ان کے اس مرتبے پر پہنچ جانے کے بعد وہ تزکیۂ نفس اور سلوک کی اتنی منزلیں طے کرجاتے ہیں کہ ان کے دل سے تعصبات، محبت و نفرت کے جذبات، حُب ِ مال و اولاد اور انتقامی جذبات کا گزر ہی نہیں ہوتا ہے۔ سیکولرز کو تو اس کوچے کی خبر ہی نہیں اور نہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں ، جب کہ اہل ایمان کے ہاں بھی یہ مقام صرف ایک ہی ہستی کو حاصل ہے لیکن اس ہستی نے تو استثنیٰ کو اُمتوں کی ہلاکت کا سبب قرار دیا۔
چوری کے ایک مقدمہ کے فیصلہ پر جب رسولؐ اللہ کو سفارش کی گئی توآپؐ نے فرمایا:
تم سے پہلی اُمتیں اس وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں کہ جب ان کا کوئی بااثر آدمی جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کمزور آدمی جرم کرتا تو اس پر حد نافذ کر دیتے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔یہ تو فاطمہ مخزومی ہے، اگر فاطمہؓ بنت محمدؐ بھی چوری کرتی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جاتا۔ (بخاری و مسلم)
بادشاہوں نے تو اپنی تقدیس کے نام پر قانونی چور دروازے رکھے تھے لیکن جمہوریت اپنے دعوے کے مطابق کسی تقدیس کو نہیں مانتی، تو پھر آج قانونی استثنا کا کیا جواز ہے؟ طاقت ور اور کمزور اور حاکم اور محکوم کے درمیان برابری کا قیام ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔ جب یہ برابری گم ہوجاتی ہے تو گویا حق، طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ یوں عوام کی نظروں میں قانون کی تقدیس اور حکمرانوں کا احترام بھی مجروح ہوجاتا ہے۔ نتیجتاً عدل و انصاف لوگوں کے درمیان نایاب ہوجاتا ہے حالانکہ لوگوں کو عدل پر قائم رکھنا تمام الہامی کتابوں اور انبیاؑکی بعثت کا مقصود ہے:
وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۰ۚ (الحدید۵۷:۲۵) اور ہم نے نبیوں کے ساتھ کتاب اور میزان اُتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔
قرآن کے مطابق تو عدل کی زد میں اگر تم خود بھی آتے ہو تو بھی اس سے پہلوتہی نہ کرو۔ استثنا حاصل کرنے والا تو دوسروں کی گواہی کا راستہ بند کرنے ولا ہوتا ہے:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علَم بردار اور انصاف کے گواہ بن کر کھڑے رہو چاہے تمھارے انصاف اور گواہی کی زد خود تمھاری ذات، تمھارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریق معاملہ مال دار ہو یا غریب اللہ تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل کا دامن نہ چھوڑو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلوتہی کی تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔(النساء۴: ۱۳۵)
قرآن کے مطابق غیر مشروط اطاعت کا حق صرف اللہ اور اُس کے رسولؐ کے لیے ہے، کسی حکمران کے لیے نہیں کیونکہ غلطی،کمزوری اور کجی سے پاک حکم صرف اللہ اور اس کے رسولؐ ہی کا ہوسکتا ہے:
اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور اُن لوگوں کی جو تمھارے امیر ہوں۔ پھر اگر تمھارے درمیان تنازعہ ہوجائے تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف لوٹائو۔ (النساء۴:۵۹)
گویا اُولی الامر کے بنائے گئے قانون اور نافذکیے گئے فیصلے کو اللہ اور رسولؐ کے حکم کی روشنی میں پرکھا جائے گا۔ ’اللہ اور رسولؐ کی طرف لوٹانے‘سے مراد یہ ہے کہ آئینی طور پر قانون کے سامنے حاکم اور محکوم برابر ہیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حاکم و محکوم میں برابری کی مثالیں قائم کی ہیں۔ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن صحابہؓ کی صفیں جنگ کے لیے سیدھی کر رہے تھے۔ آپؐ کے ہاتھ میں تیر تھا جس سے آپؐ لوگوںکی صفوں کو برابر کر رہے تھے۔ آپؐ جب سوادؓ بن غزیہ کے پاس سے گزرے اور انھیں صف سے آگے پایا تو آپؐ نے ان کے پیٹ پر تیر کو چبھوتے ہوئے کہا:’’سواد سیدھے ہوجائو‘‘۔ انھوں نے کہا:’’یارسولؐ اللہ! آپؐ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ اللہ نے تو آپؐ کو حق اور عدل کے ساتھ بھیجا ہے، آپؐ مجھے بدلہ دیں‘‘۔
یہ سن کر آپؐ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا اور کہا: ’’لو بدلہ لے لو‘‘۔
یہ دیکھ کر سواد بن غزیہ نے آپؐ کے شکم مبارک کے بوسے لینے شروع کر دیئے اور بتایا کہ میرا مقصد آپؐ کے جسم سے مَس کرنا ہی تھا۔ (سیرت ابن ہشام، ۱/۶۲۶، البانی: سلسلہ احادیث صحیحہ، ۶/۳۳۴)
حاکم اور محکوم کے درمیان مساوات کے قیام کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امیر کی زیادتی پر اس سے عوام کو بدلہ لینے کا حق دیا۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکوٰۃ جمع کرنے بھیجا۔ اس مسئلہ پر ایک آدمی سے ان کی تکرار ہوگئی۔ ابوجہمؓ نے اس کی پٹائی کی جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ اس کے اہل قبیلہ رسولؐ اللہ کے پاس آئے اور کہا: یارسولؐ اللہ! ہمیں بدلہ چاہیے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ بدلے میں اتنا مال لے لو مگر وہ راضی نہ ہوئے۔ آپؐ نے مال بڑھا کر کہا کہ اتنا لے لو لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے۔ پھر فرمایا کہ اتنا مزید لے لو تو وہ راضی ہوگئے۔ اب رسولؐ اللہ نے خطبہ دیا کہ قبیلہ لیث کے یہ لوگ میرے پاس بدلہ لینے کے لیے آئے تو میں نے انھیں اتنی پیش کش کی تو وہ راضی ہوگئے۔ اب آپؐ نے ان سے پوچھا: ’کیا تم راضی ہوگئے؟‘ انھوں نے کہا:’نہیں‘۔ یہ سن کر مہاجرین انھیں مارنے کے لیے لپکے تو رسولؐ اللہ نے انھیں روک دیا اور بنولیث کو تاوان میں مزید اضافے کی پیش کش کی اور پوچھا کہ ’اب تو راضی ہو نا؟‘ تو انھوں نے کہا: ’جی ہاں‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’میں لوگوں کو خطاب کر کے تمھاری رضامندی کی خبر دے دوں؟‘ انھوں نے کہا: ’جی ہاں‘۔ اب حضورؐ نے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا: ’کیا تم راضی ہو؟‘ ان لوگوں نے کہا: ’ہاں‘۔ (سنن ابوداؤد، ۶/۵۹۲)
دُنیاوی زندگی کے آخری ماہ صفر کے آخری عشرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلالؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کریں۔ لوگوں کے جمع ہونے پر آپؐ نے فرمایا:’یامعشرالمسلمین! میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں اور تم پر میرا جو حق ہے، اس کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری جانب سے کسی آدمی کی حق تلفی ہوئی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کھڑا ہوجائے اور مجھ سے اس تکلیف کا قصاص لے لے۔مجمع دم بخود بیٹھا رہا۔ آپؐ نے دوبارہ پکار کر کہا:لیکن مکمل خاموشی۔ تیسری مرتبہ پھر فرمایا: ’’میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ میری طرف سے جس شخص کی حق تلفی ہوئی ہو، اسے چاہیے کہ وہ مجھ سے دُنیا میں ہی قصاص لے لے ، قیامت کے دن قصاص لینے سے پہلے پہلے‘‘۔
اب مجلس کے ایک سرے سے عمررسیدہ عکاشہؓ اُٹھے اور منبر رسولؐ کے سامنے پہنچ کر بولے: ’’میرے ماں باپ آپؐ پر فدا، اگر آپؐ نے بار بار ہمیں قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی یہ اقدام نہ کرتا۔ بات یہ ہے کہ ایک غزوہ میں فتح سے ہمکنار ہوکر آپؐ واپس آرہے تھے تو راستے میں ایک جگہ میری اُونٹنی آپؐ کی اُونٹنی کے آگے آگئی تو مَیں اُونٹنی سے نیچے اُتر پڑا اور آپؐ کے قدم چُومنے کے لیے آپؐ کے قریب ہوا تو آپؐ نے اپنی قضیب (لاٹھی) میرے پہلو پر ماری تھی۔ نہیں معلوم آپؐ نے جان بوجھ کر مجھے ماری تھی یا آپؐ اُونٹنی کو مارنا چاہتے تھے جو کہ مجھے لگ گئی‘‘۔
عکاشہؓ کی یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تمھیں اللہ کے جلال سے پناہ دیتا ہوں ، اللہ کے رسولؐ نے جانتے بوجھتے تمھیں مارا تھا‘‘۔ اب آپؐ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ وہ حضرت فاطمہؓ کے گھر سے آپؐ کی قضیب لے آئے۔
بلالؓ نے قضیب لا کر رسولؐ اللہ کو تھما دی اور آپؐ نے وہ قضیب عکاشہؓ کے ہاتھ میں دے دی۔ حضرت عکاشہؓ نے عرض کیا: ’’یارسولؐ اللہ! جب آپؐ نے مجھے مارا تھا تو میرے پیٹ پر کپڑا نہیں تھا‘‘۔ عکاشہؓ کی بات سن کر اللہ کے رسولؐ نے اپنے بطن اَقدس سے قمیض اُتار دی۔ سورج کی روشنی میں جسم مبارک یوں چمک رہا تھا جیسے صاف شفاف سفید قباطی کپڑے کی چمک ہو۔
عکاشہؓ بے تابانہ شکم مبارک کی طرف جھکے اور فرطِ عقیدت سے اس کے بوسے لینے لگے اور کہنے لگے: ’’آپؐ پر میرے ماں باپ قربان،کون یہ طاقت رکھتا ہے کہ آپؐ سے قصاص لے‘‘۔
حضوؐر پھر بھی فرما رہے تھے:’’عکاشہؓ! تمھیں اختیار ہے، قصاص لو یا مجھے معاف کر دو‘‘۔
حضرت عکاشہؓ نے کہا: ’’میں نے معاف کر دیا اس اُمید پر کہ مجھے اللہ قیامت کے دن معاف فرمائے گا‘‘۔
اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’یامعشر المسلمین! تم میں سے جو یہ چاہتا ہے کہ وہ جنّت میں میرے ہم نشین کو دیکھے، اسے چاہیے کہ وہ اس مردِ بزرگ کو دیکھ لے‘‘۔(المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: ۲۶۸۶)
تریسٹھ سالہ زندگی کے آخری دنوں میں بھی اللہ کے رسولؐ اپنی ذات کے لیے کسی استثنا کے طلب گار نہ تھے۔مصنف عبدالرزاق ابتدائی کتب حدیث میں سے ہے، اس میں ایک باب ہے: قود النبی من نفسہ (نبیؐ کا اپنی ذات سے بدلہ دینے کا باب) اور دوسرا باب ہے: باب القود السلطان (سلطان سے بدلہ لینے کا باب) ہے۔(المصنف، ۹/۴۶۲-۴۶۵)
اپنے دستوری مفہوم میں ا س سے مراد ہے شریعت اسلامی کے سامنے حاکم و محکوم کی برابری۔ گویا کسی کو کسی پر کوئی استحقاق حاصل نہیں ہے۔ مؤخرالذکر باب میں حضرت عمرؓ کا ایک اثر بیان ہوا ہے۔
حبیب بن صہبان راوی ہیں کہ میں نے حضرت عمرؓ کو یہ کہتے سنا: ’’مسلمانوں میں سے کسی کے لیے اللہ کی حد میں گھسنا جائز نہیں ہے، اِلا یہ کہ کوئی شرعی سزا اس کی اجازت دے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ان کی بغل کی سفیدی کو دیکھا جب وہ کھڑے اپنے آپ سے بدلہ دلوا رہے تھے۔(المصنف عبدالرزاق، ۹/۴۶۴)
حضرت عمرؓ نے سنت نبویؐ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے گورنروں سے بھی بدلہ دلوایا۔
عطا سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے گورنروں کو حج کے موقع پر جمع ہونے کا فرمان جاری کیا۔ جب عوام الناس جمع ہوگئے تو انھیں خطاب کیا: ’’لوگو! میں نے اپنے ان گورنروں کو تم پر حق کے ساتھ والی بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے انھیں اس لیے نہیں مقرر کیا کہ وہ تمھاری کھال ادھیڑیں یا تمھارے خون سے ہاتھ رنگین یا تمھارے مال پر دست درازی کریں۔ اگر تم میں سے کسی کا ان میں سے کسی کے خلاف ظلم کا کوئی دعویٰ ہو تو وہ کھڑا ہوجائے۔ اس دن کوئی نہیں کھڑا ہوا سوائے ایک شخص کے۔ اس نے کہا: امیرالمومنین ! آپ کے گورنر نے مجھے ظلماً سو کوڑے مارے ہیں۔حضرت عمرؓ نے تحقیق کے بعد اسے کہا: اُٹھو اور تم بھی بدلے میں اسے سو کوڑے مارو۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرو بن عاصؓ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور کہا: امیرالمومنین!اگر آپ ؓ گورنروں کے خلاف یہ دروازہ کھول دیں گے تو یہ بات ان پر گراں گزرے گی اور یہ ایک دستور بن جائے گا جسے آپؓ کے بعد والے بھی اختیار کریں گے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: کیا میں اس سے بدلہ نہ دلائوں ، جب کہ میں نے اللہ کے رسولؐ کو اپنی ذات سے بدلہ دلاتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر مدعی کو کہا: اُٹھو اور بدلہ لو۔ اب عمرو بن عاصؓ نے کہا: تو پھر ہمیں اس آدمی کو راضی کرنے کا موقع دیں۔ عطا کہتے ہیں: اُن لوگوں کو ہر کوڑ ےکے بدلے میں دو دینار کے حساب سے دو سو دینار لینے پر راضی کرلیا گیا۔(ابویوسف، کتاب الخراج، ۳/۸۰۶، طبقات ابن سعد، ۳/۲۱۱)
حضرت انسؓ راوی ہیں کہ مصر کے ایک شخص نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ گورنر مصر حضرت عمروؓ بن عاص کے بیٹے سے دوڑ میں وہ آگے نکل گیا تو گورنر کے بیٹے نے کوڑوں سے بے تحاشا اس کی پٹائی کر دی۔ حضرت عمرؓ نے عمروؓ بن عاص کوبیٹے سمیت مدینہ حاضرہونے کو لکھا۔ ان کے آنے پر آپؓ نے مصری کو حکم دیا کہ وہ عمرو کے بیٹے کو کوڑے مارے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اس مصری نے حضرت عمرو کے بیٹے کو خوب پیٹا اور ہم بھی چاہتے تھے کہ وہ اسے خوب پیٹے۔ (کنز العمال، ۶/۳۵۵)
عبداللہ بن عمرو بن عاص راوی ہیں کہ جمعہ کے دن خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر نے کہا کہ جب صبح ہو تو تم صدقہ کے اُونٹ ہمارے پاس لے آئو، ہم انھیں تقسیم کریں گے اور اجازت کے بغیر کوئی آدمی ہمارے پاس نہ آئے۔ ایک آدمی کو اس کی بیوی نے خالی نکیل تھماتے ہوئے کہا کہ یہ نکیل لے جائو، شاید اللہ ہمیں بھی کوئی اُونٹ دے دے۔ صبح جب ابوبکرؓو عمرؓاُونٹوں میں داخل ہورہے تھے تو یہ آدمی بھی ان دونوں کے ساتھ داخل ہوگیا۔حضرت ابوبکرؓ نے اسے دیکھ کر کہا کہ تم ہمارے پاس کیوں آگئے؟ اس کے ساتھ اس کے ہاتھ سے نکیل چھین کر اسے ماری۔ جب اُونٹوں کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو اس آدمی کو بلایا اور اس کی نکیل اسے تھماتے ہوئے کہا: تم اپنا بدلہ لے لو۔ حضرت عمرؓ نے یہ دیکھ کر کہا: آپ اسے دستور نہ بنائیں۔حضرت ابوبکرؓ نے کہا :مجھے قیامت کے دن اللہ سے کون بچائے گا؟حضرت عمرؓ نے کہا: آپؓ اسے کچھ دے کر راضی کرلیں۔
حضرت ابوبکرؓ نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ وہ ان کے پاس ایک اُونٹ، کجاوہ، ایک کمبل اور پانچ دینار لائے۔ چنانچہ یہ سب کچھ دے کر اس آدمی کو راضی کیا۔ (بیہقی، کنز العمال،۳/۱۲۷)
حضرت امام شعبی راوی ہیں کہ حضرت عمرؓ اور حضرت ابی ؓبن کعب کے درمیان کھجور کے ایک درخت کے بارے میں جھگڑا ہوگیا۔ دونوں نے باہمی رضامندی سے حضرت زیدؓ بن ثابت کو اپنا ثالث تسلیم کرلیا۔ حضرت زیدؓ کے پاس پہنچ کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہم نے اپنے ایک جھگڑے میں آپ کو ثالث تسلیم کیا ہے اور میں امیرالمومنین ہوکر خود آپؓ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ دستور ہے کہ فیصلہ کرانے والے خود ثالث کے گھر چل کر آیا کرتے ہیں۔
جب دونوں حضرت زیدؓ کے ہاں اندر داخل ہوئے تو حضرت زیدؓ نے اپنے بستر کے سرہانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت عمرؓ کو کہا کہ یہاں تشریف رکھیں۔
اس پر حضرت عمرؓ نے زیدؓ سے کہا کہ یہ تمھاری پہلی ناانصافی ہے۔ میں اپنے فریق مخالف کے ساتھ بیٹھوں گا۔ مراد یہ کہ عدالت میں بحیثیت خلیفہ میں کسی پروٹوکول کا حق دار نہیں ہوں۔
اب حضرت اُبی بن کعبؓ نے اپنا دعویٰ پیش کیا جس کا حضرت عمرؓ نے انکار کیا۔ اب شرعی لحاظ سے انکار کرنے والے (حضرت عمرؓ) کے ذمے قسم آتی تھی۔ اس کے پیش نظر حضرت زیدؓ نے حضرت اُبیؓ سے کہا: آپ امیرالمومنین کو قسم کھانے کی زحمت نہ دیں لیکن حضرت عمرؓ نے اس رعایت کو قبول نہ کیا اور قسم کھائی اور کہا: زیدؓ! صحیح قاضی تب بن سکتے ہیں جب ان کے نزدیک عمرؓ (خلیفہ) اور ایک عام مسلمان برابر ہوں‘‘۔ (بیہقی، ابن عساکر، کنزالعمال، ۳/۱۷۴)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی یہ مثالیں اور ایسے بیسیوں واقعات جو طوالت کے باعث رقم نہیں کیے جاسکتے، اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام میں کسی حکمران یا کسی ریاستی ادارے کو کوئی قانونی استثنا حاصل نہیں ہے اور نہ یہ شریعت اسلامی کے مزاج سے ہم آہنگ ہے۔ اسلام کی تبلیغ و اشاعت ہو یا اس کی برکات کا اظہار، وہ مساوات انسانی، حُریت فکروعمل کے فروغ اور عدل و انصاف کے قیام کے بغیر ممکن نہیں۔