وہ ریاست جو عالمی جنگ کی راکھ پر قائم ہوئی تھی، اور جسے لامحدود عرب حمایت حاصل تھی، وہ اس تاریک لمحے تک بھی پہنچ جائے گی؟ میں واضح الفاظ اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہتا ہوں، کیا اسرائیل تھوڑی مدت کے اندر اندر گر جائے گا۔
آج ہم جس چیز کا سامنا کر رہے ہیں وہ محض ’سیکورٹی کا بحران‘ یا ’سیاسی ناکامی‘ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک زلزلہ ہے جو صہیونی منصوبے کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔
تحریک حماس نے نہ صرف میدانِ جنگ میں فتح حاصل کی، بلکہ اس نے ’ناقابل تسخیر ریاست‘ کے افسانے کو بھی تباہ کر دیا، اور دنیا کے سامنے ہماری کمزوری کو بے نقاب کر دیا۔
ہم خون بہا رہے ہیں، مگر ہمارے لوگ بھاگ رہے ہیں۔یورپ، امریکا اور کینیڈا کی پروازیں مکمل طور پر بک ہو چکی ہیں، سفارت خانے ہجرت کی درخواستوں سے بھرے ہوئے ہیں۔
خاندان خاموشی سے اپنی جائیدادیں بیچ رہے ہیں، والد اپنے بیٹوں کو واپس نہ آنے کے ارادے سے بیرون ملک تعلیم کے لیے بھیج رہے ہیں۔ ہم کوئی ہجرت نہیں کر رہے… بلکہ ہم بھاگ رہے ہیں، ہاں، ہم ڈوبتے ہوئے جہاز سے چوہوں کی طرح بھاگ رہے ہیں۔
ذلّت کے مناظر روزانہ کا معمول بن گئے ہیں۔
کیمروں کے سامنے روتے ہوئے فوجی۔
زبردستی کے آبادکار شمال اور جنوب سے بھاگ رہے ہیں۔
وزیر چیخ رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں ___ مگر کوئی فائدہ نہیں۔
اور پوری قوم کو سکون آور گولیوں پر رکھا جا رہا ہے۔
یہ کیسی ریاست ہے جو اپنے دارالحکومت اور اپنی بستیوں پر روزانہ بمباری ہوتی دیکھتی ہے اور جواب نہیں دے سکتی؟
یہ کیسی فوج ہے جو ہزاروں ٹینکوں کے باوجود ’غزہ کو گھٹنے ٹیکنے‘ میں ناکام ہو جاتی ہے؟
یہ کیسی قیادت ہے جو فتح کی بات کرتی ہے، جب کہ اندرونی طور پر ہم تباہ ہو رہے ہیں؟
حماس کی تحریک نے سب کچھ بے نقاب کر دیا۔
ہماری نسل نے فخر کیا، اور اس نفرت کی چنگاریوں کو بھڑکایا جو ہمیں اندر سے کھا رہی ہے۔ اندرونی سطح پر انتفاضہ قریب ہے، عرب خود پر اعتماد بحال کر رہے ہیں۔
اور ہم؟ ہم بکھرے ہوئے، خوف زدہ، اور اندر سے کھوکھلے ہیں۔
آج ہم ایک ایسی ہستی ہیں جس کا کوئی منصوبہ نہیں، کوئی سمت نہیں، کوئی جواز نہیں۔ ایک ایسی ریاست ہیں جس کی کوئی اخلاقیات نہیں، جو عام شہریوں کو قتل کرتی اور بچوں کو گرفتار کرتی ہے، اور پھر دنیا سے اس کے لیے تالی بجانے کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔
مستقبل قریب میں اسرائیل اس طرح نہیں رہے گا جیسا کہ ہم آج اسے جانتے ہیں۔
شاید یہ ’محصور قلعوں کی ریاست‘ بن جائے، یا ایک ’مسلح یہودی علاقہ‘ جو امریکی تحفظ کے ٹکڑوں پر زندہ رہے۔
اور شاید مکمل طور پر اس کا سقوط ہو جائے، اور زمین اس کے مالکان کو واپس مل جائے۔
کیا میں مبالغہ کر رہا ہوں؟تاریخ سے پوچھو، ہر وہ استعماری منصوبہ جو قتل اور جھوٹ پر مبنی تھا، وہ مٹ گیا۔ ہر وہ ہستی جو ظلم پر قائم تھی، وہ تباہ ہو گئی۔
گھڑی ٹک ٹک کر رہی ہے۔
اور جب اسرائیل گرے گا … اور یہ ضرور گرے گا … تو دنیا اس لمحے کے بارے میں بات کرے گی جب ایک جوہری ریاست نے اپنی انسانیت کو ترک کر دیا تھا اور سب کچھ کھو دیا تھا۔
اور ہم، اگر ہم اب بھی بیدار نہیں ہوئے، تو ہمیں ایک ایسی احمق قوم کے طور پر یاد رکھا جائے گا جو طاقت کے وہم میں جی رہی تھی،جب کہ دُنیا اسے گرتے ہوئے دیکھ رہی تھی!
بے حُرمتی کا شکار فلسطینی لاشیں ’تشدد‘ کے عقوبت خانے سے منسلک!
دنیا کہاں ہے؟ ہمارے تمام قیدی تشدد زدہ، ٹوٹی ہڈیوں اور کچلے اعضاء کے ساتھ واپس آئے، ایک فلسطینی مقتول کی والدہ۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے حکام نے دی گارڈین کو بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے واپس کی گئی کم از کم ۱۳۵ مسخ شدہ فلسطینی قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے ایک ایسے بدنام زمانہ حراستی مرکز میں رکھی گئی تھیں، جو پہلے ہی تشدد اور حراست میں ہلاکتوں کے الزامات کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔
وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البُرش اور خان یونس کے ناصر ہسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ ہر لاش کے تھیلے کے اندر ایک دستاویز موجود تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام لاشیں ’سدی تیمن‘ (Sde Teiman) نامی فوجی اڈے سے آئی ہیں، جو نیگیو صحرا میں واقع ہے۔
دی گارڈین کی جانب سے گذشتہ سال شائع کی گئی تصاویر اور عینی شہادتوں کے مطابق، فلسطینی قیدیوں کو وہاں پنجرے نما خیموں میں رکھا گیا تھا، آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں، ہاتھ پاؤں زنجیروں سے جکڑے گئے، ہسپتال کے بستروں سے باندھ دیا گیا اور ڈائپر پہننے پر مجبور کیا گیا۔
ڈاکٹر البُرش کے مطابق:’’لاشوں کے تھیلوں میں موجود ٹیگ عبرانی زبان میں تھے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ باقیات سدی تیمن میں رکھی گئی تھیں۔ کچھ کے بارے میں تو ڈی این اے ٹیسٹ کے ریکارڈ بھی وہاں کے تھے‘‘۔
گذشتہ سال اسرائیلی فوج نے سدی تیمن میں حراست میں ۳۶ قیدیوں کی ہلاکتوں کی تفتیش شروع کی تھی جو ابھی جاری ہے۔
امریکی ثالثی میں ہونے والے غزہ کے جنگ بندی معاہدے کے تحت، حماس نے جنگ کے دوران مرنے والے چند اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں واپس کیں، جب کہ اسرائیل نے اب تک ۱۵۰ فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی ہیں، جو ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد قید میں مارے گئے تھے۔
دی گارڈین کو دکھائی گئی فلسطینی لاشوں کی کچھ تصاویر [تشدد] کی خوفناک نوعیت کی وجہ سے شائع نہیں کی جاسکتیں۔ ان میں کئی مقتولین کی آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ پیچھے بندھے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تصویر میں ایک شخص کی گردن کے گرد رسی بندھی نظر آتی ہے۔
خان یونس کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ’’لاشیں دیکھنے سے واضح ہے کہ اسرائیل نے کئی فلسطینیوں کے خلاف قتل، فوری پھانسیاں اور منظم تشدد کے اقدامات کیے ہیں‘‘۔ ان شواہد میں شامل ہے کہ متعدد لاشوں پر نزدیکی فائرنگ کے نشانات اور ٹینکوں کے نیچے کچلے جانے کے آثار پائے گئے ہیں‘‘۔
ایاد برہوم، ناصر میڈیکل کمپلیکس کے انتظامی ڈائریکٹر، نے کہا کہ لاشوں پر نام نہیں بلکہ صرف کوڈ درج تھے اور شناختی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ کئی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان میں سے بیش تر فلسطینی قیدیوں کو قتل کیا گیا ہے، مگر یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ انھیں کہاں مارا گیا؟ سدی تیمن ایک ایسا مقام ہے جہاں غزہ سے لائی گئی لاشیں رکھی جاتی ہیں، لیکن یہ ایک قید خانہ بھی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ جاننے کے لیے تفتیش کی جائے کہ آیا ان میں سے کتنے افراد وہیں مارے گئے تھے؟
محمود اسماعیل شباط، عمر ۳۴ سال، شمالی غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی لاش پر گردن میں پھانسی کے نشانات اور ٹینک کے نیچے کچلے جانے کے آثار پائے گئے۔ اس کے بھائی رامی شباط نے اسے سر کی پرانی سرجری کے نشان سے پہچانا اور کہا:’’سب سے زیادہ دکھ یہ تھا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور جسم پر واضح تشدد کے نشانات تھے‘‘۔
اس کی والدہ نے کہا:’’دنیا کہاں ہے؟ ہمارے تمام قیدی تشدد زدہ ، ٹوٹی ہڈیوں اور کچلے جسموں کے ساتھ واپس آئے ہیں‘‘۔
کئی فلسطینی ڈاکٹروں کے مطابق: بہت سی لاشوں پر پٹیاں اور بندھے ہوئے ہاتھ اس بات کا اشارہ ہیں کہ انھیں سدی تیمن میں تشدد کے بعد قتل کیا گیا جہاں اسرائیلی میڈیا اور قیدخانے کے محافظوں کی شہادتوں کے مطابق، غزہ کے تقریباً ۱۵۰۰ فلسطینیوں کی لاشیں رکھی ہوئی ہیں‘‘۔
ایک گواہ نے دی گارڈین کو بتایا:’’میں نے دیکھا کہ غزہ سے ایک زخمی قیدی لایا گیا جس کے سینے میں گولی لگی تھی، آنکھوں پر پٹی، ہاتھ بندھے ہوئے، اور وہ بے لباس تھا۔ ایک اور مریض، جس کی ٹانگ پر گولی لگی تھی، بالکل اسی حالت میں پہنچا‘‘۔
دوسرے گواہ نے بتایا:’’ تمام مریض بستروں سے ہتھکڑیوں سے بندھے، بے لباس اور ڈائپر پہنے ہوئے، آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی حالت میں تھے۔ان میں سے کئی کو غزہ کے ہسپتالوں سے گرفتار کیا گیا تھا جب وہ علاج کروا رہے تھے۔ ان کے زخم گل سڑ گئے تھے، وہ درد سے کراہ رہے تھے‘‘۔
اس کے مطابق: ’’اسرائیلی فوج کے پاس ان فلسطینی قیدیوں کے حماس کے رکن ہونے کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ بعض تو بار بار پوچھتے تھے کہ انھیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟ ایک قیدی کا ہاتھ ہتھکڑی کے زخموں کے باعث گل گیا جسے کاٹنا پڑا‘‘۔
شادی ابو سیدو، فلسطینی صحافی (فلسطین ٹوڈے) نے بتایا: ’’مجھے ۱۸ مارچ ۲۰۲۴ء کو الشفاع ہسپتال سے اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا اور ۲۰ ماہ بعد رہا کیا ‘‘۔انھوں نے بتایا:’’مجھے ۱۰گھنٹے تک سردی میں بالکل ننگا رکھا گیا۔ پھر سدی تیمن منتقل کیا گیا، جہاں میں ۱۰۰ دن تک آنکھوں پر پٹی اور ہتھکڑیوں میں قید رہا۔بہت سے قیدی مر گئے، کئی پاگل ہو گئے، کچھ کے اعضا کاٹ دیے گئے، ان پر جنسی و جسمانی تشدد کیا گیا۔ انھوں نے کتوں کو ہم پر چھوڑ دیا جو پیشاب کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ مجھے کیوں گرفتار کیا گیا ہے، تو انھوں نے کہا: ’’ہم نے تمام صحافیوں کو ماردیا، وہ ایک بار مرے۔ لیکن تم یہاں مرے بغیر سو بار مرو گے‘‘۔
نجی عباس، فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل (PHR) کے قیدیوں کے شعبے کے ڈائریکٹر نے کہا:’’تشدد اور بدسلوکی کے جو آثار اسرائیل کی جانب سے واپس کی گئی فلسطینی لاشوں پر پائے گئے ہیں، وہ ہولناک ہیں مگر حیران کن نہیں۔یہ اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں جو ہماری تنظیم نے گذشتہ دو برسوں میں بار بار بتائی ہے، خصوصاً سدی تیمن کیمپ میں جہاں فلسطینیوں کو منظم تشدد اور قتل و غارت کا سامنا رہا‘‘۔
’فزیشن فار ہیومن رائٹس‘ کے مطابق: اسرائیلی حراست میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد، تشدد اور طبّی غفلت سے اموات کے مصدقہ شواہد پیش کرتی ہے۔ اور اب واپس کی گئی لاشوں کے معائنے، سب اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ آزاد بین الاقوامی تحقیق فوری طور پر شروع کی جائے، تاکہ اسرائیل میں ذمہ داروں کا احتساب کیا جا سکے‘‘۔
دی گارڈین نے لاشوں کی تصاویر ایک اسرائیلی ڈاکٹر کو دکھائیں جنھوں نے سدی تیمن کے فیلڈ ہسپتال میں قیدیوں کے علاج کے حالات دیکھے تھے۔ انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا:’’ایک تصویر میں نظر آتا ہے کہ آدمی کے ہاتھ ممکنہ طور پر زپ ٹائیز سے بندھے تھے۔ بازوؤں اور ہاتھوں کے رنگ میں فرق ظاہر کرتا ہے کہ سخت بندش کی وجہ سے خون کی روانی رُک گئی تھی۔ یہ شخص زخمی حالت میں قید میں ہلاک ہو سکتا ہے یا گرفتاری کے بعد تشدد سے جان دی ہوگی‘‘۔
ڈاکٹر مورس ٹڈبال بنز، اقوام متحدہ کے فرانزک ماہر، نے کہا:’’ضرورت ہے کہ آزاد اور غیر جانب دار فرانزک ماہرین کی مدد سے ان لاشوں کا معائنہ اور شناخت کی جائے‘‘۔
جب اسرائیلی فوج سے تشدد کے الزامات پر پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:’’ اسرائیل کے محکمہ جیل خانہ سے تفتیش کا کہا گیا ہے‘‘۔ مگر اسرائیلی محکمہ جیل نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جب کہ اسرائیلی فوج کا موقف رہا کہ وہ قیدیوں کے ساتھ ’’مناسب اور احتیاط سے برتاؤ کرتی ہے‘‘ اور یہ کہ ’’بدسلوکی کے کسی بھی الزام کی تحقیقات کی جاتی ہیں، اور مناسب صورتوں میں فوجی پولیس مقدمات کھولتی ہے‘‘۔
اقوام متحدہ کے مطابق:’’ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد ۷۵ سے زیادہ فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں میں مارے جا چکے ہیں‘‘۔(روزنامہ گارڈین، لندن، ۲۱؍اکتوبر ۲۰۲۵ء)
بروز جمعہ، ۱۸ ربیع الثانی ۱۴۴۷ھ کو پورے دو سال بعد غزہ کی جنگ کا ایک مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ دنیا کے لیے یہ دو سال صدیوں پر بھاری تھے اور حساس دل والوں کے لیے اس قدر تکلیف دہ تھے، جیسے خود ان کے اپنے سینوں میں خنجر گھونپ دیئے گئے ہوں۔ ان دو برسوں میں دنیا نے اپنی آنکھوں سے جو ہولناک مناظر دیکھے ،ان کے لیے انھیں بیان کرپانا مشکل ہے اوراپنے کانوں سے جو رپورٹس سنیں ان پریقین کرنا ناممکن ہے ۔ لوگوں نے غزہ میں ایسے ہولناک مناظر دیکھے جو بچوں کو بوڑھا کردیں، پہاڑوں کو متزلزل کردیں اور کمزور دل والوں کی دھڑکنیں بند کردیں۔ ان دوبرسوں میں پورا غزہ قتل کا میدان، موت کی وادی اور قیامت خیز حشرسامانی کا میدانِ کارزار بنارہا۔
لوگوں نے غزہ میں قتل وغارت گری اور قحط سامانی وفاقہ کشی جیسے ہولناک مناظر دیکھے۔ ایسے مناظر اس سے پہلے شاید ہی کبھی کسی نے دیکھے ہوں گے۔ اگر اہل غزہ کے جسموں میں ایسی روح نہ ہوتی جسے موت بھی آسانی سے نہیں مارسکتی، ایسا عزم نہ ہوتا جسے مہلک ہتھیاروں سے مغلوب نہیں کیاجاسکتا، اور اگروہ ایسے عزائم کے مالک نہ ہوتے جو ذلت وتسلط کو ناپسند کرتے ہیں اور غلامی کی زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں، تو شاید اس درندگی و بہیمیت کے ہاتھوں کچلے جانے والے دلوں میں اُمیدوں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ جاتے اورلوگوں کے دلوں سے رحم کا مطلب ہمیشہ کے لیے محو ہوجاتا۔
جب مجھے خبرملی کہ غزہ میں جنگ کے شعلے سرد پڑ گئے ہیں، تومیرے دل میں غزہ کا دورہ کرنے کاخیال پیدا ہوا۔ اس لیے نہیں کہ میں غزہ کے کھنڈرات دیکھنا چاہتا تھا، بلکہ اس لیے کہ غزہ کے نوجوانوں کے چہرے دیکھنا چاہتا تھا، ان کی زبانوں سے صبر وعزیمت کی داستانیں سننا چاہتا تھا۔ میں یہی آرزو لیے غزہ میں داخل ہوا۔ یہاں میں نے ایسی تباہی دیکھی جو عظمتوں کے قصے سناتی تھی، ایسے کھنڈرات دیکھے جو ایسی زبان میں بات کررہےتھے، جسے صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو آزاد اورباعزت زندگی کی اہمیت کو جانتے اور سمجھتے ہوں۔میں نے دیکھا کہ غزہ کی گلیوں سے ابھی تک بارود کی بُو اٹھ رہی ہے، غیر آباد اور ٹوٹے پھوٹے گھروں سے ابھی بھی دھوئیں کے مرغولے بلند ہورہے تھے، لیکن یہ عجیب بات تھی کہ اہل غزہ کے چہروں پر غموں کی پرچھائیاں نہیں تھیں۔ ان کے چہرے اور لب مسکراہٹوں سے سجے ہوئے تھے، جیسے وہ موت کی گھاٹی سے نکل کر خوابوں سے سجی زندگی کی روپہلی وادی میں آگئے ہوں، پہلے سے زیادہ تازہ دم اور پہلے سے زیادہ زندہ دلی کے ساتھ۔
میں نے یہاں لوگوں کوسراٹھاکر چلتے ہوئے دیکھا، جیسے وہ اس سرزمین کے بادشاہ ہیں۔ میں نے دیکھا کہ خواتین درد اور تکلیف کے باوجود خوشی سے جھوم رہی ہیں اور بچے ملبے کے درمیان ایسے دوڑتے پھررہے ہیں جیسے وہ جنت کے باغوں میں ہوں۔ میں نے دیکھا کہ لوگ خوشی سے مسرور ہیں۔ گویا ان پر کبھی کوئی مصیبت آئی ہی نہیں ، نہ انھیں محصور کیا گیا،نہ ان پر بمباری کی گئی اور نہ انھوں نے اپنے پیاروں اور جنت کے پھول جیسے بچوں کو کھویا ہے۔ میں نے ان کے درمیان چلتے ہوئے حیرت زدہ ہوکر ان کی آنکھوں میں دیکھا، ان میں فتح کی روشنیاں جگمگارہی تھیں۔ان کی آواز بلند اور پُرجلال تھی۔ میں نے ان کی زبانوں سے ایسا پُرکیف نغمہ سنا کہ میرا سینہ تشکر سے بھرگیا اور وجود اندر تک ہل گیا:’’ہم وہ قوم ہیں جو درمیان کی کوئی راہ نہیں جانتے،یا تو سربلند رہیں گے یا پھر شہادت کی موت مرجائیں گے‘‘۔
میرے قدم رُک گئے ، میں ان کے نغمات کو شوق وجستجو کے ساتھ سننے لگا۔
میں نے اپنے دل میں کہا: ’’اے دنیا کے بہادر ترین لوگو! سچ کہا تم نے ، واللہ! سچ کہاتم نے۔ تم نے عظمتوں کی راہ میں اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈالا۔بے شک جو جنتوں کے باغات کی تلاش میں ہوگا، انھیں یہ قیمت زیادہ نہیں معلوم ہوگی۔ تم دنیا میں سب سے بہادر قوم ہو،تمھارا مقام دنیا کے تمام لوگوں سے بلند ہے ، تم زمین پر چلنے والے ہر شخص سے زیادہ عظیم ہو۔ یہ تم ہی ہو جو خوفناک وادیوں میں بھی بے خوف وخطر کود پڑے۔ تم بھوکے پیاسے رہے یہاں تک کہ ٹینک، میزائل اور قیامت برساتی بندوقیں خون سے سیراب ہوگئیں۔ تم فاقہ کش رہے اور بھیڑیے اور گِدھ شکم سیر ہوتے رہے۔
تم سے کہا گیا کہ ’’ہتھیار ڈال دو یا ہجرت کرجاؤ ، یا پھر بے موت مارے جاؤگے‘‘۔ اورتم نے ڈرے اور ہچکچائے بغیر خطرات کا راستہ چُنا۔ تم عزیمت کی راہوں پر، جس میں قدم قدم پر موت گھات لگائے بیٹھی تھی، اس طرح خوشی خوشی اور ہنستے مسکراتے دوڑنے لگے جیسے کوئی عاشق اپنے محبوب کی طرف دوڑتا بھاگتا ہے۔ تمھیں یہ الزام دیا گیا کہ ’تم نے امن کے بدلے موت کو خرید لیا ہے‘، تو تم نے اس کا جواب دیا: ’خدا کی قسم! ہم نے خسارے کا سودا نہیں کیا‘۔
یارو! تم کیسے لوگ ہو آخر؟ تمھارے سینوں میں کیسے دل ہیں؟ واللہ ! میں نے اپنی زندگی میں ایسی قوم نہیں دیکھی، جو اپنے شہر کے کھنڈرات پر بھی فخر کے ساتھ کھڑی ہوسکے۔تمھارے روح ودل زخمی ہیں مگرتم خوشی کے ترانے گارہے ہو۔تمھارے اندرون میں آنسو ٹپ ٹپ گر رہے ہیں مگر تمھارے چہروں پر بشاشت اور مسکراہٹ پھیلی ہوئی ہے۔ تم زخموں سے نڈھال ہو مگرتمھارے چہروں پر کامرانی کا جوش وخروش ہے۔
اے غزہ کے لوگو! تم نے صرف عسکری فتح حاصل نہیں کی ہے، تم نے ناقابلِ یقین کہانی تخلیق کرڈالی ہے، جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ تم نے دنیا کو بتایا ہے کہ عزت سے جینا کسے کہتے ہیں؟ اور انسانوں کو سمجھایا ہے کہ انسانیت کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
بے شک تم انسانیت کا سرمایہ اور فخر ہو۔دنیا تمھیں یاد کرے گی جب جب بھی وہ سنجیدہ ہوگی۔ جب دنیا پر یاس وغم کے بادل چھاجائیں گے تو وہ تمھارے اجلے اور روشن کردار سے روشنی حاصل کرے گی۔ دنیا جب جب فتنوں اور آزمائشوں سے بھر جائے گی اور لوگ مضطرب اور بے حال ہوجائیں گے، تو تم ان کے لیے اس چاند کی طرح ہو گےجس کے نکلنے کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے۔ تم نے دنیا کو بتادیا کہ آزادی بھیک میں نہیں ملتی بلکہ اسے زور بازو سے حاصل کیا جاتا ہے۔ تم نے دکھا دیا کہ عزیمت سے خالی زندگی ذلت کی موت کی طرح ہے اور یہ کہ فتح مصائب کی کوکھ سے ہی جنم لیتی ہے۔
اے غزہ کے لوگو! تمھاری ہمت وبہادری کو سلام، تم نے خش وخاشاک سے شرافت کے مینار قائم کردیے ہیں۔ تم نے بہتے زخموں سے لازوال نغمے تخلیق کرڈالے ہیں اور تم نے اپنے خونِ جگر سے ایسے قصیدے لکھ ڈالے ہیں جنھیں آسمان کی بلندیوں پر آویزاں کیا جائے گا۔
اے غزہ کے لوگو! تمھارے صبر واستقامت کو سلام! تمھارا صبر بے مثال ہے۔ تمھاری عزیمتوں کو سلام! جو عزیمتوں سے بھی بلند تر اور ذیشان ہیں۔
اے غزہ کے جگرپارو! یہ تم ہی ہو جو شکست وہزیمت کے وقت ثابت قدمی اورپامردی کی زندہ علامت بن گئے اور جنھوں نے اپنے نحیف ونزار جسموں سے شرف و عزیمت کے فسانے لکھ ڈالے۔ روئے زمین پر تمھاری بہادری کی داستانیں نسل در نسل سنائی جاتی رہیں گی اور تمھارے ترانے آزاد وزندہ لوگوں کی زبانوں پر ہمیشہ اسی طرح جاری ر ہیں گے۔ کیا ہی خوب ترانہ ہے: ’’عزت سے جئے تو جی لیں گے، یا جام شہادت پی لیں گے ‘‘۔
اے غزہ کے لوگو! یہ بس تمھارا ہی حوصلہ اور تمھارا ہی جگر ہے کہ تم نے ذلت وخواری کے بجائے سربلندرہنا پسند کیا ، یا پھر شہادت کی موت کی تمنا کی۔ جھکنے کے بجائے عزت نفس کے ساتھ رہنا پسند کیا اور باعزّت زندگی کو،گرچہ وہ مشکل ہو، ذلت آمیز عیش کوشی پر ترجیح دی۔ تمھیں اور تمھارے کردار کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ وقت خواہ کتنا بھی طویل ہوجائے، مگر تاریخ یاد رکھے گی کہ غزہ میں ایک ایسی قوم آباد تھی، جو سر اٹھاکر جینا جانتی تھی اور جس نے یہ کرکے دکھا دیا۔ یہ تمھاری ہی شان ہے کہ تم نے ایک آواز کے ساتھ ایسا نعرہ دیا، جو کبھی بھلایا نہ جاسکے گا:’’ دیکھو! ہم یہاں ہیں، ہم صرف دو ہی باتیں جانتے ہیں، عزت کی زندگی یا پھرشہادت کی موت:
’’عزّت سے جئے تو جی لیں گے، یا جام شہادت پی لیں گے‘‘۔
لگتا ہے کہ جمو ں و کشمیر میں تاریخ کا پہیہ گھوم پھر کر وہیں پہنچ جاتا ہے۔ اقتدار کی کرسی پر کوئی بھی بیٹھے، اختیارات ہمیشہ کہیں اور سمٹ جاتے ہیں۔ کبھی بندوق برداروں کا خوف تھا، مگر آج لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ، خفیہ ایجنسیاں اور ہندو قوم پرستوں کے نیٹ ورک نے وہی کردار سنبھال لیا ہے۔ عام لوگوں کے لیے جینے، بولنے اور سوچنے کی جگہ تنگ تر ہوتی جا رہی ہے۔
ایسے میں جب گذشتہ سال اسمبلی انتخابات کا اعلان ہوا تو عوام میں ایک نئی امید جاگی۔ لوگوں کو لگا کہ شاید اب ایک عوامی حکومت قائم ہوگی، جو کم سے کم سانس لینے کی گنجائش فراہم کرے۔
ان انتخابات میں، بالکل ۱۹۹۶ء کی طرح، ’نیشنل کانفرنس‘ کو سبقت حاصل ہوئی۔ ۹۰ رکنی اسمبلی میں اس نے ۴۲ نشستیں جیتیں۔ اس کی اتحادی کانگریس کو چھ سیٹوں پر کامیابی ملی۔ وادیٔ کشمیر کی ۴۷ میں سے ۳۵ نشستیں ’نیشنل کانفرنس‘ نے جیتیں،جب کہ جموں کی ۴۳ میں سے سات نشستیں حاصل کیں۔ بی جے پی جموں خطے میں ۲۹ نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بنی۔ ان نتائج نے ایک طرف دہلی کو سکون دیا کہ کوئی مزاحمتی جماعت اقتدار میں نہیں آئی، مگر دوسری طرف کشمیری عوام کے لیے یہ ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھے گئے، جہاں وہ اپنی انفرادیت، آبادیاتی شناخت اور کھوئی ہوئی خودمختاری کے احساس کو دوبارہ بحال کر سکتے تھے۔
مگر ایک سال گزرنے کے بعد وہ تمام اُمیدیں دھندلی پڑ چکی ہیں۔ عمر عبداللہ کی قیادت میں بننے والی حکومت کے پاس اقتدار تو ہے، مگر اختیار نہیں۔ ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۲۴ء کو جب انھوں نے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لیا، تو یہ تصور تھا کہ ایک عشرے سے زیادہ مرکزی حکمرانی کے بعد اب قدرے جمہوری دور کا آغاز ہوگا۔ بہت سے لوگ اسے نئی صبح کہہ رہے تھے۔ لیکن آج، ایک سال گزرنے کے بعد، وہی لوگ اعتراف کر رہے ہیں کہ شاید کشمیر کی تاریخ میں یہ سب سے بے اختیار حکومت ہے۔
سینئر صحافی مسعود حسین لکھتے ہیں: عمر عبداللہ کی مخالفت حلف لینے سے پہلے ہی شروع ہوگئی تھی۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ جب انھوں نے ہچکچاتے ہوئے انتخابی دوڑ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ان پر طنز کیا گیا:’’نہ نہ کرتے، ہاں کر دی‘‘۔ اب جب ایک سال گزر گیا ہے تو وہ جموں و کشمیر کے سب سے کمزور وزرائے اعلیٰ میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے مخالفین کہتے ہیں: ’’وہ ایک ’آئینی مجسمہ‘ ہیں، جن کے اردگرد طاقت کے سارے بٹن کسی اور کے ہاتھ میں ہیں‘‘۔
اصل مسئلہ ڈھانچے کا ہے۔ یونین ٹیریٹری کے نظام میں لیفٹیننٹ گورنر (LG) اعلیٰ ترین انتظامی اتھارٹی ہے۔ وہ افسران کی سالانہ خفیہ رپورٹیں لکھتا ہے۔ تمام بڑے فیصلوں کے لیے اس کی منظوری ضروری ہے۔ بیوروکریسی عملاً اس کے سامنے جواب دہ ہے، نہ کہ منتخب وزیراعلیٰ کے سامنے۔ افسران جانتے ہیں کہ ان کے تبادلے، ترقی اور مراعات کا دارومدار راج بھون پر ہے، اس لیے وہ سیاسی قیادت کے احکامات کو ترجیح نہیں دیتے۔ کئی بار وزیراعلیٰ دفتر سے جاری احکامات بھی محض فائلوں میں دب جاتے ہیں۔
ایک سینئر بیوروکریٹ نے نجی گفتگو میں کہا:’’یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں وزیراعلیٰ کے دستخط کا وزن کم اور ’ایل جی‘ کی خاموشی کا اثر زیادہ ہے‘‘۔ عمر عبداللہ کے اقتدار کا پہلا سال اسی توازن کی تلاش میں گزرا ہے، مگر نتیجہ صفر رہا۔ کئی بار اجلاس بلانے کے بعد افسران شریک نہیں ہوئے۔ وزیراعلیٰ دفتر کو خود خط لکھنے پڑے کہ متعلقہ سکریٹری کیوں غیر حاضر ہیں؟
مارچ ۲۰۲۵ء تک کابینہ نے جو فیصلے کیے، ان میں سے متعدد آج تک راج بھون کی منظوری کے منتظر ہیں۔ حکومت کی مشاورتی کونسل کو ایک طرح سے ’عارضی کابینہ‘ بنا کر رکھا گیا ہے، جس کے فیصلے نافذ نہیں ہو سکتے جب تک لیفٹیننٹ گورنر مہر نہ لگائے۔ یہ وہی تاثر ہے جسے عمر عبداللہ خود بھی کئی بار اشاروں کنایوں میں ظاہر کر چکے ہیں۔ انھوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا: ’’ہم فیصلہ تو کرتے ہیں ،مگر عمل درآمد کا اختیار نہیں‘‘۔
یہی نہیں، عمر عبداللہ اپنے قریبی مشیر ناصر اسلم وانی کو باضابطہ تعینات نہیں کرسکے۔ ایڈووکیٹ جنرل، جسے وزیراعلیٰ نے برقرار رہنے کے لیے قائل کیا تھا، راج بھون کی زبانی ہدایت پر واپس نہیں آیا۔ حتیٰ کہ عمر عبداللہ کو پیرس کے ایک سرکاری دورے کو منسوخ کرنا پڑا کیونکہ کلیئرنس نہیں ملی۔ حالانکہ یہ دورہ ’ٹورازم فیسٹیول‘ (سیاحتی فروغ میلے) کے لیے تھا، تاکہ بیرونی سیاحوں کو کشمیر کی طرف دعوت دی جائے۔ دہلی کے ایک عہدیدار نے بعد میں تبصرہ کیا: ’’جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ کی حیثیت اب کسی ریاستی وزیر سے زیادہ نہیں رہی‘‘۔
اقتدار کے دھارے کہاں ہیں؟ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امن و امان، پولیس، اینٹی کرپشن بیورو، آئی اے ایس افسران کی تقرریاں، حتیٰ کہ معمول کی انتظامی تبدیلیاں بھی راج بھون کے کنٹرول میں ہیں۔ وزارت داخلہ نے پولیس فورس کا پورا مالی بوجھ اپنے بجٹ میں منتقل کر دیا ہے۔ بیوروکریٹس کے لیے راج بھون حکم ہے اور وزیراعلیٰ محض مشورہ۔
’جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن‘، جو ایک منافع بخش ادارہ ہے، اب بھی بیوروکریٹس کے زیر کنٹرول ہے۔ آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز اکیڈمی، جو کبھی کشمیری شناخت کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب وزارت سے باہر ہے۔ شیرکشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جیسے اہم ادارے میں بھی ڈائریکٹر وزیراعلیٰ کو نہیں بلکہ براہ راست لیفٹیننٹ گورنر کو رپورٹ کرتا ہے۔ اردو، جو سرکاری زبان تھی، اب ہندی اور انگریزی کے دباؤ میں آچکی ہے۔ عمرعبداللہ نے وعدہ کیا تھا کہ سو دن میں کلچر پالیسی لاگو کریں گے، مگر وہ فائل ابھی تک راج بھون کے پاس پڑی ہے۔
یہ وہی منظرنامہ ہے جسے کئی لوگ ’جمہوری فریب‘ کہتے ہیں۔ ایک ایسی حکومت جو موجود ہے، مگر فیصلہ سازی کے قابل نہیں۔ ’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘ نے بھی بیان دیا کہ نیشنل کانفرنس ایک رسمی حکومت بننے کے خطرے میں ہے جو علامت تو ہے مگر جوہر نہیں۔ مرکز کے ساتھ نرمی اور تعلقات کی سیاست نے بھی کوئی فائدہ نہیں دیا۔ عمر عبداللہ نے ہمیشہ ٹکراؤ سے بچنے کی پالیسی اپنائی۔ انھوں نے نہ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرح احتجاج کیا، نہ کجریوال کی طرح عدالتی لڑائیاں لڑیں، مگر دہلی نے اس شائستگی کو کمزوری سمجھا۔پھر ریاستی درجہ کی بحالی پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
کئی مواقع پر عمر عبداللہ کو سرکاری تقریبات میں نظرانداز کیا گیا۔ ۱۳ جولائی کو انھیں شہداء کے قبرستان جانے کی اجازت نہیں دی گئی، وہ اگلے دن اکیلے گئے۔ مرکزی وزراء کے ساتھ دوروں میں وہ پیچھے کھڑے دکھائی دیے۔ ایک ویڈیو میں ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ کے لیڈر اور اپوزیشن لیڈر سنیل شرما افسران کو بریفنگ دیتے دکھائی دیے، جو عام طور پر وزیراعلیٰ کا کام ہوتا ہے۔ نائب وزیراعلیٰ کو بھی سیکیورٹی اور سفر کے مسائل کا سامنا رہا۔ یہ سب مظاہر اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ عمرعبداللہ حکومت محض برائے نام ہے۔
پہاڑی بولنے والے طبقے کو شیڈولڈ قبائل میں شامل کرنے سے ریزرویشن کا توازن بگڑ گیا ہے۔ اب تقریباً ۷۰ فی صد سرکاری نوکریاں مخصوص کیٹیگریز کے لیے مختص ہیں۔ اوپن میرٹ سکڑ گیا ہے اور نوجوانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ جون ۲۰۲۵ء میں پیش کی گئی وزارتی سب کمیٹی کی رپورٹ پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ حکومت کے اہداف میں جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کی ایک ہزار ایک سوبیس تقرریاں،ایس ایس بی کی ۵ہزار ۸ سو ۵۳ اور ۷۵ ہمدردی کی بنیاد پر ملازمتیں شامل تھیں، مگر ان میں معمولی پیش رفت ہے۔
سیب کی فصل کے دوران جب قومی شاہراہ تین ہفتے بند رہی، ہزاروں ٹرک پھنس گئے۔ سیب سڑ گئے اور معیشت کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ عمرعبداللہ نے کہا کہ اگر اختیار ان کے پاس ہوتا تو وہ ایک دن میں سڑک کھول دیتے، مگر یہ ان کے اختیار میں نہیں تھا۔
تاہم، اتنے دبائو کے باوجود کچھ مثبت اقدامات بھی ہوئے: حکومت نے نجی اسکولوں سے مشاورت کے بعد ۲۰۱۹ء سے پہلے کا تعلیمی کیلنڈر بحال کیا۔ سرکاری بسوں میں خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کی گئیں۔ غریب لڑکیوں کی شادی کی امداد بڑھا کر ۷۰ ہزار روپے کر دی گئی۔ خاندان کے اندر زمین کی منتقلی پر اسٹامپ ڈیوٹی ختم کر دی گئی، اس سے رجسٹریشن کی آمدنی بڑھی۔
اسی طرح مقامی چھوٹے کاروباروں کے لیے ۳۰ فی صد سرکاری خریداری مختص کرنے کی پالیسی زیر غور ہے، جس میں خواتین اور پسماندہ طبقے کے اداروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ لیکن یہ سب اقدامات اسی احساس کے سائے میں ہیں کہ وزیراعلیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
ریاستی درجہ کی بحالی پر عمر عبداللہ کا موقف واضح ہے، مگر عملی پیش رفت نہیں۔ وہ بارہا کہتے رہے کہ یہ ان کا مرکزی انتخابی وعدہ تھا، مگر نئی دہلی نے اب تک کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا۔ سابق مالیاتی افسران کے مطابق، حکومت نے ری آرگنائزیشن ایکٹ کی شق ۸۳(۱) استعمال کرنے کا موقع گنوا دیا، جس کے تحت مرکز سے ٹیکسوں میں حصہ مانگا جا سکتا تھا۔ یہ سیاسی طور پر ایک مضبوط اشارہ ہوتا مگر حکومت نے خاموشی اختیار کی۔
جنرل سیلز ٹیکس کے نظام نے ریاستی مالیاتی آزادی مزید محدود کر دی ہے۔ اب زیادہ تر ترقیاتی اسکیمیں مرکزی فنڈز سے چلتی ہیں۔ بجٹ دراصل دہلی کی توسیع بن گیا ہے۔ عمرعبدﷲ حکومت کا مالی دائرہ اختیار اتنا محدود ہے کہ وہ اپنے منصوبے آزادانہ طور پر طے نہیں کر سکتی۔
پھر اس دوران دو مرتبہ وادیٔ کشمیر میں بڑے پیمانے پر کتابوں پر پابندی عائد کی گئی، جماعت اسلامی سے کچھ بھی نسبت رکھنے والے اسکولوں کا گلا گھونٹا گیا، کئی جگہ ماورائے عدالت لوگوں کو جان سے مارا گیا، بڑے پیمانے پرگرفتاریاں کی گئیں، تشدد کے واقعات تو معمول بنے رہے، بعض جگہ جائیدادیں ضبط بھی کی گئیں اور کئی جگہ بلڈوزروں سے تعمیرات زمین بوس کی گئیں۔
یہ سب حالات مل کر اس احساس کو جنم دیتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں جمہوریت محض ایک چہرہ ہے، جس کے پیچھے مکمل انتظامی کنٹرول مرکز کے ہاتھ میں ہے۔ اس نئے نظام میں وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ مشورہ دے سکتی ہے، مگر فیصلہ نہیں۔ راج بھون حکم دیتا ہے، مگر جواب دہی سے آزاد ہے۔
عمر عبداللہ کا سیاسی طرزِعمل ہمیشہ شائستگی اور دلیل پر مبنی رہا ہے۔ مگر یہ سلجھا ہوا طرزِ سیاست ایک ایسے سخت بیوروکریٹک نظام کے سامنے ناکام دکھائی دیتا ہے، جہاں نرم لہجہ کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ انھیں زیادہ جارحانہ رویہ اپنانا چاہیے تھا، ورنہ دہلی حکومت انھیں محض نمائشی چہرے کے طور پر استعمال کرتی رہے گی۔
پچھلے ایک سال میں عوامی سطح پر مایوسی بڑھ گئی ہے۔ جو لوگ ووٹ ڈالنے نکلے تھے، وہ اب کہہ رہے ہیں کہ شاید مرکز نے انتخابات کروا کر دنیا کو صرف یہ دکھانا چاہا کہ کشمیر میں جمہوریت بحال ہو گئی ہے، حالانکہ عملی طور پر کچھ نہیں بدلا۔ نیشنل کانفرنس کے کارکن برملا اعتراف کرتے ہیں کہ:’’ہمارے لیڈر کے پاس فیصلے کرنے کی طاقت نہیں۔ ہم نے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کے فیصلے خود لیں گے، مگر اب فیصلے وہی لوگ کر رہے ہیں جنھیں ووٹ نہیں ملا‘‘۔
جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ نیشنل کانفرنس، جو دہلی اور سرینگر کے درمیان پل سمجھی جاتی تھی، اب دونوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ دہلی کے لیے وہ قابلِ قبول ہے مگر مفید نہیں، اور وادی کے عوام کے لیے وہ اپنی ہے مگر بے بس۔
عمر عبداللہ حکومت کا پہلا سال ایک ایسی مثال بن چکا ہے، جو ۲۰۱۹ء کے بعد کے انتظامی نظام کی تمام خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ حکومت کے پاس آئینی جواز تو ہے، مگر اثر و رسوخ نہیں۔ راج بھون کمانڈ رکھتا ہے مگر جواب دہی نہیں۔ ان دونوں کے درمیان ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جس نے عوامی اعتماد کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
عمر عبداللہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ’’کئی ایسے شعبے ہیں جہاں منتخب نمائندوں کو فیصلہ کرنا چاہیے، لیکن ہم ابھی تک اس اختیار کے منتظر ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ دراصل پورے سال کی داستان ہے۔
کشمیر کے عوام، جنھوں نے گھٹن بھرے پانچ برسوں کے بعد ووٹ ڈالا، آج ایک بار پھر وہی سوال لیے کھڑے ہیں کہ جمہوریت آخر کہاں ہے؟ اگر منتخب وزیراعلیٰ بھی محض دستخط کرنے والا ربڑ سٹمپ رہ گیا ہے تو اس نظام کو جمہوری کہنے کا مطلب کیا ہے؟
عمر عبداللہ کی حکومت ایک امید کے طور پر شروع ہوئی تھی مگر اب وہ ایک علامت بن گئی ہے، ایسی علامت جو بتاتی ہے کہ جموں و کشمیر میں اقتدار عوام کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ مرکز کی بیوروکریسی کے شکنجے میں ہے۔ جمہوریت کا جسد موجود ہے مگر روح سے خالی ہے۔ اور یہی اس حکومت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔یہ وہ کشمیر ہے جہاں عوام کو وعدے تو بار بار ملتے ہیں، مگر اختیار کبھی نہیں۔ جہاں ووٹ ڈالنے کے بعد بھی فیصلہ وہی کرتا ہے جو سرینگر میں نہیں، دہلی میں بیٹھا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ تاریخ ایک بار پھر وہیں لوٹ آئی ہےجہاں اقتدار تھا مگر اختیار نہیں۔
قاہرہ سے فلسطین کی سرحد یعنی رفح کراسنگ تک کا فاصلہ چار سو کلومیٹر ہے۔ پانچ سے چھ گھنٹے کی مسافت، لیکن یوں لگتا ہے جیسے یہ دو مختلف دنیاؤں کا سفر ہو۔ قاہرہ، دریائے نیل ، اس کے پلُوں اور اہرام کی جھلکیوں کے ساتھ ایسی تہذیب کی یاد دلاتا ہے، جو ہزاروں برسوں سے قائم ہے۔ جوں جوں سفر کرتے ہوئے مسافر مشرق کی طرف بڑھتا ہے اور گاڑی سینائی کے صحرا میں داخل ہوتی ہے، منظرنامہ بے آباد، ویران اورسنگلاخ ہوجاتا ہے۔ چار گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد العریش شہر کی فلک نما عمارتیں نظر آتی ہیں، جو سینائی کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہاں سڑک بحیرۂ روم کی طرف مڑتے ہی غزہ کے بحران کا ابتدائی چہرہ سامنے آتا ہے۔یہاں اُفق کو پہاڑ ، سمندر یا ویرانے نہیں، بلکہ امدادی ٹرکوں کی قطاریں روک لیتی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میںحد نگاہ تک تقریباً ۴۴ کلومیٹر لمبی ٹرکوں کی قطار، جن میں آٹا، چاول، دالیں، پھلیاں، بوتلوں میں پانی، دوائیں یعنی وہ سب کچھ موجود ہے جو بھوک سے تڑپتی قوم کو درکار ہے۔ ڈرائیور مٹی کے تیل کے چولھوں پر تلخ قہوہ بنارہے ہیں۔ کچھ ڈرائیور اپنے ٹرکوں کے نیچے لٹکے جھولوں میں سورہے ہیں۔ ان کے ٹرکوں میں زندگی کی بقا کا سامان ہے مگر وہ بے حال زندہ لوگوں کی طرف نہیں بڑھ پار ہے، ساکت اور جامد ہیں۔
حالات کی ستم ظریفی ایک ایک پہلو سے ظاہر ہے۔ رفح کراسنگ کے ایک طرف وافر غذائی اجناس ہیں، دوسری طرف بس چند میٹر کے فاصلے پر بھوک کے ساتھ ہی ساتھ اسرائیلی ٹینک صاف نظر آرہے ہیں۔دور غزہ کے رفح قصبہ کی کھڑکیوں اور چھتوں پر کھڑے بچوں اور بڑوں کے سوکھے ہوئے ڈھانچے نظر آرہے ہیں جنھوں نے شاید کئی ہفتوں سے روٹی کے نوالے اور چاول کے دانے کی صورت تک نہیں دیکھی ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ پکی ہوئی خوراک کی خوشبو سرحد پار پہنچ رہی ہے، مگرمحصور لوگوں کے لیے اس کی اشتہا انگیز خوشبو اذیت سے کم نہیں ہے ۔ ان کی بقا کا دارومدار خوراک کی خوشبوؤں کو سونگھنے پر رہ گیا ہے، جس کو وہ چھو نہیں سکتے ہیں، بس سونگھ سکتے ہیں۔
دُنیا بھر سے شخصیات غزہ کے محصور باسیوں کے ساتھ یکجہتی کےلیے آرہی ہیں، لیکن رفح کراسنگ سے واپس چلی جاتی ہیں۔ ترکیہ کی حکمراں جماعت آق پارٹی کے حقوق انسانی شعبہ کے نائب چیئرمین حسن بصری یالچن کی قیادت میں ۳۰ رکنی پارلیمانی وفد رفح کراسنگ پر اظہار یک جہتی کے لیے آیا ہے۔ وہ وعدہ کر رہے ہیں کہ وہ واپس آئیں گے اور رکاوٹیں پھلانگ کر غزہ کے اندر جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ قطر پر حالیہ حملہ کرنے سے اسرائیل نے ساتویں ملک پر ہلہ بول دیا ہے۔ وہ کہہ رہے تھے ’’ اسرائیل کا سانپ ایک ایک کرکے ہم سب کو ڈس رہا ہے اور ہم بس اپنی باریوں کا انتظار کر رہے ہیں‘‘ ۔
غزہ کے اندر قحط جیتی جاگتی حقیقت ہے۔ ۲۳ لاکھ کی آبادی کا ایک تہائی حصہ بھوک سے مرنے کا انتظار کر رہا ہے۔ بچے بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ والدین کئی کئی دن کچھ نہیں کھاتے تاکہ بچے آدھی روٹی کھا سکیں۔ فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ فلپ لزارینی کہتے ہیں کہ ان کی ٹیموں نے جن بچوں کو دیکھا وہ سب لاغر، کمزور اور موت کی دہلیز پر ہیں اور فوری علاج کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز بھی فاقوں کا شکار ہیں۔ وہ بسااوقات کام کے دوران بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق فی الوقت ۶ہزار امدادی ٹرک اردن اور مصر میں کھڑے ہیں،مگر اسرائیل کی ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ نہیں پہنچ پارہے ہیں۔ ایتھوپیا اور یمن کی طرح یہ قحط خشک سالی یا فصل کی ناکامی کا نتیجہ نہیں، بلکہ انسانی ہاتھوں کا مسلط کیا ہوا قحط ہے۔ مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا: ’یہ انجینئرڈ بھوک ہے‘۔
غزہ کے اندر النصر شہر کے رہائشی ابو رمضان بتا تے ہیں: ’’بھوک ایسی ہے جیسے ہاتھ بندھے ہوں اور دل میں خنجر گھونپ دیا جائے۔ آپ اپنے بچوں کو روتا دیکھتے ہیں اور ان سے کچھ وعدہ بھی نہیں کر سکتے۔ امداد کی جگہیں موت کے پھندے ہیں۔ آپ یا تو آٹا لے کر لوٹتے ہیں یا کفن میں لپٹے ہوئے گھرآتے ہیں‘‘۔ چار بچوں کی ماں ۴۲ برس کی خدیجہ خضیر ، کہتی ہیں: ’’تین دن میں صرف ایک روٹی ملتی ہے۔ اکثر چولھے پر پانی چڑھا دیتی ہوں تاکہ بچے سمجھیں کھانا پک رہا ہے۔ گھنٹوں کے انتظار کے بعد یہ معصوم بھوکے ہی سوجاتے ہیں۔کبھی کبھار فوجی جہاز امدادی غبارے گراتے ہیں۔ ہزاروں لوگ ان پر جھپٹتے ہیں مگر یہ سامان چند درجن خاندانوں کے لیے ہوتا ہے۔ غزہ کے صحافی کہتے ہیں: ’’یہ امداد نہیں بلکہ ذلّت ہے‘‘۔
غزہ کو روزانہ کم از کم ۸۰۰ ٹرکوں کی ضرورت ہے۔ اسرائیل ۵۰ سے ۱۵۰ ٹرک داخل ہونے دیتا ہے۔ یہ سرحد پر تعینات سپاہیوں کے موڈ پر منحصر ہے۔العریش شہر اور رفح کراسنگ کے درمیان ایک ٹرک ڈرائیور مدحت محمد(جن کے ٹرک میں جام اور دالیںبھری ہوئی تھیں) نے بتایا: ’’میں نے دو ہفتے انتظار کیا اور پھر کہا گیا واپس چلے جاؤ۔اسرائیلی فوجی سوال کر رہے تھے کہ اتنا زیادہ کھانا کس کےلیے لے جا رہے ہو؟ بعض اوقات اسرائیلی فوجیوں کا جواب ہوتا ہے: وقت ختم ہو گیا‘‘۔ اسی طرح محمود الشیخ، جو آٹا لے کر ۱۳ دن سے کراسنگ کے باہر انتظار کر رہے ہیں کا کہنا تھا : ’’کل ہی ایک دن میں ۳۰۰ ٹرک واپس کر دیے گئے اور صرف ۳۵ کو اندر جانے دیا گیا۔ ’’سب کچھ ان اسرائیلی فوجیوں کی مرضی پر منحصر ہے‘‘۔ ہر رات ۱۵۰ ٹرک لائن میں لگائے جاتے ہیں مگر صبح صرف ۱۵ یا ۲۰کو جانچ کے لیے بلایا جاتا ہے اور باقی سب کو لوٹا یاجاتا ہے‘‘۔
جب ٹرک اندر پہنچ بھی جائیں تو ڈرائیور کی اذیت اس کے باوجود بھی ختم نہیں ہوتی۔ ٹرک اکثر لوٹ لیے جاتے ہیں ۔ بھوک، تشدد میں بدل جاتی ہے۔اسرائیلی اس کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ ان کو فائرنگ کرنے کا بہانہ مل جاتا ہے۔ مئی سے اب تک۲۵۰۰؍ افراد غذائی اجناس تقسیم کرنے والی جگہوں پر مارے گئے اور ۱۵ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ۔اسی پس منظر میں ’میڈیسن سان فرنٹیئر‘ نے امریکا –اسرائیل کی پشت پناہی والے غزہ ’ہیومینی ٹیرین فاؤنڈیشن‘ پر الزام لگایا کہ یہ ریلیف کا نظام کم اور’ظلم کی تجربہ گاہ‘ زیادہ ہے۔ایک نرس نے بتایا: ’’میں نے پانچ سالہ بچے کا علاج کیا جو بھگدڑ میں کچلا گیا تھا۔ ایک اور آٹھ سالہ بچے کے سینے میں گولی کا زخم تھا‘‘۔
عام فلسطینیوں کے لیے کھانے کی تقسیم بھوک اور موت کے درمیان ایک جُوا بن چکی ہے۔ فلسطینی اسے ’موت کا سفر ‘ کہتے ہیں۔صبح ہوتے ہی مرد، عورتیں اور بچے کئی کلومیٹر ’محفوظ راستوں‘ کی طرف پیدل چلتے ہیں، جو امداد کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اور ان میں سے بہت سارے واپس نہیں آتے۔ سنائپر فائر اور ڈرون حملے قطاروں میں لگے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔اُمِ سعید الرفاعی، جو رفح کے قریب ایک غذائی تقسم کے مقام پر گئیں، خالی ہاتھ اور آنسو گیس کے زخموں کے ساتھ واپس گھر پہنچ گئیں:’’میں صرف اپنی بیٹی کو کچھ کھلانا چاہتی تھی، مگر ہم پر حملہ ہوا، مرچ اسپرے، گولیاں، گیس۔ میں سانس نہیں لے پائی۔ جان بچا کر بھاگی اور خالی ہاتھ لوٹی‘‘۔ ان کے الفاظ غزہ کی نئی حقیقت ہیں: ’’اب زندہ واپس آ جانا ہی کامیابی ہے، چاہے کھانا نہ ملا ہو‘‘۔
اقوام متحدہ پہلے ہی غزہ کو قحط زدہ قرار دے چکا ہے۔ عالمی قانون کے تحت جان بوجھ کر بھوکا رکھنا جنگی جرم ہے۔ ۲۰۲۴ء میں تین بار عالمی عدالتِ انصاف نے اسرائیل کو ہدایت دی کہ انسانی امداد بلا رکاوٹ داخل ہونے دے۔ مگر ہر فیصلے کو نظر انداز کیا گیا۔استنبول یونی ورسٹی کے وکیل دنیز باران کہتے ہیں: ’’اسرائیل کی ناکہ بندی اور امداد روکنا شہریوں کو جنگی ہتھیار کے طور پر بھوکا رکھنے کے مترادف ہے، جو جنیوا کنونشن کے تحت ممنوع ہے‘‘۔یہ منظم، دانستہ اور بے مثال ہے۔ ایک ایسا قحط جو براہِ راست نشر ہو رہا ہے۔‘‘جب رفح پر ٹرک رکے پڑے ہیں تو بحیرۂ روم کی طرف مزاحمت کی ایک اور شکل گلوبل صمود فلوٹیلا کی صور ت میں ساحل کی طرف رواں ہے۔ ۴۴ممالک کے ۵۰ سے زائد جہازوں کا غزہ کی طرف سفر۔ یہ جدید تاریخ کا سب سے بڑا شہری امدادی قافلہ ہے۔ اس فلوٹیلا میں ڈاکٹر، پارلیمانی اراکین، فنکار اور سماجی کارکن شامل ہیں، جن میں گریٹا تھنبرگ بھی ہیں۔یہ جہاز خوراک، دوا اور امید سے لدے ہوئے ہیں۔ لیکن ممکن ہے کہ یہ بھی رفح کے ٹرکوں کی طرح غزہ سے چند کلومیٹر دُور ہی رُک جائیں۔ بھوکوں کے لیے یہ ایک اور ستم ظریفی ہے ۔ خورا ک سامنے ہے مگر سفاک ناکہ بندی اس کو روک لیتی ہے۔
رفح کراسنگ ہمیشہ سے کش مکش کا مقام رہی ہے۔ ۱۹۷۹ء کے مصر –اسرائیل امن معاہدے کے تحت ’فلاڈیلفی روٹ بفر زون‘ قائم کیا گیا۔ دوسری انتفاضہ (۲۰۰۰) کے دوران اسرائیل نے اسے وسیع کیا، گھر گرائے اور رکاوٹیں بنائیں۔۲۰۰۸ء میں جنگجوؤں نے دیوار میں سوراخ کیے اور ہزاروں فلسطینی مصر میں داخل ہو کر سامان لائے۔ مصر نے بعد میں سرحد کو مزید مضبوط کیا اور ۲۰۲۱ءتک تین ہزار سے زائد سرنگیں تباہ کر دیں۔ کچھ میں پانی بھرا گیا، کچھ میں زہریلی گیس بھری گئی، اور اندر موجود اکثر لوگ مارے گئے۔۲۰۰۷ء سے حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد مصر نے غزہ کو ہمسایہ بھی سمجھا اور خطرہ بھی۔ نتیجہ ایک ایسی سرحد ہے جو کنکریٹ اور بدگمانی سے بنی ہوئی ہے اور آج بھوک سے۔میں نے کشمیر، افغانستان اور حال ہی میں شام کی رپورٹنگ کی ہے۔ لیکن غزہ ایک جہاندیدہ رپورٹر کو بھی توڑ دیتا ہے۔ مجھے یاد آرہا تھا کہ جب میں غزہ کے ایک صحافی کو فون کرنے کی کوشش کر رہا تھا تو کئی بار کال کرنے کے بعد جب اس نے فون اٹھایا، تو لرزتی آواز میں کہا: ’’بھائی، تین دن سے کچھ نہیں کھایا۔ جب روٹی ملے گی تو کال کروں گا۔‘‘وہ کبھی کال نہیں کرپایا اور میں نے بھی دوبارہ فون نہیں کیا۔غزہ اب صرف جنگ کا نہیں بلکہ بھوک کو ہتھیار بنانے کا معاملہ ہے۔ یہ قحط چھپایا نہیں گیا بلکہ براہِ راست دکھایا جا رہا ہے۔ آنے والی نسلیں یہ نہیں پوچھیں گی کہ فلسطینیوں نے مزاحمت کیوں کی؟ وہ یہ پوچھیں گی: دنیا کیسے کھاتی رہی، جب کہ غزہ بھوکا سسک رہا تھا؟ ایک بوجھ کے ساتھ میں قاہر ہ اور پھر انقرہ واپس روانہ ہو رہا ہوں۔
رفح سے قاہر ہ تک کا یہ سفر اب صرف جغرافیائی فاصلہ نہیں بلکہ انسانی ضمیر اور عالمی سیاست کے درمیان حائل اس دیوار کا استعارہ ہے، جو محصور غزہ کے عوام کے گرد کھڑی کر دی گئی ہے۔ سینائی کے سنسان ریگستان میں سفر کرتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ صحرا اپنی خاموشی میں لاکھوں دبی ہوئی صداؤں کا نوحہ پڑھ رہا ہے۔ ریت کے ذرّے بھی جیسے سوال کر رہے ہوں کہ آخر انسان نے انسان کو بھوک اور پیاس کا شکار کیوں بنایا؟غزہ کی کہانی محض ایک خطے کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی آزمائش ہے۔ یہ ایک ایسا امتحان ہے جس میں صرف فلسطینی نہیں، بلکہ ہم سب شریک ہیں۔ رفح کے گیٹ پر موجود خوراک کے ٹرک انسانیت کے مُردہ ضمیر پر ماتم کر رہے ہیں ۔ دنیا بھر کی طاقتیں، اقوام متحدہ کی قراردادیں اور عالمی عدالتوں کے فیصلے اس بھوک کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
میں جب قاہرہ لوٹ رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ تاریخ آنے والی نسلوں سے یہی سوال پوچھے گی: ’’کیا تم نے کھاتے ہوئے غزہ کے بچوں کو بھوکا مرنے دیا؟‘‘ یہ سوال ہمارے عہد کی سب سے بڑی گواہی بن جائے گا۔فلسطینی مائیں جب بھوکے بچوں کو گود میں لے کر سلاتی ہیں، تو ان کی لوریاں دراصل دنیا کے کانوں پر دستک ہیں۔ اگر یہ دستک ہم نے نہ سنی تو شاید کل ہماری اپنی اولاد بھی اسی اندھی بھوک کی زد میں آ جائے۔غزہ آج صرف ایک جغرافیہ نہیں، ایک چیخ ہے۔ یہ چیخ وقت کی دیواروں کو چیر کر ہماری روحوں کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ سوال یہ ہے: کیا ہم جاگیں گے، یا یہ چیخ تاریخ کے قبرستان میں دب جائے گی؟
مقبوضہ جموں و کشمیر کے سری نگر میں مسلمانوں کے لیے مقدس درگاہ حضرت بل کے کتبے ’پر اشوک لاٹ‘ کا سرکاری نشان کنندہ کرنے پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ کچھ مقامی افراد نے ’جموں و کشمیر وقف بورڈ‘ کے خلاف احتجاج کیا ہے،جب کہ پتھر کے کتبے پر مہاراجا اشوک کے نشان کو توڑنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ یہ واقعہ ۵ستمبر جمعہ کے دن پیش آیا۔ دوسری جانب حکمران جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) نے کہا ہے کہ ’ہمارے مزارات ایمان، عاجزی اور اتحاد کی علامت ہیں، ان مقامات کو عبادت گاہ ہی بنے رہنا چاہیے، تقسیم کی جگہ نہیں‘ ۔
کچھ عرصہ قبل درگاہ حضرت بل کی تعمیرِ نو کا کام شروع ہوا تھا۔ اس دوران وہاں سنگ بنیاد پر اشوک کی لاٹ کا نشان بنایا گیا تھا، جس پر لوگوں میں ناراضی کی لہر پھیل گئی۔ مشتعل لوگوں نے اسے توڑنے کی کوشش بھی کی۔ اس واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہیں۔ سری نگر کی یہ درگاہ اور مسجد مسلمانوں کے لیے بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔ صدیوں پر محیط روایت کے مطابق یہاں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’موئے مبارک‘ ہے۔ اس درگاہ کی تعمیرِ نو مسلم اوقاف ٹرسٹ کے شیخ محمد عبداللہ کی نگرانی میں ۱۹۶۸ء میں شروع ہوئی اور کام ۱۹۷۹ء میں ختم ہوا۔
’موئے مقدس‘ کو پہلی بار سنہ ۱۶۹۹ء میں کشمیر لایا گیا۔ پہلے اسے نقش آباد صاحب میں رکھا گیا اور پھر بعد میں اسے حضرت بل لایا گیا۔ ہر سال شب معراج اور میلاد النبی کے خاص موقعوں پر ریاست بھر اور دُور دراز کے علاقوں سے لوگ اس مسجد میں رکھے ہوئے ’موئے مقدس‘ کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔
توڑ پھوڑ کے واقعے کے بعد بی جے پی حکومتی اہل کار درخشاں اندرابی نے جمعے کی شام میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسے افسوس ناک کارروائی قرار دیا اور کہا کہ ’قومی نشان کو توڑنا جرم ہے۔ یہ ایک سیاسی جماعت کے غنڈے ہیں جنھوں نے ایسا کیا ہے‘۔ ان کا اشارہ بظاہر نیشنل کانفرنس کی جانب تھا۔ انھوں نے ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: ’قانونی طور پر قومی نشان کو نقصان پہنچانا جرم ہے۔ ایسے لوگوں کی نشاندہی کی جائے گی اور ان پر درگاہ میں داخلے کے لیے تاحیات پابندی عائد کر دی جائے گی ‘‘۔
حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے رہنما اور ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ’پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ نشان پتھر پر لگانا بھی چاہیے تھا یا نہیں؟‘ انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کسی مذہبی تقریب یا مذہبی مقام پر ایسا نشان استعمال ہوتے نہیں دیکھا۔ کیا کوئی مجبوری تھی کہ حضرت بل کے اس پتھر پر یہ نشان استعمال کیا گیا؟‘ سوال یہ ہے کہ ’پتھر لگانے کی کیا ضرورت تھی، کیا مرمت کا کام کافی نہیں تھا؟ اگر کام ٹھیک ہوتا تو لوگ خود کام کو پہچان لیتے‘۔ انھوں نے کتبہ لگانے والوں سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’مندر، مسجد، گرودوارہ، یہ تمام مذہبی مقامات ہیں جہاں قومی نشان کے استعمال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان مقامات پر قومی نشان کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ سرکاری پروگراموں میں سرکاری نشانات کا استعمال کیا جاتا ہے‘۔
اس سے قبل جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) نے درخشاں اندرابی کے الزام کے جواب میں سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا: ’یہ امر انتہائی تشویشناک ہے اور درگاہ حضرت بل کے اندر کسی جاندار (شخص یا جانور) کی تصویر یا علامتی نشانی کا استعمال اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ ہزاروں عقیدت مندوں کے لیے ایک محترم مقام ہے اور توحید کے اصول کے مطابق اس طرح کی نشانیوں کا استعمال ممنوع ہے۔ عقیدت مندوں کے لیے یہ معمولی بات نہیں، بلکہ اس کا ان کے مذہبی جذبات سے گہرا تعلق ہے‘۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ ’وقف کوئی نجی ملکیت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ٹرسٹ ہے جو عام مسلمانوں کے تعاون سے چلتا ہے۔ اسے لوگوں کے عقیدے اور روایت کے مطابق ہی چلایا جانا چاہیے‘۔
نیشنل کانفرنس نے اپنے بیان میں وقف بورڈ کی چیئرپرسن اندرابی کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’ہم ایسے نمائندوں کو دیکھ رہے ہیں جو منتخب نہیں ہوئے، انھیں جموں و کشمیر کے لوگوں کی حمایت حاصل نہیں ہے، بلکہ انھوں نے از خود اس مقدس مقام پر ایک اعلیٰ عہدہ سنبھالا ہوا ہے۔ یہ نہ صرف اس درگاہ کے تقدس کی توہین ہے، بلکہ احتساب اور خاکساری جیسے بنیادی اصولوں کا مذاق بھی ہے۔ یہ بات پریشان کن ہے کہ لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معافی مانگنے کے بجائے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ دریں اثنا، نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان ایم ایل اے تنویر صادق نے کہا کہ ’درگاہ پر کسی جاندار کی تصویر لگانا اسلام کے خلاف ہے کیونکہ اسلام میں بت پرستی کی ممانعت ہے‘۔کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا غلط ہے۔ ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام میں بت پرستی کی سختی سے ممانعت ہے۔ یہ کوئی سرکاری عمارت نہیں ہے، یہ ایک درگاہ ہے‘۔
پی ڈی پی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کو پیش آنے والے اس واقعہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: ’یہ درگاہ پیغمبر اسلام سے متعلق ہے، لوگ یہاں کسی قسم کی گستاخی برداشت نہیں کریں گے۔ مسلمانوں کے لیے ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے، وہاں اس قسم کی گستاخی سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ لوگ اس نشان کے خلاف نہیں ہیں لیکن اسلام میں بت پرستی کی ممانعت ہے۔ اس لیے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اسے یہاں کیوں نصب کیا گیا؟‘
انھوں نے کہا: ’یہ کہنا غلط ہے کہ لوگوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جانا چاہیے۔ میرے خیال میں ان کے خلاف ۲۹۵- اے کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے کیونکہ یہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی توہین کے مترادف ہے‘۔ انھوں نے وزیراعلیٰ سے ایکشن لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا: ’اس واقعے کا اوقاف ذمہ دار ہے کیونکہ وہاں کے تمام لوگ مسلمان ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ انھوں نے سنگ بنیاد (کے کتبے) میں ایسی چیز کیسے رکھی جسے اسلام میں حرام سمجھا جاتا ہے‘۔ جمعہ کو انڈیا بھر میں عید میلاد النبی منائی گئی لیکن جموں و کشمیر میں اس کے لیے سنیچر کو سرکاری چھٹی دی گئی۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک سابق پوسٹ میں کہا کہ انتظامیہ کا جمعہ کی چھٹی کو سنیچر کی چھٹی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔ انھوں نے سرکاری پریس کی طرف سے چھپنے والے کیلنڈر کی تصویر شیئر کی جس میں عید میلاد النبیؐ کے چاند کی رویت کی بنیاد پر ۵ستمبر کو چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس نسبت سے مختلف بیانات گردش میں ہیں: ’مسلمان کی وفاداری قوم سے نہیں بلکہ ان کے ایمان سے ہے‘ ۔ بہت سے لوگ مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ اشوک لاٹ کی تین شیر والی علامت کوئی مذہبی علامت نہیں ہے۔ آنند رنگناتھن نے لکھا: ’اشوک کا نشان انڈیا کی نمائندگی کرتا ہے، خدا کی نہیں، یہ ایک آئیڈیل کی تصویر ہے۔ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے درست کہا تھا: ’مسلمان کی وفاداری اس کی قوم سے نہیں بلکہ ان کے ایمان سے ہے‘۔
عارف اجاکیا نے لکھا: ’اسلام کو بچانے کے لیے انھوں نے درگاہ سے اشوک کا نشان ہٹادیا ہے لیکن وہ وہی نشان کعبہ اور مدینہ کے دورے کے دوران اپنے سینے کے قریب رکھتے ہیں جو ان کے پاسپورٹ اور بینک نوٹوں پر ہوتا ہے۔ یاد رکھیں آپ اشوک کے نشان کے بغیر حج پر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے‘۔ اس کے جواب میں حسن وانی نامی ایک صارف نے لکھا: ’ہر چیز کو آپس میں نہ ملائیں۔ پہلی بات یہ کہ مسجد کی دیوار پر کوئی تصویر یا نقش و نگار لٹکانا اسلامی شریعت میں قطعی طور پر ناجائز اور حرام ہے، جب کہ اپنی جیب میں پیسے یا پاسپورٹ رکھنا ایک الگ بات ہے۔ جذبات کو بھڑکانے اور سیاسی ماحول کو گرمانے کے لیے اس کا سیاسی مقاصد کے لیے فائدہ اٹھانا، ان دونوں حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے اور یہ بات حماقت سے کم نہیں!‘
بہت سے صارفین نے اسے جہاد کا طرزِ عمل کہا ہے ، جب کہ کئی افراد نے اسے تنگ نظری سے تعبیر کیا ہے اور کچھ نے سوال اُٹھایا ہے کہ اسے دوسرے مذہبی مقامات پر کیوں نہیں لگایا جاتا؟ بہت سے ہندو اس واقعے کو مسلمانوں کی انڈیا سے وفاداری پر سوالیہ نشان کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ فلٹریشن نامی ایک صارف نے لکھا: ’اشوک، بودھ مت کے پیروکار تھے۔ اشوک کی لاٹ مہاتما بودھ کی تعلیمات سے متاثر ہے۔ جنھوں نے مسلمانوں کی عقیدت کے مقام حضرت بل میں اشوک کی علامت کو لگایا وہ مذہبی انتشار کو ہوا دینے کے ذمہ دار ہیں‘۔
عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس ۱۵ ستمبر ۲۰۲۵ء کو دوحہ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد ۹ ستمبر کو قطر کے دارالحکومت پر اسرائیلی حملے کے بعد کی صورتِ حال پر غور اور جارحیت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، ملائیشیا اور ایران کی جانب سے تجاویز تو پیش کی گئیں، مگر کوئی ٹھوس عملی منصوبہ سامنے نہ آیا۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ سے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے اور ’عرب اسلامی ٹاسک فورس‘ کی تشکیل کی تجویز دی، مگراسرائیل کے خلاف سفارتی مہم کی کوئی حکمت عملی بیان ہوئی نہ ٹاسک فورس کے خدوخال واضح کیے گئے۔
اجلاس سے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا خطاب سخت اور جوشیلا تھا۔ انھوں نے اسرائیلی حکومت کو ’’اقتدار کی جنونیت، تکبر اور خون کی پیاس میں مبتلا‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ثالثوں پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کو امن میں کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ وہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔قطری امیر نے غزہ میں جاری جنگ میں ۶۵ ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کا ذکر کیا اور نیتن یاہو کی توسیع پسندانہ سوچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے شامی زمین پر قبضہ کیا اور اب جنوبی لبنان سے انخلاء پر تیار نہیں۔تاہم، قطری قیادت کی گفتگو عملی بے بسی کا شکار رہی۔ اربوں ڈالر کے امریکی و برطانوی دفاعی نظام کی موجودگی میں اسرائیلی طیارے حملہ کر کے چلے گئے اور قطر کو ان کی آمد کی آہٹ تک محسوس نہ ہوئی۔
ایران پر اسرائیلی حملوں اور یمن میں اسرائیلی مداخلت یا تباہی کا براہِ راست ذکر قطری امیر کی تقریر میں نہیں آیا۔حالانکہ اسرائیل اور امریکا نے ایران اور یمن میں وحشیانہ کارروائیاں کی ہیں۔خطے میں ان حملوں پر شدید ردِعمل بھی موجود ہے۔قطر، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کا ذکر نہ کرنا شاید سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہو، جب کہ یمن کے معاملے پر خلیج یکسو نہیں اور ان ممالک کی سفارتی کشیدگی سے خود کو باہر رکھنے کے لیے امیرقطر نے گفتگو میں احتیاط برتی۔
خلیجی تعاون کونسل (GCC) نے اپنےاجلاس میں مشترکہ دفاعی نظام کو فعال کرنے اور فوجی کمان کا اجلاس دوحہ میں بلانے کا اعلان کیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ خلیج کونسل کے کسی ایک رکن پر حملہ، تمام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔اجلاس کے بعد جی سی سی کے ترجمان ماجد محمد الانصاری نے بتایا کہ خلیجی ممالک کی فوجی قیادت کے درمیان مشاورت جاری ہے تاکہ علاقائی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا جاسکے۔
اوآئی سی اور عرب لیگ کے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی حملے کی شدید مذمت اور قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔بیان میں اسرائیل کی جانب سے قطر کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار بھی ہوا،لیکن اس سلسلہ میں کسی تزویراتی حکمت عملی کا ذکر سامنے نہ آیا۔ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔
اسلامی تعاون تنظیم (OIC)کا قیام ۱۹۶۹ء میں مسجد اقصٰی کی آتشزدگی کا ردعمل تھا۔ تاسیس کے وقت اس کا مقصد مسلم ممالک کا اتحاد، مظلوموں کی آواز بننا اور عالمی سطح پر اسلامی دنیا کے مفادات کا تحفظ طے پایا تھا لیکن نصف صدی بعد OIC عملاً مفلوج ہو چکی ہے۔اس کی قراردادیں صرف کاغذی بیانات، اجلاس صرف رسمی تصاویر اور قیادت خلیجی طاقتوں کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے۔
تنظیم کو فعال بنانے کے لیے ۱۸ سے ۲۰ دسمبر ۲۰۱۹ء کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ایک چوٹی کی کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس میں ترکی، ایران، قطر اور دیگر مسلم ممالک کے رہنماؤں، دانش وروں اور اسکالرز نے شرکت کی تھی۔اس کانفرنس کا مقصد مسلم دنیا کو درپیش مسائل، اسلاموفوبیا، معاشی پس ماندگی، اور سیاسی انتشار کا حل اور اسلامی تنظیم کی غیر مؤثر حیثیت کے متبادل پر غور کرناتھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بیٹھک کے تجویز کنندگان میں سب سے اہم کردار پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کا تھا، لیکن سعودی دباؤ کے باعث عین وقت پر پاکستان نے شرکت سے معذرت کر لی، جس نے مسلم دنیا میں نئی سفارتی صف بندی اور قیادت کے بحران کو مزید واضح کر دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان کو امت کی قیادت کا موقع ملا، مگر خان صاحب نے ریال کی سفارت کاری کو ترجیح دی۔
یہ اسلامی تعاون تنظیم کو فعال کرنے کا آخری موقع تھا جو ضائع کردیا گیا اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی پر امت کی قیادت کا عزم لے کر بننے والی تنظیم، غزہ کی نسل کشی، قطرپر حملے اور فلسطینی قیادت کے قتل پر صرف بیانات جاری کر رہی ہے۔ تنظیم کی قیادت ان ممالک کے زیرِ اثر ہے جنھوں نےاسرائیل سے تعلقات بڑھائے اور اب تنظیم کو اپنے مفادات کے مطابق چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔حالیہ عرب-اسلامی سربراہی اجلاس میں اسرائیل کے ’بزدلانہ‘ حملے کی مذمت تو کی گئی، مگر کوئی ٹھوس سیاسی یا اقتصادی منصوبہ سامنے نہ آیا۔ خلیج تعاون کونسل نے مشترکہ دفاعی نظام کی بات تو کی، مگر عملی مزاحمت کا کوئی نقشہ پیش نہیں کیا گیا۔
کیا اُمتِ مسلمہ نئی قیادت، نئی صف بندی اور نئی مزاحمت کے لیے تیار ہے؟ یا تنظیم کو تاریخ کا ایک ناکام تجربہ مان کر اسرائیل اور امریکا کے سامنے ہتھیار رکھ دینے ہی میں عافیت سمجھی جائے گی؟
حال ہی میں بنگلہ دیش میں کچھ ایسے حیرت انگیز واقعات پیش آئے ہیں جنھوں نے لوگوں کو دنگ کر دیا۔ کچھ لوگ اس سے مایوسی میں ہیں، جب کہ کچھ لوگ سیاسی اور سماجی زندگی میں زلزلے اور کچھ اپنے خیال کے مطابق اس میں تباہی دیکھ رہے ہیں۔ یہ واقعہ ہے بنگلہ دیش میں طلبہ و عوام کی بغاوت کے بعد بدعنوان اور فاشسٹ حسینہ حکومت کا تختہ اُلٹا دیا جانا اور اسلامی نظریۂ حیات کو فروغ دینے والی طلبہ تنظیم ’اسلامی چھاترو شبر‘ کی بحالی، خاص طور پر ڈھاکا اور جہانگیر نگر یونی ورسٹیوں میں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں اسلامی چھاتروشبر کی شاندار فتح۔ گذشتہ پندرہ برسوں کے دوران اسلامی چھاترو شبر کو ختم کرنے کے لیے ہر طرح کا الزام، ریاستی جبر اور پارٹی دہشت گردی سے جڑا ظالمانہ سلوک کیا گیا۔ یہاں تک کہ کچھ نام نہاد علما، جو یہ مانتے ہیں کہ اسلام کا دائرئہ کار صرف خانقاہوں اور مزاروں تک محدود ہے، نہ کہ سیاست یا ریاستی انتظام میں بھی، وہ بھی اس ظلم میں شامل تھے۔ شبر کی حالیہ فتح نے ان کے اس نظریے کو غلط ثابت کیا اور نہ صرف طلبہ سیاست بلکہ قومی سیاست کو بھی متاثر کیا، جس سے بائیں اور دائیں بازو کے لوگوں کی تشویش بڑھ گئی ہے۔
۱۹۴۷ء میں ہماری پہلی آزادی کے بعد مغربی پاکستان میں جماعت اسلامی کی سرگرمیاں فوری طور پر شروع ہوئیں، لیکن موجودہ بنگلہ دیش اور اُس وقت مشرقی پاکستان میں اس کی سرگرمیاں ۱۹۵۰ء کے عشرے میں شروع ہوئیں۔ اس وقت علما کی ایک بڑی تعداد یہ تسلیم کرتی تھی کہ اسلام میں سیاست کا کوئی مقام نہیں اور مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کی قیادت میں جماعت اسلامی نے اپنی دعوت اور پروگرام کے ذریعے ریاست اور معاشرے میں ایمان دار اور قابل لوگوں کو متعارف کروانے کے نام پر سیاست میں جو دخل اندازی کی ہے، وہ ایک غلط عقیدہ ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد دستور سازی کے لیے برپا ہونے والی تحریک میں جماعت اسلامی کا کردار اہم تھا۔ اس سے پاکستان کے دونوں بازوئوں میں جماعت کئی سیاسی جماعتوں کی آنکھوں میں کانٹا بن گئی۔ اسی دوران پنجاب میں قادیانی مسئلہ اٹھا۔ قادیانی ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے۔ اس دوران فسادات پھوٹ پڑے اور لاہور میں مارشل لا نافذ ہوا۔ اس موقع پر مختلف مکاتب فکر کے علما کی ایکشن کمیٹی نے قادیانیوں کے خلاف ڈائریکٹ ایکشن جدوجہد کا اعلان کیا، مگر پُرتشدد ڈائریکٹ ایکشن سے جماعت اسلامی نے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ مگر دوسری طرف دلیل کے میدان میں مولانا مودودی نےقادیانی مسئلہ کے عنوان سے ایک کتابچہ لکھا، جس میں انھوں نے قادیانیوں کے رہنما مرزاغلام احمد قادیانی کی متعدد تحریروں کے حوالوں سے ثابت کیا کہ وہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے اور خود کو نبی کہتے ہیں، لہٰذا قرآن و سنت کی روشنی میں وہ مسلمان نہیں ہیں۔ اس مقالے کی وجہ سے مولانا مودودیؒ کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی، لیکن ملکی و غیر ملکی علما اور سربراہان مملکت کے احتجاج کے بعد یہ سزا معطل ہوئی اور بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے اسے منسوخ کر دیا۔
۱۹۵۸ء میں مشرقی پاکستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر شاہد علی کے خود اپنے ہی بنگالی مخالفین کے ہاتھوں قتل کے بعد اکتوبر میں جنرل محمد ایوب خاں نے مارشل لا نافذ کردیا۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ جماعت اسلامی کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا۔ ۱۹۶۲ء میں مارشل لا ختم ہوا تو جماعت اسلامی نے سب سے پہلے خود کو بحال کیا اور اپنی سرگرمیاں جاری کیں۔ جماعت اسلامی اپنے قیام سے ہی ایک منظم، قانون پسند، اور عوام دوست تنظیم رہی ہے۔ اس کی کوئی خفیہ سرگرمیاں نہیں تھیں، اور اس کے کارکن ایمانداری اور وفاداری کے معیار پر لوگوں کی نظر میں قابلِ احترام تھے۔
جنوری ۱۹۶۴ء میں جنرل ایوب خاں کی زیرقیادت پاکستانی حکومت نے جماعت اسلامی پر پابندی لگادی۔ جماعت اسلامی نے اس پابندی کے خلاف مشرقی پاکستان ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔ حکومت اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی،اور جسٹس محبوب مرشد کی سربراہی میں مشرقی پاکستان ہائی کورٹ نے پابندی کو غیر قانونی قرار دیا۔ مگر مغربی پاکستان ہائی کورٹ نے پابندی برقرا رکھی۔ تاہم، سپریم کورٹ نے مشرقی پاکستان ہائی کورٹ کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے، پاکستان بھر میں پابندی ختم کردی۔
دسمبر ۱۹۷۰ء میں عوامی لیگ نے پورے انتخابی عمل پر قبضہ جماکر من مانا نتیجہ لیا۔ سول نافرمانی کی، پُرتشدد بغاوت کی، انڈیا نے اس کی مدد کی، اور پاکستان ٹوٹ گیا۔ اس طرح مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ شیخ مجیب نے اقتدار سنبھالتے ہی جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شنگھو سمیت تمام مذہبی جماعتوں پر پابندی لگا دی۔ پھر ۱۹۷۵ء میں آئین کی چوتھی ترمیم کے ذریعے انھوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو غیر قانونی قرار دے کر صرف ایک جماعت’ بکسال‘ ( BKSAL) قائم کی جو ’بنگلہ دیش کرشک سرامک عوامی لیگ‘ کا مخفف ہے، اور اپنے آپ کو اس کا تاحیات صدر قرار دیا۔ انھوں نے دوجماعتی اور دو سرکاری اخبارات کے علاوہ تمام اخبارات کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔ دسمبر۱۹۷۱ء کے بعد بھی جماعت سمیت تمام اسلامی جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں کو راکھی باہنی نے بغیر کسی مقدمہ کے قتل کیا۔ اسی دوران ۱۵؍ اگست ۱۹۷۵ء کو شیخ مجیب ایک فوجی بغاوت میں مارے گئے۔ ان کے زوال کے بعد دیگر جماعتوں نے نئے سرے سے رجسٹریشن کے بعد اپنا کام شروع کیا۔ فروری ۱۹۷۷ء میں اسلامی چھاترو شبر قائم ہوئی اور ایمان داری، قابلیت، اور حُبِ وطن کی بنیاد پر ایک معاشرتی ڈھانچا کی تعمیر کے لیے طلبہ میں کام شروع کیا۔ ۱۹۷۹ء میں بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے بھی نئے سرے سے کام شروع کیا۔ لیکن ان کا کام کبھی آسان نہیں رہا۔ شروع سے ہی انھیں سرکاری سرپرستی میں دائیں اور بائیں بازو کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ جماعت اسلامی اورشبر کے کارکنوں پر قتل، عصمت دری، آتش زنی، اور دہشت گردی کے ہزاروں نہایت بیہودہ جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ کئی جگہوں پر جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے گھر اور کاروبار کو بلڈوزر سے مسمار کردیا گیا۔ ۱۹۹۲ء میں نہایت گھنائونے الزامات سب سے پہلے راجشاہی یونی ورسٹی میں پھیلائے گئے۔ اس وقت میرے ایک ساتھی جناب شفیق الرحمٰن حکومت میں ڈپٹی سیکرٹری تھے۔ انھوں نے راج شاہی میں اس الزام کو سراسر جھوٹا افسانہ قرار دیا اور افسوس کا اظہار کیا۔
ہماری یونی ورسٹیوں میں ’اسلامی چھاتروشبر ‘پرپابندی تھی۔ ان کے لیے وہاں کوئی انسانی حقوق نہیں تھے۔ ساٹھ کے عشرے میں مَیں خود ڈھاکا یونی ورسٹی کا طالب علم تھا، لیکن ’اسلامی چھاترو شنگھو‘ کی سرگرمیوں میں حصہ لینا مشکل تھا۔ شہید محمد عبدالمالک میرے جونیئر بھائی تھے، جنھیں اگست ۱۹۶۹ء میں شہید کر دیا گیا۔ اس سے پہلے کا ایک واقعہ ہے۔ ۱۹۶۲ء میں، مَیں نے ڈھاکہ کالج انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لیا۔ اس وقت پرنسپل جلال الدین احمد تھے۔ میں اس وقت پاجامہ پہنتا تھا، وہ ہمیں انگریزی کی کلاس پڑھاتے تھے۔ ایک دن کلاس میں مجھ سے پوچھ بیٹھے: ’تم مولوی ہو؟‘ میں نے کہا:’’نہیں سر‘‘۔ انھوں نے صاف کہا:’’یاد رکھو! میرے کالج میں مُلّامولوی کی کوئی جگہ نہیں‘‘۔ حالات کی سنگینی کا آپ اس سے اندازہ لگائیں!
اب سے پندرہ برس پہلے شیخ حسینہ نے اقتدار میں آتے ہی جماعت اسلامی اور چھاتروشبر کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس کے لیے کروڑوں روپے خرچ کر کے جماعت اسلامی اورشبر سمیت اسلامی جماعتوں کے خلاف لاکھوں کتابچے چھاپ کر پوری دنیا میں تقسیم کیے گئے۔ جماعت اسلامی اور شبر کے مرکزی دفتر سے لے کر گراس روٹ تک تمام دفتروں کو بند کر دیا گیا۔ جماعت اسلامی اور اسلامی چھاتروشبر کے رہنما خاندان سے دُور خفیہ ٹھکانوں پر رہ کر کام کرنے پر مجبور ہوئے۔ کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں طلبہ کلاسز یا امتحانات نہیں دے سکتے تھے۔ مختلف مسلم ممالک کی حکومتوں اور ان کی یوتھ تنظیموں کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ شبر کے طلبہ سے تعاون نہ کریں۔ بنگلہ دیش کے سفارت کاروں کو مجبور کیا گیا کہ وہ ان پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر خطوط بھیجیں۔ مجھے ان خطوط کی کاپی حاصل کرنے کا موقع ملا۔ ہمارے ایک بڑے پڑوسی ملک نے اس سلسلے میں ان ظالمانہ اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔
اب تبدیل شدہ حالات میں وہ واویلا کر رہے ہیں کہ ’بنگلہ دیش پاکستان بن گیا ہے‘۔ اس واویلا میں ہمارے کچھ صحافی، سیاسی، اور ثقافتی رہنما بھی شامل ہو گئے ہیں۔ اس مہم میں بدنامِ زمانہ مصنفہ اور بھارت کی سرپرستی میں پلنے والی تسلیمہ نسرین بھی نظر آتی ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ ملک کے لوگ کردار اور اخلاقیات کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے۔
معروف انڈین جریدے آوٹ لک نے مجھے فلسطین کے محبوس علاقہ غزہ پر آئی نئی آفت یعنی قحط و بھوک پر رپورٹ لکھنے کے لیے کہا۔ میں نے نوّے کے عشرے کے اوائل میں شورش زدہ علاقوں سے رپورٹنگ کی تھی۔ کشمیر، شام، فلسطین، آذربائیجان، آرمینیا جنگ، افریقہ، انڈیا کے اندر نکسل واد کے متاثرہ علاقے اور کسی حد تک شمال مشرقی ریاستوں میں جنگ و شورش کو کور کیا۔
آوٹ لک کی اسٹوری کے لیے جب میں نے غزہ میں ایک صحافی اور مقامی سول سوسائٹی کے ساتھ وابستہ والینٹر دوست کو فون کیا، جن کے ساتھ خبروں کے حوالے سے پچھلے دوبرسوں سے ایک تعلق بن گیا تھا، تو کئی بار پیغامات بھیجنے اور کال کرنے کے بعد جب انھوں نے فون اٹھایا، تو ان کی آواز لرز رہی تھی۔ لگتا تھا کہ جیسے وہ کہیں دور سے سرگوشیوں میں بات کر رہے ہیں۔ ان کے الفاظ تھے: ’’برادر، میں نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا۔ جیسے ہی ایک روٹی ملتی ہے، آپ کو فون کروں گا‘‘ (پھر ان کا فون کبھی نہیں آیا، اور میں نے دوبارہ کال کرنے کی ہمت نہیں کی)۔
میں دیر تک فون تھامے بیٹھا رہا کہ وہ آواز سُن کر سُن ہوگیا تھا۔ حیران صرف اس کے الفاظ پر نہیں تھا، بلکہ اس وقار پر بھی تھا جس کے ساتھ اس نے وہ جملہ ادا کیا۔ اس لمحے مجھے لگا کہ میں نے گناہ کیا ہے۔ بھوکے انسان سے مجھے خبر مانگنے کا کیا حق بنتا ہے؟ اُس لمحے مجھے اتنی شرمندگی ہوئی جتنی کبھی کسی فوجی ناکے پر تلاشیاں دیتے ہوئے نہیں ہوئی ہے۔ اس ایک لمحے، میں رپورٹر نہیں رہا، بلکہ ایک اخلاقی انہدام کا گواہ بن گیا۔ غزہ کا منظرنامہ انسان کو توڑ دیتا ہے۔ اب غزہ کی رپورٹنگ، گولیوں کے زاویوں، جارح قوت کی وحشت، جنگ بندی کے ڈرامے یا مذاکرات کے سفاکانہ ناٹک بارے میں نہیں، بلکہ بھوک کے بارے میں ہے اور پوری دنیا سمیت ’اقوام متحدہ‘ اور ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC)کے شرم سے عاری رویوں کے بارے میں ہے۔آج کا غزہ صرف بموں اور ناکہ بندیوں کی کہانی نہیں۔ یہ بھوک کی کہانی ہے۔ ایسی قحط سالی جو قحط یا آفت سے نہیں، بلکہ منصوبہ بند جبر سے پیدا کی گئی ہے۔ غزہ کے عوام کے پیٹ ہی خالی نہیں بلکہ نام نہاد دنیا کی روح بھی خالی ہو چکی ہے۔
پھر اس تحریر کے لیے میں نے ۲۸ سالہ ابو رمضان سے بات کی، جو غزہ کے شہر النصر کے رہائشی ہیں۔ اُن کی گفتگو تلخی اور بے یقینی سے لبریز تھی۔جب میں نے انتہائی ڈھٹائی سے پوچھا کہ ’’آج کیا کھاؤ گے‘‘؟ تو اُنھوں نے جواب دیا:’’افسوس کہ ابھی تک ہم یہ طے نہیں کر پائے کہ کھانا کہاں سے لائیں گے؟ ہر دن اپنی تقدیر لاتا ہے۔ کبھی باسی روٹی کا ٹکڑا، کبھی بالکل کچھ نہیں۔ کبھی تلخ زعتر میں ڈوبا ہوا نوالہ، اور —وہ بھی اگر زعتر میسر ہو‘‘۔
میں نے پوچھا کہ ’’بھوک کی اس کیفیت کو آپ کس طرح محسوس کرتے ہیں؟‘‘ وہ لمحہ بھر رُکے، پھر ایسا جواب دیا جو ہمیشہ یاد رہے گا: ’’یہ ایسے ہی ہے جیسے دل میں خنجر مارا جائے اور ہاتھ بندھے ہوں۔ آپ اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتے، تڑپتے اور روتے دیکھتے ہیں مگر انھیں کچھ دینے کا وعدہ بھی نہیں کر پاتے۔ تسلی کا کوئی لفظ نہیں —بس خاموشی رہ جاتی ہے۔ جیب میں پیسے ہیں لیکن خریدنے کو کچھ نہیں۔چولہے پر سمندر کا پانی چڑھا دیتے ہیں۔ بچے اس کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ اب کھانا تیار ہوجائے گا اور اس چولہے کو دیکھ دیکھ کر سو جاتے ہیں‘‘۔
ان کا کہنا تھا:’’امریکا اور اسرائیل کی مدد سے قائم امدادی مراکز’موت کے پھندے‘ ہیں۔ جب وہاں جاتے ہیں، تو بھروسا نہیں ہوتا ہے کہ واپس پیروں پر چل کر آسکیں گے‘‘۔سب جانتے ہیں کہ امدادی مراکز کے سامنے خطرات ہیں۔ یا تو آٹے کا سفید تھیلا لے کر واپس آؤ گے، یا سفید کفن کی تلاش میں اپنی لاش چھوڑ کر آئو گے، مگر اس کے باوجود وہاں جانا پڑتا ہے کہ کوئی راستہ نہیں ہے‘‘۔
انھوں نے مزید کہا: ’’غزہ میں میں بھوک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج اب ایک بند گلی بن چکا ہے۔ ڈاکٹروں کی مہارت اور ان کی لگن بھی مثالی ہے۔ لیکن جب مسلسل محاصرہ اور مکمل محرومی ہو، تو ڈاکٹر کیسے کسی مریض کو غذا کھانے کا لکھ سکتا ہے کہ جس نے ہفتوں سے کھانا نہیں دیکھا؟‘‘
ابو رمضان بتا رہے تھے: ’’یہ سست موت ہے۔ اور ہم سب اسے اپنی آنکھوں کے سامنے اُمڈتا اور انسانی جانوں کو اُچکتا دیکھ رہے ہیں‘‘۔ پھر بھی وہ کہتے ہیں: ’’مگر اس کے باوجود انسانوں میں بھلائی باقی ہے۔اگر کسی کے پاس روٹی کا ایک ٹکڑا بھی ہو،جو کبھی اضافی نہیں ہوتا، وہ پڑوسی کے ساتھ بانٹ لیتا ہے، اس یقین پر کہ کل وہی نیکی واپس ملے گی۔ ہم سب موت کے پھندوں کی طرف اکٹھے جاتے ہیں۔ اگر ایک شہید ہو جائے تو دوسرا دونوں گھروں کے لیے لے آتا ہے، تاکہ دونوں خاندان زندہ رہ سکیں۔ لیکن زندہ رہنے میں کیا باقی بچا ہے جب ’زندگی‘کا تصور ہی چھین لیا گیا ہو؟‘‘
ابو رمضان نے مجھے بتایا:’’یہ جینا نہیں، یہ صرف بچنا ہے۔ ہر چیز بدل گئی ہے ۔ چھوٹی چھوٹی عادتوں سے لے کر ہمارے باطن تک۔ جب سے بھوک نے قبضہ کیا ہے، آئینے میں دیکھنا بھی عذاب ہو گیا ہے۔ ہمارے چہرے ہمارے جیسے نہیں لگتے ، بس کھوکھلے ڈھانچے اور تھکے سائے‘‘۔ افسوس یہ ہے کہ دنیا کو ابھی بھی غزہ کی اصل صورت حال کا ادراک نہیں ہے۔ میڈیا کوریج کے باوجود، کوئی نہیں سمجھتا۔ اگر سمجھتے ، واقعی ہمیں دیکھتے ، تو یہ جنگ ایک دن بھی نہ چلتی‘‘۔ میں نے جب پوچھا کہ دنیا کے لیے کیا پیغام ہے؟ تو ان کی آواز میں تلخی اُمڈی: ’’بس دنیا والوں کو کہیں کہ جا گ جاؤ۔ اس سے پہلے کہ تاریخ تم پر لعنت بھیجے۔ ایک دن تم خود ہم سے بھی بدتر حالت میں کھانے کے محتاج ہوگے۔ قیامت کے د ن ہم یہی گواہی دیں گے‘‘۔
’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ (Medecins Sans Frontieres: MSF) کی ایک تازہ رپورٹ میں ’غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن‘ (GHF)کو، جو امریکی و اسرائیلی سرپرستی میں چل رہا ہے، ’ظلم کی تجربہ گاہ‘قرار دیا گیا ہے۔ صرف سات ہفتوں میں ان مراکز کے باہر۱۸۰۰ ہلاکتیں درج کی گئیں۔ ۱۰۰ کے قریب بچوں کو گولیاں مار دی گئیں۔ بعض کو سر یا سینے میں۔ زخموں کی نوعیت —سر اور سینے میں زخم —ثابت کرتی ہے۔ امدادی مراکز ہدف اور ذلت کے میدان بن چکے ہیں، جن کی حفاظت امریکی نجی ٹھیکے دار کرتے ہیں۔ بچ جانے والے کہتے ہیں کہ پیغام صاف ہے: ’بھوکے مرو، یا کھانے کے لیے کوشش کرتے مرو‘۔ٹی وی پر امدادی ٹرکوں کی تصاویر چلتی ہیں، مگر زمین پر حقیقت مختلف ہے۔
مارچ ۲۰۲۵ء سے، جب اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے دوران امداد کی ناکہ بندی کی، خطے کو ایک منصوبہ بند طریقے سے ’قحط کی موت‘ کے مذبح خانے میں جھونک دیا گیا۔
غزہ کی صحافی راشا ابوجلال لکھتی ہیں: امدادی ٹرک بھی راستے میں لُوٹ لیے جاتے ہیں یا چند گروہوں کے قبضے میں چلے جاتے ہیں۔غزہ کی ضروریات کے لیے روزانہ۵۰۰/۶۰۰ ٹرک درکار ہیں۔مگر اسرائیل ۱۰۰ سے بھی کم ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دیتا ہے۔ چھ بچوں کے باپ خالد تنیرہ کہتے ہیں:’’یہ امداد سب تماشا ہے۔ ایک فوجی طیارے نے سات فضائی غباروں سے آٹے کے تھیلے ہمارے محلے کے اوپر گرائے۔ ہزاروں لوگ ان پر ٹوٹ پڑے، —حالانکہ وہ سامان چند درجن خاندانوں کے لیے بھی کافی نہ تھا‘‘۔
صحافی ابو جلال اپنی حالت زار بتاتی ہیں: ’’دو دن سے امدادی کھانے کا انتظارکرنے کے بعد میں نے ۲۵ ڈالر میں ایک کلو آٹا خریدا، جو مشکل سے ایک ڈالر کا ہوتا تھا۔ اب شیر خوار بچوں کا دودھ ۸۰ ڈالر فی ڈبہ ہے، جو پہلے ۱۰ ڈالر تھا۔ مائیں اپنے زیورات بیچ کر بچوں کو کھلا رہی ہیں‘‘۔ غزہ کے کالم نگار طلال اوکل لکھتے ہیں:’’جب تک امدادی رسائی بہتر نہیں ہوتی اور سیکیورٹی بحال نہیں ہوتی، بھوک مزید افراد کو ہلاک کردے گی‘‘۔ بین الاقوامی فضائی ڈراپ تماشے کو ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ نے ایک ’بے اثر اور خطرناک‘بتایا ہے۔
ایک نرس نے بتایا: ’’امدادی جگہوں پر ایک پانچ سالہ بچہ ہجوم میں کچلا گیا، اس کا چہرہ دم گھٹنے سے نیلا پڑ گیا تھا۔ ایک آٹھ سالہ بچے کے سینے میں امداد لیتے ہوئی گولی لگی۔ ہم صرف چند زخمیوں کا علاج کر پاتے ہیں۔ یہ جنگ نہیں رہی۔ جنگ کے علاوہ کچھ اور ہے، جنگ سے بھی زیادہ لرزہ خیز ہولناک اور تباہ کن ‘‘۔ ۴۲سالہ خدیجہ خدیر کہتی ہیں:’’میرے چار بچے بھوک سے سکڑ رہے ہیں۔ ہم تین چار روز کے بعد ایک روٹی کھاتے ہیں اور غزہ میں یہی آج کل ایک ’عیاشی‘ ہے‘‘۔
غزہ میں میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اسماعیل الثوابتا کا کہنا تھا: ’’قحط براہِ راست اسرائیلی فوجی محاصرے کا نتیجہ ہے۔ برسوں سے کھانے، ایندھن اور دواؤں کی منظم پابندی، اور تقسیم کے راستوں کی بار بار توڑ پھوڑ نے صورت حال بگاڑ دی ہے۔ محفوظ رسائی ناممکن ہوگئی ہے۔ خطے میں بدترین قحط شروع ہو چکا ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے ۲۶ جنوری، ۲۸ مارچ، اور ۲۴مئی ۲۰۲۴ءکو واضح حکم دیا کہ اسرائیل ’بلارکاوٹ‘انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائے اور شہریوں کی حفاظت کرے۔ مگر اسرائیل اب بھی گذرگاہیں بند رکھتا ہے، امدادی اور رفاہی کام روکتا ہے، اور تقسیم مراکز کو نشانہ بناتا ہے‘‘۔میں نے ان سے پوچھا: ’’مغربی حکومتوں کا کیا کردار رہا ہے؟‘‘ تو فلسطینی رہنما کا کہنا تھا:’’ زیادہ تر نے اسرائیل کو عسکری و سیاسی سہارا دیا ،یا اپنی قانونی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا۔ اس سے رکاوٹیں قائم رہیں۔ انھوں نے نہ گزرگاہیں کھولیں اور نہ عدالتی احکام منوائے‘‘۔
میں نے اسماعیل الثوابتا سے پوچھا: ’’آپ کے گھرانے نے آج اور اس ہفتے کیا کھایا؟‘‘ ان کا کہنا تھا: ’’کئی روز کے بعد آج ہم کو دال کا سوپ نصیب ہوا ہے۔ چند روز قبل تھوڑے سے چاول پانی کے ساتھ حلق سے اتارے تھے۔ یہ میری زندگی کا سب سے کڑا لمحہ ہے ۔گھر میں بیٹی روٹی مانگتی ہے مگر روٹی کو دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ امدادی مراکز پر اسرائیلی اکثر سر، گردن اور ٹانگوں میں گولیاں مارتے ہیں۔ لوگ تھوڑی تھوڑی چیزیں بانٹتے ہیں۔ ایک کلو پھلیاں دس لیٹر پانی میں اُبال کر کئی گھروں میں بانٹ دی جاتی ہیں۔ یہ یکجہتی ابھی باقی ہے۔ محاصرے اور روزانہ ہلاکتوں کے باوجود لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں‘‘۔ فلسطینی لیڈر نے بتایا:’’میں نے پچھلے دوماہ میں ۱۶کلو وزن کھو دیا۔ میرے کزنز مازن نے ۵۱ کلو، اور ماہر نے ۴۶کلووزن کھو دیا ہے‘‘۔
بھوک کو ہتھیار بنایا گیا ہے۔اسرائیل اور امریکا نے یہ اہتمام کیا ہے کہ اسرائیلی ٹرک ان کی اپنی زمین پر روٹیاں لائیں اور ان کو جاں بہ لب فلسطینی اور بھوک سے لاچار آبادی کے سامنے پھینک کر ان کا تماشا دیکھیں۔ اس دوران کسی اسرائیلی فوجی کا دل چاہا تو فائرنگ شروع کردی۔ اتنی تذلیل کوئی قوم برداشت کیسے کرسکتی ہے؟
بطور صحافی لکھتے لکھتے میرا قلم رُک جاتا ہے۔ بھوک نے الفاظ چھین لیے ہیں۔ اس باپ کے دُکھ کے مداوے کے لیے کیا لکھوں جو اپنے بچے کو سُوکھتے ہوئے دیکھ کر کڑھتاہے۔ وہ ماں جس نے پانی کا برتن چولہے پر رکھا ہے اور بچے اس کی طرف دیکھ دیکھ کر سو جاتے ہیں، یا اس نوجوان کے خون کا بدلہ جس کی جان کی قیمت بس آٹے کاتھیلا تھا۔ جب آنے والی نسلیں یہ باب پڑھیں گی تو وہ یہ نہیں پوچھیں گی کہ فلسطینی کیوں غصے میں تھے؟ وہ پوچھیں گی: دُنیا کیسے کھانے کھاتی رہی؟___ یہ قحط صرف خوراک کا نہیں، اخلاقی اور سیاسی بھی ہے۔
قومیں اُمت مسلمہ پر اس طرح ٹوٹ پڑی ہیں جیسے بسیارخور کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، مسائل بہت زیادہ اُلجھ گئے ہیں۔ مفادات کی جنگ جاری ہے۔ مختلف نقطہ ہائے نظر کی بھرمار ہے۔ مسلمان راہِ نجات اور محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں ہیں، جو انھیں اس خوفناک معرکے کی لپیٹ سے بچا سکے اور سب کچھ جلا کر راکھ کر دینے والے طوفان میں محفوظ رکھ سکے۔ ایسا طوفان جو اُمت کو دوکیمپوں میں تقسیم کررہا ہے: ایمان کیمپ ، جس میں نفاق نہیں، اور نفاق کیمپ، جس میں ایمان کی رمق بھی نہیں۔ اس طوفان میں اہلِ حق اور اہلِ باطل کے درمیان فرق کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ اس میں کھرے اور کھوٹے کی تمیز بھی ہورہی ہے۔ پھر جس کو ہلاک ہونا ہے وہ دلیل پر ہلاک ہوگا اور جس کو زندہ رہنا ہے وہ دلیل پر زندہ رہے گا۔ اور یہ اٹل قرآنی قانون کے مطابق ہوگا:
فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْہَبُ جُفَاۗءً۰ۚ وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ۰ۭ (الرعد ۱۳: ۱۷) جو جھاگ ہے وہ اُڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھیرجاتی ہے۔
اس انتہائی مشکل اور پریشان کن صورتِ حال میں اُمت کو یہ پناہ گاہ کب میسر آئے گی اور کہاں مل سکے گی؟
عالم اسلام اور افرادِ اُمت کو بہت سی فکری و نظری پناہ گاہوں میں حفاظت کی توقع بندھ جاتی ہے اور وہ ان کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ ذیل میں ایسی تصوراتی پناہ گاہوں کی نشان دہی اور ان کی حقیقت پر نظر ڈالتے ہیں:
امن و سلامتی اور حفاظت کی پناہ گاہ یقینا اس پرچم تلے نہیں ہوسکتی، جو دشمنوں کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے اپنی شناخت اور امتیاز کے خاتمے سے ممکن ہو، یعنی بدترین حالات کو دیکھ کر ان کے سامنے ہتھیار ڈال دینا، طوفان کے سامنے کھڑے نہ ہونا، جینے کی ادنیٰ ترین سطح پر آکر زندگی کی بھیک مانگنا، یا زیادہ سے زیادہ کفر کے نظام کے تحت، اصلاح کی موہوم اور معمولی شکل کو حاصل کرنے پر راضی ہوکر بیٹھ جانا۔ یہ سب ظلم سے مصالحت اور مداہنت کی وہ شکل ہے، جس کی ادنیٰ ترین حد کے قریب جانے سے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیںمنع فرمایا ہے:
وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ۰ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ۱۱۳ (ھود ۱۱:۱۱۳) ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجائو گے اور تمھیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمھیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔
یہ دراصل اس طوفان کے انجام سے بے خبری ہے، طوفان خواہ کتنا ہی دُور تک چلا جائے اس کا انجام ہلاکت و تباہی اور بربادی ہی ہوتا ہے:
وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ۰ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَہُوْقًا۸۱ (بنی اسرائیل ۱۷:۸۱) اور اعلان کر دوکہ ’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کا انجام بھی بیان کردیا ہے، جو اپنی شناخت کو بھول کر کفر و طغیان کے کیمپ میں داخلے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں۔ جو قوم ان کے نقش قدم پر چلے گی اسے اسی حتمی انجام سے دوچار ہونا پڑے گا:
فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْہِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَۃٌ۰ۭ فَعَسَى اللہُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَسَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ نٰدِمِيْنَ۵۲(المائدہ ۵:۵۲) تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اُنھی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں۔ کہتے ہیں: ’’ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکّر میں نہ پھنس جائیں‘‘۔مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمھیں فیصلہ کُن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا تو یہ لوگ اپنے اس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے۔
اس آیت میں لفظ عَسَی آیا ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں اُمیدورجاء اور توقع کے لیے نہیں بلکہ حتمی اور قطعی بات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ اس راستے کے انجام سے خبردار کر رہا ہے، کہ جلد ہی وہ یقینی طور پر فتح اہل حق کے مقدر میں کردے گا ، یا ایسے حادثات و واقعات رُونما کرے گا، جو بیمار دلوں کی توقعات اور اُمنگوں کے برعکس ہوں گے اور وقت گزرجانے کے بعد ان میں شرمندگی کا احساس گہرا کریں گے۔ ان کے اُوپر وہ بیماری، کمزوری اور بزدلی و کم ہمتی کھل جائے گی جس کی طرف ان کے دل لڑھکتے پھرتے تھے۔
حفاظت و سلامتی کی پناہ گاہ ، اُمت کے دلوں پر ظلم و استبداد کے مونگ دَلنے والے نظاموں اور اُن کے کارپرداز منافقین کی قلیل سی تعداد کے ساتھ اپنی نسبت جوڑنے سے بھی میسر نہیں آئے گی۔ یہ اقلیت اُمت کی دولت اور وسائل ضائع کر رہی ہے ۔ اس حاکم اقلیت نے اُمت کا ناطقہ بند کر رکھا ہے ، اس کی شناخت کو تبدیل کردیا ہے، اور اُمت سے عزم و ہمت کی قوت سلب کرلی ہے۔ اس حاکم گروہ نے اُمت کو اس کی آزادی سے محروم کر دیا ہے اور اللہ کے دین و شریعت سے عالمی نظام کی خدمت کے لیے اُمت کو غلام بنا رکھا ہے۔ اسلام اور اسلامی اقدار و روایات کا دشمن یہ استبدادی نظام ہے اور نظامِ شریعت سے جنگ آزما ہے اور انسانی فطرت کو تبدیل کردینے کے درپے ہے۔
اس منافقانہ نظام میں اپنے آپ کو گم کر دینا نہ اُمت مسلمہ کے مسائل کا حل ہے اور نہ اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ، بلکہ یہ مزید گراوٹ اور پستی میں گرنے پر ڈھٹائی سے جمے رہنے کے مترادف ہے۔ یہ ناکامی و پسپائی کو یقینی بنانے کا عمل ہے اور بڑی قیمت چکا کے اسے مزید جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔ ان منافقین کے پاس سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں اور ان کی دوستی کا کوئی اعتبار نہیں۔ خود ان کے وجود اور موجودگی کا بھی کوئی مستقبل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے باطل کی حقیقت کو بہت صاف الفاظ میں بیان کردیا ہے:
يُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۰ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۹ۭ (البقرہ ۲:۹) وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکا بازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور اُنھیں اس کا شعور نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش جس کے سبب عذاب ان کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور کسی مددگار کا وجود ان کو نظر نہ آنے کا بیان کرتے ہوئے فرمایا:
اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ۰ۚ وَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ نَصِيْرًا۱۴۵(النساء ۴:۱۴۵) یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے، اور تم کسی کو اُن کا مددگار نہ پائو گے۔
اللہ تعالیٰ اس قبیل کے تمام منافقوں (اور ان سے منسوب ہونے والوں کو) کافروں کے ساتھ جہنم میں ایک جگہ جمع کردے گا:
اِنَّ اللہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْكٰفِرِيْنَ فِيْ جَہَنَّمَ جَمِيْعَۨا۱۴۰ۙ(النساء ۴ :۱۴۰) یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ کوئی عقل مند آدمی نہ اس راستے کا انتخاب کرسکتا ہے، نہ کوئی رہنمائی کرنے والا دوسروں کو یہ راستہ دکھاسکتا ہے۔ یہ تو فطرتِ سلیمہ کی مخالفت اور ربِّ کائنات سے بغاوت و سرکشی کا راستہ ہے۔ قوانین قدرت اور قطعی دلائلِ ایمان کا انکار ہے۔ شروع میں تو اس خیال کا آدمی سمجھتا ہے کہ وہ پابندیوں سے آزاد ہوگیا ہے، مگر اسے یہ ادراک نہیں ہوپاتا کہ وہ کس تنگ و تاریک مقام پر جاگرا ہے، جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اور کس طرح کے غم و اندوہ میں مبتلا ہوگیا ہے جن سے چھٹکارے اور خلاصی کی کوئی سبیل نہیں۔ ایسا شخص ایسی بے سکونی اور بے چینی کا شکار ہوجاتا ہے کہ پھر سکون و اطمینان اسے کبھی میسر نہیں آسکتا۔ وہ حال کا سکون بھی گنوا بیٹھتا ہے اور مستقبل کے خوف کی آگ میں بھی جلتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی کیفیت کو بیان فرمایا ہے:
وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِيْشَۃً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اَعْمٰى۱۲۴ (طٰہٰ ۲۰:۱۲۴) اور جو میرے ’ذکر‘ (درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دُنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اُسے اندھا اُٹھائیں گے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ۳۱ (الحج ۲۲:۳۱) اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اُچک لے جائیں گے، یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جاکر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اُڑجائیں گے۔
یہ عزّت و تکریم کی بلندی سے اُتر کر خواہشاتِ نفس کی تکمیل میں مصروف ہوجانے، کھوجانے اور غرق ہوجانے کی پست سطح پر آجانا ہے۔ خوش حالی اور زندگی کی سہولتوں کے حصول کے پیچھے بھاگنا ہے، اور انھی سے لطف اندوزی کو مقصودِ زندگی ٹھیرا لینا ہے۔ اس کیفیت میں اللہ کے پیغام کا ابلاغ، امانت الٰہی کی ادائیگی اور اقامت دین کی ذمہ داری سے انسان منہ موڑ لیتا ہے، یا غفلت کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس نیابت کی خاطر پیدا کیا ہے، اُس فریضے کی ادائیگی سے پہلو بچاتا ہے، حالانکہ کائنات اور اس کی قوتیں اسی مہم کی انجام دہی کے لیے اس کی معاونت کی خاطر مسخر و مطیع کی گئی ہیں۔
اس فرار کو قرآنِ مجید نے ’ہلاکت‘ کا نام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اپنے آخری نبیؐ کو فتح و نصرت سے شادکام کردیا تو بعض صحابہؓ نے اپنی گفتگوئوں میں اس بات کا اظہار کیا کہ ہم نے اپنے مال ودولت کو اس خاطر چھوڑا تھا کہ ہم آپؐ کی جدوجہد میں شریک رہیں۔ اب چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو فتح و نصرت عطا فرما دی ہے، لہٰذا آئو ہم مال و کاروبار کی طرف واپس لوٹ جائیں تاکہ ان کی بہتری اور ترقی کے لیے محنت کرسکیں۔ اس موقعے پر اللہ تعالیٰ نے اس خفیہ اظہار رائے کی خبر وحی کے ذریعے دی اور فرمایا:
وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّہْلُكَۃِ ۰ۚۖ (البقرہ ۲:۱۹۵) اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
یہاں اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ’ہلاکت‘ میں ڈالنے سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنے دُنیاوی کاروبار اور روزگار کے ذرائع کی ترقی اور بہتری میں لگ جائیں اور جہاد کو ترک کر دیں۔ اس لیے فرار اور پسپائی کسی کے لیے ہرگز پناہ گاہ نہیں بن سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے:
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَہَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِيْ سَبِيْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ۰ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۲۴ۧ (التوبۃ ۹:۲۴) اے نبیؐ، کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ، اور تمھارے بیٹے، اور تمھارے بھائی، اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب، اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمھارے وہ کاروبار، جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے، اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔
دُنیا اور آخرت میں اہل ایمان کے لیے ایمان کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۸۲ۧ (الانعام ۶:۸۲) حقیقت میں تو امن اُنھی کے لیے ہے اور راہِ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا۔
اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ ہم نہ کافروں کی کشتی میں سوار ہوں، نہ اُن کی ہمراہی میں سفر اختیار کریں بلکہ اپنے دلوں میں ایمان کی علامات کو مضبوط تر کریں۔ قلبی صفائی اور اللہ پر توکّل کی سچائی کو دائمی طور پر اختیار کرلیں۔ یہی دو بنیادیں ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بیان ہوئی ہیں:
وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللہِ وَقَدْ ہَدٰىنَا سُبُلَنَا۰ۭ (ابراھیم ۱۴: ۱۲) اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسا کریں، جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟
امن و سلامتی کی پناہ گاہ اسلام کے ساتھ اپنے مخلص انتساب کی تجدید میں پوشیدہ ہے۔ اسلام کی شاہراہِ مستقیم کے مسافر کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ پوری وضاحت، قوت اور استقامت کے ساتھ باوقار انداز میں اس تجدید ِعہد کا اعلان کرے کہ:
وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۷۲ (یونس ۱۰ :۷۲) اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (خواہ کوئی مانے یا نہ مانے) میں خود مسلم بن کر رہوں ۔
بلکہ وہ اپنے ربّ سے ہروقت یہ دُعا بھی کرتا رہے:
تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ۱۰۱ (یوسف ۱۲: ۱۰۱) میرا خاتمہ اسلام پرکر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔
شاہراہِ اسلام کے مسافر کا شعار اور عزم یہ ہونا چاہیے کہ ’’میں اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام کر زندگی گزاروں گا اور مسکراتے ہوئے موت کا استقبال کروں گا، تاکہ میرا دین زندہ اور قائم رہے‘‘۔
پہاڑوں کی طرح بلند موجوں کا یہ طوفانِ بلاخیز اُمت مسلمہ کو پکار پکار کر اپنا سفینۂ نجات وقت ضائع کیے بغیر تیار کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔اس کشتی کی تیاری وقت کا فریضہ اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے مگر شرط یہ ہے کہ کشتی کی تیاری میں قرآنِ مجید کے حکم کا وہ متن پیش نظر رہے جس میں حضرت نوحؑ کو مخاطب کیا گیا ہے:
وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۰ۚ اِنَّہُمْ مُّغْرَقُوْنَ۳۷ (ھود ۱۱:۳۷) اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کر دو۔اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں۔
یہ کام سب سے پہلے تو اللہ پر توکّل میں اخلاص کا تقاضا کرتا ہے اور پھر اس سے مدد و استعانت کو بھی لازم ٹھیراتا ہے۔ یعنی بِاَعْيُنِنَا (ہماری نظروں کے سامنے)۔ دوسرا تقاضا یہ ہے کہ کشتی اللہ تعالیٰ کے طریق اور اس کے قانون و ضابطے کے مطابق تیار کی جائے یعنی بِوَحْينَا (ہماری ہدایت کے مطابق)۔ زمینی فلسفوں، عالمی حکم ناموں اور گروہی آرزوئوں کے مطابق نہیں۔
اس کشتی کے مسافروں پر لازم ہے کہ کشتی بانوں کو ان کا تعاون اور ہمدردی مکمل طور پر حاصل ہو۔قائد کاغذ پر نقشہ کے ذریعے اس کے ابتدائی خطوط طے کرے۔ کارکن مواد کو تیار کرے۔ انجینئر اس کی تفصیل بنائے۔ دولت مند دولت خرچ کرے۔ عبادت گزاردُعائیں کرے گا۔ عالم اس کے معانی و مفاہیم لوگوں کے ذہن نشین کرائے۔ بڑھئی اس میں کیلیں ٹھونکے۔ ماہرِفن تختیوں کی ترتیب لگا کر ان کی حرکت کو باضابطہ بنائے۔
اگر آپ ان سفینہ گروں میں سے نہیں ہیں تو سفینہ گری سے وابستہ لوگوں میں ہی شامل ہوجائیں، اس کام کو معاونت دینے والے بن جائیں۔ اس کی حفاظت و نگرانی پر مامور ہوجائیں۔ جو شخص اس کشتی کی تیاری میں اپنی کسی بھی طرح کی جہد و سعی صرف نہیں کرے گا، گویا وہ طوفان کے دوران جاری جہاد میں کسی کام نہیں آیا۔
آخری بات یہ کہ کسی عمل کو چھوٹا اور معمولی نہ سمجھیے۔ ایک نوخیز بچّے کے دماغ میں لفظ ’اسلام‘ ڈالنے میں بھی تردد نہ کیجیے۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی نوجوان نسل کی اسلام کے مطابق تربیت کرنے میں ہچکچاہٹ نہ برتیں۔ انحطاط پذیر معاشرے میں اسلامی اقدار کی حمایت و اشاعت کا ساتھ دیں۔ کسی مایوس سوسائٹی میں اُمید کا کلمہ بلند کرتے ہوئے نہ شرمائیں۔ اُٹھیں اور پوری وضاحت سے بغیر کسی تردّد کے یہ اعلان کریں:
اِنِّىْ تَوَكَّلْتُ عَلَي اللہِ رَبِّيْ وَرَبِّكُمْ۰ۭ مَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ اِلَّا ہُوَاٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِہَا۰ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۵۶ (ھود ۱۱ : ۵۶) میرا بھروسا اللہ پر ہے جو میرا ربّ بھی ہے اور تمھارا ربّ بھی۔ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بے شک میرا ربّ سیدھی راہ پر ہے۔
اور یہ یقین رکھیں کہ آپ ایمان کی پناہ گاہ میں جاکر اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے حق دار قرار پائیں گے:
وَلَنْ يَّجْعَلَ اللہُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا۱۴۱(النساء ۴: ۱۴۱) اور (اس فیصلہ میں)اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔
آج کی مغربی دُنیا، عشروں پر محیط ایک طویل نیند اور اذیت ناک غفلت کے بعد ہوش میں آئی ہے۔ شاید وہ اپنے کیے ہوئے غلط کام سے نصیحت پکڑے اور اس جرم کا ازالہ کرے، جس کی وہ مرتکب ہوئی تھی اور اسرائیل کی شکل میں اس زہریلے پودے کی زہرناکی کو محسوس کرے، جو اس نے کاشت کیا تھا اور سرزمین فلسطین کی اصلی قوم کی مظلومیت کو محسوس کرے، جس کو اس نے پارہ پارہ کردیا تھا۔
تاہم، اس ’ہوش مندی‘ کا قدم اُٹھاتے ہوئے بھی مغرب ایک موہوم اور ایک زہرآلودہ مفہوم کا نعرہ لے کر نکلا ہے، یعنی دو ریاستوں کا نعرہ۔جس کا مطلب ہے: دو پیمانوں سے وزن کرنا اور دو نگاہوں سے دیکھنا۔
کیا تعجب خیز سادگی ہے جو مغرب سرزمین فلسطین کے اصلی حق داروں کے ساتھ روا رکھ رہا ہے۔ اس نے انھیں ان کے تمام ظاہروباہر حقوق سے محروم کرکے ان کی اصل ملکیتوں سے بے دخل کردیا اور اس کے بالمقابل ان کے دشمنوں کو نوازتا رہا ہے، یہاں تک کہ جعلی اور اضافی حقوق بھی عطا کرتا رہا ہے۔
سب جانتے ہیں کہ ’اسرائیل‘ نام کی ریاست خطّے میں ایک غاصب اور دخیل ریاست ہے۔ تاریخ اس کی تائید نہیں کرتی اور نہ کوئی حساب کتاب اس کو جواز فراہم کرتا ہے۔ تو پھر ان مغربی اقوام کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ تاریخ کو بھی نہیں سمجھتے، یا پھر یہ اپنے اور تاریخ کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں؟
دُنیا میں بہت سے لوگ یہ خیال کرتے رہے کہ مغرب نے عربوں اور فلسطینیوں کے حق میں کی ہوئی اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا ہے اور اپنی رائے کو بدل لیا ہے۔ مظلوموں کو ان کے حقوق کی واپسی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کی طرف لوٹ آیا ہے۔ لیکن منطق کا یہ نہایت سادہ اصول ہے کہ کسی غلطی پر بنیاد رکھی جائے تو وہ بھی غلطی ہی ہوتی ہے، لہٰذا یہ کیسے درست ہوسکتا ہے کہ غلطی کی تصحیح غلطی کے ساتھ ہو؟ کیا یہ عقل مندی ہے کہ ہم نیکی کرنے والے سے کہیں کہ تُو نے بُرائی کی ہے؟ اور بُرائی کرنے والے سے کہیں کہ تُو نے نیکی کی ہے؟
فلسطین قانونی طور پر کس کا حق ہے؟ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے، اس میں ذرہ بھر شک و شبہ نہیں۔ اس حق کا کوئی اندھا ہی انکار کرسکتا ہے، لہٰذا وہ لوگ جو دُنیا کی لیڈرشپ کے دعوے دار ہیں اور انھوں نے آزادی و جمہوریت کا علَم اُٹھا رکھا ہے، ان کے لیے کیسے یہ جائز ہوسکتا ہے کہ وہ اس حقیقت سے انکار کریں؟
لہٰذا عدل و انصاف کی بات تو یہی ہے کہ اہل مغرب آئیں اور اصل مسئلۂ فلسطین میں جرم کا ازالہ کریں، غلط فہمی کی تصحیح کریں اور ظلم کی جگہ انصاف کریں۔
ہمارایہ ایمان ہے اور ہر صاحب ِ عقل اور حق گو ہمارے اس یقین میں شریک ہے کہ ’فلسطین‘ کا لفظ اپنے معنی و مفہوم اور وجود و حیثیت کے اعتبار سے تاریخ میں مضبوط پہاڑوں کی مانند قائم ہے۔ غاصبانہ طور پر چھن جانے والی سرزمین کا مطالبہ کرنے والے تمام لوگ اسی وجود کو مانتے ہیں۔لہٰذا ہم اُن سب کے لیے جو اس سرزمین فلسطین سے تعلق کا اعلان کرتے ہیں ایک کامل اور جامع ریاست کیوں نہیں بحال کرتے، جس کا نام فلسطین ہو؟ ایسی ریاست جو تمام کونوں گوشوں کو اپنے اندر سمولے۔ تمام ادیان و مذاہب کے لیے آزادی کی ضمانت دے ۔ تمام نظریات کے لیے زندہ رہنا اس میں ممکن ہو۔
اگر ہم سب کے لیے انصاف کو ممکن بنا دیں اور ہرکمزور و طاقت ور کو اس کا حق دے دیں تو ہم وہ ’عظیم تر فلسطین‘ کی ریاست قائم کرسکتے ہیں، جس کی بنیاد مکمل آزادی، کامل جمہوریت اور منصفانہ معاشرت پر رکھی گئی ہو۔
وہ اگر اس سے انکار کریں اور یہ یقینی طور پر متوقع ہے، تو پھر اہلِ فلسطین رواداری اور دست برداری کے پہلو سے دو ریاستی حل کو قبول کرسکتے ہیں، مگر اپنی مکمل قیادت، آزاد مرضی اور قیادت کے آزادانہ انتخاب کی بنیاد پر۔ تب دونوں ریاستوں کو یہ حق حاصل ہوسکے گا کہ اُن میں سے ہرایک اپنے دفاع کی غرض سے اسلحہ رکھ سکے۔ اسے ہر پابندی سے آزاد رہ کر اپنی معیشت کو بہتر بنانے کی ضمانت حاصل ہوگی اور وہ اپنے امن و آزادی کو یقینی بنانے کی خاطر بیرونی عسکری پابندیوں سے بھی آزاد ہوگی۔
اس تصور اور تجویز کو عملی طور پر ممکن بنانے کے لیے ضروری ہے کہ یہودی اپنی صہیونیت سے دست کش ہوجائیں جو کہ اُن کی نسل پرستی، فاشزم، انتہاپسندی اور توسیع پسندی کی بنیادی جڑ ہے۔ اسی طرح وہ دوسروں کے ساتھ امن و سلامتی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
وہ تجاویز اور حل جو بعض مغربی ممالک پیش کرتے ہیں، وہ تو ابتدا ہی سے نسل پرستی کو جنم دیتے ہیں اور بالآخر انتہا پسندی تک لے جاتے ہیں، لہٰذا، کیا اس ذہنیت سے آلودہ مغرب ’ریاست فلسطین‘ کے قیام کی ضمانت دے سکتا ہے؟ جب کہ اسی مغرب نے فلسطین کے بے گناہ شہریوں کو بھوک سے مارنے، بے گناہ فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے، اور نسل پرست صہیونی سیاست کو بلاروک ٹوک کھل کھیلنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
یہ مغرب جس نے فلسطینی قوم کے خلاف اسرائیل کو مال و دولت اور اسلحہ و سازوسامان کے ذریعے امداد دی ہے، یہی مغرب دو ریاستی حل کے مطالبے میں کیونکر غیرجانب دار ہوسکتا ہے؟ اس لیے کہ وہ ہمیشہ سے اور آج بھی دوپیمانوں سے وزن کرتا آیا ہے کیونکہ وہ آنکھوں کا اندھا ہے!
ہم یہ کہہ رہے ہیں اور ہمیں یہ یقین بھی ہے کہ ایسی ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کرنے کا مسئلہ جو پُرامن ریاست کے تمام حقوق سے خالی ہو، معاملے کو مزید بگاڑنے کا سبب ہوگا۔مسئلے کا حقیقی حل فلسطینی قوم کی واپسی، اسے اپنے مستقبل کے انتخاب کی پوری آزادی، اپنی قیادت کو منتخب کرنے کا پورا حق اور اپنے لیے مفید مناسب طرزِ حکومت اختیار کرنے کی آزادی میں پوشیدہ ہے۔
آزادی ایسا ’کُل‘ ہے، جو اپنے حصے بخرے ہونا قبول نہیں کرتی۔ یہ ہوتی ہے تو، مکمل ہوتی ہے اور نہ ہو تو یہ جزوی طور پر نہیں ہوتی۔ فلسطینی قیادت کا حق اسی کو حاصل ہوگا، جس کو قوم قبول کرتی ہے۔ اس قیادت کا مذہب خواہ کچھ ہو، اور اس کا نقطۂ نظر خواہ کچھ ہو۔ یہی قومی موقف اور ارادے کی نمائندہ ہوگی، اسی کو اپنی ذمہ داری ہرقسم کی مداخلت کے بغیر سنبھالنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ جہاں تک اتھارٹی کو مسلط کرنے اور حکمران متعین کرنے کی بات ہے، تو اس پر ایک زمانہ گزر چکا ہے اور اب اس کا وجود خون، آنسوئوں، بھوک، پیاس اور خوف و دہشت کے سیلاب میں بہہ گیا ہے۔
اب تک قوموں کے ساتھ معاملہ کرنے میں نفاق سے بھی بہت کام لیا گیا۔ چشم پوشی اور نظراندازی کا بھی خوب مظاہرہ کیا گیا۔ جن قوموں نے اپنی جدوجہد کے سلسلے میں جو کچھ کیا، ہمارے لیے اس میں عبرت کے درس موجود ہیں، جیسے الجزائر، ویت نام، جنوبی افریقہ اور افغانستان ہیں۔ ثابت شدہ اور ٹھوس حقیقت جس کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا، یہی ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت القدس ہوگا، قائم ہوکر رہے گی۔ اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں۔ غاصب اور قاتل نیتن یاہو کی حکومت خواہ کتنا ہی خوف پھیلا لے اور تشدد اور سفاکیت کا مظاہرہ کرے، اس کے مقابلے میں حق کا پرچم بلند ہوکر رہے گا، اس کو مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔ یہ جعلی اور بناوٹی اَدوارِ حکومت جو مغربی پٹی پر ایک من پسند قیادت کو مسلط کرکے یا اسلحہ سے خالی ریاست کا نعرہ لگا کر اور ’حماس کی اس میں کوئی جگہ نہیں‘ کا بیان دے کر ظاہر کیے جاتے ہیں، سب خالی نعرے ہیں۔ حقیقت کی دُنیا میں ان کا کوئی وجود نہیں۔
فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْہَبُ جُفَاۗءً۰ۚ وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ۰ۭ (الرعد ۱۳: ۱۷) جو جھاگ ہے وہ اُڑ جایا کرتی ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے، وہ زمین میں ٹھیرجاتی ہے۔
یہ ۲۰۰۶ء کی بات ہے کہ ایک ماہرِ قانون نے ’آئین پاکستان‘ اور آزادکشمیر کے ’عبوری آئین کی فراہمی کے لیے مجھ سے تقاضا کیا۔ میری اہلیہ ان دنوں ایک شادی میں شرکت کرنے کے لیے پاکستان گئی ہوئی تھیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ان کتابوں کو خرید کر ساتھ لیتی آئیں۔ واپسی پر جب وہ واہگہ -اٹاری سرحد پر پہنچیں تو ان کا فون آیا: ’کسٹم افسران نے ان دونوں کتابوں کو ضبط کرلیا ہے‘۔ میں نے مذکورہ افسر سے بات کی ، تو بڑی مشکل سے خاصے بحث و مباحثہ کے بعد اس نے ’آئین پاکستان‘ کی کاپی ساتھ لے جانے کی اجازت تودے دی، مگر آزاد کشمیر کے عبوری آئین کو ضبط کرکے اس کی رسید تھما دی۔ یہ واقعہ تو یہاں تمام ہوا، ازاں بعد مذکورہ ماہرِ قانون نے بھی اس کتاب کو بارڈر سے لانے کی کوشش کی، مگر ناکام رہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں کتابوں پر پابندیاں لگانے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، مگر جمہوری ممالک کی صف میں انڈیا اس طرح کی پابندیاں عائد کرنے میں بازی لے رہاہے۔ اگست ۲۰۲۵ء میں جس طرح زیرک اور معروف دانشوروں کی پچیس کتابوں پر تھوک کے حساب سے جموں و کشمیر میں پابندی عائد کی گئی اور پھر اگلے ہی روز کتابوں کی دکانوں کی تلاشیاں لی گئیں، اس سے دانش ور طبقہ میں خوف و تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ماضی میں جائیں تو آزادی کے بعد پہلی بار ۱۹۵۰ءمیں تین کتابوں پر پابندی لگائی گئی، وہ حمید انور کی پاکستان پس منظر، آغا بابر کی سیز فائر اور نسیم حجازی کا ناول خاک و خون تھا۔ اس کے دوسال بعد مولانا صادق حسین سردھنوی کے ناول معرکہ سومنات پر پابندی لگا دی گئی۔ اسٹانلے وولپرٹ کی Nine Hours to Rama پر ۱۹۶۲ءمیں پابندی عائد کی گئی۔ اس کے اگلے سال برٹرینڈرسل کی Unarmed Victory ممنوع قرار دی گئی۔ اسی طرح وی ایس نیپال کی An Area of Darkness، تامل ناڈو کے ایک لیڈر پیریار راماسوامی Ramayana: A True Reading بھی اس فہرست میں ہے۔ ۱۹۸۳ءمیں امریکی تفتیشی صحافی کی کتاب سیمور ہرش، ۱۹۸۹ء میں زوہیر کشمیری اور برائن میک انڈریو کی کتابSoft Target: How the Indian Intelligence Services Penetrated Canada? پر پابندی لگائی گئی۔ اسی قبیل میں آخری پابندی ۲۰۱۴ءمیں سنت سوریہ تکا رام اور لوک ساکا دنیشور پر لکھی گئی کتاب پر لگائی گئی۔ ۲۰۱۷ء میں ایچ ایس شیکھر کی قبائلیوں پر لکھی ایک کتاب پر بھی پابندی لگائی گئی تھی، مگر جلد ہی یہ واپس لے لی گئی۔
اگرچہ ہر سال ریاستی سطح پر اکا دکا ایسی پابندیوں کی خبریں تو آتی رہتی ہیں، مگر اس بڑے پیمانے پر ایک ہی ساتھ ۲۵تحقیقی کتابوں کو ممنوع قرار دینا پہلا واقعہ ہے۔ ان کتب میں بوکر انعام یافتہ ارون دھتی رائے کی آزادی، معروف تاریخ دانوں عائشہ جلال اور سوگاتا بوس کی کتاب Kashmir and the Future of South Asia، معروف قانون دان اور کالم نویس اے جی نورانی کی دو جلدوں پر مشتمل The Kashmir Dispute 1947-2012کے علاوہ کشمیر ٹائمز کی مدیرہ انورادھا بھسین کی کتاب A Dismentled State: The Untold Story of Kashmir after Article 370، محقق سمنترا بوس کی دو کتابیں، امریکا یونی ورسٹی کے پروفیسر اطہر ضیا اور حفصہ کنجوال کی کتابوں کے علاوہ مولانا مودودی کی الجہاد فی الاسلام اور امام حسن البنا کی مجاہد کی اذان اور کئی دیگر کتابیںشامل ہیں۔ اگر کسی کو کشمیر پر کہیں بھی کوئی تحقیق کرنی ہے یا مقالہ لکھنا ہے، تو ان کتابوں کے بغیر یہ مہم سر کرنا ناممکن ہے، مگر حکومت نے تقابلی مطالعے کا یہ باب ہی بند کردیا ہے۔
اس پابندی کی خبر پڑھ کر یہ لگا کہ محکمۂ داخلہ میں کسی وسیع المطالعہ شخص کا تقرر ہوا ہے، جس نے ارون دھتی رائے ، اے جی نورانی،سوگتابوس وغیرہ سبھی کو پڑھا ہے۔ مگر جب میں نے دوبارہ فہرست پر نظر ڈالی، تو اس میں معروف رضا اور ڈیوڈ دیوداس کی کتابیں بھی نظر آگئیں، تواس چیز سے یہ محسوس ہوا کہ اس افسر نے تو صرف کتابوں کے سرورق دیکھ کر پابندی کا حکم نامہ صادر کر دیا ہے۔ یہ دونوں مصنّفین انتہائی حد تک بھارت کا موقف تیار کرنے اور اس کی تشہیر کے لیے معروف ہیں۔ ڈیوڈ دیوداس کی کتاب In Search of a Future، سابق عسکریت پسندوں اور بھارت و کشمیر کے اہم سیاست دانوں کے انٹرویوز اور خفیہ ایجنسیوں کی فراہم کردہ معلومات پر مشتمل دکھائی دیتی ہے۔ اس کے مطابق: ’’کشمیری آزادی حاصل کرکے بھارت اور پاکستان کے وسائل نچوڑنا چاہتے ہیں۔ حقِ خودارادیت کا مطالبہ ’دوغلا‘ہے۔ کشمیری خود بھی واضح نہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ جدید دور میں حقِ خودارادیت ناقابلِ قبول ہے۔ ۱۹۸۹ء میں عسکریت کی ابتدا کا محرک سرحد پار سے آنے والی تحریک ہے، وغیرہ وغیرہ‘‘۔اس طرح موصوف نے کشمیر کے مسئلہ پر خوب بحث کی ہے۔ اسی طرح ڈیوڈ نے مسلمانوں کی تاریخ مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔
دیگر جن کتابوں پر پابندی لگائی گئی ہے، ان میں سب سے اہم مرحوم اے جی نورانی کی دوجلدوں پر مشتمل The Kashmir Dispute 1947-2012 ہے۔ میں نے ان کی جن پانچ کتابوں کے لیے بطور ریسرچر کام کیا ہے، ان میں یہ کتاب بھی شامل ہے۔ اس کتاب کے لیے دستاویزات ڈھونڈنے کی وجہ سے نیشنل آرکائیوز تک رسائی حاصل کی تھی۔یہ کتاب دستاویزات پر مشتمل ہے، جو پہلے ہی انڈین نیشنل آرکائیوز میں موجود ہیں۔ اب کیا ان کو بھی تلف کیا جائے گا؟ اس کی دوسری جلد مصنف کے مضامین کا مجموعہ ہے جو گذشتہ پانچ عشروں کے دوران مختلف روزناموں، جرائد اور کتابوں میں شائع ہوئے ہیں جن کو موضوعاتی طور پر سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں نایاب دستاویزات کے متن شامل ہیں، جیسے پاکستان اور بھارت کے درمیان عدم جارحیت معاہدے کے مسودے جو کبھی عملی شکل اختیار نہ کرسکے۔
کشمیر پر مختلف برطانوی اور امریکی دستاویزات، کشمیر کی تقسیم کی امریکی تجویز، مصنف کا اگست ۲۰۰۶ء میں پاکستانی صدرجنرل پرویز مشرف سے کیا گیا انٹرویو، ان کے منصوبے کی تفصیلات، انڈین آئین کے آرٹیکل ۳۷۰کو بدلنے کے لیے نئے آرٹیکل کا مسودہ (جو انڈیا کے زیرقبضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا ہے)، اور قائدین — جناح، ماؤنٹ بیٹن، نہرو، شیخ عبداللہ، جے پرکاش نرائن اور رادھا کرشنن — کے درمیان خط کتابت کے ساتھ ساتھ اب تک غیر شائع شدہ خفیہ دستاویزات کے متن بھی شامل ہیں۔
پچھلے سال ۲۹؍ اگست کو ممبئی میں جب اے جی نورانی کا انتقال ہوا، تو اس سے پندرہ روز قبل انھوں نے مجھے فون پر بتایا تھا کہ ’’ان پر دو کتابوں کا قرض ہے‘‘۔ میں سپریم کورٹ کے بابری مسجد سے متعلق فیصلہ پر کتاب مکمل کروں گا۔ اس سلسلے میں سبھی دستاویزات میرے پاس آچکی ہیں اور ساتھ ساتھ اپنی کتاب انڈین آرمی اور کشمیر مکمل کرکے مَیں کتابیں لکھنے سے ریٹائرمنٹ لے لوں گا۔‘‘ ان کا کہنا تھا: ’’ناشرین میری کتاب انڈیا-چین باؤنڈری ڈسپیوٹ کی دوسری جلد لکھنے پر زور دے رہے ہیں، مگر اب مزید لکھنا اور تحقیق کرنا میری دسترس سے باہر ہے‘‘۔
امریکی ریاست پنسلوینیا کی یونی ورسٹی میں پروفیسر حفصہ کنجوال کی کتاب Colonizing Kashmir: State-Building under Indian Occuption بھی اس خطے کی تحقیق کے حوالے سے ایک اہم اضافہ ہے۔اس پر کیسے کوئی پابندی لگا سکتا ہے،سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ کتاب مجموعی طور پر ۱۹۵۳ءکے بعد کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے، جب جموں وکشمیر کے پہلے وزیر اعظم (ان دنوں وزیر اعلیٰ کے بجائے وزیراعظم کا عہدہ ہوتا تھا) شیخ محمد عبداللہ کو برطرف اور گرفتار کرکے بخشی غلام محمد کو مسند اقتدار پر بٹھایا گیا تھا۔ اگلے دس سال تک بخشی اقتدار میں رہے اور ان کا واحد مقصد کشمیریوں کو چانکیہ کے سام، دام، ڈنڈاور بھید کے ذریعے رام کرنا یا سبق سکھانا تھا، جس سے وہ رائے شماری یا جمہوری حقوق کے مطالبہ سے تائب ہوکر انڈین یونین میں ضم ہونے کے لیے تیار ہوجائیں یا کم از کم اس کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کے قابل نہ رہ جائیں۔
کتاب پڑھ کر لگتا ہے کہ جیسے مصنف نے موجودہ دور کی ہی عکاسی کی ہے۔ ۳۸۴ صفحات پر مشتمل کتاب میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق میں کلیدی کردار ادا کرنے پر جب شیخ محمد عبداللہ کو وزیر اعظم بنایا گیا، تو ۱۹۴۹ءمیں ہی وہ انڈین حکمرانوں کے رویے سے دلبرداشتہ ہوگئے تھے۔ان کو لگتا تھا کہ نہرو کے سیکولرزم کے بعد کشمیریوں اور مسلمانوں کا جینا ہندوستان میں دوبھر ہونے والا ہے۔ دوسری طرف جواہر لال نہرو ان کو بار بار تاکید کررہے تھے کہ آئین ساز اسمبلی کے ذریعے مہاراجاکے دستخط شدہ الحاق کی توثیق کروائیں، جس کو شیخ ٹال رہے تھے۔ ۱۹۵۳ء تک انڈین لیڈروں بشمول شیخ عبداللہ کے انتہائی قریبی دوست نہرو کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور ۹؍اگست کو رات کے اندھیرے میں جب شیخ عبداللہ گلمرگ سیر و تفریح کرنے کے لیے گئے ہوئے تھے، ان کو معزول اور گرفتار کرکے زمام اقتدار بخشی غلام محمد کے سپردکردی گئی۔ جس کو ابھی تک کشمیری بکاؤ اور غدار کے نام سے یاد کرتے ہیں، گو کہ تعمیر و ترقی کے حوالے سے ان کا دور امتیازی رہا ہے۔
پابندی کی اس لسٹ میں ریاست جموں و کشمیر کے مؤقر انگریزی اخبار دی کشمیر ٹائمز کی مدیرہ انورادھا بھسین کی کتاب A Dismentled State: The Story of Kashmir after Article 370بھی شامل ہے۔ انورادھا لکھتی ہیں کہ ’’۵؍اگست ۲۰۱۹ءکی صبح جب کشمیریوں کی بدقسمتی کی ایک اوررات کا آغازہو رہا تھا، تو اپنے مضطرب ذہن کو سکون دینے کے لیے میں جموں شہر کی مقتدر شخصیت کرشن دیو سیٹھی کے پاس چلی گئی‘‘۔ بارہ ابواب پر مشتمل ۴۰۰صفحات کی اس کتاب میں کشمیر کے سبھی ایشوز خاص طور پر پچھلے تین سال کے دوران پیش آئے واقعات اور ان کے اثرات کا جامع جائزہ لیا گیا ہے۔
مواصلاتی پابندیوں سے کس قدر عوام کو ہراساں ا ور پریشان کردیا گیا تھا، اس کا اندازہ بھی اسی کتاب سے ہوتا ہے۔
کتاب میں راجوری ضلع کی تحصیل بدھل کے ایک دُور دراز علاقے کے ایک سرپنچ کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کے علاقے کے ہر گاؤں کے باہر سیکورٹی اہلکار تعینات تھے، جو لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا رہے تھے اور موبائل و دیگر فون بند تھے۔ بجلی اور پانی کی سپلائی میں خلل پڑنے کی شکایت کرنے کے لیے سرپنچ کے پاس سول انتظامیہ تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ آخرکار قدیم زمانے کی سواری یعنی گھوڑے پر سوار ہوکر یہ سرپنچ دسمبر ۲۰۱۹ءکو راجوری تحصیل آفس پہنچا اور اپنی شکایت سول انتظامیہ تک پہنچائی۔
اندازہ کیجیے کہ ایک طالب علم اور محقق کے لیے یہ کتابیں قیمتی معلومات اور تجزیات کا خزانہ ہیں۔اس سے قبل سال کے اوائل میں ہی کشمیر میں پولیس نے متعدد کتاب فروشوں پر چھاپے مارے تھے اور تقریباً ۶۶۸کتابیں ضبط کیں۔ حکام نے ان چھاپوں کو قابلِ اعتماد خفیہ اطلاع کی بنیاد پر جائز قرار دیا کہ ایک ممنوعہ تنظیم (جماعت اسلامی) کے نظریات کو فروغ دینے والا لٹریچر خفیہ طور پر بیچا جارہا تھا۔ ۲۰۲۳ء میں، کشمیر کی یونی ورسٹیوں نے علامہ اقبال اور فیض احمد فیض جیسے عالمی سطح پر تسلیم شدہ معروف شعرا کے کلام کو اپنے نصاب سے خارج کر دیا۔
ایسا کرنے سے آخر انڈین حکومت کون سا ہدف حاصل کرنا چاہتی ہے؟ معروف صحافی فرینی منیکشا عسکریت کے سماجی اثرات سمجھنے کے لیے ایک عرصہ قبل کشمیر کے قریہ قریہ گئی تھیں۔انھوں نے بتایا: پتا چلا کہ ایک بوڑھی عورت نے اپنے ہلاک شدہ بیٹے کی تصویر فریم میں لگا کر دیوار پر لٹکا رکھی تھی۔ جب بھی علاقے میں سیکورٹی فورسز تلاشی لیتی تھیں، تو اس گھر کی دیوار پر اس تصویر کو دیکھ کر ان کا پارہ چڑھ جاتا تھا اور اس معمر خاتون سمیت سبھی اہل خانہ کو ہراساں و پریشان کرتے تھے۔ آئے دن کی اس طرح کی وارداتوں کے بعد اس بوڑھی عورت نے بیٹے کی تصویر دیوار سے اتار کر اس کو کسی بکس میں رکھ دیا اور اس کی جگہ پر پہاڑوں کے خوب صورت منظر کی تصویر لگا دی۔ اس نے اپنے آس پاس کے لوگوں سے کہا کہ اس کو اپنے بیٹے کو یاد کرنے کے لیے تصویر کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اس کے دل و دماغ میں رچا ہوا ہے، اور اس کی یاد ہمیشہ قائم رہے گی۔ حکام اور سیکورٹی فورسز کی ناراضی اس کو کھرچ نہیں سکتی۔
موجودہ پابندیاں ان یادداشتوں کو کھرچنے کا عمل ہے، جو کئی عشروں سے جاری ہے، اگرچہ ۲۰۱۹ء کے بعد یہ عمل بے حد بڑھ گیا ہے۔یہ بار بار باور کرایا جا رہا ہے کہ جیسے انڈیا کو آزادی وزیراعظم نریندر مودی کے برسرِاقتدار آنے کے بعد ۲۰۱۴ء میں ملی اور کشمیر کو یہ آزادی ۲۰۱۹ءمیں نصیب ہوئی۔ لہٰذا، اس سے قبل کے دور کو دور غلامی یا ’تاریک دور‘ کے طور پر ہی یاد کیا جاسکتا ہے۔ کشمیر کے اخبارات کے آرکائیوز بند کردیے گئے ہیں۔ پچھلے ۳۰ برسوں میں اس خطے پر کیا کیا قیامت برپا ہوئی؟ اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن میں پابندی کا دفاع کرتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ لٹریچر شکایت، مظلومیت اور دہشت گردانہ ہیرو ازم کی ثقافت کو فروغ دیتا ہے۔’شکایت اور مظلومیت ‘بیان کر نا اب جرم ہو گیا ہے۔ لوگ اپنے دُکھ بیان کرنے کا حق رکھتے ہیں، نہ اپنے آپ کو مظلوم کہہ سکتے ہیں۔ یادداشتوں کو کھرچنے کے عمل کا ایک حصہ ۱۳ جولائی ۱۹۳۱ء کی بغاوت کی یاد کو مٹانے کی کوشش تھی۔ کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں کو شہدا کے قبرستان میں جمع ہونے ا ور فاتحہ پڑھنے پر ہی پابندی لگادی۔ یہ تاریخی واقعہ کشمیریوں کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے اور ۲۰۱۹ء تک پارٹی اور نظریاتی وابستگیوں سے بالاتر یادگاری تقریبات منعقد کی جاتی تھیں۔ اس سال ایک وزیر اعلیٰ کو بندگیٹ پھلانگنے پر مجبور ہوکر اس مزار میں داخل ہونا پڑا۔
سری نگرمیں لاپتہ افراد کے والدین کی ایسوسی ایشن (APDP) کے اراکین تصاویر اور پلے کارڈز اٹھا کر ریاست سے جوابدہی کا مطالبہ کرتے تھے۔۲۰۱۹ء کے بعد اس عمل کو روک دیا گیا، اور اب پروفیسر اطہر ضیا کی کتاب Resisting Disappearance: Military Occupation & Women' Activism in Kashmir پر پابندی لگا کر یادداشت غائب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کی کتاب APDP پر مبنی ایک نسلیاتی مطالعہ ہے، جو یہ تجزیہ کرتی ہے کہ سیاسی تشدد خواتین پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے اور کشمیری خواتین اپنے کھوئے ہوئے پیاروں کا سوگ اور یاد کس طرح مناتی ہیں۔
اس پورے قضیہ کا المناک پہلو یہ ہے کہ انڈیا کے لبرل طبقے نے بھی اس پر آنکھیں موند لیں اور اس پر قابلِ قدر رد عمل نہیں دیا۔ فرینی منیکشا کے مطابق شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ کشمیر کی جماعت اسلامی کو صرف مذہب کے ہی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جب کشمیر سوشل میڈیا کا ہیش ٹیگ بھی نہیں بنا تھا، تب جماعت اسلامی ہی کے لوگ وہ تواریخ محفوظ کر رہے تھے، جنھیں کوئی اور چھونے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔
انورادھا بھسین نے بھی انڈیا کے سیکولر اور لبرل طبقے کو مخاطب کرکے خبردار کیا ہے کہ ’’موجودہ حکومت کشمیر کو ایک لیبارٹری کی طرح استعمال کر رہی ہے اور اگر اس کو روکا نہ گیاتو یہ تجربات قریہ قریہ، گلی گلی انڈیا کے دیگر علاقوں میں دہرائے جائیں گے‘‘۔اگرچہ لوگ سوشل میڈیا پر ان ممنوعہ کتابوں کے گوگل ڈرائیو لنکس شیئر کر رہے ہیں، لیکن اہل کشمیر کے لیے یہ معمولی سا سہارا ہے۔
ایک صحت مند جمہوریت، بحث سے پروان چڑھتی ہے نہ کہ جبری خاموشی سے۔ جیسا کہ انورادھا بھسین، لکھتی ہیں: 'جب آپ کتابوں پر پابندی لگاتے ہیں، تو آپ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کے پاس کوئی جوابی دلیل نہیں ہے۔ آپ سچائی کا سامنا کرنے کے بجائے اس اقدام سے اپنے خوف کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس لیے یہ پابندی ایک مایوس کن عمل ہے۔ یہ عمل ایک ایسی ریاست کو ظاہر کرتا ہے جو ایک باخبر شہری سے خوف زدہ ہے۔ لیکن تاریخ پوشیدہ نسخوں میں زندہ رہتی ہے۔