۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ کے خلاف جاری جنگ عالمی رائے عامہ کی تشکیلِ نو کے باب میں تبدیلی کا ایک اہم موڑ بن گئی ہے۔ نہ صرف فلسطینی مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی بلکہ اس سے عالمی نظام کی ہیئت و ساخت اور اس کے اخلاقی وجود،معیار اور مفہوم پر بھی سوالات پیدا ہوچکے ہیں۔
غزہ میں جاری اہل فلسطین کا ’ہولوکاسٹ‘ اور اس کے براہِ راست مشاہدے نے صہیونی بیانیے کی کمزوری اور کھوکھلے پن کو پوری دنیا پر آشکارا کردیا ہے ، ساتھ ہی ساتھ اس نےمغرب کے دوہرے معیار کا پردہ بھی چاک کردیا ہے۔ بڑی عالمی طاقتیں اُس ادنیٰ ترین اخلاقی توازن کو قائم رکھنے میں بھی بُری طرح ناکام رہی ہیں، جس کا وہ دعویٰ کرتی چلی آئی ہیں ۔
اس کے برعکس، فلسطین اور اس کا مسئلہ ایک ایسے اخلاقی پیمانے کی حیثیت سے اُبھر کر عالم انسانیت کے سامنے آیا ہے جو خواص اور عوام کے موقف کو یکساں طور پر، روایتی سیاسی صف بندیوں سے بلند ہوکر اَزسر نو مرتب کررہا ہے۔ غزہ نے اپنے آپ کو ایک ایسے محرک اور عامل کی حیثیت سے منوایا ہے، جو پوری انسانیت کو بین البر اعظمی اور عالمی، ہر دو سطح پر نئی صف بندی پر مجبور کررہا ہے،تا کہ قومی اور سماجی سطح پر ایک ایسا بندوبست تشکیل پائے، جس سے ممکنہ طور پر نئی اسٹرے ٹیجک تبدیلیوں کا دروازہ کھل سکے ،اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن کی گمراہ کن راہیں مسدود ہوں، عرب حکومتوں پر دباؤ بڑھے اور اسرائیلی قبضہ گیروں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کرنے کے لیے ضروری قانونی چارہ جوئی کی کوششوں میں وسعت آئے ۔غزہ میں جاری معرکہ ہر گز ایک علاقائی ایشو اور محض فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عالم گیر قضیہ ہے جوموجودہ عالمی نظام کے لیے ایک اخلاقی امتحان کی حیثیت رکھتا ہے ۔
حال ہی میں خطے نے براہِ راست تصادم کو بھی دیکھا ہے۔ ایران اور ’صہیونی- امریکی محور‘ کے درمیان ہونے والے اس تصادم نے ایرانی فضائی دفاعی نظام کی کمزوری کو تو آشکارا کیا ہی، تاہم ساتھ ہی ساتھ ایران کی یہ صلاحیت بھی نمایاں تر ہوکر سامنے آئی ہے کہ وہ صہیونی ریاست ِ اسرائیل کے اندر دُور تک، اور اس کے جدید ترین فوجی اڈوں اور دیگر دفاعی اور حساس تنصیبات کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی قدرت رکھتا ہے۔
۱۲ روزہ جنگ کا یہ زمانہ محض ایک عارضی اوروقتی تصادم نہ تھا، بلکہ خطے میں جاری کش مکش میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے دونوں برسرپیکار طاقتوں کے درمیان قائم توازن اور اس میں موجود خامیوں کو بھی آشکارا کردیا ۔ تصادم کا غیر فیصلہ کن ہونا اشارہ کررہا ہے کہ ٹکراؤ کے آئندہ مرحلے خطرناک اور شدید تر ہوسکتے ہیں اور کوئی غلط اندازہ یا کسی فریق کی طرف سے غیر مدبرانہ فیصلہ امکانی طور پر کش مکش اور تصادم کے دائرے کو وسیع تر بھی کرسکتا ہے۔
اگرچہ بظاہر اب مشرق وسطیٰ کے منظرنامے پر ایک خاموشی چھائی ہوئی ہے، مگر ہر فریق اپنی اپنی تلواریں تیز کر رہا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران، عوامی جمہوریہ چین کی حمایت اور اس کی بے مثال اقتصادی پشت پناہی سے انتہائی خاموشی کے ساتھ اپنی اسٹرے ٹیجک پوزیشن کو پھر سے ترتیب دے رہا ہے، اور اس کے اتحادی لبنان، یمن اور عراق بھی متحرک ہیں۔ اسی تناظر میں واشنگٹن حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مداخلت کے لیے ہمہ دم تیار بیٹھا ہے کہ دباؤ کے کسی لمحے میں مداخلت کر ڈالے۔ اس صورتِ حال میں اسرائیل میں وہ سیاسی و عدالتی دھماکے رُونما ہو رہے ہیں، جو نیتن یاہو حکومت پر شدید دبائو کا باعث ہیں۔
سبھی فریق محتاط تیاری کی حالت میں ہیں، گویا ایک دھماکا ہے جو عنقریب ہوکر رہے گا۔ آئندہ ہونے والا معرکہ محض گولہ باری اور سپرسانک میزائل باری کا تبادلہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایک اسٹرے ٹیجک، ابلاغی، اور قانونی تصادم بھی ہوگا۔
ایران اور ’صہیونی - امریکی محور‘ کے درمیان جنگ بندی کا عالمی سطح پر محتاط خیرمقدم ہوا ہے، جب کہ حالات کی نزاکت اور قائدین کے متضاد بیانات نے اصل صورتِ حال کو مبہم بنا دیا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا، تو دوسری جانب نیتن یاہو نے 'ایرانی جوہری پروگرام کی تباہی کا اعلان کیا، حالانکہ انٹیلی جنس رپورٹیں اس دعوے کی تردید کرتی ہیں۔
مغربی ذرائع ابلاغ — جیسے نیویارک ٹائمز اور دی اکانومسٹ وغیرہ — نے اس جنگ بندی کو غزہ میں تنازع کے خاتمے کی ممکنہ صورت قرار دیا تھا۔ تاہم، دیگر تجزیہ نگاروں نے بجا طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے مسئلہ فلسطین کے حقیقی حل سے گریز کیا تو خطہ میں تشدد کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
فناشنل ٹائمز نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ موجودہ جنگ بندی محض ایک ناپائیدار عبوری مرحلہ ہے، جب کہ اصل فیصلے کا اس بات پر انحصار ہے کہ کیا اسرائیل ایک منصفانہ تصفیے میں شامل ہونے پر آمادہ ہے، جو بالآخر ایک مکمل خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو، —یا اس کا مقصد صرف تنازع کے دوران بگڑتی ہوئی صورت حال کو سنبھالا دینا ہے؟
اس سارے منظرنامے کے بیچوں بیچ گریٹر اسرائیل ' کا مذموم منصوبہ ایک نمایاں خطرے کے طور پر موجود ہے،اور اب [نیتن یاہو کے بیان کے بعد] بالکل واضح اور حقیقی خطرے کے طور پر اُبھر کر سامنے بھی آچکا ہے ۔ تل ابیب ، نیل سے فرات تک مکمل بالادستی قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ گویا —اسرائیل اپنی تاخت و تاراج کو فلسطینی سرزمین تک محدود نہیں رکھنا چاہتا، بلکہ عرب ممالک کی خودمختاری کو روندتے ہوئے انھیں تابع مہمل باج گزار ریاستوں میں تبدیل کرنے کے اپنے عزائم آشکارا کرچکا ہے۔
مشرق وسطیٰ پر بالادستی کا اسرائیلی منصوبہ، عالم عرب پر اس کے عسکری غلبے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ معیشت، سلامتی کے امور، ثقافتی تعلقات، نارملائزیشن، اور عرب ممالک کے حکومتی اداروں میں خفیہ اثر و رسوخ کا جال بچھانےتک وسیع ہے۔
اگرچہ ’صہیونی-امریکی محور‘ کو خفیہ معلومات کاری اور عسکری میدان میں بظاہر کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں، تاہم 'نئے مشرقِ وسطیٰ کی قیادت سنبھالنے کے اس کے خواب کو متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے: عرب اقوام کی طرف سے انکار، مزاحمتی قوتوں کا باہم اتحاد، اسرائیل کے داخلی بحرانوں کی شدت، اور ایک جامع علاقائی پروگرام کی عدم موجودگی جس پر سبھی متفق ہوں۔یہ وہ عوامل ہیں جو دیرپا تسلط کی اسرائیلی و امریکی خواہش اور صلاحیت کو کمزور کرتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ پر غلبہ پانے کے اسرائیلی منصوبے کا مکمل طور پر امریکی مدد پر انحصار بھی اسے ایک اسٹرے ٹیجک مخمصے میں ڈال رہاہے، بالخصوص ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن کا اپنا اثر و رسوخ اندرونی بحرانوں اور یوکرین و چین کے دُہرے دباؤ کے باعث زوال پذیر ہے —اور خطے کے معاملات پر اس کی یک طرفہ گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
بظاہر یہ جغرافیائی،سیاسی خلا اب بتدریج چین اور روس کے ذریعے پُر ہو رہا ہے، جو نئی اقتصادی و عسکری حکمتِ عملیوں کے ذریعے ایک کثیرقطبی عالمی نظام کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ —ایسا نظام جو واحد امریکی بالادستی کے دور کا اختتام ثابت ہو سکتا ہے۔
خلیجی ممالک چاہنے یا نہ چاہنے کے باوجود قومی سلامتی کی ایسی شراکتوں کے نفاذ کی کوششیں ان کی خود مختارانہ فیصلہ سازی کی صلاحیت اور آزادی کو متاثر کررہی ہیں۔ عراق، شام، لبنان اور اُردن میں ’صہیونی-امریکی محور‘، ایک ایسا نفسیاتی اور فضائی غلبہ قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے جو ان کے خودمختار کردار کو بحالی اور اختیار سے محروم رکھ سکے۔
دوسری طرف ایران کا کردار ایک ایسے مزاحمتی محور کے طور پر نمایاں ہوا ہے، جو غزہ سے صنعا تک پھیلی اسٹرے ٹیجک وسعت کا حامل ہے، اور آزادی کے اس مفہوم پر مشتمل موقف کی تشکیل کررہا ہے، کہ امت کی بقا فلسطین کی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔
مزاحمتی جماعتیں، جن میں سرِفہرست حماس ہے، اب محض دباؤ کا پریشر گروپ نہیں رہی، بلکہ ایسی مؤثر قوت بن چکی ہے، جو عسکری، ابلاغی، اور سیاسی سطح پر خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
غزہ، مسلسل محاصرے ،فوج کشی اور تباہی کے باوجود، ایک ایسے اخلاقی مرکزومحور میں تبدیل ہوچکا ہے، جو مزاحمت کے قانونی و اخلاقی جوازکی تشکیلِ نو کر رہا ہے، اور عالمی رائے عامہ کے سامنے، ’صہیونی-امریکی محور‘ کے چہرے پر پڑا باقی ماندہ اخلاقی پردہ بے نقاب کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پر غلبے کی اس کش مکش میں روایتی جنگی ذرائع اب فیصلہ کن حیثیت نہیں رکھتے، بلکہ شعور اور فہم کا محاذ بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔
مزاحمتی ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، تعلیم، دین، ثقافت، معیشت، اور مصنوعی ذہانت، —یہ سب آزادی کی جنگ کے مرکزی میدان بن گئے ہیں، جو اقوام عالم کے شعورو ادراک کی اَزسرِنو تشکیل کررہے ہیں، اور اسرائیلی قبضہ گیروں کے مسلط کردہ جھوٹے موقف کی اجارہ داری کو توڑ کر مزاحمت و انصاف کے بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں۔
ان ذرائع کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور فیصلہ کن حیثیت نے فلسطین کی آزادی کے منصوبے کو نہ صرف نفسیاتی، ثقافتی اور اقتصادی وسعت فراہم کی ہے،بلکہ اسے محدود فوجی مزاحمت کے عمل سے نکال کر ایک ایسے جامع تہذیبی احیائی منصوبے میں بھی تبدیل کیا ہے جو زور زبردستی کے موجودہ مسلط شدہ نظام کو متاثر کر رہا ہے، اور خطے میں طاقت کے توازن کو نہ صرف فوجی نقطۂ نظر سے بلکہ علمی،شعوری اور اخلاقی زاویے سے بھی دوبارہ متعین کر رہا ہے۔
ہماری دانست میں اصل معرکہ، جو خطے کی حتمی سمت کا تعین کرے گا، سیاست یا جغرافیہ کے میدانوں میں نہیں، بلکہ شعور اور جواز کے میدان میں ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ کا آئندہ قائد وہی ہوگا، جو گہری تہذیبی بصیرت رکھتا ہو، اور آزادی و قیادت کے حقیقی تصور پر مبنی توازن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ —ایسا توازن جو اُمت کو اس کی خودمختاری واپس دلائے، اور اس خطہ کی اقوام کو نئے عالمی نظام میں آزادی اور وقار عطا کرے۔کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کسی نئے استعمار کا منتظر نہیں، بلکہ ایک انقلابی رہنما کا خواہاں ہے جو قیادت کے مفہوم کو اَزسرِنو تشکیل دے اور صفوں کو متحد کرے۔
غزہ میں انسانی تاریخ کے ایک المیہ، بدترین صورتِ حال میں ڈھل چکا ہے۔ ہم یہاں برطانیہ کے اخبارات کی رپورٹنگ سے کچھ حصے پیش کر رہے ہیں۔
غزہ میں اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی کے سربراہ نے گذشتہ دنوں کہا: ’’ہمارے فرنٹ لائن عملے کے ارکان بھوک سے بے ہوش ہو رہے ہیں، کیونکہ غزہ میں بھوک سے مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے‘‘۔
اقوام متحدہ کی ’ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی‘ (UNRWA: ’انروا‘) کے سربراہ فلپ لازارینی نے کہا: ’’یہ سنگین ہوتی صورت حال ہر کسی کو متاثر کر رہی ہے، یہاں تک کہ ان لوگوں کو بھی جو جنگ زدہ علاقے میں زندگیاں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب دیکھ بھال کرنے والے خود کھانے کو ترس رہے ہوں تو پورا انسانی امدادی نظام تباہ ہو جاتا ہے‘‘۔
لازارینی کے بقول: ’’میرے ایک ساتھی نے بتایا ہے کہ ’’غزہ کے لوگ نہ زندہ ہیں، نہ مُردہ، وہ چلتی پھرتی لاشیں ہیں‘‘۔
مزید یہ کہ: ’انروا‘ کے پاس اردن اور مصر میں خوراک اور طبی امداد سے لدے تقریباً ۶ہزار ٹرک موجود ہیں، مگر اسرائیلی حکام امداد غزہ پہنچنے نہیں دے رہے!‘‘
صحافیوں اور خدمتی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کے ذریعے ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ لوگ بھوک سے زمین پر گر کر مر رہے ہیں۔ سول ڈیفنس کے کارکنوں نے ایسے کمزور جسموں کی تصاویر بنائی ہیں، جن پر محض کھال باقی ہے۔ طبّی ذرائع کے مطابق گذشتہ روز دو اور افراد بھوک سے مر گئے۔ دونوں بیمار تھے اور کئی دنوں سے کچھ نہیں کھایا تھا‘‘۔
بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ بھوک سے مرنے والے فلسطینیوں کی تصاویر اسرائیلی ناکہ بندی پر عالمی سطح پر مذمت کا باعث بن رہی ہیں۔۲۳جولائی کو فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا: ’’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ فرانس فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلے گا‘‘۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ دہشت گردی کو انعام دینا ہے‘‘۔ اس سے قبل، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایک بیان میں کہا: ’’غزہ میں جو تکلیف اور بھوک کا عالم ہے، وہ ناقابلِ بیان اور ناقابلِ دفاع ہے۔ اگرچہ یہ صورتِ حال کافی عرصے سے سنگین ہے، لیکن اب اس نے ایک نیا اندوہناک موڑ لیا ہے اور بدستور بگڑتی جا رہی ہے۔ ہم ایک انسانی المیے کا مشاہدہ کر رہے ہیں‘‘۔
—— سی کے مطابق: ’’غزہ میں اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ قحط اب بدترین شکل اختیار کرچکا ہے۔ عالمی ادارے ہر روز غزہ کی صورتِ حال پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ اب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اس صورتِ حال پر عالمی ضمیر سے اپیل کی ہے‘‘۔
اخبار گارڈین، لندن (۲۵ جولائی) کے مطابق: ایک طبی امدادی ادارے کا کہنا ہے: ’’غزہ شہر میں ہمارے کلینک میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح پچھلے دو ہفتوں میں تین گنا بڑھ گئی ہے کیونکہ اسرائیلی محاصرے کے باعث فاقہ کشی کی صورتِ حال مزید بگڑ رہی ہے‘‘۔
عالمی امدادی ادارے برابر خبردار کر رہے ہیں: غزہ بڑے پیمانے پر قحط کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں روزانہ فاقہ کشی سے اموات ہو رہی ہیں۔ اس کے برعکس اسرائیل صرف معمولی مقدار میں امداد داخل ہونے دے رہا ہے۔
مئی سے اب تک غزہ شہر کے مرکز میں غذائی قلت کے مریضوں کی تعداد چار گنا بڑھ چکی ہے۔موجودہ فاقہ کشی کی صورتِ حال کی ذمہ داری اسرائیل کی ’قحط میں مبتلاء کرنے کی پالیسی‘ پر عائد ہوتی ہے، جب کہ ۱۰۰ سے زائد امدادی اداروں کو اسرائیل نے غزہ میں امداد کی فراہمی سے روک رکھا ہے۔اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حکمت عملی انتہائی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے، بلکہ اب تو طبی عملہ خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
عالمی ادارہ خوراک (WFP) کے مطابق: ’’غزہ کی ایک تہائی آبادی کئی دنوں سے کچھ نہیں کھا سکی، اور بحران ناقابلِ یقین سطح تک پہنچ چکا ہے۔’’ہر تین میں سے تقریباً ایک شخص کئی دنوں سے بھوکا ہے۔ غذائی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے،۹۰ہزار خواتین اور بچے فوری علاج کے محتاج ہیں‘‘۔
غزہ میں ایک ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر ناجی القراشلی نے بتایا ہے: ’’دستیاب اعداد و شمار مسئلے کی اصل شدت کو کم ظاہر کر رہے ہیں۔یہ صورتِ حال ناقابل تصور ہے۔ میرے پورے طبی کیریئر میں، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انسان ظلم اور حیوانیت کی اس حد تک گر جائے گا۔ مریضوں میں اسقاط حمل کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ مائیں اپنے لیے خوراک تلاش نہیں کر پاتیں۔ جو بچے زندہ پیدا ہوتے ہیں، وہ انتہائی کم وزن کے حامل، قبل از وقت یا بگڑے ہوئے اعضا کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں‘‘۔
ڈاکٹر القراشلی نے بڑے دُکھ اور کرب میں بتایا: ’’ہمارے پاس غذائی قلت کی شکار خواتین کے علاج کے لیے درکار طبی سامان نہیں ہے۔ ہم مجبور ہیں کہ دیگر ڈاکٹروں کے استعمال شدہ گندے دستانے استعمال کریں اور تاریخِ استعمال ختم ہونے والی دوائیں تجویز کرنا ہماری مجبوری ہے۔ بطور ایک بےبس ڈاکٹر یہ انتہائی تکلیف دہ احساس ہے۔ کئی بار میں ہسپتال سے بھاگ کر نکل جاتی ہوں کیونکہ میں یہ حقیقت برداشت نہیں کر سکتی کہ میں ان خواتین کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتی‘‘۔(گارڈین، ۲۶ جولائی ۲۰۲۵ء)
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی پابندیوں کے تحت جہاں ممکن ہو رہا ہے کام کر رہا ہے۔ ان پابندیوں نے امدادی نظام کو پہلے سے موجود ۴۰۰ مراکز کے استعمال سے روک دیا ہے۔
اسی دوران برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے: ’’غزہ میں انسانی تباہی کا خاتمہ اب ہونا چاہیے اور اسرائیلی حکومت کو امدادی پابندیاں ختم کرنی چاہئیں‘‘۔
اسرائیلی فوج نے ۲۵؍جولائی کو اعلان کیا: ’’ہم نے اردن اور متحدہ عرب امارات کو فضائی طور پر غزہ میں امداد پہنچانے کی اجازت دے دی ہے‘‘۔ یاد رہے ایک پرواز مہنگی پڑتی ہے اور امدادی سامان کی مقدار ٹرکوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔ حماس نے اس اقدام کو ایک ’سیاسی ڈراما‘ قرار دیا۔
حماس حکومت کے میڈیا دفتر کے ڈائریکٹر، اسماعیل الثوابتہ نے رائٹرز کو بتایا: ’’غزہ کو فضائی امداد کے کرتب نہیں، بلکہ ایک کھلی انسانی راہداری اور روزانہ امدادی ٹرکوں کی مسلسل آمد درکار ہے، تاکہ باقی ماندہ محصور اور بھوکے شہریوں کی زندگی بچائی جا سکے‘‘۔
کتنے ہی فلسطینی افراد نے بتایا ہے کہ ’’امدادی مراکز سے نہایت معمولی امداد کے حصول کے لیے ہم گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں، مگر امداد کے حصول میں ناکام رہتے ہیں، یا پھر اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں‘‘۔ یہ امر واقعہ ہے کہ ان مراکز سے امداد کے حصول کے لیے کھڑے افراد میں سے ایک ہزار سے زیادہ مستحقین کو اسرائیلیوں نے گولی مار کر شہید کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی برادری پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’وہ غزہ میں سسک سسک کر مرنے والے فلسطینیوں کی بھوک پر ریت میں سر چھپائے ہوئے ہے۔ یہ المیہ صرف ایک انسانی بحران نہیں ہے، بلکہ عصرحاضر میں ایک خوفناک اخلاقی بحران بھی ہے، جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے، مگر صدافسوس کہ بڑی طاقتیں ٹس سے مَس نہیں ہورہی ہیں‘‘۔
عالمی منظرنامے پر امریکا کی جانب سے ایک بار پھر نام نہاد جنگ بندی ایک بے فیض سرگرمی دکھائی جارہی ہے۔ یاد رہے پہلی جنگ بندی بھی دراصل اسرائیل کے قیدی رہا کرانے کے لیے تھی اور موجودہ نام نہاد جنگ بندی کا بھی یہی مقصد ہے۔اسرائیلی قیادت کھلے عام کہہ رہی ہے کہ مزاحمت کے مکمل خاتمے تک وہ غزہ پر حملے جاری رکھیں گے۔ گویا عارضی جنگ بندی کا اب بھی مقصد صرف اپنے قیدیوں کی رہائی ہے۔ غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا پر امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم میں مکمل اتفاق ہے۔ دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ 'معقولیت ' کی بنیاد پر ہوگا۔
اسرائیلی قیدیوں کے لواحقین کے سخت دباؤ کے باعث نیتن یاہو کچھ لچک دکھا رہے ہیں، لیکن یہ بھی محض وقت گزاری نظر آتی ہے۔ قطر میں جاری مذاکرات کے دوران ۱۰ جولائی کو اسرائیل نے جو نقشہ پیش کیا اس کے مطابق مصر کی سرحد پر واقع رفح اسرائیل کے قبضے میں دکھایا گیا ہے۔ علاقے پر گرفت مضبوط رکھنے کے لیے رفح سے خان یونس کو علیحدہ کرنے والے موراغ راستے (Morag Corridor) تک اسرائیلی فوج تعینات رہے گی۔ اسی نقشے میں غزہ کی تمام جانب تین سے چارکلومیٹر کی پٹی پر بفر زون دکھایا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ شمالی غزہ کے شہر بیت لاہیا اور بیت حانون میں بھی اسرائیلی فوج موجود رہے گی۔ غزہ شہر کے محلوں التفاح، الشجاعیہ، الزیتون، دیر البلح اور القرارۃ سمیت ۶۰ فی صد غزہ اسرائیلی عسکری شکنجے میں رہے گا اور یہاں کے بے گھر فلسطینیوں کو رفح میں قائم کیے گئے عارضی کیمپوں میں ٹھونس دیا جائے گا تاکہ موقع ملتے ہی انھیں رفح پھاٹک کے ذریعے مصر کی جانب دھکیل دیا جائے۔
امن بات چیت کے ساتھ غزہ میں امدادی مراکز پر موت کی تقسیم جاری ہے۔ بہت سے فلسطینی امداد تک رسائی کی کوشش میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ فلسطینی انھی امدادی قافلوں کے راستے میں اسرائیلی فائرنگ اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنے جنھیں اقوامِ متحدہ اور دیگر ادارے چلا رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ایک اسرائیلی ریزرو فوجی نے بتایا کہ غزہ میں تعینات فوجیوں کو حکم ہے کہ جو بھی ’نو-گو زون‘ میں داخل ہو، چاہے وہ نہتا شہری ہی کیوں نہ ہو، اسے فوراً گولی مار دی جائے۔ ’جو بھی ہمارے علاقے میں داخل ہو، اسے مرنا چاہیے، چاہے وہ سائیکل چلاتا کوئی نوجوان ہی کیوں نہ ہو‘۔ اس سے پہلے اسرائیلی جریدے ھآریٹز کو دسمبر اور جنوری میں کئی سپاہیوں نے بتایا تھا کہ سویلین فلسطینیوں پر بلاجواز فائرنگ کے احکامات ڈویژن کمانڈر بریگیڈیئر جنرل یہودا واش نے خود دئیے تھے۔
نسل کشی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے امریکا بدستور پُرعزم ہے۔ غزہ میں اسرائیلی مظالم کو ’نسل کشی‘ کہنے اور بڑی امریکی کمپنیوں کو اس میں شریک ٹھیرانے کے 'جرم میں اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچیسکا البانیز پر امریکی حکومت نے پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ 'اسرائیل اور امریکا، دونوں، البانیز کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ' البانیز نے عالمی عدالتِ انصاف (ICC)کے اسرائیلی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کی حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
البانیز کی رپورٹ میں گوگل، مائیکروسوفٹ اور ایمیزون پر اسرائیل کے غزہ آپریشن کو کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کی خدمات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں گوگل کے شریک بانی، سرگئی برن (Sergey Brin) نے رپورٹ کو ’کھلی اور فاش یہود دشمنی‘ قرار دے کر سخت تنقید کی۔
دوسری طرف نسل کشی کےخلاف عوامی جذبات میں بھی شدت آرہی ہے۔ جون کے آخری ہفتے میں ہونے والا انگلستان کا کلاسٹونبری موسیقی میلہ، ’اسرائیلی فوج مُردہ باد‘ کے نعروں سے گونج اُٹھا تھا۔ اسی طرح گذشتہ ہفتے ہسپانوی شہر فالنسیا کے موسیقی میلے میں اس وقت ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہوئی جب لاطینی گلوکار ریزیڈینتے فلسطین کا پرچم تھامےاسٹیج پر آئے۔ میلے کے ہزاروں شائقین نے فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے ’فری فری فلسطین‘ کی دُھن پر ناچنا شروع کردیا بلکہ یوں کہیے کہ سازوں کی دُھن کو اہل غزہ کے حق میں تبدیل کر دیا۔
دنیا کے انصاف پسند لوگ اہل غزہ کو تنہا چھوڑنے پر راضی نہیں اور ۱۳ جولائی کو اٹلی کے شہر سیراکوس کی بندرگاہ سے انسانی امداد سے لدی ایک اور کشتی غزہ کے لیے روانہ ہوگئی۔ اس مشن کا مقصد اسرائیلی ناکہ بندی کو چیلنج کرنا اور محصور فلسطینیوں تک امداد پہنچانا ہے۔’حنظلہ‘ نامی یہ کشتی، ماضی میں روانہ کی جانے والی ’فریڈم فلوٹیلا‘ جیسی عالمی کاوشوں کی طرز پر نکالی گئی ہے، جس کا مقصد دنیا کی توجہ غزہ کی ظالمانہ ناکہ بندی کی طرف مبذول کروانا اور اسرائیلی پابندیوں کو توڑنا ہے۔
غرب اُردن میں اسرائیلی قبضہ گردوں کی وحشیانہ کارروائی جاری ہے۔ ۱۱ جولائی کو رام اللہ کے شمال میں امریکی شہریت کے حامل ۲۳ سالہ فلسطینی نوجوان سیف الدین مسلت کو درجنوں اسرائیلی آبادکاروں نے بہیمانہ تشدد کرکے شہید کر دیا۔ فلسطینی شہری غرب اردن میں خربت التل کی طرف پُرامن احتجاج کے لیے جا رہے تھے، جہاں ایک نئی غیرقانونی اسرائیلی چوکی تعمیر کی گئی ہے۔ راستے میں یہودی دہشت گردوں نے انھیں روک کر حملہ کر دیا۔ کم از کم ۱۰ فلسطینیوں کو گاڑیوں تلے کچل دیا اور دہشت گردوں نے زیتون کے باغ کو بھی آگ لگا دی۔ جب اس واقعے کی رپورٹنگ کرنے CNNکے سینئر صحافی جیرمی ڈائمنڈ وہاں پہنچے تو یہودی قبضہ گردوں نے ان پر حملہ کردیا۔ان کی گاڑی کے شیشے توڑ دیئے گئے۔ اسرائیل کے پرجوش حامی ڈائمنڈ نے بلبلاتے ہوئے کہا: ’’یہ صرف ایک جھلک ہے اس حقیقت، یعنی قبضہ گردوں کی جارحیت کی، جس کا سامنا مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں کو ہر روز کرنا پڑتا ہے‘‘۔
غرب اُردن میں قابضین نے جہاں فلسطینیوں کا جینا حرام کر رکھا ہے، وہیں اب مسلمانوں کی قبریں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ یروشلم کے یوسفیہ قبرستان میں کئی قبروں کی لوحِ مزار اکھاڑ دی گئی ہیں۔معاملہ مسلمانوں تک محدود نہیں۔ دہشت گردوں نے اسی دن یروشلم کے مضافاتی علاقے طیبہ کے قدیم کلیسائے سینٹ جارج قبرستان کے ایک حصے کو آگ لگادی۔پانچویں صدی کا یہ کلیسا ایک تاریخی ورثہ ہے، اس قبرستان میں حضرت مسیح کے خلفا اور بہت سے بزرگ مدفون ہیں۔
اس صورتِ حال پر فیلیپ لازارینی کا ٹویٹ پڑھیے:’’غزہ فاقہ کشی کا قبرستان بن چکا ہے۔ خاموشی اور بے عملی درحقیقت شراکتِ جرم ہے۔ اہلِ غزہ کے پاس یا تو بھوک سے مرنے یا گولی کھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ یہ بے رحم اور شیطانی منصوبہ ہے، قتل کا ایک ایسا نظام جس پر کوئی گرفت نہیں۔ اصول، اقدار اور انسانیت کو دفن کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ خاموش ہیں، وہ مزید تباہی کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ عمل کا وقت گزر چکا، اب بھی نہ جاگے تو ہم سب اس المیے کے شریکِ جرم ہوں گے!‘‘
غزہ میں نسل کشی اور اسرائیل کی بے لگام نوآبادیاتی اور سامراجی تکبر اس مقام تک پہنچ گئے ہیں، جہاں سے بظاہر نجات ممکن نہیں۔ نیتن یاہو کی لامتناہی جنگیں اب ملک ِشام تک پھیل گئی ہیں، جو دمشق کے مرکزی حصے پر مکمل بے خوفی سے حملے کی صورت میں سامنے آرہی ہیں۔دریں اثنا، امریکا، جو مبینہ طور پر دنیا کی ایک بڑی سپر پاور کہلاتا ہے، بدقسمتی سے لگاتار اسرائیلی حکومتوں کی غلامی میں ڈوبا ہوا ہے، جو اکثر بنیادی انسانی اقدار اور بین الاقوامی قانون کو قربان کر دیتا ہے۔
اس صورتِ حال کا سب سے واضح مظہر گذشتہ ۲۱ ماہ سے غزہ میں دیکھا گیا ہے۔ سابق امریکی صدر جوبائیڈن اور ان کے اسرائیل کو ترجیح دینے والے وزیر خارجہ، انٹونی بلنکن نے بارہا نیتن یاہو کے بدترین شدت پسندانہ اور نسل پرستانہ رجحانات کا دفاع کیا۔ اس مضحکہ خیزی کا ایک نمایاں مظہر وہ امریکی اسرائیلی تعلقات ہیں، جن کا ہدف غزہ ہے، ایسا ہدف کہ جس میں تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ دُنیا کی نام نہاد مہذب ریاست امریکا نے اہل غزہ کو بھوک سے مارنے کے لیے ناکہ بندی کو مضبوط تر کیا۔
بائیڈن حکومت نے نیتن یاہو کی مدد کرتے ہوئے امریکی ٹیکس دہندگان کے سیکڑوں ملین ڈالر خرچ کیے۔ یہ انسانیت دشمنی پر مبنی منصوبہ تھا: ایک ۳۲۰ ملین ڈالر کا منصوبہ جو امریکی اسرائیلی گٹھ جوڑ سے فوجی ہم آہنگی کے لیے بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ایک اور مذاق ’غزہ ہیومنٹیرین فائونڈیشن‘ (GHF) کے نام سے کھیلا گیا جو انسانی قدروں کو بحیرئہ روم میں غرق کرنے کے مترادف ہے۔
امریکا کی بائیڈن حکومت ہو یا ٹرمپ کا راج، انھوں نے اسرائیل کو پورا حق دیا کہ وہ بے بس اہل غزہ کو بھوک سے مارنے کے لیے ناکہ بندی جاری رکھیں، اور دوسری جانب عالمی ضمیر کو گونگا ، بہرہ اور اندھا بنا کر رکھ دیا کہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی، کوئی بڑی طاقت بامعنی رکاوٹ پیدا کرتی نظرنہیں آرہی۔ یہ ایک خونیں تھیٹر ہے، جس میں مظلوم بچوں کی لاشیں اور بے بس مائوں کی چیخیں شامل ہیں۔
موت کے اس کھیل میں اردن کے بادشاہ نے ایک نمائشی ایئر ڈراپ کا مظاہرہ کیا۔ تباہ کن قیامت کے ساتھ یہ خوراک ایئر ڈراپ کا تماشا، اسرائیل اور بے ہمت عرب شراکت داروں کے درمیان بات چیت بحال کرنے کا پُل بنایا جا رہا ہے، جو اسرائیل کو شیطانی زمینی ناکہ بندی ہٹانے سے بچنے کے لیے ایک اور بہانہ فراہم کرتا ہے۔ دریں اثنا، روزانہ سیکڑوں افراد کی بھوک سے اموات کی تصدیق ہورہی ہے، مگر UNRWA رپورٹ کرتا ہے کہ اس کے پاس غزہ کی پوری آبادی کو تین ماہ تک کھانا کھلانے کے لیے کافی خوراک موجود ہے۔ پھر بھی، امداد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، اسرائیل بھوک سے مرنے والے بچوں تک کوئی امداد نہیں پہنچنے دیتا۔
قاتلوں کے غیرمقدس اتحاد نے اسرائیلی قیادت میں ’غزہ انسانی امداد فائونڈیشن‘ کا چالاک منصوبہ محض دُنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے بنایا اور اس کے لیے ایک بار پھر امریکا نے ادائیگی کی، جس کا مقصد بھوک ختم کرنا نہیں، بلکہ بین الاقوامی دباؤ کو غیر مؤثر کرنا تھا۔ ٹرمپ نے بھی، بائیڈن کی طرح اس ڈرامے کے ساتھ، اسرائیل کی اسی غلامی کے سامنے سر جھکایا۔
یہ امداد فراہم کرنے کا بہانہ ایک اور اسرائیلی مہلک دھوکا ثابت ہوا۔ زندگی کی ڈور کے بجائے، موت کے کھیل میں تبدیل ہوگیا۔ بھوک ان کا انتظار کر رہی ہے، اسرائیلی قاتل گولیاں انھیں تقسیم کے مراکز سے ملتی ہیں۔ وہی فوج جو قحط کی انجینئر ہے، وہی بظاہر نام نہاد نجات دہندہ بن کر دروازوں پر متاثرین کو گولی مار دیتی ہے۔
امریکی امداد سے ’غزہ فائونڈیشن‘ (GHF) نے اسرائیل کو خوراک کی امداد پر کنٹرول دے دیا —اور اب، پانی کے جمع کرنے کے مقامات پر چھوٹی چھوٹی بچیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہربنیادی ضرورت، —خوراک، پانی، دوائی —ان مظلوموں کا حق نہیں، بلکہ ایک اسرائیلی ہتھیار ہے۔ بھوک دینے، پانی سے محروم کرنے، اور دوا روکنے کا ہتھیار —جو فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کے لیے بنایا گیا ہے۔
’غزہ فائونڈیشن‘ کے متضاد نام کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، اسرائیل نے ایک ’انسانی امدادی شہر ‘ (Humanitarian City)کے نام سے پیش کیا ہے، جہاں شمالی غزہ سے۶ لاکھ فلسطینیوں کو جنوب میں محصور رکھا جائے گا، —جہاں لوگ داخل تو ہو سکتے ہیں، لیکن باہر نہیں نکل سکتے۔ اسرائیلی نیا حراستی کیمپ، جو غزہ کی ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی کو محدود کرنے کا تصور پیش کرتا ہے، دوسری عالمی جنگ کے بہت سے نازی کیمپوں سے بڑا ہے۔
حراستی کیمپ کو ’انسانی امدادی شہر‘ کہنا اسرائیل کی شیطانی اور دھوکے باز جنگ کا حصہ ہے۔ اس تناظر میں، اسرائیل نے پراپیگنڈے کو ہتھیار بنانے میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ اسرائیل، فلسطینیوں کو بھوکا نہیں مارتا، یہ ’کیلوری پابندیاں‘ عائد کرتا ہے۔ یہ نسلی تطہیر ہی نہیں کرتا بلکہ جبری ہجرت کا شکار کرتا ہے۔ اور اب، یہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی نہیں کرتا، یہ ایک ’انسانی امدادی شہر‘ تجویز کرتا ہے۔
اسرائیل اس قسم کے ہتھکنڈوں سے صرف اس لیے بچ نکلتا ہے کیونکہ عالمی طاقتیں نسل کشی کا محض ڈھونگ رچاتی ہیں۔ یورپی یونین سیاسی نتائج کی ہلکی پھلکی وارننگ جاری کرتی ہے۔ برطانیہ، ہمیشہ کی طرح دوغلے پن کی منافقانہ روش کا ماہر، صرف اسرائیل کو اپنے ’انسانی حق‘ کے لیے لڑنے اور مغربی کنارے میں آباد ہجوم کو’لگام‘ دینے کا مشورہ دیتا ہے۔ یہ سارے ڈھونگ اسرائیل کو احتساب سے بچاتے ہیں۔
عرب دنیا عجیب طور پر خاموش___ شریکِ جرم ہی نہیں، شرمناک طور پر تین غلام کیمپوں میں تقسیم دُنیا۔ مغرب میں مصر، عملاً غزہ کی ناکہ بندی میں فعال شریکِ کار ہے۔ مشرق میں، اردن اور خلیجی ریاستیں کھلے عام تجارت کرتی ہیں اور اسرائیل کی حفاظت کے لیے فوجی ڈھال کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اور پھر وہ ہیں جنھوں نے ٹرمپ پر اپنی دولت لٹائی، جب کہ غزہ جل رہا ہے اور مغربی کنارہ یہودیوں کے لیے مخصوص کالونیوں کی زد میں ہے۔
یہ اجتماعی خاموشی سفاکانہ ملی بھگت ہے۔ یہ نازی نظریے کی بحالی ہے، جو مختلف جھنڈے اور وردی میں ملبوس ہے۔ ایک فلسطینی کے طور پر، میں غصے میں ہوں۔ لیکن اس سے زیادہ، ایک امریکی شہری اور ایک انسان کے طور پر مجھے حددرجہ صدمہ ہے۔ دنیا میں محض اعتراض کا ڈرامہ پیش کرنا نہایت توہین آمیز فعل ہے، جب کہ ایک حراستی کیمپ کو ’انسانی امدادی شہر‘ کے خوش نما نام کے تحت بنتے دیکھا جا رہا ہے۔ میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ دنیا —خاص طور پر یہودی —کیا ردعمل ظاہر کرتے اگر کوئی نازی اپنے ہاں قائم کردہ یہودی باڑے کو ’یہودی تفریح گاہ‘ کہتا!
یہ معاہدات کا ایک سلسلہ ہے ، جس کا مقصد اسرائیل اور عرب ملکوں کے درمیان تعلقات کو امریکا و اسرائیل کے تصور کے تحت ’معمول پر لانا‘ اور عرب ملکوں کی طرف سے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرانا ہے۔ جن عرب ملکوں نے یہ معاہدے کیے ہیں ان میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش، اور سوڈان شامل ہیں۔ ابراہیمی معاہدے ۲۰۲۰ء کے دوسرے نصف میں طے پائے۔ انھیں ۲۱ویں صدی میں عرب-اسرائیل تعلقات کی بحالی کی طرف پہلا علانیہ قدم مانا جاتا ہے۔
ان معاہدات کو’ابراہیمی معاہدات‘ کا نام دینے سے یہ تاثر دینا پیش نظر ہے کہ یہودیوں اور عربوں کے درمیان تاریخی و مذہبی طور پر گہرا تعلق ہے کیونکہ دونوں اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا جدِ امجد مانتے ہیں۔نیز تینوں الہامی مذاہب: —اسلام، عیسائیت اور یہودیت — حضرت ابراہیمؑ کو اپنا روحانی پیشوا بھی مانتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا اور ۱۳؍ اگست ۲۰۲۰ء کو دونوں ملکوں کے مابین معاہدہ طے پانے کا اعلان ہوگیا۔ اس کے بعد ۱۱ ستمبر ۲۰۲۰ء کو بحرین نے بھی اسی نوعیت کے معاہدے پر رضامندی ظاہر کی اور ۱۵ستمبر ۲۰۲۰ء کو وائٹ ہاؤس میں، امریکی پشت پناہی سے امارات، اسرائیل اور امریکا کے نمائندوں کی موجودگی میں ابراہیمی معاہدے پر دستخط کردیے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطین کی تقسیم کے فیصلے اور ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کے اعلان کے بعد،احتجاجاً عرب حکومتوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھااور اگلے چند عشروں میں عرب،اسرائیل جنگوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔۱۹۶۷ء کی ’چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ‘ اور۱۹۷۳ء کی اکتوبر کی جنگیں مشہور ہیں۔ تاہم، ۱۹۷۹ء میں انور سادات کی صدارت میں مصرنے اسرائیل کے ساتھ ایک امن معاہدہ کرلیا، جسے ’کیمپ ڈیوڈ معاہدہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یوں مصر وہ پہلا عرب ملک بن گیا جس نے اسرائیل کے وجود کوباقاعدہ تسلیم کرلیا۔
۱۹۹۴ء میں اردن نے بھی ’وادی عربہ معاہدہ‘ کے نام سے اسرائیل کےساتھ امن کی پینگ بڑھالی۔اردن نے یہ اقدام ۱۹۹۳ء میں اسرائیل اور تنظیم آزادیِ فلسطین (PLO) کے درمیان ’دوریاستی حل معاہدہ‘ کی منظوری کے بعد اٹھایا تھا ۔حالیہ ابراہیمی معاہدے بھی گویا مصر اور اُردن کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے والے معاہدوں ہی کے سلسلے کی کڑی ہیں ۔
اس معاہدے پر دستخط کرنے والا پہلا خلیجی ملک ،متحدہ عرب امارات ہے۔امریکا نے معاہدے پر دستخط کے اعلان سے پہلے ایف-۳۵ طرز کے ۵۰ جدید ترین جنگی طیارے امارات کو فروخت کرنے کی پیش کش کی۔ حالانکہ امریکا اپنے نیٹو حلیف ترکی کو یہ طیارے دینے سے ابھی تک انکاری ہے ، جب کہ اسرائیل کے لیے وہ پہلے سے میسر ہیں۔
۲۳؍اکتوبر ۲۰۲۰ءکو وائٹ ہاؤس کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو استوار کرنے اورمعمول پر لانے پر اتفاق کرلیا ہے۔ اس اعلان سے کچھ دن قبل، امریکی صدر ٹرمپ نے سوڈان کا نام دہشت گردی کے حامی ممالک کی فہرست سے نکالنے کا اعلان کیا تھا ۔ انھی دنوں فروری ۲۰۲۰ء کے آغاز میں یوگنڈا میں ہونے والی ایک ملاقات بہت اہم تھی،جو اپنے اقتدار کے استحکام کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے والے سوڈانی مقتدرہ کونسل کے سربراہ برہان نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ کی۔ اس ملاقات کے بعد ہی سوڈان کی غیر منتخب اور کمزور ترین حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ابراہیمی معاہدات کی گاڑی پر سوار ہونےکا اعلان کیا۔
۱۰ دسمبر ۲۰۲۰ء کو امریکی تائید و حمایت سے مراکش اور اسرائیل کے درمیان بھی ایک ابراہیمی معاہدہ طے پایا۔مراکش کی طرف سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن نے باضابطہ طور پر مغربی صحارا پر مراکش کی سیادت کو تسلیم کر لیا۔ مراکش کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کا اعلان ہوتے ہی امریکا نے اسے بڑے پیمانے پر اسلحے کی فروخت اور بھاری سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی۔
• اسرائیل نے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش، اور سوڈان میں اپنے سفارت خانے قائم کرلیے ہیں ۔
• تل ابیب کو ابوظبی، دبئی، منامہ، دارالبیضاء مراکش سے براہِ راست پروازوں کے ذریعے جوڑ دیا گیا ہے۔
• معاہدے کے شریک ملکوں اور اسرائیل کے مابین سیاست، معیشت، دفاع اور انتظامی اُمور میں باہمی تعاون کے اُمور طے پائے ہیں اور ان ملکوں کے وزرا، افسران، اور کاروباری شخصیات کے باہم دورے جاری ہیں ۔
• ان معاہدوں پر دستخط کرنے والے ملکوں نے عبرانی زبان سیکھنی اور سکھانی شروع کردی ہے ۔کئی اماراتی و مراکشی طلبہ نے اسرائیل کی یونی ورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں داخلہ لے لیا ہے اور تعلیمی و تربیتی کورسز کا آغاز کیاہے۔ثقافتی تبادلے کے طور پر اسرائیلی سیاح بڑی تعداد میں امارات اور مراکش کا رُخ کر رہے ہیں۔
• اسرائیل اور امارات کے درمیان تجارتی تبادلے کی مالیت پہلے ہی سال ۵۰۰ ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
• دونوں ملکوں کے مابین سکیورٹی اور دفاع کے شعبے میں تعاون شروع ہوگیا ہے، خصوصاً سائبر سکیورٹی، انٹیلی جنس، اور تکنیکی شراکت داری کے شعبوں میں تعاون روزافزوں ہے۔
• دو سال کے اندر، اماراتی وفد نے پہلی مرتبہ اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا، اور معیشت، سرمایہ کاری، ہوا بازی، ویزا سے استثنا جیسے شعبہ جات میں کئی معاہدے طے پائے۔
• دسمبر ۲۰۲۱ء میں اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ابو ظبی کا علانیہ سرکاری دورہ کیا تھا، یہ کسی اسرائیلی وزیرِ اعظم کی طرف سےامارات کا پہلا دورہ تھا۔
• فروری ۲۰۲۲ء میں اسرائیلی وزیرِ دفاع بینی گینٹز نے بحرین کا غیر علانیہ دورہ کیا۔ اسی وقت دونوں ملکوں کے مابین ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کی خبر بھی سامنے آئی۔
۹ فروری ۲۰۲۲ء کو’اسرائیل ڈیفنس‘ ویب سائٹ نے انکشاف کیا کہ بحرین نے اسرائیلی کمپنی سے ڈرون مخالف ریڈار نظام خریداہے۔
یہ تمام پیش رفت نہ صرف سیاسی بلکہ دفاعی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں بھی دونوں جانب گہرے روابط کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
• ۲۲ مارچ ۲۰۲۲ء کو مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل، مصر، اور متحدہ عرب امارات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران کے اثر و نفوذ پر قدغن لگانے پرغور کیا گیا۔
• l ۲۸مارچ ۲۰۲۲ء کو جنوبی اسرائیل میں واقع صحرائے نقب میں ہونے والے اجلاس میں مصر، امارات، مراکش، بحرین، اور امریکا کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ یہ اجلاس مذکورہ معاہدات کے تناظر میں مشترکہ علاقائی تعاون کا گویامظہر تھا۔
• مراکش نے اسرائیل کے ساتھ متعدد شعبوں میں معاہدے کیے جس میں معیشت، تعلیم، سیاحت، اور دفاع کے شعبے شامل ہیں۔
• اسرائیلی وزیرِ دفاع بینی گینٹز اور وزیر صنعت اورنا باربیفائی نے مراکش کے شہر رباط کا دورہ کیا۔
• مراکش کے وزیر صنعت حفیظ علمی اور اسرائیلی ہم منصب عمیر پیریٹس کے درمیان صنعتی تعاون پر مذاکرات ہوئے۔
• وزرائے تعلیم —سعید امزازی (مراکش) اور یوآف گالانت (اسرائیل)نے طلبہ کے تبادلے اور دونوں ملکوں کے ثانوی اسکولوں کی یکجہتی کے ’باہم تعاون منصوبے‘ پر پیش رفت کی۔
• مراکش اور اسرائیل نے سکیورٹی اور دفاعی شعبے میں تعاون کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے، جو وزیر دفاع گینٹز کی سرکاری طور پر رباط آمد کے موقع پر ہوئے۔
عرب ملکوں کی طرف سے اپنے عوام کے سامنے شرمندگی سے بچنےکے لیے ابراہیمی معاہدات پر دستخط کرتے ہوئے یہ دلیل دی گئی تھی کہ ہم اسرائیل سے ابراہیمی معاہدے اس شرط پر کررہے ہیں کہ اسرائیل فلسطین کے مغربی کنارے میں نوآبادکاری کی اپنی سرگرمیاں یکسر ترک کردے گا ۔
ان معاہدوں پر دستخطوں کے بعد، اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے باضابطہ طور پر اسرائیلی آباد کاروں کی کونسل کی قیادت کو ایک پیغام بھیجا، جس میں یہ واضح کیا گیا کہ ’’اعلیٰ منصوبہ بندی کونسل برائے مغربی کنارے کی تعمیرات‘،۱۱؍ اکتوبر ۲۰۲۰ء، یعنی(یہود کی ) ’عید العرش‘ کی تعطیلات کے بعد، ایک اجلاس منعقد کرے گی تاکہ مغربی کنارے میں ۵۴۰۰ نئے رہائشی یونٹوں کی تعمیر کی منظوری دی جا سکے۔اس کے علاوہ، اسرائیل نے’بیتر علیت‘ نامی پہلے سے قائم یہودیوں کی نوآباد بڑی بستی کو وسعت دینے اور وہاں ۳ہزار نئے رہائشی یونٹس بنانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ اب یہ توسیعی منصوبہ مغربی کنارے میں اور گرین لائن کے قرب و جوار میں واقع کئی متنازع بستیوں تک پھیل چکا ہے اور مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے میں غیرقانونی تعمیرات کا یہ سلسلہ پورے زور و شور سے جاری ہے۔
تحریکِ آزادی کشمیر کی لہو میں ڈوبی زخم زخم داستان اور اقوامِ متحدہ کے قبرستان میں دفن قراردادوں کے ساتھ، کیا عالمی ضمیر بھی انڈین سفارتکاری خرید چکی ہے؟ انڈیا کی فلمی مکاری اور عالمی میڈیا کی مجرمانہ خاموشی کے پردے میں کشمیر کی سچائی کو کیسے دفن کیا گیا؟ تہاڑ جیل کی زنجیروں سے بلند حریت کی صدائیں، شہیدسیّد علی گیلانیؒ، یاسین ملک اور قافلۂ قربانی کی داستان کشمیر سے جڑی نسل کُشی جسے دنیا تماشا سمجھ بیٹھی۔مگر یہ صرف زمینی تنازعہ نہیں، انسانیت کا جنازہ ہے۔ ہماری خاموشی اور کشمیریوں کا ماتم ہے۔ یوم آزادی پر ہر مظلوم کشمیری پوچھتا ہے: میرا جشن کب ہو گا؟
رات کے پچھلے پہر کا سناٹا ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ برف کی تہہ سے ڈھکی وادی میں کہیں دور اذان کی صدا کسی مقفل مسجد کی ٹوٹی ہوئی چھت سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے صدیوں سے اذان ہو رہی ہو، مگر کوئی دروازہ کھلنے کا نام نہ لے۔ دریائے جہلم کا پانی خاموشی سے بہہ رہا تھا، جیسے اس کے سینے میں ہزاروں لاشیں دفن ہوں، اور ہر موج کوئی بے نشان جنازہ ہو۔
ایسے جان لیوا سناٹے میں ایک بوڑھی ماں، اپنی چادر میں لپٹا ہوا خون میں لت پت قرآن تھامے بیٹھی تھی۔ کبھی اس پر بوسہ دیتی، کبھی روتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھتی اور پھر وہی سوال دُہراتی، جو برسوں سے ہر کشمیری کے لبوں پر ہے: ’’کیا ہمارے سجدے ادھورے ہی رہیں گے؟ اور کیا پاکستان صرف ایک نعرہ تھا؟‘‘
چند قدم دُور، ایک چھوٹا بچہ ملبے میں وہ گڑیا تلاش کر رہا تھا، جو اُس کی بہن کی آخری نشانی تھی، جو پچھلے ہفتے ایک بھارتی فوجی کی فائرنگ سے شہید ہو گئی تھی۔ بچہ بار بار مٹی ہٹاتا، آنکھیں مَلتا۔ اس کی بے زبانی میں یہ سوال کلبلا رہا تھا: ’’جب پاکستان آزاد ہوا تھا، تو کیا کشمیر کا بھی وعدہ کیا گیا تھا؟‘‘
یہ سوال محض معصوم بچوں کے نہیں رہے۔ یہ سوال اب قبریں بھی پوچھتی ہیں، پتّے اور ہوائیں بھی۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ’بیس کیمپ‘ کے ایوانوں تک تو پہنچتے ہیں، مگر وہاں ان کی گونج نعروں، حکومت کے حامی اور حکومت کے مخالف لوگوں کی تقریروں اور ہوٹلوں کی میزوں کے نیچے دفن ہو جاتی ہے۔ یہاں وادی میں آزادی کے چراغ خون سے جلتے ہیں، مگر وہاں کرسی کے چراغ سیاست سے۔ یہاں کشمیر لہو میں نہا رہا ہے، اور وہاں ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کا نعرہ اگلے الیکشن کے پوسٹر پر چھپ رہا ہے۔ اور اس المیے کا سب سے کربناک پہلو یہ ہے کہ یہ افسانہ نہیں، بلکہ یہ حقیقت ہے۔ ایک ایسی حقیقت جس نے ہزاروں زندگیاں نگل لی ہیں، سیکڑوں خواب روند ڈالے ہیں، لاکھوں بین، صدائیں، اذیتیں، صبر، اور سوالات پیدا کیے ہیں ، مگر جن کے جواب ابھی تک نہ اقوامِ متحدہ نے دیے، نہ مسلم دُنیا کی قیادتوں نے، اور نہ ’بیس کیمپ‘ نے۔
وادی کی گلیوں میں قدم رکھتے ہوئے تہاڑ جیل کی کوٹھریوں سے آتی سسکیاں سناؤں گا، اُن کانفرنس ہالوں کا حساب لوں گا جہاں کشمیر صرف ایک سائیڈ ایشو سمجھا گیا، اور اُن چہروں سے پردہ اُٹھاؤں گا جنھوں نے ’بیس کیمپ‘ کو اقتدار اور کرسی نشینی کے ’ریس کیمپ‘ میں بدل دیا۔ اس تحریر میں روشنائی کی جگہ وہ سرخ خون بہتا ہے جو عشروں سے وادیٔ کشمیر کے چشموں، دریاؤں، گلیوں، گھاٹیوں اور ماؤں کی آنکھوں سے بہتا چلا آیا ہے۔ یہ ایک تاریخی فردِ جرم ہے، جو نہ صرف انڈیا کے ظالم نظام پر عائد ہوتی ہے، بلکہ ان سب پر بھی جو اس ظلم کو صرف بیانات میں لپیٹ کر، تعزیتوں میں چھپا کر، اور سفارتی ملفوظات میں گم کر کے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو گئے۔ وادیٔ کشمیر اس وقت بھی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ بھارتی قابض افواج کے بوٹوں تلے نہ صرف آزادی کچلی جا رہی ہے بلکہ انسانیت کا منہ چڑایا جا رہا ہے۔ ہر صبح بندوقوں کی آواز سے آنکھ کھلتی ہے اور ہررات کسی جنازے کی آہ و بکا کے بعد چپ ہوتی ہے۔
۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو انڈیا نے وہ گھنائونا جرم کیا جس نے کشمیریوں سے ان کی شناخت، ان کی حیثیت، ان کا جغرافیہ اور ان کی آئینی پہچان چھین لی۔ وہ خطہ جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازع ہے، یک طرفہ طور پر انڈیا میں ضم کرنے کی جسارت کی گئی۔ مگر یہ محض آئینی یا قانونی حملہ نہ تھا، یہ کشمیریوں کے وجود پر وار تھا، ان کے خوابوں، تاریخ، عقیدے اور تشخص پر خنجر کاوار۔ قابض انڈین افواج کی موجودگی صرف فوجی چوکیوں تک محدود نہیں، اب وہ کشمیریوں کی سوچ، سانس، نیند، اور حتیٰ کہ ان کے سجدوں میں بھی گھس چکی ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کو لاپتہ کردیا گیا، اجتماعی قبریں اب کسی افسانے کا حصہ نہیں بلکہ زمین کے کربناک سچ بن چکی ہیں۔ پیلٹ گنز کے ذریعے آنکھوں سے بینائی چھینی گئی، مگر انڈیا یہ نہیں جانتا کہ جس قوم کے دل میں بینائی ہو، اس کی آنکھیں چھین لینے سے آزادی کا خواب ختم نہیں ہوتا۔ وہ مائیں جو اپنے بچوں کی لاشیں دفناتی ہیں، ان کے ہاتھ میں صرف کفن نہیں بلکہ ایک سوال ہوتا ہے: ’ہم کب آزاد ہوں گے؟‘ حُریت قائدین کی جدوجہد انسانی تاریخ کے ان ابواب میں لکھی جائے گی، جہاں قربانی کو روشن حرف مانا جاتا ہے۔
سیّد علی گیلانیؒ کی نصف صدی پر محیط جدوجہد، ان کی تنہائی میں گزری جوانی، جیلوں میں گزاری عمر، اور سب کچھ کھو دینے کے باوجود آزادی کے بیانیے سے وابستگی، ان کی زندگی کا ہر لمحہ کشمیری غیرت کا استعارہ ہے۔ ان کی موت بھی انڈیا کے ظلم کی نشان دہی ہے، ان کا جنازہ بھی قید میں ہوا، ان کی قبر بھی پہرہ داروں کی نگرانی میں بنی۔ یاسین ملک، جس نے اس تحریک کے لیے سب کچھ قربان کیا، آج تہاڑ جیل کی دیواروں کے پیچھے عمر قید کاٹ رہا ہے۔ اس کی خاموش چیخیں سننے والاکوئی نہیں، اور نہ ’بیس کیمپ‘ کے ایوانوں میں اس کے حق میں کوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔
’بیس کیمپ‘، یعنی آزاد کشمیر، وہ خطہ جو تحریک آزادیٔ کشمیر کا مرکز ہونا چاہیے تھا، آج محض اقتدار کے کھیل کا میدان بن چکا ہے۔ حکمران طبقات نے اس خطے کو ’ریس کیمپ‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ آزاد کشمیر میں وہ قیادت ہونی چاہیے تھی، جو یہاں سے عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑتی، مگر وہ اقتدار کے ایوانوں میں ذاتی مفادات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ جلسے، جلوس، بیانات، تعزیتی قراردادیں، بس اتنا ہی کردار ہے اس ’بیس کیمپ‘ کا۔ نہ کوئی طویل مدتی پالیسی، نہ کوئی انسٹی ٹیوشنل فریم ورک، نہ میڈیا پر تسلسل سے کشمیر کا مقدمہ، اور نہ عالمی اداروں میں مربوط سفارتی جدوجہد۔ یہ تلخ حقیقت تاریخ کے اوراق پر سیاہ ترین لفظوں میں لکھی جائے گی کہ جس خطے کو اقوامِ متحدہ نے باقاعدہ ’تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا بیس کیمپ‘ قرار دیا، وہ خطہ وقت کے ساتھ محض اقتدار کا ’ریس کیمپ‘ بن کر رہ گیا۔ وہ خطہ جہاں سے مظلوم کشمیریوں کے حق میں ناقوس بجنا تھا، وہاں صرف اقتدار کی گھنٹیاں بجتی رہیں۔ جس چبوترے پر شہیدوں کے نام کندہ ہونے تھے، وہاں رنگ برنگے پارٹی جھنڈوں اور گمراہ کن چہروں کی تصویروں سے لتھڑے بینروں نے ڈیرے ڈال لیے۔ آزاد کشمیر کی قیادت، چاہے وہ وزیراعظم ہو، اپوزیشن لیڈر ہو، وزرا یا ممبران اسمبلی ہوں، سب کے سب ایک مشترکہ ناکامی کا استعارہ بن چکے ہیں۔
وہ ناکامیاں کیا ہیں؟ ان کی انتخابی دوڑ اور سیاسی ترجیحات میں آزادی کا نام تک نہیں ہوتا۔ ان کے انتخابی منشور میں آزادی کشمیر ایک رسمی سطر کے طور پر شامل کی جاتی ہے، جس کے پیچھے کوئی حکمتِ عملی، کوئی سفارتی ڈھانچا، کوئی روڈ میپ نہیں ہوتا۔ یہاں امیدوار کشمیر کا نام لے کر ووٹ لیتے ہیں، اور جیت کر صرف مظفرآباد یا اسلام آباد تک محدود ہو جاتے ہیں۔ سفارتی سطح پر مکمل نالائقی کس سے ڈھکی چھپی ہے؟ ۷۸ سال گزر گئے، ’بیس کیمپ‘ کی قیادت عالمی سطح پر ایک بھی مستقل لابنگ گروپ قائم نہ کر سکی، جو انڈیا کے مظالم کو اقوامِ عالم کے سامنے رکھ سکے۔ کوئی کشمیر ڈیسک، کوئی تھنک ٹینک، کوئی ریسرچ ادارہ، کوئی مضبوط میڈیا سیل تک نہ بنایا جا سکا۔ اس خاموشی نے قاتل انڈیا کو بولنے کا موقع دیا اور ہمیں دنیا بھر میں تماشائی بنا دیا۔
اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر خاموشی سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگرچہ قراردادیں موجود ہیں، لیکن آج تک آزاد کشمیر کا کوئی رہنما اقوامِ متحدہ کے دروازے پر مستقل موجودگی کے لیے مقام نہ بنا سکا۔ وہ ریاست جو حقِ خودارادیت کے لیے علامتی قیادت بن سکتی تھی، ایک ضلعی طرز کی بلدیاتی حکومت میں تبدیل ہو گئی۔ بے مقصد اور نام نہاد پُرتعیش کشمیر کانفرنسیں تو عروج پر ہیں، ہر سال مختلف ہوٹلوں اور کانفرنس ہالوں میں کشمیر کانفرنسوں کے نام پر فوٹو سیشن ہوتے ہیں۔ اسٹیج پر نعرے، لنچ پر دعوے، مگر عملی نتیجہ صفر۔ وہی مقبوضہ کشمیر، وہی شہادتیں، وہی آہیں! آج تک آزاد کشمیر کے قائدین مکمل طور پر ، پوری دُنیا کے سامنے انڈین شاطرانہ بیانیے کا توڑ نہیں کر سکے۔
انڈیا، سوشل میڈیا، قومی و عالمی میڈیا، فلم، تھنک ٹینک اور سفارت کاری کے ذریعے کشمیر پر اپنے بیانیے کو مضبوط کرتا رہا، اور ’بیس کیمپ‘ میں ایک بھی ایسا ادارہ نہ بن سکا جو اس زہریلے پراپیگنڈے کا مؤثر جواب دے سکتا ہو۔ اکثر تاریخی موقعوں پر مجرمانہ خاموشی تو روایت بنتی جارہی ہے۔ جب ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو انڈیا نے انڈین آئین کی دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵-اے میں ترمیم کرکے کشمیر کی نام نہاد آئینی طور پر خصوصی حیثیت (Special Status) کو ختم کیا، تو ’بیس کیمپ‘ نے صرف ایک دن کا احتجاج کیا ، وہ بھی سیاسی تقاریر، کالی پٹیاں اور مشروط غصے کے ساتھ۔ اس کے بعد وہی اقتدار کی رسہ کشی، وہی وزارتوں کی تقسیم، وہی مفادات کی سیاست۔ تحریکِ حُریت کے نام کا صرف جذباتی استعمال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان قربانیوں کو پالیسی میں نہیں ڈھالاگیا، بلکہ جذباتی استحصال کے ذریعے انھیں ووٹ بینک بنایا گیا۔ جو قیادت اقوامِ متحدہ کی قراردادیں پڑھنے کی زحمت تک نہ کرے، وہ کس حق سے کشمیر کا نام لے سکتی ہے؟ جو حکمران اپنی وزارت کی کرسی بچانے کے لیے ’بیس کیمپ‘ کو خاموش رکھیں، وہ کیونکر کشمیریوں کے خون کے وارث ہو سکتے ہیں؟ جن کے پاس سفارتی، میڈیا، تھنک ٹینک، قانونی، انسانی حقوق کا کوئی عملی ادارہ نہ ہو، وہ کشمیر کو آزاد کرانے کا سفارتی خواب کس منہ سے دیکھتے ہیں؟
حکمرانوں کے ضمیر زندہ ہوں تو یقینا شہیدوں کی لاشوں سے بہنے والا خون اُن کے خوابوں میں آئے گا، مگر یہ توقع ہی غلط ہے ان ’بندگانِ وزارت‘ سے۔
دوسری طرف انڈیا نے اپنی چالاکی اور سفارت کاری کو بخوبی استعمال کیا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسلسل نظر انداز کیا۔ انڈیا نے امریکا، اسرائیل، فرانس اور کئی مغربی ممالک سے دفاعی اور معاشی تعلقات کو اتنا مضبوط کر لیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ان کے لیے محض ایک اخباری بیان کا معاملہ بن کر رہ گیا ہے۔ پھر مغرب کو تجارت کا لالچ دیا، میڈیا کو کنٹرول کیا، اور عالمی بیانیے کو اپنی مرضی سے موڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کی طرف سے کوششیں ضرور ہوئیں مگر غیر منظم، وقتی اور ردعمل پر مبنی۔ اقوام متحدہ میں تقریریں کی گئیں، مگر پالیسی سازی اور عالمی سطح پر مقدمہ لڑنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں ہوئیں۔ مسئلہ کشمیر پر کوئی ایسا تھنک ٹینک فعال نہیں ہو سکا جو جدید سفارت کاری، ڈیجیٹل میڈیا، اور انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی روشنی میں یہ مقدمہ تیار کرتا۔ ہمارا میڈیا بھی وقتی جوش دکھاتا ہے، مگر مسلسل بیانیہ نہیں اپناتا۔
ہم نے مظلوم مقبوضہ وادی کے کشمیریوں کے ساتھ جذباتی وابستگی ضرور رکھی، مگر عملی میدان میں ہم بار بار پیچھے ہٹے۔ ہماری اپنی بے عملی نے عالمی ضمیر کو بے حس اور کشمیر کو تنہا کر دیا۔ کشمیر کا المیہ صرف انڈیا کے ہاتھوں لہو لہان نہیں ہوا، بلکہ ہماری غفلت کی وجہ سے پیداہونے والی عالمی طاقتوں کی مجرمانہ خاموشی نے بھی اس سرزمین پر خون کی ندیاں بہانے میں برابر کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ وہی دنیا ہے جو یوکرین میں انسانی حقوق کے خلاف چیخ اٹھتی ہے، لیکن کشمیر میں جب پوری بستی کو جلایا جاتا ہے، لڑکیوں کی چوٹیاں کاٹ دی جاتی ہیں، عصمت دری کی جاتی ہے اور بچوں کی آنکھوں میں چھرّے مارے جاتے ہیں، تو دنیا کی زبانیں گنگ، آنکھیں اندھی اور دل مُردہ رہتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ، جیسا ادارہ جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد انسانیت کی فلاح کے لیے بنایا گیا تھا، آج کشمیر کے معاملے میں بس قراردادوں کا قبرستان بن چکا ہے۔۱۹۴۸ء کی قراردادیں، ۱۹۵۱ء، ۱۹۵۷ء اور ۱۹۶۵ء کی قرار دادیں، سب اس بات کا اقرار کرتی ہیں کہ کشمیریوں کو استصوابِ رائے (Plebiscite) کا حق حاصل ہے، اور انڈیا کو یہ حق دینا ہوگا۔ مگر کیا کبھی اقوامِ متحدہ اس پر عمل درآمد کروانے کے لیے تیار ہوگی؟ نہیں۔ وجہ کیا ہے؟ وجہ صرف ایک ہے: انڈین معاشی قوت، سفارتی لابنگ اور بڑی طاقتوں کی مفاداتی مجبوری۔
انڈیا نے ۱۹۹۰ء کے عشرے سے ایک ہمہ جہت پالیسی اپنائی۔ اس نے سب سے پہلے اسلامی تحریک کو نام نہاد ’دہشت گردی‘ سے جوڑنے کی کوشش کی اور حُریت کی خالص اور عوامی تحریک کو ’دہشت گردی‘ کا لبادہ پہنا دیا۔ دنیا کے سامنے یہ بیانیہ پیش کیا کہ ’کشمیر میں جاری مزاحمت پاکستان کی سرحد سے پار مداخلت کا نتیجہ ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس تھے۔ اس کے بعد انڈیا نے سفارتی لابنگ میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔ امریکا، برطانیہ، فرانس، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں مستقل لابنگ گروپ بنائے۔ صحافیوں، تجزیہ کاروں، تھنک ٹینک اسکالرز کو خرید کر انڈین موقف دنیا کے ہر فورم پر پیش کیا۔ یوں ایک زہریلے بیانیے کو مہذب الفاظ میں لپیٹ کر دنیا کے سامنے رکھ دیا گیا۔
اس کے بعد انڈیا نے فلموں، میڈیا اور ثقافت کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا۔ بالی وُڈ کے ذریعے کشمیر کو ایک حساس مگر ’داخلی معاملہ‘ ثابت کیا گیا۔حیدر، شنکارا، ہمّت والا، اوڑی دی سرجیکل سٹرائیک ، فنا ، مشن کشمیر سمیت درجنوں بالی وڈ فلموں کے ذریعے انڈین فوج کو ’ہیرو‘ اور کشمیری مزاحمت کو ’دہشت گردی‘ کے طور پر پیش کیا اور ایک پوری نسل کو ذہنی طور پر کنفیوز اور گمراہ کر دیا۔
۵۷ مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)نے کشمیر پر درجنوں قراردادیں اور بیانات تو جاری کیے، لیکن کیا کبھی کسی عرب ریاست نے انڈیا سے سفارتی تعلقات منقطع کیے؟ کیا کسی مسلم ریاست نے انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدے ختم کیے؟ ہرگز نہیں۔ تیل، تجارت اور بھارت کی مارکیٹ نے ان کے مفادات کو خرید کر مسلم احساس کو ختم کردیا۔
یورپی یونین، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اور دیگر ادارے متعدد بار رپورٹس جاری کر چکے ہیں۔ ان رپورٹس میں پیلٹ گنز، اجتماعی قبروں، ماورائے عدالت قتل، اور آزادیٔ اظہار کی بندش پر تشویش ظاہر کی گئی، لیکن کیا کسی یورپی ملک نے انڈیا پر سفارتی یا تجارتی پابندی لگائی؟ کیا انڈیا کو کبھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سزا ملی؟ نہیں۔ یہ سب ادارے صرف زبانی جمع خرچ میں مصروف ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں نوجوان شہید ہو گئے، سیکڑوں معصوم لڑکیوں کی عصمت دری ہوئی، پیلٹ گنز سے بچوں کی آنکھیں ضائع ہوئیں، اجتماعی قبریں بنیں، آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی ہر گلی، ہر چوک، ہر مسجد میں زہر اگلتے رہے، تہاڑ جیل میں کشمیری قیادت قید رہی، اور اقوامِ متحدہ کی قراردادیں کتابوں میں دفن ہوتی رہیں۔ نمازِ جمعہ پر پابندی لگ گئی، مساجد پر قفل ڈال دیے گئے، قرآن مجید کے نسخے نذر آتش کیے گئے، اور اب سب سے بڑھ کر، کشمیریوں کی نسل کشی (Genocide) کی ایک منظم مہم شروع ہو چکی ہے، جسے اگر دنیا نے نہ روکا تو وہ دن دُور نہیں جب کشمیر دوسرا روانڈا، دوسرا بوسنیا اور دوسرا غزہ بن جائے گا۔
اب وقت آ چکا ہے کہ محض تقاریر اور قراردادوں سے آگے بڑھا جائے۔ ’بیس کیمپ‘ کو حقیقی معنوں میں ’بیس کیمپ‘ بنایا جائے۔ حقائق پر مبنی ایک مضبوط بیانیہ تشکیل دیا جائے اور کشمیر پر اس بیانیے کو ماڈیولز کی صورت میں ہر ادارے میں پیش کیا جائے۔ نوجوانوں کو عالمی میڈیا پر اس کشمیری بیانیے کو بیان کرنے کی تربیت دی جائے۔ سفارت خانوں کو مخصوص اہداف دیے جائیں، اور عالمی عدالتوں میں مقدمات داخل کیے جائیں۔
یوم آزادی کشمیریوں کے لیے ہر سال مزید زخم لے کر آتا ہے۔ ۷۸ سال سے وہ ایک ایسے وعدے کی تکمیل کا انتظار کر رہے ہیں جو ان کے ساتھ پاکستان نے کیا تھا ، کہ ہم تمھیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کشمیری شہید ہو رہے ہیں، اور ’بیس کیمپ‘ میں جشن ہو رہے ہیں۔ یہ تحریر سوال ہے ان تمام ذمہ داروں سے جنھوں نے ’بیس کیمپ‘ کو ایک مضبوط ادارہ بنانے کے بجائے اسے سیاست کی شکار گاہ بنا دیا۔ کشمیر پکار رہا ہے: ’’ہم نے لہو دیا، تم نے کیا کیا؟‘‘اب بھی وقت ہے، ’بیس کیمپ‘ کو ’ریس کیمپ‘ سے آزاد کیا جائے۔ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ہمیں کشمیر کے ۷۸ سالہ دکھ، قربانیاں، آنسو، جنازے، اجتماعی قبریں، بند گلیاں، تہاڑ کی سلاخیں، اور جلتی بستیوں کے حقائق پر مبنی مضبوط بیانیہ تشکیل دینے، عزم، حکمت، اور جہد مسلسل کی ضرورت ہے۔ یہی تحریک کی بقا ہے، یہی کشمیریوں کے خون کا کفّارہ بھی ہے۔
آزاد فضاؤں میں آزادی کا جشن منانے والو! ذرا سوچو! یومِ آزادی جب ہر سال پاکستان اور ’بیس کیمپ‘ میں ملّی نغموں، سبز پرچموں، آتش بازیوں، ترانوں اور جشن کی صورت میں آتا ہے، تو کشمیر کی وادی میں یہ دن ایک کرب میں ڈوبی شام کی مانند گزر جاتا ہے۔ وہاں نہ چراغ جلتے ہیں، نہ پرچم لہراتے ہیں، نہ نغمے گونجتے ہیں، بلکہ ہر گھر میں ایک شہید کی تصویر، ہر گلی میں ایک ماں کی چیخ، اور ہر بچی کے آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں، جن کی بینائی چھرّوں نے چھین لی۔
ذرا سوچو! کشمیر کی لہو رنگ وادی کو کب وہی آزادی نصیب ہوگی جو تمھیں نصیب ہے؟
۸ جولائی ۲۰۲۵ءکو، انڈین چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان نے نئی دہلی میں ’آبزرور ریسرچ فاونڈیشن‘ میں تقریر کرتے ہوئے چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تزویراتی مفادات کے بڑھتے ہوئے اتحاد پر تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر یہ سہ فریقی اتحاد زور پکڑتا ہے تو انڈیا کی سلامتی کے لیے اس میں سنگین نتائج ہو سکتے ہیں اور یہ علاقائی طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے‘‘۔
اس تبصرے کے تناظر میں چین کے صوبے یونان کے دارالحکومت کنمنگ سے گردش کرنے والی ایک تصویر سامنے آئی، جس میں تینوں ممالک کے سفارت کاروں کو علاقائی اقتصادی تعاون کی غرض سے منعقدہ پہلی سہ فریقی بات چیت کے دوران ملاقات کرتے دکھایا گیا۔ اگرچہ اس ملاقات کو باضابطہ طور پر محض سفارتی مصروفیت کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن اس تصویر نے انڈیا کی تزویراتی صورتِ حال میں ہلچل مچا دی۔
بنگلہ دیش، جو اس معاملے کی حساسیت سے واضح طور پر آگاہ ہے، اس نے بیانیہ کو قابو کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کیے۔ ڈھاکہ کی عبوری حکومت کے مشیر اُمورِخارجہ توحید حسین نے کسی بلاک میں یا کسی مخالفانہ اتحاد میں شامل ہونے کے کسی بھی ارادے سے انکار کیا۔ ڈھاکہ نے دُہرایا کہ اس کی خارجہ پالیسی غیر جانبدار اور خودمختاری پر مبنی ہے۔
ان یقین دہانیوں کے باوجود، انڈیا کی تزویراتی ترجیحات تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ نئی دہلی میں اب یہ خیال گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر محمد یونس کی عبوری قیادت میں بنگلہ دیش اپنی خارجہ پالیسی کو نئی بنیادوں پر ترتیب دے رہا ہے، جو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور میں اختیار کردہ خارجہ پالیسی سے واضح طور پر مختلف ہے۔ حسینہ واجد کے دور میں، انڈیا اور بنگلہ دیش نے غیرمعمولی گرم جوش تعلقات استوار کیے تھے، جن کی خصوصیات گہرے سکیورٹی تعاون، سرحد پار رابطہ منصوبوں اور مشترکہ علاقائی مقاصد تھے۔ ڈھاکہ نے انڈیا مخالف باغیوں کے خلاف سخت کارروائی کی۔ انڈیا کو بنگلہ دیشی سرزمین کے ذریعے سات مشرقی انڈین ریاستوں تک ٹرانزٹ کے ذریعے رسائی دی گئی، اور عمومی طور پر نئی دہلی کی تزویراتی ترجیحات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا۔
جنرل چوہان نے ایک وسیع اور پریشان کن رجحان کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی: بیرونی طاقتیں – خاص طور پر چین – بحر ہند کے خطے میں اقتصادی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ سری لنکا اور پاکستان جیسے ممالک کے چینی سرمایہ کاری اور امداد کے تابع ہونے سے یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ بیجنگ نرم طاقت کے ذریعے انڈیا کو منظم طریقے سے گھیر رہا ہے۔
تاہم، بنگلہ دیش کا معاملہ کچھ منفرد ہے۔ اس کی معیشت، اگرچہ دباؤ میں ہے، مگر نسبتاً مستحکم ہے، اور ڈھاکہ نظریاتی ہم آہنگی کے بجائے عملی، مفاد پر مبنی سفارت کاری پر زور دیتا ہے۔ کنمنگ اجلاس، علامتی طور پر اہم اجلاس اور سہ فریقی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ شکل رابطہ کاری کا ایک نیا پہلو متعارف کراتی ہے جو غیر متوقع طریقوں سے ترقی کر سکتی ہے۔
تاریخ کی گونج کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ ۱۹۶۰ء کے عشرے میں، چین اور پاکستان نے ایک مضبوط تزویراتی محور برقرار رکھا تھا جو مشرقی پاکستان – جو اَب بنگلہ دیش ہے – کو خاموشی سے شامل کرتا تھا۔ یہ ترتیب ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کے ساتھ ختم ہوئی۔ تاہم، آج کل، لطیف اشارے بتاتے ہیں کہ اس تزویراتی سہ فریقی اتحاد کا کچھ حصہ دوبارہ اُبھر رہا ہے، اور وہ بھی ایک زیادہ پیچیدہ جیو پولیٹیکل میدان میں۔
بیجنگ کے لیے، پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کے ساتھ تعلقات کو گہرا کرنا جنوبی ایشیا اور بحر ہند کے خطے میں اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرنے کے وسیع تر مقصد کے لیے اہم ترین قدم ہے۔ اسلام آباد کے لیے، یہ پیش قدمی سفارتی تحفظ اور تزویراتی فائدہ فراہم کرتی ہے۔ ڈھاکہ کے لیے، یہ تعلق ایک مؤثر حکمت عملی پر مبنی ہے۔ خاص طور پر اُس وقت، جب کہ نئی دہلی کے ساتھ اس کے مستحکم تعلقات میں تیزی سے اُبھرتی ہوئی غیریقینی صورتِ حال دکھائی دیتی ہے۔
بنگلہ دیش کا محتاط رویہ بھی غیر مستحکم ملکی سیاست سے متاثر ہے۔ جولائی ۲۰۲۴ء کے احتجاج اور ۵؍اگست ۲۰۲۴ء کو عبوری انتظامیہ کے قیام کے بعد سے، اندرونی یکجہتی میں ایک انداز سے رخنہ پڑا ہے۔ پولرائزیشن دوبارہ ابھر رہی ہے، اور ۲۰۲۶ء کے اوائل میں قومی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ، حکومت کی ترجیح استحکام ہے، نہ کہ کوئی دُور رس حکمت عملی۔ اس ماحول میں خارجہ پالیسی ردعمل پر مبنی ہے – نہ کہ تبدیلی پر۔
ڈھاکہ کسی بھی سمت میں زیادہ جھکاؤ کے خطرات کو سمجھتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تاریخی ناراضیاں سیاسی طور پر حساس ہیں، جب کہ چین پر زیادہ انحصار مغرب، خاص طور پر امریکا کے ساتھ اہم تجارتی اور سفارتی تعلقات کو دباؤ میں ڈال سکتا ہے، جہاں جمہوری پسپائی اور انسانی حقوق پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
اس تناظر میں، کوئی واضح تزویراتی قدم کسی شدید ردعمل کو دعوت دے سکتا ہے۔ کنمنگ اجلاس بنیادی طور پر اقتصادی نوعیت کا تھا – جس میں تجارت، رابطہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور ثقافتی تعاون پر بات ہوئی۔ تاہم، جب چین اور پاکستان نے مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے سہ فریقی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی تجویز پیش کی، تو بنگلہ دیش نے اس سے سفارتی تناظر میں گریز کیا۔
ڈھاکہ کی خارجہ پالیسی طویل عرصے سے اس اصول پر مبنی رہی ہے کہ تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ کھلے رابطوں کو برقرار رکھا جائے اور بلاک سیاست کے جال سے بچاجائے۔ تاہم، اس کے باوجود گذشتہ پندرہ برسوں میں بنگلہ دیش خاصا انڈیا کے زیراثر ہی رہا ہے۔
انڈیا کے حوالے سے بنگلہ دیش کے اقدامات کی تشریح کے لیے باریک بینی کی ضرورت ہے، جب کہ ڈھاکہ اپنے بین الاقوامی شراکت داریوں کو وسعت دے رہا ہے۔۲۰۰۰ء اور ۲۰۱۰ء کے عشروں کے دوران، شیخ حسینہ کی عوامی لیگ نے بھارتی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے ساتھ، باغی خطرات کو دبانے میں اہم کردار ادا کیا۔تاہم، مجوزہ سہ فریقی ورکنگ گروپ سے بنگلہ دیش کے پیچھے ہٹنے کے باوجود انڈیا چین اور پاکستان دونوں کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات کے حوالے سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں متحدہ ہندوستان میں مرحوم احمد شاہ پطرس بخاری اپنے ایک طنزیہ مضمون ’مرید پور کا پیر‘ میں رقم طراز ہیں کہ جس شہر میں وہ مقیم تھے، وہیں کانگریس نے اپنا سالانہ اجلاس منعقد کرنے کی ٹھان لی اور جب ایسا جلسہ بغل میں ہو رہا ہو، تو کون متقی وہاں جانے سے گریز کرے گا۔ یہی صورت حال کم و بیش حال ہی میں مجھے پیش آئی۔ معلوم ہوا کہ ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں ۵۷ ؍اراکین پر مشتمل ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC)کے وزرائے خارجہ کا اکاون واں اجلاس منعقد ہو نے والا ہے۔ اب ترکیہ میں مقیم کون صحافی اس موقعے کو ضائع ہونے دیتا۔ ایک تو خطے کی صورت حال ’ایران- اسرائیل جنگ‘، غزہ کی قتل گاہ کا المیہ، دوسرا اس کانفرنس کے دوران افریقی ملک برکینا فاسو کے وفد سے ملاقات کی طلب تھی، جس کے صدر ابراہیم ترورے نے استعماری طاقتوں کے خلاف افریقی ممالک کو متحد کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔
ترکیہ کے شہر استنبول کی داد دینی پڑے گی کہ شہر میں ستاون وزرائے خارجہ اور ان کے وفود کی موجودگی کے باوجود نہ کہیں ٹریفک میں خلل تھا اور نہ معمولات زندگی میں کوئی رخنہ۔ کانفرنس بلڈنگ تک معلوم ہی نہیں پڑا کہ شہر میں اتنی بڑی تعداد میں وی وی آئی پییز جمع ہیں ۔ کوئی سڑک بند، نہ پولیس کے دستے نظر آرہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک یا دو غیر ملکی سربراہان کی آمد پر بھی نئی دہلی میں تو کئی اہم شاہرائیں بند ہو جاتی ہیں جن سے کئی کئی کلومیٹر دُور تک ٹریفک جام لگتا تھا۔ اسلام آباد میں پچھلے سال ’شنگھائی تعاون تنظیم‘ کے اجلاس کے موقع پر تو پورا شہر ہی بند کردیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ شہرکے نواح میں کانفرنس ہال سےبہت دُور شادی ہالوں تک کو بند رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
کانفرنس کے استقبالیہ پر معلوم ہوا کہ میرا نام فہرست میں موجود ہی نہیں تھا۔ وجہ بتانے کےلیے کوئی موجود نہیں تھا۔ دو گھنٹہ منت سماجت کرنے اور یہ دہائی دینے کے بعد کہ میں انقرہ سے بس اسی کانفرنس کو کور کرنے کےلیے چلا ہوں اور ہوٹل میں مقیم ہوں، تو اسکارٹ کرکےمجھے پریس گیلری میں لے جایا گیا، جو اسٹیج سے کافی دور اوپر کی منزل میں تھی۔ بتایا گیا کہ صرف افتتاحی سیشن ہی پریس کےلیے اوپن ہے۔ترک افسران بار بار معذرت کا اظہار کررہے تھے کہ رجسٹریشن کے باوجود او آئی سی کے سیکرٹریٹ کے اجازت نامے کی فہرست میں میرا نام کیوں نہیں تھا؟ معلوم ہوا کہ میرا بھارتی پاسپورٹ اور شہریت دیکھ کر آو آئی سی سیکرٹریٹ نے میرا نام فہرست میں شامل نہیں کیا تھا۔ ان کو ہدایت تھی کہ بھارتی اور اسرائیلی صحافیوں کو اس کانفرنس تک رسائی نہیں دینی ہے۔
افتتاحی سیشن سے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے خطاب کیا۔ اس کے بعد صحافیوں کو دوسری بلڈنگ میں میڈیا سینٹر لے جایا اور بتایا گیا کہ اب کانفرنس کی جائے وقو ع تک ان کی رسائی بند ہے۔ یہ ایک نئی روایت ہے۔ پچھلے تیس برسوں سے سارک سربراہ یا وزرائے خارجہ کانفرنس، ناوابستہ ممالک کا اجلاس،برکس، شنگھائی تعاون تنظیم، افریقہ چوٹی اجلاس یا اقوام متحدہ کی ماحولیات سے متعلق وغیرہ ایسی اَن گنت کانفرنسیں کور کرنے کا موقع ملا ہے۔ ان میں ایک یا دو سیشن آن ریکارڈ میڈیا کےلیے کھول دیئے جاتےتھے، مگر پھر صحافی وہیں بلڈنگ کے آس پاس یا لابی وغیر میں ہی گھومتے پھرتے تھے، اور مہمان بھی ناشتے، لنچ کے وقت ان سے مل لیتے تھے۔ اس طرح جب صحافیوں کا کانفرنس کے مندوبین کے ساتھ ملنا جلنا ہوتا تھا، تو خبرو ں کے حصول کے علاوہ ان کے شعور اور عالمی امور کی سوجھ بوجھ میں اضافہ ہوتا تھا اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی تھی۔
صحافیوں کےلیے یہ اب ایک سنجیدہ معاملہ بن چکا ہے۔پوری دنیا میں مسند ِحکومت پر فائز افراد کو لگتا ہے کہ اب ان کو میڈیا کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ سوشل میڈیا نے ان کی رسائی عوام تک براہِ راست کر دی ہے۔ اس لیے میڈیا کو اب رسمی یا غیر رسمی رسائی دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس صورتِ حال میں صحافیوں کی موجودہ نسل کو علمی مہارت یا تجزیہ کاری کا تجربہ حاصل ہو تو کیسے ہو؟ خود صحافیوں نے بھی اس خرابی میں اضافہ کیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے بس مائیک اور کیمرہ رپورٹروں کو کسی مندوب کے آگے کرکے بریکنگ نیوز لانی ہوتی ہے۔ اس پر خاصے جھگڑے بھی ہوتے تھے، اسی وجہ سے رسائی بند کر دی گئی ہے۔ انفارمیشن حاصل کرنے کےلیے ایک غیر رسمی بریفنگ اور انٹر ایکشن کا ہونا ضروری ہے، جو بعد میں مضامین یا اداریوں میں جھلکتا ہے۔ ورنہ وہی حال ہوگا، جس کا مظاہرہ حال کی ’انڈیا-پاکستان جنگ‘ میں انڈین میڈیا خاص طور پر ٹی وی چینل کر چکے ہیں۔
کانفرنس کے پہلے روز کے اختتام کے فوراً بعد ہی امریکا نے ایران پر حملہ کرکے اس کی نوعیت ہی بدل دی۔ اگلے روز ایرانی وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر صلاح و مشورہ کےلیے ماسکو چلے گئے۔ چونکہ شام کی جنگ میں ایران نے روس کی خاصی مدد کی تھی اور مشرق وسطیٰ میں ایک عرصے کے بعد روس کو قدم جمانے اور بحری اڈہ قائم کرنے میں مدد کی تھی، اس لیے ایران کو اُمید تھی کہ روس اس احسان کا کچھ بدلہ تو ضرور چکائے گا۔
اس کانفرنس کے دوران احساس ہوا کہ پاکستان اور سعودی عرب ایک مدت تک مسلم ممالک کی قیادت پر فائز رہے تھے،کئی عشرے قبل ایک بڑی تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ مسلم ممالک کی سربراہی آہستہ آہستہ پاکستان اور سعودی عرب کے ہاتھوں سے نکل کر ترکیہ اور ایران کے پاس چلی گئی۔ جب سے او آئی سی کا قیام عمل میں آیا، تب سے ہی پاکستان میں وزارت خارجہ کی نکیل چونکہ ذولفقار علی بھٹو سے لے کر شاہ محمود قریشی بشمول صاحب زادہ یعقوب خان وغیر جیسے زیرک اور انگریزی جاننے والے افراد کے ہاتھوں میں ہوتی تھی، اس لیے کانفرنس کا ایجنڈا اور اعلامیہ اکثر وہی ڈرافٹ کرتے تھے۔ سعودی عرب میں اس تنظیم کا سیکرٹریٹ تھا اور مالی طور پر سب سے زیادہ بار وہی اٹھاتا تھا۔ اس لیے ان دو ملکوں کا رُتبہ اسلامی تنظیم میں وہی تھا، جو اقوام متحدہ میں امریکا اور سوویت یونین کا ہوتا تھا۔ مگر تین عشرے قبل آہستہ آہستہ پاکستان اس تنظیم کےلیے غیر متعلق ہوتا گیا اور یہ منصب ترکیہ کے پاس آتا گیا، جو اس دوران خاصا فعال ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ایردوان کی حکومت آنے کے بعد یہ رول زیادہ بڑھ گیا۔
سعودی عرب خود قیادت کے منصب سے پیچھے ہٹتا گیا، جس کا خاطر خواہ فائدہ قطر، متحدہ عرب امارات، ملایشیا اور ایران کو حاصل ہوا۔ نظریاتی وجوہ کی بناکر ایران کا رول محدود رہا مگر اس نے لیڈرشپ حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ موجودہ حالات میں خاص طور پر انڈیا کے ساتھ محدود جنگ میں ہارڈ پاور کا استعمال کرکے پاکستان کے لیے قیادت کا منصب پھر استوار ہو رہا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ جنگ کی وجہ سے ایران کا کردار بھی بڑھ گیا ہے۔ اس کانفرنس میں محسوس ہوا کہ سعودی عرب قیادت کے منصب کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ عرب ممالک میں قطر اور افریقی ممالک میں برکینا فاسو اس بار بہت ہی سرگرم تھے۔
کانفرنس کے دوسرے دن جب خاصی تگ و دو کے بعد اعلامیہ جاری ہوا، تو مایوس کن بات یہ تھی، کہ اس میں ایران پر اسرائیل کے حملوں کا تو ذکر تھا، مگر امریکا کا کہیں نام شامل نہیں تھا۔ ۵۷ ممالک میں کوئی بھی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ناراضی مول نہیں لینا چاہتا تھا۔ پاکستان کی افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات کے بعد ایردوان کو بریف کرنے پہنچ گئے تھے اور انھوں نے بھی افتتاحی سیشن میں شرکت کی۔
ایک اہم انکشاف یہ تھا کہ مسلم دنیا میں اب یہ سوچ پنپ رہی ہے کہ طاقت اب صرف سیاست اور احتجاج میں نہیں، بلکہ تعلیم، ابلاغ اور ادارہ جاتی صلاحیت میں بھی پنہاں ہے۔ اس کانفرنس میں استنبول میں ہی ایک ’میڈیا فورم‘ کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اس کا خاکہ ایک عشرہ قبل دیا گیا تھا، مگر ابھی اس کا قیام باقی تھا۔ بتایا گیا کہ اسلامو فوبیا کے خلاف یہ ایک مؤثر فورم کا کام کرے گا اور مسلم دنیا کےلیے بیانیہ وضع کرنے کا بھی کام کرے گا۔
ایک ایسے عہد میں جب تاثرات کی جنگ سفارتی میدانوں سے پہلے ڈیجیٹل دنیا میں لڑی جاتی ہے، مسلم دنیا کے لیے اپنی کہانی خود سنانا — بغیر مسخ، تعصب یا بیرونی مفروضات کے — نہ صرف ثقافتی ضرورت ہے بلکہ ایک سیاسی ہتھیار بھی ہے۔فورم کے تحت تربیتی پروگراموں کا آغاز، کردار کشی پر فوری ردعمل کے نظام، اور عوامی نشریاتی اداروں و میڈیا ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کا فروغ متوقع ہے۔ ایسے وقت میں جب ایک وائرل کلپ یا جھوٹی خبر بین الاقوامی پالیسی کو کمزور کرسکتی ہے یا نفرت انگیزی کو ہوا دے سکتی ہے، تو یہ پہل علامتی نہیں بلکہ ایک تزویراتی ضرورت بن چکی ہے۔
اسلاموفوبیا سے نمٹنے کی حکمت عملی کے طور پر سفارش کی گئی کہ اشتعال انگیز تقاریر کو قابلِ سزا جرم بنانا اور مذہبی تعصب کے خلاف تعلیمی إصلاحات کرنا اور اقوام متحدہ کی شراکت سے ایسا عالمی نظام تشکیل دینا، جو مذہبی امتیاز کی تفتیش اور نگرانی کرکے اس پر فوری کارروائی کرے۔ جس بھی ملک سے کوئی شہری اس ادارہ کے پاس مذہبی امتیاز کی شکایت کرے، تو اس کا فوری ازالہ کیا جائے۔
اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کر لیں تو یہ بین الاقوامی قانون میں مذہبی رواداری سے متعلق اسلامی دنیا کا پہلا بامعنی کردار ہو گا۔ عشروں سے مسلم ممالک تعصب اور نفرت کی نشاندہی کرتے رہے ہیں، اب وہ ان کا تدارک پیش کر رہے ہیں، یہ — ایک ایسی پیش رفت ہے جسے مغربی ممالک نظرانداز نہیں کر سکیں گے۔
اعلامیہ میں جہاں برما کے روہنگیا مسلمانوں کا تذکرہ کیا گیا تھا، وہاں اس میں چین کے شین جیانگ یا چینی ترکستان کے اویغور آبادی کا تذکرہ نہیں تھا۔ چونکہ یہ اجلاس ہی استنبول میں منعقد ہورہا تھا، جہاں جلاوطن ایغور آبادی اچھی خاصی ہے، تو ان کا ذکر نہ کرنا نوٹ کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ پچھلے اعلامیوں میں جب ایغور آبادی کا تذکرہ ہوتا تھا تو چین اس پر ناراض ہوتا تھا۔
چند برس قبل چین نے اس کا توڑ یہ نکالا کہ جدہ میں او آئی سی سیکرٹریٹ کےلیے ایک خصوصی سفیر کا تقرر کیا۔ جس کی وجہ سے اس کو اسلامی تنظیم کے اندر رسائی حاصل ہوگئی اور اس نے تنظیم کو پیش کش کی کہ وہ ہر سال مسلم ممالک کے وفد کو شین جیانگ کا دورہ کرنے کی اجازت دیں گے اور اگر وہاں عوام کی فلاح و بہبود کےلیے ان کو کوئی سفارش کرنی ہو، تو براہِ راست اسلامی تنظیم میں متعین چینی سفیر کو کیا کریں۔ اس کے بعد سے اعلامیہ میں ایغور آبادی کا ذکر آنا بند ہوگیا۔
اسی کانفرنس کے دوران او آئی سی سیکرٹریٹ نے چین کی وزارتِ تعلیم کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ جس کا مقصد وظائف، تعلیمی تبادلے اور مشترکہ تحقیق کے ذریعے انسانی وسائل کی ترقی ہے۔ جہاں او آئی سی عشروں سے مغربی اداروں سے منسلک رہی ہے، وہاں یہ شراکت ایک نئی جہت کی طرف اشارہ ہے۔ یوں — ترقی کے ایسے ماڈلز تیار کئے جائیں گے جو مغربی امداد کی شرائط سے آزاد ہوں گے۔ او آئی سی ممالک کے لیے یہ ایک قیمتی موقع ہے کہ وہ اپنی نوجوان نسل کو تعلیم، سائنس اور تحقیق کے میدان میں مغربی انحصار سے باہر نکلنے کے راستے فراہم کرے۔ چینی سفیر چانگ ہوا نے اس معاہدے کو مسلم دُنیا کے ساتھ تعلقات میں ’اہم سنگِ میل‘ قرار دیا اور تعلیم، سائنس و ٹکنالوجی، اور دیگر مشترکہ شعبوں میں مزید تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔
مسلم دنیا میں اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق، علمی تبادلہ اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اسٹرے ٹیجک فریم ورک قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔جس میں بیس سے زائد جمہوریہ ترکیہ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے شامل ہوںگے۔ اس کے ذریعے مشترکہ تحقیق، تربیتی پروگرام، اور رکن ممالک کی جامعات کے درمیان نیٹ ورکنگ کو تقویت ملے گی۔
اسی طرح او آئی سی مرکز برائے پولیس تعاون کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ جس میں ابتدا میں ترکیہ ، قطر، موریتانیا، گنی بساؤ، گیمبیا اور لیبیا وغیرہ شامل ہوں گے۔ یہ مرکز ایک رضاکارانہ ماہر ادارے کے طور پر تربیت، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سرحد پار تعاون کو فروغ دے گا۔ دہشت گردی، سائبر جرائم اور انتہا پسندی جیسے چیلنجوں کے لیے مشترکہ ردعمل کی ضرورت ہے۔ اس مرکز کو وسعت دی جائے تو مسلم ممالک مغربی سیکیورٹی سانچوں اور ٹکنالوجی پر انحصار کم کر سکتے ہیں۔
صدر ایردوان نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ’’مسلم دنیا کو صرف ردعمل دینے والا نہیں، بلکہ راہ نمائی فراہم کرنے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس قیادت کا اندازہ تقریروں یا پریس ریلیز سے نہیں، بلکہ اُن اداروں، مراکز اور معاہدوں کے عملی اطلاق سے ہو گا جن کا اعلان کیا جائے گا‘‘۔
استنبول کا یہ اجلاس ردعمل پر مبنی نہیں بلکہ بھرپور اقدامات کی طرف گامزن ہونے کی نوید سناتا ہے۔ تاہم، اعلامیے کافی نہیں، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی بین الحکومتی تنظیم اپنی آبادیاتی قوت کو ادارہ جاتی طاقت میں تبدیل کرے۔
ایران پر اسرائیل کے حملے کے حوالے سے وزرائے خارجہ نے ایک کھلے مینڈیٹ والے رابطہ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا، جو دنیا کی بڑی طاقتوں سے رابطہ قائم کر کے کشیدگی میں کمی، اور اسرائیلی جارحیت کے احتساب کے لیے اقدامات کرے گا۔ وزرائے خارجہ نے ان کوششوں کی مذمت کی جو اسرائیلی حکام کی جانب سے القدس الشریف کی تہذیبی شناخت کو مسخ کرنے اور مسجد اقصیٰ کی قانونی و تاریخی حیثیت بدلنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔اعلامیے میں اردن کی حکومت کی کوششوں کو سراہا گیا، جو یروشلم میں اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی متولی ہے۔ بیت المال القدس ایجنسی اور القدس کمیٹی کے کردار کی بھی تعریف کی گئی۔ او آئی سی نے یونیسکو کی ان قراردادوں کا خیرمقدم کیا جن میں مسجد اقصیٰ کو اسلامی عبادت گاہ قرار دیا گیا اور اردن کی انتظامی بالادستی کو تسلیم کیا گیا‘‘۔
ایردوان نے کہا کہ ’’اسلامی تنظیم کے رکن ممالک کو صرف اپنے ہی مسائل کا حل نہیں نکالنا، بلکہ پوری دنیا کے مظلوموں کی آواز بھی بننا ہے۔ مسلم اقلیتیں، او آئی سی اور باقی دنیا کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہیں‘‘۔ ان کا اشارہ مغربی اور دیگر ممالک میں مسلم اقلیت کی طرف تھا، جو ایک پُل کا کام کرسکتے ہیں اور ان ممالک میں تنظیم کےلیے ایک اثاثہ ہیں۔ ان خدمات کے بدلے میں ان کے مفادات کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے فلسطینی دھڑوں کے مابین اختلافات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’یہ ہمارے لیے تکلیف دہ ہے کہ پوری اسلامی دنیا فلسطین کی حمایت میں متحد ہے مگر ہمارے بھائی آپس میں تقسیم کا شکار ہیں۔استنبول سے لے کر القدس تک، ترکوں سے لے کر کردوں تک، سنیوں سے لے کر شیعوں تک — ہمارا قبلہ ایک ہے، تو ہمارا مقصد اور مقدر بھی مشترک ہے‘‘۔
او آئی سی نے اقوامِ متحدہ میں مشترکہ سفارتی اقدام شروع کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد اسرائیل کے خفیہ جوہری پروگرا م کو دنیا کے سامنے کھولنے اور اس کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ایک بند کمرہ اجلاس میں کیا گیا، جو ایران کی درخواست پر منعقد ہوا۔
ایردوان نے مغربی طاقتوں پر دوہرے معیار برتنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا: ’’ایران جیسے این پی ٹی پر دستخط کنندہ ممالک پر دباؤ ڈالنے والے یہ کیسے نظرانداز کر سکتے ہیں کہ اسرائیل نہ صرف اس معاہدے سے باہر ہے، بلکہ معائنے کو بھی رد کرتا ہے؟ ‘‘
لگتا ہے کہ استنبول میں منعقدہ یہ اجلاس صرف تقاریر یا قراردادوں تک محدود نہیں رہا۔ اس نے اُمت ِ مسلمہ کے لیے ایک نیا راستہ متعین کیا ہے، جو جوہری توازن کی بحالی، مظلوموں کے دفاع، اور عالمی انصاف کے قیام پر مبنی ہے۔ آنے والے دن اس بات کا امتحان ہوں گے کہ اسلامی تعاون تنظیم صرف آواز بلند کرے گی یا اپنے کسی اعلان پرعمل بھی کرے گی؟
کشمیر کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے، مگر بعض چہرے تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جاتے ہیں۔ برہان مظفر وانی شہید انھی چہروں میں سے ایک ہے، جس نے کم عمری میں برہمنی تسلط کے خلاف بندوق اٹھا کر قابض انڈین فوجیوں کو چیلنج کیا، اور اپنی شہادت سے تحریکِ آزادی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ اس جدوجہد کا فکری محور وہی تھا، جو قائدِ حریت سیّد علی گیلانی پوری زندگی دہراتے رہے:’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے!‘
برہان وانی ۱۹۹۴ء میں ڈاڈہ سرہ ترال کے ایک علمی اور باوقار گھرانے میں پیدا ہوا۔ ان کے والد مظفراحمد وانی اسکول پرنسپل، والدہ پوسٹ گریجویٹ، اور دادا ریاستی محکمۂ منصوبہ بندی میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائض رہے۔ پورے علاقے میں اس خاندان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، مگر غلامی کے سائے میں باعزّت خاندان بھی محفوظ نہ رہے۔۹۰ کے عشرے میں انڈین فوجیوں کے ہاتھوں بُرہان وانی کی نظروں کے سامنے نعیم اور عادل جیسے قریبی رشتہ دار بھی شہید کر دیے گئے۔ گھر پر بار بار چھاپے، بے جا تلاشی، اور توہین آمیز رویہ ان کے لیے روز کا معمول بن چکا تھا۔
انھی سخت اور پرآشوب حالات میں برہان وانی نے پرورش پائی۔ وہ اسکول جاتا، مگر چاروں طرف انڈین فوجیوں اور ریاستی پولیس فورس کے مظالم اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔ ۲۰۱۰ء میں جب اس نے اپنے بھائی کو بھارتی اہلکاروں کے ہاتھوں لہولہان اور بے ہوش ہوتے دیکھا، تو اس کے اندر حُریت کی اُمنگ بھڑک اٹھی۔ غلامی کے خلاف جذبات نے فیصلہ کن شکل اختیار کرلی، اور وہ مجاہدینِ آزادی کی صفوں میں شامل ہو گیا۔’شیر کی ایک دن کی زندگی‘ کا فلسفہ اس کے لیے فقط قول نہیں، زندگی کا نصب العین بن گیا۔
محض ۱۵ برس کی عمر میں اس نے ’حزب المجاہدین‘ میں شمولیت اختیار کی، جس کی قیادت سیّدصلاح الدین کر رہے تھے۔ برہان وانی کی وابستگی صرف عسکری نہ تھی، بلکہ فکری طور پر وہ سیّد علی گیلانیؒ کو اپنا امام مان چکا تھا۔ وہ امام گیلانی کی ’ایمانی استقامت‘ اور صلاح الدین کی ’عسکری قیادت‘ کا عملی امتزاج بن گیا۔
برہان وانی نے بندوق کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کو مزاحمت کا محاذ بنایا۔ اس کی ویڈیوز، تصاویر، اور بیانات نے انڈین پراپیگنڈے کو شکست دی، اور حُریت پسندی کی ایک نئی علامت تراشی___ —ایمان، جوانی، سادگی، اور نظریاتی پیکر۔ اس نے فرضی نام یا خفیہ شناخت کے بجائے اپنا اصل نام اپنایا۔ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پولیس اہلکاروں سے ہتھیار چھین کر، انھی ہتھیاروں کو قابض فورسز کے خلاف استعمال کرنے کا ہنر سیکھا۔
سوشل میڈیا ٹیم کی تنظیم سازی، حکمتِ عملی اور ابلاغ میں اس کی قائدانہ صلاحیتیں نمایاں ہوئیں، اور جلد ہی حزب المجاہدین کی قیادت اس کے سپرد کردی گئی۔ اس نے نوجوانوں میں نئی روح پھونکی اور حزب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ درجنوں نہیں، سیکڑوں نوجوان اس کی دعوت پر حزب میں شامل ہوئے، اور جو لوگ عسکریت کے خاتمے کی باتیں کر رہے تھے، وہ خاموش ہوگئے۔ نائب امیر حزب، سیف اللہ خالد کے مطابق، شہادت سے بیس دن قبل برہان وانی نے یہ پیغام دیا تھا: ’’کشمیری قوم نہ جھکے گی، نہ بکے گی۔ ان شاء اللہ ضرور آزادی حاصل کرکے رہے گی‘‘۔اس نے کہا تھا کہ ’’جو بھی صلاحیتیں اللہ نے دی ہیں، ان سے حق ادا کرنے کی کوشش کریں‘‘،اور اس نے اپنی شہادت کی دعا بھی انھی الفاظ میں کی تھی۔
۸جولائی ۲۰۱۶ء کو جب برہان مظفر وانی کی شہادت کی خبر پھیلی، تو وادی میں زلزلہ آ گیا۔ بھارت نے اُس کی مقبولیت کو ختم کرنے اور تحریکِ آزادی کو دبانے کے لیے ظلم کی انتہا کر دی۔
۲۰۰ سے زائد شہادتیں، ۱۵ ہزار سے زیادہ زخمی، اور ۲۰ ہزار سے زائد گرفتاریاں کیں، —جن میں طالب علم، ائمہ، اور سیاسی کارکن شامل تھے۔ مظاہرین کو کچلنے کے لیے پیلٹ گنز کو استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ۱۵۰۰ سے زائد نوجوان مستقل طور پر بینائی سے محروم ہوگئے۔ اُسی روز امام سیّد علی گیلانیؒ نے فرمایا:’’برہان شہید ایک نظریہ ہے، اور نظریات کو گولی سے نہیں مارا جاسکتا‘‘۔واقعی، برہان وانی کی شہادت کے بعد ہزاروں نوجوانوں نے تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ سید صلاح الدین نے کہا تھا:’’بھارت نے ایک برہان کو شہید کیا ہے، لیکن ہزاروں برہان پیدا ہو گئے ہیں‘‘۔یہ بات محض دعویٰ نہ رہی؛ سبزار بٹؒ، ریاض نائیکو ؒ، ڈاکٹر منان وانیؒ، اور پروفیسر رفیعؒ بٹ سبھی کسی نہ کسی شکل میں برہان وانی شہید سے متاثر تھے۔
۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو بھارتی حکومت نے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کی منسوخی کے ذریعے ریاست جموں و کشمیر کا آئینی تشخص ختم کر دیا۔ لاکھوں فوجی پہلے ہی موجود تھے، مزید ۸۰ہزار سے زائد تعینات کر دیے گئے۔ ہزاروں رہنما، کارکن، صحافی گرفتار یا نظربند ہوئے۔ سیّد علی گیلانیؒ کو نظربند رکھا گیا، حتیٰ کہ وہ اسی حالت میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔
UAPA جیسے قوانین کے ذریعے صحافت کو جکڑا گیا، دفاتر پر چھاپے، صحافیوں پر مقدمات، اخبارات کی بندش، اور ڈومیسائل قانون کے ذریعے آبادیاتی تبدیلی کی مذموم کوشش کی گئی۔
اب سوال یہ ہے:کیا برہان وانی شہید صرف ماضی کی ایک یاد ہے؟کیا کشمیری عوام نے ظلم کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں؟جواب واضح ہے: نہیں۔بھارت لاکھ جبر کرے، برہان وانی شہید آج بھی کشمیری قوم کے اجتماعی شعور میں زندہ ہے۔تحریکِ آزادی آج بھی جاری ہے۔گرچہ عسکری مزاحمت کا انداز بدل چکا ہے، مگر جذبہ، ایقان اور مزاحمتی روح پہلے سے زیادہ توانا ہے۔ برہان وانی شہید اُس تحریک کا مظہر تھا جس کی فکری بنیادیں شہید علی گیلانیؒ نے رکھی تھیں، اور جو آج بھی ہر ظلم کے خلاف آواز بن کر ابھرتی ہے۔برہان وانی شہید فقط ایک مزاحمت کار نہ تھا، بلکہ وہ ہرکشمیری کے خواب کا استعارہ بن چکا ہے۔ایک ایسا خواب جو نسل در نسل دلوں میں جاگتا ہے، بستی بستی گونجتا ہے۔
برہان وانی شہید چلا گیا، مگر اس کی شہادت تحریکِ مزاحمت کا ایسا باب بن گئی ہے جو ہرکشمیری نوجوان کے دل کی آواز ہے، ہر ماں کی دعا میں شامل ہے، اور ہر ظلم کے جواب میں نعرہ بن کر ابھرتا ہے: ’’برہان! تیرا خون رنگ لائے گا!‘‘
سات عشروں سے زیادہ عرصہ گزر چکا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم لوگ، انڈیا کے بے رحم تسلط تلے زندگی گزار رہے ہیں۔اُن کے چاروں طرف دہشت، بارود، گولی، بے حُرمتی، پھانسی، جیل، تذلیل اور انسانی زندگی کی بے توقیری روز کا معمول ہے۔اقوام متحدہ نے ۱۹۴۸ء سے ان کا خود ارادیت کا حق تسلیم کیا ہے ۔ لیکن نہ ویٹو کلب نے اپنے فیصلے کو نافذ کرایا اور نہ انڈیا نے عالمی برادری کے فیصلے کو کسی احترام کے قابل سمجھا۔ نتیجہ یہ کہ اس جبر کے خلاف جدوجہد میں، ۱۹۸۹ء سے اب تک تقریباً ایک لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں کو جبری طور پر غائب کیا گیا، حراست میں رکھا، یا بھارتی فورسز کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۴۷ (۱۹۴۸ء) — غیر جانب دارانہ رائے شماری کا مطالبہ کرتی ہے — ، اسے ایک طرف پھینکتے ہوئے، انڈیا نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی اور کشمیری آواز کو دبانے کا عمل جاری رکھا۔ اسی دوران ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو ایک سنگین موڑ لیا، جب وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے اپنے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰، اور ۳۵-اے کو منسوخ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ اس اقدام کے نتیجے میں فوجی لاک ڈاؤن، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، کرفیو اور طویل مواصلاتی بلیک آؤٹ ہوا۔
آج ۹ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی، خطے میں دندنا رہے ہیں۔ اس طرح کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوج زدہ علاقہ بن چکا ہے۔ ۲۰۱۹ء کے مذکورہ بالا کریک ڈاؤن کے بعد، ۱۳ ہزار سے زائد نوجوان کشمیریوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (UAPA) جیسے سخت وحشیانہ قوانین کے تحت حراست میں لیا گیا، جو بغیر مقدمہ چلائے حراست کی اجازت دیتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی ۵۵۰ دن سے زائد عرصے تک بندش نے مواصلات، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور مقامی معیشت کو مفلوج کر دیا۔
ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کے نگران اداروں نے انڈیا کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔ ۲۰۱۹ء کے OHCHR رپورٹ میں وسیع پیمانے پر بدسلوکیوں کی تفصیل دی گئی،جن میں من مانی گرفتاریاں، تشدد، اور چھرّے والی بندوقوں کا استعمال، جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد شہریوں، جن میں زیادہ تر نابالغ تھے، مستقل اندھے ہو گئے۔
ان خدشات میں اضافہ کرتے ہوئے، انڈیا نے ۲۰۱۹ء سے غیر مقامی افراد کو لاکھوں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں ۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو خطے کی مسلم اکثریتی حیثیت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ ایسی آبادیاتی انجینئرنگ، چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، جو مقبوضہ علاقوں کی آبادی کی ساخت میں تبدیلی کی ممانعت کرتا ہے۔
اپریل ۲۰۲۵ء میں، پہلگام میں تشدد کے افسوس ناک واقعے کو بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف دشمنی بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ تاہم، پاکستان کے مضبوط سفارتی اور فوجی ردعمل نے اب تک مزید تصادم کو روکا ہے۔ اس کے باوجود، ’ہندوتوا‘ قوم پرستی کی شاہراہ پر چلنے والی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہٹ دھرمی پر مبنی اسٹرے ٹیجک جرم کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے، جو کشمیر کے اس تنازعے کے طے شدہ قانونی حل کے بجائے موت اور خون کی طرف دُنیا کو دھکیل سکتا ہے۔
انڈیا اور پاکستان دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک ہیں۔ کشمیر پر ایک بھی غلط قدم تباہ کن علاقائی یا عالمی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ عالمی برادری اب خاموش تماشائی بننے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، یورپی یونین، اور عالمی طاقتیں فیصلہ کن مداخلت کریں تاکہ طویل عرصے سے موجود ’اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل‘ (UNSC) کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
کشمیر صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں ہے، یہ عالمی برادری کی بے حسی کا جرم اور انڈیا کی علاقائی غنڈا گردی کا زندہ ثبوت ہے۔ یہ انسانی حقوق، انصاف اور وقار کا سوال ہے۔ اگر دنیا نے اس تنازع سے نظریں پھیرنا جاری رکھا تو اس کے نتائج جنوبی ایشیا سے کہیں آگے جا سکتے ہیں، — جو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا دنیا تباہی کو روکنے کے لیے اٹھے گی — یا اسی طرح خاموشی سے شریکِ جرم رہے گی؟
دُنیا بھر میں امن کو برباد کرنے اور انسانوں کے قتل عام میں دلچسپی رکھنے والی ریاست امریکا نے انڈیا کی درخواست پر، وہ جنگ جو انڈیا نے شروع کی تھی، اور اب خوفناک تباہی کا عنوان بن رہی تھی، رکوا دی۔درحقیقت اس پیش رفت کا دوسرا پہلو، امریکا کی جانب سے اپنے ایشیائی ’پولیس مین‘ ملک کو سبکی اور ذلّت سے بچانا بھی تھا۔ اسی مرحلے پر مختلف سطحوں پہ یہ نظریہ زور پکڑنے لگا کہ ’امریکی ثالثی‘ سے مسئلہ کشمیر حل کرا لیا جائے۔
ہمارے نزدیک ’امریکی ثالثی‘ کا آپشن اختیار کرنے سے کشمیر تنازعہ کے حل میں کئی ممکنہ تباہ کن نقصانات کشمیریوں اور پاکستانیوں کے لیے اُمڈ آئیں گے، خاص طور پر جب اسے سلامتی کونسل کی قراردادوں سے ہٹ کر دیکھا جائے گا۔ ذیل میں چند اہم نکات پیش ہیں:
امریکا کی جانب سے غیر جانب دار(نیوٹرل) ثالث ثابت ہونا ، تاریخ کا ایک عجوبہ ہوسکتا ہے۔ درحقیقت وہ یقینا پاکستان ہی پر دبائو ڈالے گا کہ پاکستان اپنی اصولی اپوزیشن سے پیچھے ہٹے، بلکہ پسپا ہو۔ انڈیا کے ساتھ اس کے گہرے معاشی اور فوجی تعلقات پاکستان کے لیے غیر منصفانہ نتائج کا باعث بنیں گے۔
اقوام متحدہ کے فریم ورک پر قائم رہتے ہوئے پاکستان اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کے لیے زور دینا چاہیے، کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایک تسلیم شدہ حل ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ’امریکی ثالثی‘ پر انحصار کرنے یا اسے اپنے ہاتھ کاٹ کر دینے کے بجائے، ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC) اور دیگر غیر جانب دار فورمز (جیسے یورپی یونین) کو متحرک کرکے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کے لیے دبائو بڑھایا جائے۔
کشمیریوں اور پاکستانیوں کو عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں (جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل) کے ذریعے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے تاکہ کسی بھی یک طرفہ ثالثی کو چیلنج کیا جاسکے (حالات و واقعات نے ثابت کیا ہے کہ امریکا، ثالثی جیسے ’ڈرامے‘ میں ظالم فریق کا طرف دار ہی ہوتا ہے، اور مظلوم کو مزید کچلنے کے لیے شیرہوتا ہے، غزہ کا منظر آنکھوں کے سامنے رہے)۔
’امریکی ثالثی‘ سے کشمیریوں کا حقِ خود ارادیت، پاکستان کی سفارتی پوزیشن، اور خطے میں استحکام، خطرے میں پڑجائیں گے۔ یہ سفارتی عیاشی بھارت کے اقدامات کو جائز قرار دینے اور کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کا باعث بن جائے گی۔ انڈیا بظاہر لیت و لعل سے کام لے کر، آخرکار ’امریکی ثالثی‘ پر آمادہ ہوجائے گا، کیونکہ انڈیا کو معلوم ہے کہ یہ ثالث، فی الحقیقت اس کا فرنٹ مین ہی ہے۔ اس کے برعکس، اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت عالمی برادری کی شمولیت زیادہ منصفانہ اور پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔
اسی طرح سفارتی پسپائی اختیار کرتے ہوئے، انڈیا اپنی دوسری دفاعی لائن ’خودمختار کشمیر‘ یا ’تیسرے آپشن‘ کا دائو بھی کھیلنے سے نہیں چُوکے گا۔ اس جال میں پھنسنے سے بچنے کے لیے کشمیری قیادت، پاکستانی سیاسی و فوجی مقتدرہ اور رائے عامہ کو ہوشیار و بیدار رہنا ہوگا۔ گذشتہ ڈیڑھ دوسو سال کی تاریخ نے ایک بات تو بار بار ثابت کی ہے: ’’مسلمان، مذاکرات کی میز پر دھوکے میں آتا ہے اور مار بھی کھاتا ہے‘‘۔
مئی ۲۰۲۵ء کے پہلے بارہ دنوں میں دنیا نے انڈین دہشت گردی کی ایک ایسی خون آشامی کا مشاہدہ کیا، جو ریاستی حکمت عملی کی آڑ میں چھپی ہوئی تھی۔ ۲۲؍اپریل کو پہلگام (مقبوضہ کشمیر) میں ہونے والے ایک مہلک حملے میں ۲۶ ؍انڈین ہندو،مسلم سیاح ہلاک ہوئے۔ کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہ کی، کوئی تفتیش نہ کی گئی اور نہ کوئی ثبوت منظر عام پر آیا۔ مگر نئی دہلی نے، حقائق کی عدم موجودگی کے باوجود، الم ناک و اقعے کے صرف آدھ گھنٹے کے اندر اندر اپنی مرضی کا بیانیہ تشکیل دے ڈالا۔ اتنی عجلت میں تمام مرحلوں کا طے کر ڈالنا ریاستی ڈرامے کے خالقوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا، کہ انھیں نہ سچائی مطلوب تھی اور نہ ضروری ہی تھی۔ صرف ایک چیز اہم تھی کہ برق رفتاری سے — کشیدگی کی طرف بڑھتے ہوئے، تشدد پر تیار کردہ اپنے عوام کی نفسیاتی تسکین کا سامان کیا جائے۔
۷ مئی کی رات، انڈیا کے جنگی طیارے لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستان کے اندر مبینہ شدت پسند ٹھکانوں پر بمباری کر چکے تھے۔ اس کارروائی کا نام ہی ’سندور‘ تھا، یعنی وہ سرخ سفوف جو ہندو عورتیں اپنے شادی شدہ ہونے کی علامت کے طور پر لگاتی ہیں۔ — یہ اپنی جگہ خود ایک علامتی اعلان بھی تھا۔ یہ محض فوجی کارروائی نہ تھی، بلکہ مذہبی علامتوں میں لپٹی سیاسی نمائش تھی___ زعفرانی قوم پرستی اور فضائی بالادستی کا ایک دکھاوا بھرا امتزاج۔ یہ بدلہ نہ تھا، بلکہ رسم تھی۔ یہ حکمت عملی نہ تھی، بلکہ ایک خونیں تماشا تھا۔ یہ قومی دفاع نہ تھا، بلکہ یہ زعفرانی تھیٹر تھا۔
اس پوری کارروائی کی منطق سکیورٹی نہیں تھی، بلکہ بہکانا تھا۔ اصل ہدف رائے دہندہ تھے۔ جنگی جہاز، انتخابی مہم کے ہتھیار تھے، مقتولین کو انتقام کے رقص میں شریک کر لیا گیا اور آگے بڑھ کر بہاولپور، مظفرآباد، مریدکے میں ایک ایک مسجد کو بھی نشانہ بنایا۔جہاں قریب رہنے والوں، گھروں کے بچّے اور عورتیں بھی جاں بحق ہوئیں۔ حیرت کی بات ہے کہ اس انڈین حملے پر عالمی ردِعمل غصے کا نہیں تھا — بلکہ بےحسی کا تھا۔ ایسا ردعمل، جو ہر نئے ظلم کے ساتھ مزید مکروہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ کیونکہ آج کی ظالم جیوپولیٹیکل دنیا میں کس کا خون اہم ہے اور کس کا اہم نہیں، یہ ظلم کی شدت سے نہیں بلکہ گروہی یا نسلی وابستگی سے طے ہوتا ہے۔
بہاولپور ،مظفرآباد اور مریدکے میں مسجد پر حملہ کوئی حادثہ نہ تھا، وہ ایک پیغام تھا۔ وہ مودی کی جانب سے نیتن یاہو کے خون آلود اسکرپٹ کی تکرار تھی۔ اسرائیل میں فلسطینیوں کا منظم قتلِ عام ’اپنے خودار دفاع‘ کے نام پر بیچا جا رہا ہے۔ انڈیا میں کشمیری جانوں کی تباہی کو ’انسدادِ دہشت گردی‘ کا لیبل دیا جاتا ہے۔ دونوں جگہ، شہریوں کا دُکھ جھٹلایا جاتا ہے یا پھر لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ مزاحمت کو جرم بنادیا جاتا ہے، اور ماتم کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ یہ محض فوجی حکمت عملی نہیں، — یہ ایک خونیں نظریاتی تھیٹر ہے۔
یہ مشابہتیں محض اتفاقیہ نہیں — بلکہ باقاعدہ طریق کار کا حصہ ہیں۔ نیتن یاہو کا مستقل جنگ جاری رکھنے کا نظریہ، مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہدفی قتل، مغربی تہذیبی درندگی، اور صلیبی جوش و تعصب کا وحشیانہ استعمال، — یہ سب نئی دہلی میں صرف سراہا ہی نہیں جا رہا، بلکہ عملی طور پر اپنایا بھی جا رہا ہے۔ انڈیا اب اسرائیلی نگرانی (Survillence)کا سافٹ ویئر، ڈرون، حتیٰ کہ مخصوص ’جنگی اخلاقیات‘ درآمد کر رہا ہے۔
نیتن یاہو اپنے تشدد کو ’یہودی بقا‘ کی زبان میں چھپاتا ہے، جب کہ مودی اسے ’ہندو مظلومیت‘ کے نام پر تقدیس عطا کرتا ہے۔ دونوں اپنے افسانوی اور خیالی ماضی کے صدموں کو حال کے مظالم کا جواز بناتے ہیں۔ دونوں خوف کے ذریعے حکومت کرتے ہیں، دونوں اپنے دشمن تخلیق کرتے ہیں، اور دونوں مذہب کو نجی عقیدہ نہیں، بلکہ اژدہا بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ صہیونیت اور ’ہندوتوا‘ نہ صرف سانجھے طریقے استعمال کرتے ہیں — بلکہ ایک کائناتی تصور بھی بانٹتے ہیں۔ اسرائیل میں بالادستی مقدس ہے، اور فتح نجات، پھر ’قبضے سے جلاوطن تک‘ غزہ جس اذیت سے گزر رہا ہے، کشمیر تو اس برہمی نسل پرست عقیدے کو مدتوں سے جانتا ہے، انیسویں صدی سے تو مسلسل ۔
لیکن اب، قبضہ ایک اور بھیانک رُوپ اختیار کر چکا ہے — یعنی ’جلا ڈالو‘۔ ۲۰۱۹ء میں جب آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کو منسوخ کیا گیا، تو یہ کوئی حکومتی اقدام نہ تھا — بلکہ ایک آئینی چال میں لپٹی ہوئی، دُنیا سے بغاوت تھی۔ اُس دن سے، مقبوضہ کشمیر اجتماعی سزا کی تجربہ گاہ بن چکا ہے: اجتماعی گرفتاریاں، مواصلاتی بلیک آؤٹ، ماورائے عدالت قتل۔ جس میں ہر مظاہرہ بغاوت قرار پاتا ہے، ہر کشمیری مشتبہ، باغی اور گردن زدنی ٹھیرتا ہے۔
یہ محض جبر نہیں، — یہ بنیادی ڈھانچے کی تباہی ہے۔ اسرائیلی ڈرونز جو خان یونس پر منڈلاتے تھے، وہ اب کپواڑہ پر بھی منڈلاتے ہیں۔ تل ابیب میں تیار کردہ چہرہ شناس سافٹ ویئر اب سری نگر میں متحرک ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی، حیاتیاتی ڈیٹا کی شناخت، اور پیش گوئی پر مبنی پولیس گردی، — جو کبھی فلسطینیوں پر آزمائی گئی تھی، اب انڈین ریاست کے ہتھیار بن چکی ہے۔ یہ محض فوجی ہم آہنگی نہیں، بلکہ بے حساب ظلم کی عالمی توسیع ہے۔ نسل کشی (Genocide)اب ایک برانڈ بن چکی ہے، جس کے فرنچائز ہر سمت کھل رہے ہیں۔ اس بارے کسی کو غلط فہمی نہ ہو، یہ ایک عریاں نسل کشی ہے۔ ایسی نسل کشی جو ہمیشہ گیس چیمبر یا اجتماعی قبروں سے شروع نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ نسل کشی خاموش بیوروکریسی، معیشت کے گلا گھونٹنے، اور الگورتھمی نقاب میں مسلط کی جاتی ہے۔ ایک قوم کو صرف جغرافیہ سے نہیں، بلکہ یادداشت سے بھی مٹا دیا جاتا ہے۔
امریکا و مغرب، جو برسوں سے اسرائیل کی بے لگام درندگی کے شریکِ کار رہے ہیں، انڈیا کو ایک منافع بخش شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسرائیل، امریکی ہتھیاروں سے شہریوں کا قتلِ عام کرتا ہے اور انڈیا یہی کام اسرائیلی ٹکنالوجی سے کرتا ہے۔ ادھر انسانی حقوق کی زبان کو بے اثر کردیا گیا ہے۔ — وہ محض ’تحمل‘ اور’مذاکرات‘ جیسی مبہم اپیلوں تک محدود ہو چکی ہے۔ واشنگٹن، لندن، جنیوا اور پیرس میں تجارتی معاہدے جنگی جرائم سے زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جنگی مجرم ’مصلح‘ دکھائی دیتے ہیں۔ نسل پرست قاتل، جمہوریت پر لیکچر دیتے ہیں۔ میڈیا خونریزی کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کرتا ہے، تاریخ، اخلاق، اور انجام کی ارتھی اُٹھائے مہاشوں کا ہجوم!یہ صرف اخلاقی انحطاط نہیں — یہ بازاری منطق ہے۔ یعنی قتل، اگر ’درست انداز‘ میں پیش کیا جائے، تو منافع بخش چال ہے۔
اب جنوبی ایشیا ایک خطرناک کنارے پر کھڑا ہے۔ دو ایٹمی ریاستیں، ایک ایسی قیادت کے ہاتھوں یرغمال ہیں، جو مذہبی اور قومی نسل پرستی کے خواب میں مدہوش ہے۔ ایک غلطی، ایک غلط اندازہ، اور پورا برصغیر پاک و ہند راکھ ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی ڈراوا نہیں، — یہ ریاضی کا ایک سیدھا جواب ہے۔ علاقہ جوہری تاب کاری میں بھڑکنے اور قیادت بھڑنے کی دہلیز پر ہے۔ اور دنیا، حسبِ معمول، اپنی ہی دُنیا میں گم۔مودی اور نیتن یاہو جو کچھ کھیل رہے ہیں، وہ صرف اپنے دشمنوں کی تقدیر سے نہیں —، ہم سب کی تقدیر سے کھیل رہے ہیں۔
مودی کے انڈیا میں افسانہ قانون بن چکا ہے، اور قانون محض افسانہ۔ نیوز اینکر خبریں نہیں دیتے، نعرے لگاتے، چیختے اور چنگھاڑتے ہیں۔ مؤرخین تشریح نہیں کرتے، — وہ نشانے باندھتے ہیں۔ یونی ورسٹیاں علم کی جگہ نہیں فکری غلامی کے کارخانے بن چکی ہیں۔ ’ہندوتوا‘ کوئی قدامت پسند نظریہ نہیں، — یہ نسلی برتری کا وحشیانہ مذہب ہے۔ یہ ایک ایسا ہندو ریاستی خواب دیکھنا ہے جو مسلمان، عیسائی، دلت، اور اختلاف رائے، سب کو آلودگی قرار دے کر ان کے خاتمے اور کچلنے کا پیغام دیتا ہے۔ ’ہندوتوا‘ کا منصوبہ، صہیونیت کی طرح، صرف تابع داری نہیں چاہتا — بلکہ خاتمہ۔ اسے صرف غلبہ نہیں چاہیے — بلکہ یکسانیت چاہیے۔ انڈیا اور اسرائیل دونوں میں ریاست اب ادارہ نہیں — مذہبی قربانی کی مقتل گاہ بن چکی ہے۔
اور جب دنیا خوفناک تباہی کے کنارے پہنچ چکی تھی، ۱۰ مئی کو ایک جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ انڈیا اور پاکستان نے مزید کشیدگی روکنے پر اتفاق کیا۔ تب میدان میں داخل ہوا ڈونلڈ ٹرمپ، خود ساختہ ’امن کا پیغامبر‘۔ جس نے فوراً یہ کریڈٹ لیا کہ ’اس نے برصغیر کو پُرسکون کر دیا‘۔ دو جوہری ممالک کی قسمت ایک کھوکھلے لیڈر کے کریڈٹ شو کی نذر ہو جائے، یہ ایک مضحکہ خیز اور شرمناک منظر ہے۔مگر دھوکا نہیں کھانا چاہیے، کیونکہ یہ جنگ بندی کسی امن کی تمہید نہیں۔ — یہ محض وقفہ ہے۔ غزہ میں اب بھی شعلے بھڑک رہے ہیں۔ کشمیر میں اب بھی نگرانی کے ٹاور غرا رہے ہیں۔ اور جو نظریہ اس قتل گاہ کو چلارہا ہے، وہ اب بھی پھیل رہا ہے تیزرفتار — کینسر کی طرح۔
یہ ان سب کے لیے پکار ہے، جو انصاف کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وقت گزر چکا ہے۔ مظلوم محض علامتیں نہیں، — وہ بیٹے، بیٹیاں، خاندان اور مستقبل ہیں۔ غزہ اور کشمیر میدانِ جنگ نہیں، نسل پرست — جرم کے منظرنامے ہیں۔ اور اگر اس پر کھل کر، بے خوف ہو کر، اکٹھے ہو کر آواز نہ اٹھائی — تو ہم تماشائی نہیں رہیں گے —، ہم شریکِ جرم بن جائیں گے۔اگلا باب بلوچستان، کراچی، سری نگر، یا رفح میں کھل سکتا ہے۔
سوال اب یہ نہیں کہ ہم عمل کریں گے یا نہیں، — بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم میں اتنی اخلاقی ہمت ہے کہ ہم تباہی کے اس انجن کو روک سکیں؟ اس سے پہلے کہ یہ ہمیں بھی کچل کر چلا جائے۔ کیونکہ یہ کھیل کا اختتام نہیں۔ — یہ وہ لمحہ ہے جب ناظرین فیصلہ کرتے ہیں:کیا وہ کھڑے ہوکر اپنے آپ کو بچائیں گے؟ یا جلتے اسٹیج کے ساتھ جل جائیں گے؟
جب انڈیا اور پاکستان اپنی فوجی کامیابیوں کے تذکرے کرتے ہیں تو ان نعرئہ ہائے تحسین میں کشمیریوں کو سسکنے کے لیے غم کی وادی میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
’اوڑی‘ انڈین زیر انتظام کشمیر میں — ۸ مئی کی رات صنم بشیر کے لیے اُلجھے ہوئے منظرنامے کی متحرک تصویر کے طور پر آتی ہے۔ اس کا خاندان تین گاڑیوں میں سوار تھا۔ اس کے بقول: ’’سڑک بہت تاریک تھی، اور گولہ باری کی آواز کانوں کے پردے پھاڑنے والی تھی۔یہ قیامت کی گھڑی لگ رہی تھی‘‘۔ ۲۰سالہ صنم اپنے چارسالہ کزن منیب، اپنی خالہ اور اپنی ماں نرگس بیگم کے ساتھ پچھلی سیٹ پر دبکی ہوئی تھی۔ صنم کو یاد نہیں کہ گاڑی کی چھت کو کس چیز نے چیر ڈالا، لیکن وہ اپنی خالہ کی تیز چیخ یا اپنی ماں کے گلے سے نکلنے والے گرم خون کو نہیں بھول سکتیں۔ جب وہ ہسپتال پہنچے تو نرگس بیگم کی موت و اقع ہو چکی تھی۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار دن کی لڑائی میں جموں و کشمیر کے بھارتی زیر انتظام علاقے میں کم از کم ۲۷؍ افراد جان سے گئے، جن میں گیارہ سالہ جڑواں بچے بھی شامل تھے، اور ۵۰سے زائد زخمی ہوئے۔ اچانک ہونے والی یہ لڑائی اس خطے میں کئی عشروں میں سب سے بدترین لڑائی تھی۔ جیسا کہ پچھلے تنازعات میں ہوا، شہریوں ہی کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ جنگ بندی کے بعد، ہم نے لائن آف کنٹرول سے ۱۵کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع دیہات کا دورہ کیا۔ — یہ وہ غیر رسمی سرحد ہے جو پہاڑوں اور دریاؤں کے پار گزرتی ہے، اور کشمیر کو دوحصوں میں تقسیم کرتی ہے۔
گذشتہ ماہ کئی برسوں کی نسبتاً خاموشی اس وقت ٹوٹ گئی جب مبینہ طور پر سیاحتی شہر پہلگام کے قریب ۲۶ شہریوں کو گولی مار دی گئی، اور نئی دہلی حکومت نے فوراً کہہ دیا کہ اس حملے کے ذمہ داران کے پاکستان سے روابط تھے۔اسلام آباد نے ایسی کسی بھی شمولیت و سرپرستی سے انکار کیا اور غیرجانب دارانہ تحقیقات کے لیے تعاون کی پیش کش کی۔ خطۂ کشمیر کے لوگوں نے مابعد واقعات کے خوف سے سانس روک لی۔انڈیا نے ۷ مئی کی رات پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے اور خود پاکستان کے چند شہروں پر جوابی حملہ کیا۔ پھر اگلے روز پاکستان کے اندر دُور تک پچاس سے زیادہ حملے کیے، جس میں کم از کم ۲۶؍ افراد جاں بحق ہوئے۔ اگلی تین راتوں تک، ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک جنگ کے اور قریب ہوتے گئے۔ — فوجی اہداف پر حملوں کا تبادلہ کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کے شہروں میں ڈرونز کی پروازیں بھیجتے رہے۔ ۱۰ مئی کو امریکی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد، دونوں ممالک نے اپنی فوجی کامیابیوں کے دعوے کیے، اور اپنے اپنے نقصانات کو کم کر کے پیش کیا۔
لائن آف کنٹرول کے ساتھ، جہاں خاندان طویل عرصے سے تنازع کے سائے میں رہتے ہیں، پاکستانی گولہ باری شدید ترین تھی۔ ادھر پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں بھی ایسی ہی رپورٹس تھیں، جہاں بھارتی فائرنگ سے کم از کم ۱۶؍افراد جاں بحق ہوئے۔ اوڑی اور اس کے آس پاس ۴۵۰ سے زائد گھر یا دکانیں تباہ ہوئیں، اور کم از کم ایک تہائی آبادی اپنے گھروں سےنکل جانے پر مجبور ہوئی۔ جنگ بندی کے بعد، لوگ اپنی زندگیوں کے جمع شدہ ملبے کو ٹھکانے لگانے کے لیے واپس لوٹ رہے تھے۔اگرچہ بھارتی فوج نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، لیکن ان علاقوں میں سول آبادی اور رہائشی اب بھی خوفزدہ ہیں۔
راجروانی کے گاؤں میں نرگس بیگم کے گھر پر، ان کے پیاروں کو اب بھی صدمہ ہے:’’اگر حکومت نے بنکر [پختہ مورچے] بنائے ہوتے یا صبح ہمیں انخلا کے لیے کہا ہوتا، تو وہ آج ہمارے ساتھ ہوتیں‘‘،ان کے ۲۷ سالہ بیٹے ثاقب بشیر خان نے کہا۔آٹھ افراد کے اس خاندان نے ہمیشہ غربت کا سامنا کیا۔ نرگس بیگم اسکول میں کھانا تیار کر کے ماہانہ ۱۲ ڈالر کماتی تھیں، ان کے شوہر ایک دہاڑی دار مزدور ہیں، جنھیں مستقل کام نہیں ملتا۔ نرگس بیگم کے رشتہ داروں کو مقامی حکومت نے موت کے بدلے ۷ہزار ڈالر معاوضہ دیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’’ہمارا نقصان کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔ حکومت غریبوں کو زندہ رہنے کی سہولت دینے سے پہلو بچاتی ہے‘‘۔ان کی بھابھی حفیظہ بیگم نے کہا، ’’لیکن اب جب وہ مر چکی ہیں، تو حکومت پیسے دے رہی ہے۔ اب اس دولت کا کیا فائدہ؟‘‘
قریبی گاؤں باندی میں، محمد انور شیخ مدد کے انتظار میں ہیں: ’’پہلے بھی فائرنگ ہوتی تھی، لیکن ہمارے گھروں پر کبھی اس طرح گولے نہیں برسے تھے‘‘، ۴۰سالہ شیخ نے کہا، جن کا سادہ تین کمروں کا گھر ایک بھارتی فوجی کیمپ کے قریب ہے۔ ایک گولے نے ان کے مرکزی کمرے کو چیر دیا، کھڑکیاں توڑ دیں، ٹیلی ویژن کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا اور دیوار پر گہرے گڑھے چھوڑ دیے۔ ان کے بیٹے کی نوٹ بک ٹکڑوں میں بکھر چکی تھی۔شیخ انور نے بتایا: ’’انڈین فوجی تین دن پہلے گولوں کے ٹکڑے جمع کرنے آئے تھے اور کہا تھا ہم آپ کی مالی مدد کریں گے۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو میں نے اپنی بیوی اور چھ بچوں کو ڈیڑھ گھنٹے کی دوری پر ایک امدادی کیمپ میں بھیج دیا تھا۔ ہم ہررات، اپنے چند پڑوسیوں کے ساتھ ایک عارضی مورچے میں دبک کر پڑے رہتے تھے، جو ہمیں صرف جزوی تحفظ فراہم کرتا تھا۔ مگر ۹ مئی کی صبح سویرے، فائرنگ اور تیز گولہ باری ہو گئی‘‘، شیخ نے کہا۔
شیخ کے گھر سے آگے، ایک تنگ ندی کے کنارے سرسبز پہاڑیوں میں واقع لگاما گاؤں ہے۔ ۶۳ سالہ محمد شفیع پٹھان کی جائیداد پر اخروٹ اور ناشپاتی کے کھڑے درخت لہلہا رہے ہیں، لیکن ان کا گھر رہنے کے قابل نہیں رہا۔ یہ ریٹائرڈ فوجی ۹ مئی کی رات کو اپنی بیوی، بیٹے اور تین پوتے پوتیوں کے ساتھ اس وقت جان بچانے کے لیے بھاگا، جب وادی میں دھماکوں کی گونج سنائی دی۔ اگلی صبح سویرے، پولیس نے فون پر شفیع کو بتایا کہ اس کا گھر تباہ ہو گیا ہے۔ یہ سن کر وہ گھر آیا تو ٹین کی چھت اُڑ چکی تھی اور کنکریٹ کا ایک بڑا ٹکڑا ایک جانب پڑا ہوا تھا۔ چاول کے ڈرم راکھ سے ڈھکے ہوئے تھے اور بارود کی بہت تیز بدبُو تھی۔
’’ایک بھی چیز نہیں بچی، سب برباد‘‘، پٹھان نے کمبل، کھلونوں، کپڑوں اور چمچوں کے بکھرے ہوئے ڈھیر پر سے گزرتے ہوئے کہا۔ سرحد کے ساتھ زندگی کبھی آسان نہیں ہوتی۔ غربت عام ہے اور تنازعے کا سایہ ہمیشہ سانس کی طرح ساتھ رہتا ہے۔ شہری روزانہ بار بار چیک پوسٹوں پر تلاشی دینے کے لیے انڈین فوج کا سامنا کرتے ہیں، جن کے مسلح قافلے باقاعدگی سے گزرتے اور جگہ جگہ ہیں۔
مئی ۲۰۲۵ء کی انڈوپاک لڑائی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے: ’’کشمیر ایک فلیش پوائنٹ ہے اور اس میں پورے جنوبی ایشیا کو ایک بڑی جنگ میں دھکیلنے کی بھرپور صلاحیت ہے‘‘، سری نگر میں مقیم سیاسی تجزیہ کار شیخ شوکت حسین نے یہ بات کہی۔ حسین نے کہا۔ ’’کشمیری، ایسی صورتِ حال میں پھنسے ہیں جو ان کے کنٹرول سے باہر ہے، اور یہی سب سے زیادہ تکلیف اٹھاتے ہیں۔ بڑی عالمی طاقتوں کا کام ہے کہ وہ کشیدگی کو مستقل طور پر کم کرنے میں مدد کریں‘‘، انھوں نے کہا۔
سری نگر میں نئے کافی شاپس اور ہوٹل کھلے ہوئے ہیں، جو نئی دہلی کی جانب سے سیاحتی صنعت کو بحال کرنے کی کئی سالہ کوشش کا حصہ ہے۔ لیکن پاکستان کے بے مثال ڈرون حملوں کے نتیجے میں سری نگر پر ایک اُداسی چھائی ہوئی ہے۔ڈل جھیل پر — جو عظیم الشان پہاڑی چوٹیوں سے گھری ہوئی ہے —، کشتی بان گپ شپ لگا رہے تھے یا مچھلی پکڑ رہے تھے، مگر کوئی بھی چیز سیر کے لیے راغب کرنے والی نہیں تھی۔ سیاح غائب ہوچکے تھے۔
سری نگر کے مرکزی لال چوک میں، ۲۱ سالہ مسکان، اپنے بھائی کے ساتھ تصاویر لے رہا تھا۔ انھوں نے کہا:’’پہلگام حملے سے کشمیریوں کو تکلیف پہنچی، لیکن اس کے بعد بھارتی سیکیورٹی کریک ڈاؤن اور انڈیا کے طول و عرض میں زیرتعلیم کشمیری طلبہ پر حملوں کی خبروں نے انھیں اور بھی زیادہ صدمے سے دوچار کیا‘‘۔ انھوں نے کہا:’’ ہمارے لیے اور سیاحوں کے لیے کوئی خوف کی فضا نہیں ہونی چاہیے‘‘۔
اوڑی، جو چند دن پہلے تک ایک ویران شہر تھا، دکاندار واپس آ گئے تھے، انڈے، سکارف اور پلاسٹک کا سامان بیچ رہے تھے۔ ساتھ ہی ایک سرکاری دفتر کے احاطے میں پختہ مورچہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن کچھ مقامات پر آنا جانا اب بھی ممنوعہ ہے۔ ایک چیک پوسٹ پر، بھارتی فوجیوں نے ہم کو اسلام آباد گاؤں جانے سے روک دیا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے بھاری نقصان پہنچا ہے۔ تازہ ترین تنازع نے سب کچھ بدل دیا۔ ریٹائرڈ فوجی شفیع پٹھان نے کہا: ’’ہماری کیا زندگی ہے کہ ہم نہ سکون سے جی سکتے ہیں، اور نہ سکون سے مر سکتے ہیں‘‘۔ [ترجمہ: س م خ]