تزکیہ و تربیت


اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ   اِیْمَانًا   اَحْسَنُھُمْ  خُلُقًا (ابو داؤد ) اہلِ ایمان میں زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں ، جو اخلاق میں زیادہ اچھے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ مقدم یہ بات ہے کہ ایمان جو گومذہب کا اصل الصول ہے لیکن اسی بناپر کہ وہ دل کے اندر کی بات ہے جس کو کوئی دوسراجانتا نہیں اور زبان سے ظاہری اقرار ہر شخص کرسکتا ہے، اس لیے اس ایمان کی پہچان اس کے نتائج و آثار، یعنی اخلاق حسنہ کو قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۂ مومنون میں عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاق کو بھی اہل ایمان کی ان ضروری صفات میں گنایا گیا ہے جن پر ان کی کامیابی کا مدار ہے۔فرمایا :

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ O  الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلاَتِھِمْ خٰشِعُوْنَ O وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ O وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَ O وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ   …… وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ O وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوٰتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ O (المومنون۲۳:۱تا۵،اور۸تا۹) یقینا فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو: اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں، لغویات سے دُور رہتے ہیں ، زکوٰۃ کے طریقے پرعامل ہوتے ہیں ، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں… اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں،اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔

ان آیتوں میں اہل ایمان کی کامیابی جن اوصاف کا نتیجہ بتائی گئی ہے ان میں وقار و تمکنت (لغویات سے اعراض )،فیاضی (زکوۃٰ)،پاک دامنی اور ایفاے عہد کو خاص رُتبہ دیا گیا ہے ۔

اخلاق حسنہ اور تقویٰ

                اسلام کی اصطلاح میں انسان کی اسی قلبی کیفیت کا نام جو ہر قسم کی نیکیوں کی محرک ہے تقویٰ ہے ۔وحی محمدیؐ نے تصریح کردی ہے کہ تقویٰ والے لوگ وہی ہیں جن کے یہ اوصاف ہیں:

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَ لٰکِنَّ الْبِرَّمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ  وَ الْکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ ج وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ ط  وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ ج      وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ج  وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ج  وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ ط اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا ط وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ O (البقرہ ۲:۱۷۷) نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف ، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یومِ آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا  دل پسندمال رشتے داروں اور یتیموں پر ، مسکینوں اور مسافروں پر ، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے ، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں ، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔

اس سے ظاہر ہوا کہ راست بازی اور تقویٰ کا پہلا نتیجہ جس طرح ایمان ہے اسی طرح ان کا دوسرا لازمی نتیجہ اخلاق کے بہترین اوصاف فیاضی ،ایفاے عہد اور صبر و ثبات وغیرہ بھی ہیں۔

اللہ تعالٰی کا نیک بندہ ہونے کا شرف

                محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم میں اللہ تعالیٰ کے نیک اور مقبول بندے وہی قراردیے گئے جن کے اخلاق بھی اچھے ہوں اور وہی باتیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کے مقبول ہونے کی نشانی ہیں:

وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَھُمُ الْجٰہِلُوْنَ   قَالُوْا سَلٰمًا O  وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا O وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَھَنَّمَ ق اِنَّ عَذَابَھَا کَانَ غَرَامًا O  اِنَّھَا سَآئَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا O وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ        قَوَامًا O  وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ ج وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا O (الفرقان ۲۵: ۶۳-۶۸) رحمٰن کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل اُن کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام جو اپنے ربّ کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں جو دعائیں کرتے ہیں کہ ’’اے ہمارے ربّ ، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے ، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے، وہ تو بڑا ہی بُرا مستقر اور مقام ہے‘‘۔ جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل ، بلکہ اُن کا خرچ دونوں انتہائوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے ۔جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے ، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں___ یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا ۔

وَالَّذِیْنَ لاَ یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ لا وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا O وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْھَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا O وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا O (الفرقان۲۵: ۷۲ تا ۷۴) (اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں) جو جھُوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں ۔ جنھیں اگر ان کے ربّ کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے ۔جو دُعائیں مانگا کرتے ہیں کہ ’’اے ہمارے ربّ ، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا‘‘۔

دیکھو ایک ایمان کی حقیقت میں عفو ودرگزر، میانہ روی اور قتل و خوںریزی اور بدکاری نہ کرنا اور مکرو زور میں شریک نہ ہونا وغیرہ اخلاق کے کتنے مظاہر پوشیدہ ہیں۔

اہل ایمان کے اخلاقی اوصاف

وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے پیارے اور مقبول بندے ہیں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے اخلاقی اوصاف یہ بیان ہوئے ہیں:

وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ O وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا ھُمْ یَغْفِرُوْنَ O  وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّھِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ص وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ ص وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ O وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَھُمُ الْبَغْیُ ھُمْ یَنْتَصِرُوْنَ O وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُھَا ج  فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہُ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّہٗ لاَ یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ O وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَا عَلَیْھِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ O اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَیَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ط  اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ O وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ O (الشوریٰ ۴۲: ۳۶ تا ۴۳) وہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیںاور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔جو بڑے بڑے گناہوں اوربے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصہ آ جائے تو در گزر کر جاتے ہیں،جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں ،نماز قائم کرتے ہیں ، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ، ہم نے جو کچھ بھی رزق انھیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں،اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں___بُرائی کا بدلہ ویسی ہی بُرائی ہے ، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے ، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جا سکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور در گزر کرے، تو یہ بڑی اُولوا العزمی کے کاموں میں سے ہے۔

اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ O الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَ الضَّرَّآئِ وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ط وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ O(اٰل عمرٰن ۳: ۱۳۳-۱۳۴) اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، خواہ بدحال ہوں یا خوش حال ، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔

اُولٰٓئِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَئُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ O وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَ قَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلٰمٌ ز عَلَیْکُمْ ز لَا نَبْتَغِی الْجٰھِلِیْنَO  (القصص ۲۸: ۵۴-۵۵) یہ وہ لوگ ہیں  جنھیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا اُس ثابت قدمی کے بدلے جو انھوں نے دکھائی۔ وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جب انھوں نے بے ہودہ بات سنی تو    یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہو گئے کہ ’’ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمھارے اعمال تمھارے لیے ، تم کو سلام ہے ، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔

وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ  مِسْکِیْنًا  وَّیَتِیـْمًا  وَّاَسِیْرًا  (الدھر۷۶:۸)  اور   اللہ کی محبّت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ا یمان اورا خلاقِ حسنہ کے بارے میں ارشاد ربانی ہے: وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ O (القلم ۶۸:۴) ’’اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو ‘‘۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: اُیُّ الْاِیْمَا نِ اَفْضَلُ ’سب سے افضل ‘سب سے اعلیٰ اور سب سے عمدہ ایمان کون سا ہے؟‘‘۔ جواب میں ارشاد فرمایا: خُلُقٌ حَسَنٌ’’یعنی وہ ایمان  جس کے ساتھ اخلاق حسنہ موجود ہوں‘‘۔

ارشاداتِ نبویؐ کی روشنی میں

اَکْمَلُ   الْمُؤْمِنِیْنَ   اِیْمَاناً   اَحْسَنُھُمْ  خُلُقًا  (ابوداؤد ) اہلِ ایمان میں زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں ، جو اخلاق میں زیادہ اچھے ہیں۔

اِ نَّمَا بُـعِـثْتُ   لِاُتَمِّمَ   مَکَارِ مَ  الْاَخْلاَقِ (الادب المفرد للبخاری و مسند احمد) میں اخلاق کریمہ کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔

 اِنَّ   اَثْقَلَ شَیءٍ یُوْضَعُ  فِیْ  مِیْزَانِ  الْمُؤْمِنِ  یَوْمَ  الْقِیَامَۃِ خُلُقٌ  حَسَنٌ (ابوداؤد،  الترمذی)قیامت کے دن ، مومن کی میزانِ عمل میں ، جو سب سے وزنی اور بھاری چیز رکھی جائے گی، وہ اُس کے اچھے اخلاق ہوں گے۔

اَ لْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ(رواہ احمد ابو داؤد )نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے۔

اِنَّ مِنْ اَحَبِّکُمْ اِلَیَّ  وَ اَ قْرَبِکُمْ مِنِّیْ مَجْلِسًا  یَوْ مَ الْقِیٰمَۃِ أَ حْسَنُکُمْ أَ خْلَا قًا (بخاری) بے شک مجھے تم میں سے سب سے محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو تم میں اچھے اخلاق والے ہیں ۔

وَ عَنْ رُجُلٍ مِنْ مُزَ یْنَۃَ قَا لَ : قَا لُوْ ا : یَا رَ سُوْ  لَ اللّٰہِ  مَا خَیْرُ مَا اُعْطِیَ الْاِنْسَانُ؟  قَا لَ : اَلْخُلُقُ الْحَسَنُ (بیہقی فی شعیب الایمان) مزینہ قبیلہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا :اے اللہ تعالیٰ کے رسول،انسان کو جو کچھ عطا ہو ا ہے اس میں سب سے بہتر کیا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا:حُسن اخلاق۔

اِنَّ   الْمُؤْمِنَ   لَیُدْرِکُ   بِحُسْنِ  خُلُقِہٖ   دَرَجَۃَ  قَائِمِ   اللَّیْلِ   وَصَائِمِ   النَّھَارِ    (ابوداؤد، عن عائشۃؓ ) حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : مومن، اپنے اچھے اخلاق سے ان لوگوں کا درجہ حاصل کر لیتا ہے ، جو رات بھر نفلی نمازیں پڑھتے ہوں اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھتے ہوں۔

ایمان اور اخلاق حسنہ لازم و ملزوم

  •  ارشاد نبوی ؐ:  لَیْسَ الْمُؤْ مِنُ  بِا لطَّعَّانِ  وَ  لَا  اللَّعَّا نِ وَلَا الْفَا حِشِ  وَلَا الْبَذِیْءِ (سنن ترمذی) ’’مومن کبھی طعنے دینے والا ،لعنت ملامت کرنے والا،فحش گوئی کرنے والا اور بداخلاق نہیں ہوسکتا ‘‘۔
  •   نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وَ اللّٰہِ  لاَ  یُؤْ مِنُ  ،   وَ اللّٰہِ  لاَ  یُؤْ مِنُ  ، وَ اللّٰہِ  لاَ  یُؤْ مِنُ   قِیْلَ وَ مَنْ یَا رَسُوْ لَ اللّٰہَ ’’خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں ہے ،خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں ہے ،خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں ہے ۔پوچھا گیا :اے اللہ تعالیٰ کے رسولؐ کون ؟‘‘۔

                                جواب میں ارشاد فرمایا : اَ لَّذِ یْ لاَ  یَأْ مَنُ جَا رُ ہُ  بِوَا یِقَہُ، وہ شخص جس کی ایذارسانی سے اس کا پڑوسی چین یا امن میں نہیں۔

  •   نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: لَا  اِ یْمَانَ لِمَنْ لَّا  اَمَا نَۃَ لَہُ ، وَ لَا دِ یْنَ  لِمَنْ لَّا عَھْدَ لَہُ (مشکوٰۃ ) جس کے اندر امانت نہیں، اس کے اندر ایمان نہیں اور جسے عہد کا پاس نہیں، اس کے پاس دین نہیں ہے۔

 اخلاق حسنہ کے لیے جذبۂ محرکہ 

ایمان باللہ ، ایمان بالآخرۃ، اللہ تعالیٰ کی محبت ،اللہ تعالیٰ کی رضا جو ئی ،اللہ تعالیٰ کا خوف، تقویٰ،یہ احساس کہ اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض نہ ہو جائے ،اخلاقِ حسنہ کے لیے جذبۂ محرکہ ہیں۔  اسی طرح یہ فکرہے کہ آخرت کا خوف،آخرت کی جواب دہی کا احساس کہ ہر سانس کے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے ۔اس کے لیے شعور کو تازہ رکھنا اور ہر قدم پر اپنا محاسبہ کرنا کے کہیں مجھ سے کوئی غلط فعل سرزد نہ ہو جائےناگزیرہے۔    

ایک دنیا یہ ہے جس میں ہم اور آپ رہتے بستے ہیں اور جس میں ہماری زندگیوں کا ایک حصہ گزر چکا ہے اور کچھ باقی ہے۔ اس دنیا کی چیزوں کو ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ یہاں کی آوازوں کو کانوں سے سنتے ہیں۔ یہاں کی خوشبو بدبو کو ہم سونگھ کر جان لیتے ہیں۔ اسی طرح یہاں کی سردی گرمی محسوس کرتے ہیں۔ سختی نرمی کو چھوکر اور اچھے بُرے مزے کو چکھ کر دریافت کرلیتے ہیں۔ الغرض ہماری یہ دنیا ایسی دنیا ہے کہ اس کو ہم خود اپنے خداداد علم سے جانتے ہیں اور کوئی ہمیں بتائے یا نہ بتائے، ہم اس کے وجود پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی طرح ہم خود اپنے علم سے اور اپنے مشاہدے اور تجربے سے یہ بھی جانتے ہیں کہ اس دنیا میں آرام اور راحت بھی ہے اور تکلیف اور مصیبت بھی___ یہاں کی بھوک پیاس، بیماری، زیادہ سردی اور زیادہ گرمی یہاں پر تکلیف کی چیزیں ہیں۔ اسی طرح تندرستی، خوش حالی، کھانے پینے کی اچھی چیزیں، اچھا موسم، اچھی ہوا، اچھا مکان، اچھی فضا یہ یہاں کی آرام اور راحت کی چیزیں ہیں۔

پھر یہ بھی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر جانتے ہیں کہ یہاں کی ہماری زندگی ایک محدود مدت کے لیے ہے اور یہاں کی ہرتکلیف و مصیبت اور ہر عیش و راحت بھی محدود الوقت اور چند روزہ ہے۔ کتنے افراد پیدا ہونے والے جوانی سے بھی پہلے بچپنے ہی میں چل دیتے ہیں اور کتنے ایسے ہیں، کہ  جوانی میں چلے جاتے ہیں۔ پھر جن کو جوانی کی بہار دیکھنے کا موقع ملتا ہے، آخرکار بڑھاپے میں وہ بھی چلے ہی جاتے ہیں۔ آج کل ۸۰، ۹۰ سال کی عمر بھی کسی کو کم ہی ملتی ہے۔ بہرحال، ہم اپنے تجربے اور مشاہدے سے جس طرح اس دنیا کو جانتے ہیں، اسی طرح یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کی ہرتکلیف و راحت بس چند روزہ ہے۔

  •  آخرت کی دنیا: ہم اور آپ بہ حیثیت مسلمان اس دنیا کے علاوہ ایک اور دنیا کو بھی مانتے ہیں، کہ وہ مرنے کے بعد والی اور آخرت کی دنیا ہے۔ وہ دنیا کہ جس کو ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اور نہ کسی اور طریقے سے ہم نے اُس کو اپنے علم سے جانا ہے، بلکہ اُس کی خبر اللہ کے پیغمبروں ؑ نے دی ہے جن کی سچائی پر ہمیں پورا یقین ہے۔ ہماری اس دنیا میں بھی، جس میں ہم رہ بس رہے ہیں، ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن کو ہم نے خود اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہے، بلکہ دوسرے لوگوں سے سن سن کر ہی ہم اُن پر یقین لے آئے ہیں۔

اسی طرح سمجھنا چاہیے کہ آخرت میں اور وہاں کی تکلیفوں اور راحتوں کو اگرچہ ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہے، لیکن اللہ کے پیغمبروں ؑ ، خاص کر آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلانے سے اور اللہ کی کتاب قرآنِ مجید کے بیان سے ہم نے اس کو جانا اور مانا ہے___ یہ ایک مسلّم حقیقت ہے کہ اپنے اپنے وقت میں اللہ کے سب پیغمبروںؑ نے یہی بتایا کہ: موت سے انسان کا بالکل خاتمہ نہیں ہو جاتا، بلکہ انسان دوسرے عالم کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور اس کی روح جو انسان کی اصل حقیقت ہے وہ دوسری دنیا میں چلی جاتی ہے۔ اس لیے ’موت‘ کو ’انتقال‘ بھی کہتے ہیں۔

اس کی ایک مثال ہم سب پر گزر بھی چکی ہے، جس کی وجہ سے اس کا سمجھنا زیادہ مشکل  نہیں ہے۔ ہم میں سے ہر ایک اس دنیا میں آنے سے پہلے چند مہینے اپنی ماں کے پیٹ میں رہا ہے۔ ذرا سوچیے اگر کوئی ایسا آلہ ایجاد ہوجائے جس کے ذریعے پیٹ کے بچے تک بات پہنچائی جاسکے اور اس سے کہا جائے کہ اے بچے! اس وقت تو جس دنیا میں ہے، یہ اصل دنیا نہیں ہے، اصل دنیا میں تُو چند دنوں کے بعد پہنچے گا اور وہ لاکھوں کروڑوں کلومیٹر کی لمبی چوڑی دنیا ہے۔ اس میں دریا ہیں، پہاڑ ہیں، جنگل ہیں، اور اربوں انسان بس رہے ہیں، ریلیں چل رہی ہیں، موٹریں دوڑ رہی ہیں، ہوائی جہاز اُڑ رہے ہیں ، حکومتیں قائم ہیں، جنگیں ہوتی ہیں، توپیں چلتی ہیں، الغرض اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اگر ماں کے پیٹ کے بچے سے اس کا ذکر کیا جائے اور اس کو بتایا جائے کہ چنددن کے بعد تو بھی اس دنیا میں پہنچ جائے گا تو ظاہر ہے کہ وہ بچہ جو ابھی اپنی ماں کے پیٹ کی ایک بالشت کی دنیا میں ہے اور اس سے باہر کی کسی بات کو جانتا ہی نہیں، وہ اگر ان باتوں کو کسی طرح سمجھ بھی لے تو بھی آسانی سے یقین نہ کر سکے گا، لیکن پیدا ہونے کے بعد جب وہ اس دنیا میں آئے گا اور کچھ دیکھنے سمجھنے کے لائق ہو جائے گا تو ان سب چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ بالکل یہی مثال ہماری اس زندگی کی اور عالم آخرت کی ہے۔

ہم اس دنیا میں ہیں تو اس دنیا سے آگے کی کسی بات کو خود نہیں جان سکتے۔ اور اپنی ان آنکھوں سے آگے کی کوئی منزل نہیں دیکھ سکتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے انبیاے علیہم السلام کو عالمِ آخرت کا علم دیا ہے۔ انھوں نے ہمیں بتایا اور سب سے زیادہ وضاحت اورتفصیل سے خدا کے آخری نبی ورسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ مرنے کے بعد تم ایک دوسرے عالم اور دوسرے جہان میں پہنچ جائو گے جس کی پہلی منزل عالم برزخ ہے ( یعنی موت سے لے کر قیامت تک جہاں اور جس حال میں رہنا ہو گا)۔ دوسری منزل حشر اور حساب کی منزل ہے، جہاں ہر شخص کے اعمال کی جانچ اور ان کا فیصلہ ہوگا، اور اس سے آگے آخری منزل دوزخ یا جنت کا دائمی ٹھکانا ہے۔پھر  دوزخ میں جو طرح طرح کے درد ناک عذاب ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی شان قہاری کے جو نہایت ہیبت ناک منظر سامنے آئیں گے ان کو بھی آپؐ نے تفصیل سے بتلایا، اور جنت میں عیش وراحت اور لذت و مسرت کے جو بے انتہا سامان ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی شانِ رحمت وکرم کے جو نئے نئے تجربے اور مشاہدے ہوں گے ان کی بھی آپؐ نے پوری تفصیل بیان فرمائی۔

میں مانتا ہوں کہ اس زندگی میں ان باتوں میں سے کسی ایک کو بھی ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے اور نہیں دیکھ سکتے، لیکن ہمارا یہ نہ دیکھنا بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ماں کے پیٹ کی منزل میں کسی بچے کا اس دنیا کو نہ دیکھ سکنا ، اور جس طرح ہر بچہ یہاں آ جانے کے بعد وہ سب کچھ دیکھ لیتا ہے جو آنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتا تھا، اسی طرح ہمیں یقین ہے اور ہم اس پر قسم کھا سکتے ہیں کہ اس دنیا سے جانے کے بعد ہم میں سے ہر ایک وہ سب کچھ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لے گا جس کی اطلاع اللہ کے سارے سچے نبیوں اور رسولوں نے دی ہے اور سب سے آخر میں اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ تفصیل اور وضاحت سے دی ہے۔

بہر حال، ہمیں کہنا یہ ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے ، ہم اور آپ جو اپنے کو مسلمان کہتے اور کہلاتے ہیں ، آخرت والی دنیا کو مان چکے ہیں اور اس پرایمان لا چکے ہیں___ بلکہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کی آخری کتاب قرآن مجید نے آخرت اور دوزخ وجنت کی جو تفصیلات بیان فرمائی ہیں ہم اور آپ ان تفصیلات پر بھی ایمان لائے ہیں۔

 مثلاً ہمارا ایمان ہے کہ جس طرح ہماری اس زندگی میں بھوک اور پیاس کی تکلیف ہوتی ہے، اسی طرح دوزخ میں بھی دوزخیوں کو بھوک اور پیاس کی تکلیف ہو گی جو یہاں کی اس تکلیف سے ہزاروں گنا زیادہ ہو گی___ پھر اگر یہاں کسی کو بھوک لگے اور اسے کہیں سے کھانے کی کوئی چیز نہ ملے تو بس یہی تو ہو گا کہ دوچار ہفتے تڑپ تڑپ کے ایڑیا ں رگڑ رگڑ کے جان دے دے گا اور اس طرح موت کے ساتھ اس کی بھوک کی تکلیف کا بھی خاتمہ ہو جائے گا، لیکن دوزخ میں دوزخی ہزاروں لاکھوں سال بھوک پیاس کی شدید تکلیف میں تڑپے گا اور اس سے چھٹکارا پانے کے لیے اسے موت بھی نہ آئے گی، قرآن مجید کا بیان ہے: لَا یُقْضٰی عَلَیْھِمْ فَیَمُوْتُوْا(الفاطر ۳۵:۳۶)‘‘۔

  •  آخرت کا عذاب:آخرت کے عذاب کے متعلق قرآن مجید نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تفصیلات بیان فرمائی ہیں، ان میں سے بس دو باتیں اور سن لیجیے ۔ ان سے اندازہ ہوجائے گا کہ دنیا کی بڑی سے بڑی تکلیف کو بھی آخرت کی تکلیفوں سے کیا نسبت ہے :

خیال کیجیے ! اس دنیا میں اگر کسی زندہ آدمی کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا جائے تو بس چند منٹ میں جل بھن کر اور تڑپ تڑپ کر جان دے دے گا۔ اور چند منٹ کی یہ تکلیف بھی ایسی ہو گی کہ جس بے چارے پر گزرے گی اس کا تو کیا ذکر، دیکھنے والوں کے بھی ہوش خراب ہو جائیں گے اور کتنوں پر اختلاج قلب کے دورے پڑ جائیں گے ۔ لیکن قرآن مجید میں دوزخیوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے اور ان کے جسم کی کھالیں پک پک جائیں گی اور پھر ان کی جگہ نئی کھال آ جائے گی اور پھر اسی طرح وہ جھونکے جائیں گے ، الغرض ان کو یہ عذاب مسلسل دیا جاتا رہے گا ___ قرآن مجید کے الفاظ ہیں : کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًاغَیْرَھَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ط(النساء ۴:۵۶) ’’اور جب اُن کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کریں گے، تاکہ وہ خوب عذاب کا مزا چکھیں‘‘۔

اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بھی سن لیجیے:

آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ دوزخ میں جس شخص کو سب سے ہلکے درجے کا عذاب ہوگا، اس کا حال یہ ہو گا کہ اس کے پائوں کے تلوے کے نیچے دوزخ کی آگ کی ایک چنگاری رکھ دی جائے گی جس سے اس کا بھیجا سر میں اس طرح پکے گا جس طرح چولھے پر ہانڈی پکتی ہے اور اس کا اپنا اندازہ اور احساس یہ ہو گا کہ سب سے زیادہ عذاب میں آج میں ہی ہوں‘‘۔

ہم آپ سب اس پر ایمان لائے ہیں کہ آخرت اور دوزخ کے بارے میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات اور قرآن مجید کے یہ بیانات بالکل صحیح ہیں، یقینی ہیں، ان میں کسی شک وشبہے کی گنجایش نہیں ہے۔

  •  جنّت اور اس کی نعمتیں:اب اسی طرح جنت اور اس کی نعمتوں کے متعلق بھی  اللہ اور اللہ کے رسول ؐ کے چند ارشادات اس وقت ذہن میں تازہ کر لیجیے!

یوں تو جنت اور اہل جنت کے متعلق قرآن مجید میں بہت کچھ بیان فرمایا گیا ہے۔ لیکن ایک بات کئی جگہ قرآن مجید میں ایسی کہی گئی ہے کہ جنت کے متعلق کچھ اندازہ کرنے کے لیے بس وہی کافی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ انسان کے دل اور اس کی طبیعت میں جو بھی خواہشیں اور جو بھی اُمنگیں اور آرزوئیں ہیں اور ہو سکتی ہیں جنت میں ان سب کے پورا ہونے کا پورا سامان ہے اور وہ سب پوری کی جائیں گی۔ ارشاد ہے: وَلَکُمْ فِیْھَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْھَا مَا تَدَّعُوْنَ o (حم السجدہ ۴۱:۳۱) ’’وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمھیں ملے گا اور ہرچیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمھاری ہوگی‘‘۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: لَھُمْ فِیْھَا مَا یَشَآئُ وْنَ ط (النحل ۱۶:۳۱)، اور ایک تیسری جگہ فرمایا گیا ہے: فِیْھَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُ ج (الزخرف ۴۳:۷۱) (یعنی جنت میں تمھارے لیے وہ سب کچھ ہے جس کو تمھارے جی چاہتے ہیں اور تمھاری آنکھوں کو جس کے دیکھنے سے لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے)۔

سوچیے اس کے بعد باقی کیا رہا ؟ ہمارا جی عیش وراحت والی اور لذت ومسرت والی ایسی زندگی کو چاہتا ہے جو کبھی ختم نہ ہو، جنت میں وہ موجود ہے۔ ہمارا جی اچھے مکانات کو چاہتا ہے    جن سے نکلنے کا کبھی اندیشہ نہ ہو، جنت میں وہ بھی موجود ہیں۔ ہمارا جی اچھے کھانوں اور اچھے لذیذ میووں اور پینے والی اچھی خوش ذائقہ خوش رنگ چیزوں کو چاہتا ہے، جنت میں وہ بھی موجود ہیں بلکہ ان کی نہریں بہہ رہی ہیں ۔ ہمارا جی اچھی حسین اور سلیقہ شعار اور خدا کو یاد کرنے والی بیویوں کو چاہتا ہے، جنت میں وہ بھی موجود ہیں۔

یہ تو عام انسانوں کی خواہش کی چند چیزوں کا ذکر ہے اور جنت میں بلاشبہہ یہ سب چیزیں بھر پور موجود ہیں ۔ لیکن اس سے آگے اللہ تعالیٰ کی رضا، اللہ تعالیٰ کی وہ معرفت جس کا اس دنیا میں امکان نہیں، اور پھر سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس کا دیدار___ یہ جنت کی وہ نعمتیں اور لذّتیں ہیں جن کی چاہت سے اللہ کے خاص بندوں کے سینے بھرے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ یقینا اپنے ان چاہنے والوں کی اس چاہت کو بھی وہاں پورا کرے گا۔

اس کے بعد اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بھی سن لیجیے۔ ارشاد فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک اور فرماںبردار بندوں کے لیے جنت میں جو نعمتیں اور  لذت وراحت کے جو سامان تیار کیے ہیں وہ ایسے اچھوتے اور البیلے ہیں کہ کسی آنکھ والے کی آنکھ نے ان کی جھلک تک نہیں دیکھی، اور کسی کے کان میں ان کی بھنک تک نہیں پڑی، اور کسی کے دل میں ان کا خیال اور خطرہ بھی نہیں گزرا ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں : مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ (بخاری، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ، حدیث: ۳۰۸۸)

ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سلسلے میں اور سن لیجیے ، جس میں آپ ؐ نے جنت کے عیش اور دوزخ کے عذاب کی شدت کو ایک خاص عنوان سے سمجھانا چاہا۔

آپ ؐ نے فرمایا: آخرت میں اللہ تعالیٰ ایک ایسے شخص کو طلب فرمائے گا، جس نے دنیا میں خدا سے بے تعلق اور بے خوف ہو کر اور اس کے احکام سے بے پروا ہو کر کفر اور شرارت کی زندگی گزاری ہو گی اور دنیا میں ایسے عیش وآرام سے رہا ہوگا کہ کبھی کسی تکلیف کا اس نے منہ بھی نہ دیکھا ہو گا۔ پھر فرشتوں کو حکم ہو گا کہ اس کو دوزخ کی ہوا کھلا لائو ۔ فرشتے حکم کی تعمیل کریں گے اور اس کو دوزخ کی ذرا آنچ دکھا کر نکال لائیں گے۔ اسی سے اس کا یہ حال ہو جائے گا کہ سر سے پائوں تک بس تکلیف اور بے چینی ہو گی، چیخے گا اور تڑپے گا۔ پوچھا جائے گا کیا حال ہے ؟ بے چارہ اپنی تکلیف اور اپنے دکھ کا حال بیان کرے گا۔ پھر پوچھا جائے گا کچھ یاد ہے کہ اس سے پہلی زندگی میں، یعنی دنیا میں تُو کیسے عیش وآرام سے رہا تھا۔ وہ بندہ غالباً قسم کھا کر کہے گا کہ خدا وند ا میں نے عیش وآرام کی کبھی صورت بھی نہیں دیکھی ، میں تو بس اس تکلیف ہی کو جانتا ہوں جس میں اس وقت مبتلا ہوں۔ گویا دوزخ کی آگ کی صرف ہوا لگ جانے سے آدمی اس دنیا کی پوری زندگی کے عیش وراحت کو بالکل بھول جائے گا ___ !

حضوؐر فرماتے ہیں کہ پھر ایک ایسے نیک بندے کو بلایا جائے گا جو دنیا کی زندگی میں ہمیشہ تکلیف اور پریشانی ہی میں رہا تھا اور فرشتوں کو حکم ہو گا کہ جائو ہمارے اس بندے کو ذرا جنت کی ہوا کھلا لائو۔ فرشتے اس حکم کی بھی تعمیل کریں گے اور اس کو جنت کی فضا میں سے گزار کر لے آئیں گے۔ بس جنت کی ہوا لگنے اور اس کی فضا میں سے صرف گزر جانے سے اس بندے کو ایسا چین وسکون اور ایسا عیش و سُرور حاصل ہو گا کہ پہلی زندگی کی ساری عمر کی تکلیف بھول جائے گا، اور جب اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ بندے کچھ یاد ہے کہ پہلی زندگی کیسی تکلیف سے گزری تھی، تو وہ عرض کرے گا کہ میرے پیارے پروردگار! مجھے تو کسی تکلیف کی صورت دیکھنا بھی یاد نہیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پورے بیان کا حاصل یہی ہے کہ آخرت کی تکلیفیں اور وہاں کا عذاب اتنا سخت ہے کہ اس کا ایک لمحہ اس دنیا کے عمر بھر کے عیش کو بھلا دے گا ۔ اور اسی طرح وہاں کا عیش وآرام اور وہاں کی لذتیں ایسی ہیں کہ انھیں صرف دیکھ کر بندہ ساری عمر کی تکلیفیں بھول جائے گا۔

دوزخ اور جنت کے متعلق قرآن وحدیث کے ان بیانات پر الحمدللہ ہمارا ایمان ہے اور ہم آپ سب اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ سب حق ہے اور اس دنیا سے جانے کے بعد ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ ہمیں اس میں ذرہ برابر بھی شک وشبہہ نہیں ہے۔

  •  دنیا اور آخرت کے علم و یقین کا اثر:اب خدارا اپنی اور اپنے سب مسلمان بھائیوں کی اس حالت پر غور کرو کہ دنیا کی جن حقیقتوں کا اور یہاں کی جن تکلیفوں اور آراموں کا اور جن نفعوں اور نقصانوں کا ہمیں اپنے مشاہدے اور تجربے سے علم ہوا ہے، ا ن کا ہماری زندگی پر کتنا اثر ہے۔ مثلاً ہمیں یقین ہے کہ آگ جلا دیتی ہے تو اس علم کا ہم پر یہ اثر ہے کہ ہم بھول کے بھی آگ سے نہیں کھیلتے، بلکہ جب کہیں آگ کے پاس سے بھی گزرتے ہیں تو اپنے جسم کو اور کپڑوں کو پوری طرح بچاتے ہوئے گزرتے ہیں ۔ اسی طرح ہم نے معتبر آدمیوں سے سن رکھا ہے کہ زہر آدمی کو ہلاک کر ڈالتا ہے اور سانپ کے کاٹنے سے آدمی مرجاتا ہے، تو کبھی ہم آزمایش کے خیال سے بھی زہر پی کر دیکھنے کی یا سانپ کو ہاتھوں میں لے لینے کی جرأت نہیں کرتے ۔

اسی طرح ہم میں سے جو غریب یہ جانتے ہیں کہ وہ اگر آج مزدوری نہیں کریں گے تو  کل ان کے بچوں کو فاقہ ہو جائے گا۔ وہ گھر میں نہیں بیٹھے رہتے بلکہ دسمبر جنوری کی سخت کڑاکے کی سردی میں بھی اور جون کی جُھلسا دینے والی لُو میں بھی وہ بے چارے باہر نکل کر مزدوری کرتے ہیں۔ اسی طرح ملازم پیشہ حضرات چونکہ جانتے ہیں کہ اگرہم بر وقت ڈیوٹی پر نہ پہنچیں گے تو    ہم سے باز پُرس ہو گی اور ہماری  ملازمت خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس لیے خواہ جی چاہے یا نہ چاہے بے چارے ڈیوٹی پر جانے اور وہاں کی مقررہ خدمت انجام دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ صرف اس لیے کہ اس دنیا کے نفع نقصان اور یہاں کے اپنے معاملات کے نتائج کا جو علم ویقین ہمیں اپنے ذریعوں سے حاصل ہوا ہے وہ ہم سے یہ سب کچھ کرا لیتا ہے۔

اب دیکھیے کہ آخرت کے نتائج کے بارے میں جو باتیں ہمیں اللہ کی مقدس کتاب اور  اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے معلوم ہوئی ہیں اور جن پر ہم ایمان لائے ہیں ان کے علم ویقین کا ہماری زندگی پر کتنا اثر ہے ؟___ میرے نزدیک یہ کوئی باریک علمی مسئلہ نہیں جس کا سمجھنا کسی کے لیے مشکل ہو۔ ہر شخص خود ہی سوچے کہ وہ دنیا کی آگ اور دنیا کے سانپوں بچھوئوں سے بچنے کی جتنی فکر کر تا ہے، کیا آخرت کی دوزخ والی آگ اور دوزخ کے سانپوں بچھوئوں سے بچنے کی وہ اتنی فکر کر رہا ہے، اور کیا یہاں کی بھوک پیاس سے اور یہاں کی تکلیفوں مصیبتوں سے بچنے کے لیے وہ جو محنت اور جیسی دوڑ دھوپ کرتا ہے کیا ویسی ہی وہ آخرت کی بھوک پیاس اور دوزخ کے عذاب سے بچنے کے لیے کر رہا ہے؟

اسی طرح ہر شخص سوچے کہ اس دنیا میں آرام اور عزت حاصل کرنے کے لیے اور ترقی کے بلند درجوں پر پہنچنے کے لیے وہ جیسی فکر اور جیسی جدوجہد کر رہا ہے، کیا جنت کا عیش اورآخرت میں سرفرازی اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے بھی وہ ویسی ہی فکر اور جدوجہد کر رہا ہے؟ ۔

یقینا آپ سب کا بھی یہی خیال ہو گا کہ ہم میں اکثر کا بلکہ قریب قریب سب کا حال اس کے خلاف ہے___آخر ایسا کیوں ہے ؟

اس وقت پیش نظر مقصد یہی ہے کہ آپ کو اس سوال کی طرف اور اس صورتِ حال کی طرف توجہ دلائوں۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔ یہ ہماری زندگی کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ یہ وہ صورتِ حال ہے جو قرآن مجید نے ایمان نہ لانے والوں کی اور اللہ ورسول ؐ کی باتوں کا یقین نہ کرنے والوں کی بتلائی ہے --- ایک جگہ ارشاد ہے: کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ o وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ o(القیامۃ ۷۵:۲۰-۲۱)’’اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو‘‘۔

دوسری جگہ فرمایا گیا ہے : اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ وَیَذَرُوْنَ وَرَآئَ ھُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا o (الدھر ۷۶:۲۷) ،یعنی ان کا حال یہ ہے کہ ان کو دنیا کی تو چاہت ہے اور آخرت کے مسئلے کو انھوں نے پسِ پشت ڈال رکھا ہے۔

میرا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ خدا نخواستہ ہم سب ایمان سے خالی اور خدا اور رسول ؐ کے منکر ہو چکے ہیں، بلکہ میں اپنے بشری علم کے مطابق الحمدللہ شہادت دے سکتا ہوں کہ ہم آپ جو یہاں ہزاروں کی تعداد میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اس طرح کے ہمارے وہ سب بھائی جو دنیا کے کسی علاقے میں بھی بس رہے ہیں، الحمدللہ! ہم سب کے دلوں میں ایمان موجود ہے اور ہم اللہ اور     اللہ کے رسول ؐ کی تمام باتوں اور ساری خبروں کو بالکل حق جانتے ہیں اور حق مانتے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ ہماری زندگی ایمان والی نہیں ہے ، یا دوسرے لفظوں میں اس کو آپ یوں کہہ لیجیے کہ ہماری زندگی ہمارے ایمان سے مطابقت نہیں رکھتی ___میں آپ کو بس اس سوال کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟

 زندگی میں تضاد کا سبب:اس کی اصل وجہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ ہمارا آخرت والا یقین جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعے ہمیں ملا تھا، وہ ہمارے دنیا والے اُن یقینوں کے مقابلے میں کمزور ہو گیا ہے جو ہمیں اپنے مشاہدے اور تجربے وغیرہ سے حاصل ہوتے ہیں اور   ان کے نیچے گویا دب کر بے اثر اور بے جان ہو گیا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا والا یقین ہم سے اپنے سارے تقاضے پورے کرا لیتا ہے لیکن آخرت والا یقین ہم سے اپنے تقاضے اور اپنے مطالبے پورے کرانے سے عاجز رہتا ہے۔ آپ اس کو واقعاتی مثالیں سامنے رکھ کر سوچیے۔

مثلاً ایک شخص ہے اس کو اللہ اوررسول ؐ کے احکام کے مطابق زکوٰۃ دینی چاہیے۔ اب اپنے ذاتی علم وتجربے سے اس کو ایک یقین تو یہ ہے کہ جتنی رقم میں زکوٰۃ کی دوں گا میری دولت میں اتنی کمی ہو جائے گی اور اس طرح میرا مالی نقصان ہوگا ، اور ایک دوسرا یقین یا عقیدہ اس کا یہ بھی ہے کہ زکوٰۃ فرض ہے۔ اس کا ادا نہ کرنا بہت بڑا جرم اور سخت ترین گناہ ہے جس کے نتیجے میں آدمی کو دوزخ کا نہایت درد ناک عذاب بھگتنا پڑے گا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر دوسرا یقین پہلے یقین کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہو اور اس سے دبا ہوا نہ ہو تو آدمی یقینا زکوٰۃ ادا کرے گا، لیکن اگر یہ دوسرا یقین کمزور ہو اور پہلا والا یقین زیادہ طاقت ور ہو تو پھر زکوٰۃ اس کی جیب سے نہیں نکلے گی۔

اسی طرح فرض کیجیے کہ ایک شخص حکومت کے کسی عہدے پر ہے۔ کسی معاملے میں اس کو ایک ہزار روپیہ کی رشوت پیش کی جاتی ہے۔ اب اپنے ذاتی مشاہدے اور تجربے سے اس کو ایک یقین تو یہ ہے کہ یہ رقم اگر میں لے لوں گا تو اس سے میری دولت میں اضافہ ہو گا، میرے بہت سے کام نکلیں گے، اور دوسری طرف وہ بہ حیثیت مسلمان اس بات پر بھی یقین اور عقیدہ رکھتا ہے کہ رشوت حرام ہے اور اس کے لینے والے پر خدا کی لعنت ہے، اور دوزخ میں اس کو اس کا سخت ترین عذاب بھگتنا ہو گا۔ اب اگر وہ دوسرے یقین کو نظر انداز کر کے رشوت لے لیتا ہے تو اس کا سبب صرف یہی ہوتا ہے کہ اس کا دوسرا یقین کمزور ہے اور پہلے یقین سے دبا ہوا ہے۔

الغرض ہماری زندگی میں جو یہ تضاد ہے کہ ہم عقیدہ کے لحاظ سے مسلمان ہیں اور ہماری غالب اکثریت کی عملی زندگی ایمان واسلام کے تقاضوں کے بالکل خلاف ہے، اس کی اصل وجہ اور علۃ العلل یہی ہے کہ ہمارا اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت کے بارے میں وہ یقین جو انبیاے علیہم السلام کے ذریعے ہمیں ملا تھا نہایت کمزور ہو گیا ہے، اور ہمارے دنیا والے وہ یقین جو ہمیں اور عام انسانوں کو اپنے مشاہدے اور تجربے وغیرہ سے حاصل ہوتے ہیں اس پر پوری طرح غالب آ گئے ہیں۔

صحابہ کرامؓ کے حالات آپ نے سنے ہوں گے اور آپ میں سے بہت سے حضرات نے کتابوں میں بھی پڑھے ہوں گے۔ ان کی زندگی کا نقشہ ہمیں بالکل دوسرا نظر آتا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ان کا آخرت والا یقین اتنا جان دار اور طاقت ور تھا کہ ان کے مشاہدے اور تجربے والے اس دنیا کے یقینوں پر غالب تھا۔ ایک تابعی بزرگ غالباً سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرامؓ کو دیکھا ہے، ان کا امتیاز   یہ نہیں تھا کہ وہ نماز روزہ جیسی عبادات میں تم سے بہت بڑھے ہوئے تھے۔ آگے ان کے الفاظ: وَلٰکِنَّہ شَیءٌ وقرنی قُلُوْبھم، یعنی ان کا اصل امتیاز بس یہ تھا کہ ان کے دلوں میں اللہ اور آخرت کا یقین ایسا جما تھا کہ ان کی پوری زندگی اور ان کا تمام ظاہر وباطن اس کے نیچے دبا ہوا تھا۔ ہمارے لیے جس طرح یہ مشکل ہے کہ ہم اپنے مشاہدے اور تجربے والے یقینوں اور ان کے تقاضوں سے بے فکر اور بے پروا ہو کر زندگی گزاریں، اسی طرح ان کے لیے یہ مشکل بلکہ نا ممکن ہو گیا تھا کہ اللہ اور یومِ آخرت والے یقین اور اس کے مطالبات سے آزاد ہوکر کوئی قدم اٹھا سکیں۔

اب ہمارے اور آپ کے سامنے دو راہیں ہیں:

ایک یہ کہ دین اور ایمان کے لحاظ سے اس وقت جو ہماری حالت ہے ہم خدا نخواستہ اس پر مطمئن ہوں اور اس میں تبدیلی کے لیے ہم میں کوئی بے چینی نہ ہو، اور دن اسی طرح گزرتے رہیں اور ہم اسی حال میں جیتے اور مرتے رہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جب تک ہمارے دلوں میں ایمان کا کوئی ذرہ ہے ہم اس راستے کو شعوری طور پر ہرگز نہیں اپنا سکتے، اور میں کہہ سکتا ہوں کہ شاید آپ میںسے کوئی ایک بندہ بھی جان بوجھ کر اس کو پسند نہیں کرے گا۔

دوسری راہ یہ ہے کہ جس طرح ہم دنیوی زندگی کے بگاڑ سے اور یہاں کی بیماریوں، بربادیوں سے فکر مند ہوتے ہیں اور ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ،اسی طرح ہم اپنے اس دینی بگاڑ اور اُخروی تباہی وبربادی سے فکر مند ہوں اور اپنی حالت کو درست کرنے کی اور اپنی زندگیوں کو ایمان والی زندگی بنانے کی جدوجہد کریں۔ ظاہر ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا فیصلہ یہی ہو گا۔

اصلاحِ احوال کی صورت

اب سوال یہ ہے کہ یہ کام کس طرح ہو ؟

یہ تو عرض کیا جا چکا ہے کہ ہمارے اس سارے بگاڑ کی جڑ بنیاد یہ ہے کہ ہمارا ایمان والا یقین کمزور ہو گیا ہے اور دنیا والے ہمارے یقین اس پر غالب آ گئے ہیں۔ اس لیے اب ہمیں صرف اس کی جدوجہد کرنی ہے کہ ہمارے یقین کا کانٹا درست ہو جائے، یعنی اس دنیا میں جو کچھ ہم اپنے مشاہدے اور تجربے سے جانتے ہیں ہمیں اس پر بھی یقین ہو، لیکن اس سے بھی زیادہ گہرا اور پکا یقین ان باتوں پر ہو جو اللہ اوررسول ؐ کے بتلانے سے ہمیں معلوم ہو ئی ہیں۔ بس یہ ہی ہمارا اصل مسئلہ ہے!

اس کے بعد صاف عرض ہے کہ اگر ہماری تقریروں سے ہی یہ بات حاصل ہو سکتی تو مسئلہ بڑا ا ٓسان تھا۔ آپ کو کچھ بھی کرنا نہ پڑتا ۔ ساری محنت ہم کرتے یا تقریر کرنے والے دوسرے حضرات کے پائوں پکڑتے اور ان سے کہتے کہ اُمت میں ایمان والا یقین پھر سے پیدا کرنے کے لیے خوب تقریریں کیجیے اور اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیے ! اسی طرح میں صاف کہتا ہوں کہ اگر کوئی تعویذ، کوئی وظیفہ، کوئی جادو ایسا ہوتا کہ بس اس سے کام چل جاتا جب بھی مسئلہ بڑا آسان ہوتا ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ کسی تعویذ اور وظیفے سے بھی یہ کام بننے والا نہیں ہے۔

ایمان والے یقین کو بڑھانے کی اور دوسرے دُنیوی یقینوں پر اس کو غالب کرنے کی ہمیشہ سے ایک ہی راہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے کو ایسے دینی اور ایمانی کاموں میں لگا دے جو ایمان ویقین کو بڑھانے والے ہوں، اور اگر اس کا ماحول ایمان ویقین کے لیے ساز گار نہیں ہے تو  کم ازکم کچھ عرصے کے لیے کسی ایسے ماحول میں رہے جس میں ایمان ویقین کی ترقی کا سامان ہو۔ صحابہ کرامؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت والا ایمان آفرین ماحول نصیب تھا اور انھوں نے اپنے کو دین کے ان کاموں میں پوری طرح جھونک دیا تھا جو ایمان ویقین کو بڑھانے والے تھے۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ ان کا ایمانی یقین ان کی دوسری تمام بشری معلومات پر غالب تھا۔ پھر قرونِ اولیٰ کے بعد بزرگانِ دین، یعنی صوفیاے کرام نے ایمان ویقین کی ترقی کے لیے جو راہ اختیار کی اس میں بھی بنیادی چیز یہی تھی۔

ہمارا یہ دور عوامی تحریکات کا دور ہے اور ساتھ ہی دین کی طرف سے بے رغبتی اور آخرت کی طرف سے بے فکری کا دور ہے۔ اس دور میں اس مقصد کے لیے کسی ایسے طریقۂ کار اور ایسی جدوجہد کی ضرورت تھی جو عوامی بھی ہو اور بے طلبوں اور بے فکروں کو کھینچنے کا اس میں کچھ انتظام ہو، ___ یہ تبلیغ ودعوت کی جدوجہد دراصل اسی مقصد کی ایک عوامی کوشش ہے۔

 آج صورت یہ ہے کہ ہمارے امیروں اور غریبوں کا، ہمارے بڑوں اور چھوٹوں کا، ہمارے پڑھوں اور بے پڑھوں کا، سب کا ماحول غیر دینی ہے۔ سوچیے ہمارا ماحول کیاہے؟

ہمارا گھر، ہمارا محلہ ، ہمارے اسکول، ہمارے کالج، ہمارے دفتر، ہماری کچہریاں، ہمارے کارخانے ، ہمارے کھیت کھلیان ، ہمارے بازار اور ہماری منڈیاں ، سب کی زندگیاں   بس انھی ماحولوں میں تو گزر رہی ہیں، اور ہم آپ سب جانتے ہیں کہ یہ ساری چیزیں آج اللہ اور آخرت کو یاد دلانے والی نہیں، بلکہ بھلانے والی ہیں۔ اسی طرح آج ہمارے جو مشاغل ہیں اور ہمارے کھانے کمانے کے جو ذریعے ہیں وہ بھی ہمارے ایمان والے یقین کو غذا پہنچانے والے نہیں بلکہ دیمک کی طرح کھاکے اس کو کمزور کرنے والے ہیں۔ اس لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ہماری زندگیوں کا پروگرام ایسا ہو کہ کچھ دنوں٭ کے لیے ہم اپنے مشغلوں اور ماحولوں سے نکل کر جنھوں نے ہمارے ایمان ویقین کو کمزوری کی اس حد تک پہنچا دیا ہے، کسی ایسے ماحول اور ایسے مشغلے اور ایسی فضا میں کچھ وقت گزارا کریں جو ایمان ویقین کے لیے ساز گار اور اس کو غذا پہنچانے والی ہو۔

آپ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں۔آخر کب تک زندگی کی گاڑی غلط راستے پر چلائی جائے گی اور کب تک ایمان کے دعووں کے ساتھ غیر ایمانی زندگی گزاری جائے گی___ میں بغیر کسی تکلف اور حجاب کے کہتا ہوں کہ آپ میں سے جو حضرات ایسے مسائل پر غور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں وہ اس مسئلے پر پوری سنجیدگی سے غور کریں، اور میرے جو بھائی ہم لوگوں پر اعتماد کر کے ہماری بات مان سکتے ہوں وہ اعتماد کر کے مانیںاور آگے بڑھیں۔ ہماری بات مان کر آپ کچھ کھوئیں گے نہیں بلکہ اپنے دین وایمان کو درست کر لیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ آپ کی دنیا بھی درست کر دے گا۔ صحابہ کرامؓ نے دین کو اصل مقصدِ زندگی بنا کر اس کی فکر کی تھی، اللہ تعالیٰ نے دنیا خود ان کے قدموں میں ڈال دی۔ وہی اللہ اب بھی ہے اور اس کا قانون اب بھی وہی ہے۔

ترجمہ : طارق نور الٰہی

سب سے اہم عبادت نماز پر کار بند افراد کے لیے بشارتوں کا عظیم تحفہ پیش خدمت ہے!

نماز کو رب کائنات نے خصوصی امتیازات سے نوازا ہے۔ نماز تاکیدی عبادت اور بہترین اطاعت ہے۔ یہ قربِ الٰہی کو پانے کا آسان ترین ذریعہ اور بندے اور رب کے درمیان مضبوط تعلق ہے۔ لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ کو جاننے ماننے کے ساتھ ہی ادایگی نماز ہرمسلمان پر لازم قرار پاتی ہے۔ نماز ہی وہ عمل ہے جس کی قیامت کے روز سب سے پہلے پرکھ ہوگی۔ اگر نماز درست قرار پائی تو باقی کے اعمال نسبتاً درست ہوتے چلے جائیں گے، کیوںکہ نماز فواحش ومنکرات کے روکنے کا سبب ہے۔ اس کی اہمیت جاننی ہو تو دیکھ لیجیے کہ نبی مکرم ؐ کی آخری وصیت بھی اَلصَّلَاۃَ اَلصَّلَاۃَ  تھی۔ نماز کا دھیان رکھنا اور اس کی ادایگی مومن کی کامیابیوں کا زینہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نماز کو قائم رکھنے والوں اور شوق وخشوع سے اس کی ادایگی کا اہتمام کرنے والوں کو قرآن واحادیث میں بہت سی بشارتیں دی گئی ہیں، جن میں سے صریح و واضح تیس خوش خبریاں آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔

نماز کی ادایگی پر بشارتیں

۱- افضل ترین عمل : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا: یا رسولؐ اللہ! کون سا عمل افضل ترین ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا: نماز کو وقت پر اداکرنا۔میں نے عرض کیا: اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا : والدین سے نیک سلوک کرنا۔ میں نے پھر عرض کیا: اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ (مسلم)

۲- اللہ اور بندے کے درمیان مضبوط تعلق کا ذریعہ: حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بھی جب بھی حالتِ نماز میں ہوتا ہے تو وہ اس وقت اپنے رب کے ساتھ حالتِ مناجات میں ہوتا ہے(بخاری) ۔ یعنی عبد معبود سے اثناے نماز راز ونیاز کی حالت میں ہوتا ہے جو کہ قربت کا اعلیٰ مقام ہے۔

۳- دین کے ستون کو قائم کرنے کا ذریعہ :  حضرت معاذ بن جبلؓ کہتے ہیں، رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمھیں اسلام کے راس العمل اور اس کے ستون اور چوٹی کے عمل کے بارے میں نہ بتا دوں؟میں نے عرض کیا: ضرور یارسولؐ اللہ! تو آپؐ نے فرمایا: راس الامر پورا دین اسلام ہے۔ نماز دین کا ستون ہے اور چوٹی کا عمل جہاد ہے(ترمذی)۔ یعنی جس طرح عمارت کا ستون کے بغیر قائم رہنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا اسی طرح دین کا قیام نماز کے بغیر نا ممکن ہے، اور جو اس ستون کو مضبوط کرتا رہتا ہے وہ دین کی رحمتوں کو پاتا چلا جاتا ہے۔

۴- دنیاوی اور اُخروی نور  : رسولؐ اللہ کا فرمان ہے: الصَّلَاۃُ  نُوْرٌ ، ’’نماز نور ہے‘‘۔ (مسلم ، ترمذی ) ،یعنی نماز ظلمت اور شک وشبہہ کو نُور اور یقین وسکون قلبی میں بدل دیتی ہے۔

۵- منافقت کو ختم کرنے کا سبب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: منافقین پر بھاری ترین نماز ، فجر اور عشاء کی ہوتی ہیں۔ اگر وہ جان لیں کہ ان کی ادایگی میں کیا  فضل و انعام ہے ، تو وہ ان کی ادایگی کے لیے ضرور آئیں چاہے رینگ رینگ کر ہی آنا پڑے (بخاری ، مسلم)۔ حضرت ابوہریرہؓ سے معلوم ہوا کہ جو تمام نمازیں ادا کرنے کا اہتمام کرتا ہے جن میں یہ دو مذکورہ نمازیں بھی شامل ہیں، وہ منافقت سے بری قرار پاتا ہے۔ یہ بہت بڑی خوش خبری ہے۔

۶- جہنم کی آگ سے نجات :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہر گز جہنم کی آگ میں نہیں ڈالا جائے گا جو طلوعِ آفتاب ( فجر ) سے پہلے اور غروب آفتاب (عصر ) سے پہلے کی نمازوں کی ادایگی کرتا ہے(مسلم )۔لیجیے نارِ جہنم سے امان کی بشارت پائیے اور عمل کیجیے ۔

۷- فواحش ومنکرات سے بچاو ٔ  کا ذریعہ : ارشاد باری تعالیٰ ہے: اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ ط اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَ الْمُنْکَرِ ط(العنکبوت ۲۹: ۴۵) (اے نبیؐ) ’’تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمھاری طرف وحی کے ذریعے سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو، یقینا نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے‘‘۔ یعنی نماز یہ صلاحیت پروان چڑھاتی ہے کہ زندگی سے بد اعمالیوں سے پاک ہونے کا سامان ہوتا چلا جاتا ہے۔

۸- مشکلات میں مددگار اور سہارا : حکم خداو ندی ہے: وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط (البقرہ ۲:۴۵) ’’مدد لو صبر اور نماز سے‘‘۔ کارزارِ حیات کی مشکلات میں دو عمل سہولت وآسانی کا سبب بنتے ہیں: ۱- صبر،۲-نماز ۔ معاملات حیات میں دونوں کی خا ص اہمیت ہے۔

۹- باجماعت نماز کی فضیلت : بلندیِ درجات کی یہ نوید اس فرمانِ رسولؐ میں آئی ہے: ’’ نماز باجماعت انفرادی نماز سے ۲۷درجے افضل ہے‘‘۔ (بخاری، مسلم)

۱۰-  اللہ کی حفاظت وضمانت: رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین طرح کے افراد اللہ عزوجل کی حفاظت کو پالیتے ہیں۔ اگر زندہ ہوں تو ایسا رزق پاتے ہیں جو کفایت والا ہوتا ہے اور جب مر جائیں تو جنت میں داخل کیے جاتے ہیں: lجو گھر میں داخل ہوتے ہوئے سلام کرے۔ l جو نماز کی ادایگی کے لیے مسجد میں جائے۔ lجو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے جائے (ابوداؤد)

۱۱- فرشتوں کی دعاے مغفرت کا حصول : رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک کوئی اپنی نماز کی جگہ وضو کی حالت میں بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں: یااللہ! اس کی مغفرت فرما اور اس پر رحم فرما ۔ (متفق علیہ )

۱۲- گناہوں کی بخشش : حضرت عثمان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، آپؐ کہہ رہے تھے: جو کوئی نماز کے لیے اچھی طرح وضو کرے پھر باجماعت نماز کی ادایگی کے لیے مسجد جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے(مسلم)۔بشارت دربشارت اللہ کی کرم نوازی کی علامت ہے جو وہ نمازیوں کو دے رہا ہے۔

۱۳- گناہوں کے اثرات کو زائل کرنا  : راویِ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓکہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دیکھو! اگر کسی کے گھر کے سامنے ایک نہر بہتی ہو جس میں وہ روزانہ پانچ بارنہا تا ہو تو کیا جسم پہ کوئی میل کچیل باقی رہے گی ؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہے گی۔ آپ ؐ نے فرمایا: یہ پانچ نمازوں کی ادایگی کی مثال ہے کہ جو ان کی ادایگی کرے گااللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو صاف کر دے گا۔ (بخاری، مسلم)

۱۴- جنت میں اللہ کی ضیافت: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مسجد میں آتا ہے تو ہر بار مسجد آنے جانے پر اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی ضیافت فرمائے گا۔ (متفق علیہ)

۱۵- ہر قدم پر گناہ کی معافی اور درجات کی بلندی : رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اپنے گھر سے وضو کی حالت میں اللہ کے گھر فرض نماز پڑھنے جاتا ہے، اس کا قدم اٹھانا اس کی خطا کی معافی اور دوسرا قدم درجے کی بلندی کا باعث بنتا ہے۔ ( مسلم)

۱۶- نماز کا زیادہ اجر : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نمازیوں میں سے زیادہ اجر پانے والا نمازی وہ ہے جو مسجد میں زیادہ فاصلے سے آیا۔ پھر اس کا درجہ ہے جو اس سے بھی زیادہ فاصلے سے آئے۔ اور جو نمازی امام کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے انتظار میں رہتا ہے وہ اس سے زیادہ اجر پاتا ہے جو (امام کے نماز پڑھنے سے پہلے ہی ) نماز پڑھ لے اور پھر سو جائے۔ (متفق علیہ )

۱۷- مسجد میں جلد آنے پر زیادہ اجر: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:  اگر لوگوں کو پتا چل جائے کہ اقامت کے وقت اور نماز کی پہلی صف کا کیا درجہ ہے ، تو پھر انھیں  قرعہ اندازی کر کے بھی پہلی صف کو حاصل کرنا پڑے تو وہ ضرور قرعہ ڈالیں ، اور اگر وہ جان جائیں کہ نماز کے لیے جلد آنے میں کیا ہے تو وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں، اور اگر جان جائیں کہ نماز عشاء اور فجر میں کیا ہے تو چاہے گھٹنوں کے بل آنا پڑے تو ضرور آئیں۔(متفق علیہ)

۱۸- اللہ کا مہمان : حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ نبی مکرم ؐ نے فرمایا : جو اپنے گھر سے اچھی طرح وضو کر کے مسجد میں آئے تو وہ اللہ کا مہمان ہوتا ہے۔ یوں میزبان (یعنی اللہ) پر اس کا حق ہے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت واکرام کرے ۔( الطبرانی وحسنہ الالبانی )

۱۹- نماز کے لیے انتظار نماز ہی کا حصہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کو نماز کے انتظار نے روکے رکھا اس کا یہ انتظار نماز میں ہی شمار کیا جاتا ہے ۔( متفق علیہ )

۲۰- پہلی صف کا خصوصی اجر: رسول مکرم ؐ نے فرمایا: اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف کے نمازیوں پر (خصوصی ) رحمتیں بھیجتے ہیں۔(ابو داؤد،  نسائی ، صححہ الالبانی )

۲۱- سابقہ گناہوں کی معافی:  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میںسے جب کوئی آمین کہتا ہے اور فرشتے آسمان پر آمین کہتے ہیں تو اگر دونوں کی آمین ایک وقت پر ادا ہو کر مل جائے، تو اس شخص کے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ (متفق علیہ )

۲۲- رحمٰن کے ہاں حاضر ہونے والے وفد میں شمار: ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے وضو کیا اور مسجد میں پہنچا۔ فجر کی سنتیں ادا کیں اور فجر کی باجماعت نماز کے لیے بیٹھا رہا یہاں تک کہ نماز ادا کر لی۔ اس کی نماز ابرار، یعنی نیکو کاروں کی نماز شمار ہوئی اور وہ رحمٰن کے وفد والوں میں شمار کیا گیا ۔ (الطبرانی، حسنہ  الالبانی )

۲۳- اللہ کی حفاظت کی ضمانت : حضرت جندب بن سفیان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کی نماز (باجماعت ) ادا کی، اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ پر ہے۔ پس آدم کے بیٹے دیکھو! اللہ تم سے اپنی ذمہ داری کا مطالبہ نہ کرے (مسلم)۔ یعنی اگر باجماعت نماز فجر کی ادایگی ہو گی تو اللہ کی عنایت سے ہر قسم کے حوادث وپریشانی سے محفوظ رہے گا۔ اگر نہیں پڑھے گا تو اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ پر نہیں رہے گی۔ اب وہ خود ذمہ دار ہوگا۔

۲۴- بروز قیامت نور تام کی بشارت : حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بشارت دے دو اندھیروں کے وقت مسجد میں جانے والوں کو کہ قیامت کے دن انھیں مکمل وتمام تر نُور سے نوازا جائے گا۔( ابوداؤد ،  ترمذی )

۲۵- فجر اور عصر کی با جماعت ادایگی پر جنت کی بشارت: حضرت ابو موسیٰ الاشعری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دو ٹھنڈی نمازیں ادا کرے گا جنت میں جائے گا (بخاری، مسلم)۔ (ٹھنڈی نمازیں، یعنی فجرو عصر ) ۔

۲۶- قیام اللیل کا ثواب : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جماعت کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو یہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے پوری رات کا قیام کیا ۔ (ترمذی)

۲۷- فرشتوں کی گواہی: حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے صبح وشام کی ڈیوٹیوں کی تبدیلی پر نماز فجر اور نماز عصر کے وقت خصوصاً مسجدوں میں جمع ہوتے ہیں، اور جنھو ں نے تمھارے ساتھ رات بسر کی ہوتی ہے جب واپس آسمان پر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے (جب کہ اللہ ان سے بہتر خود جانتا ہے ) کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے انھیں نماز پڑھنے کی حالت میں چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری، مسلم)

۲۸- یکسوئی اور خشوع سے نماز ادا کرنے والوں کی مغفرت : حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی مسلمان پر فرض نماز کی ادایگی کا وقت آئے اور وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے اور پور ے خشوع وخضوع کے ساتھ اچھی طرح قیام ورکوع وسجود بجا لائے، تو ایسی نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے سواے کبیرہ گناہوں کے ، اور مغفرت کا یہ سلسلہ ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ ( مسلم)

۲۹- اللہ کا فرشتوں کے سامنے نمازیوں پر فخر فرمانا: حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے رسولؐ اللہ کے ساتھ نماز مغرب ادا کی۔ جس نمازی کو جانا تھا وہ چلا گیا اور جسے رُکنا تھا وہ رُکا رہا۔ اس وقت رسولؐ اللہ اپنے گھٹنے تک کپڑا اُٹھائے جلدی جلدی ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپؐ کا سانس پھولا ہوا تھا۔ آپ ؐ نے آتے ہی فرمایا: تمھیں مبارک ہو، تمھیں بشارت ہو، تمھارے رب نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا۔ وہ، یعنی اللہ اپنے فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرماتا ہوا کہہ رہا ہے: دیکھو میرے (ان ) بندوں کی طرف جنھوں نے ایک فرض ادا کیا اور دوسری فرض نماز کے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔ (ابن ماجہ، صححہ الالبانی )

۳۰- پل صراط سے باسلامت گزر کر جنت کی بشارت : حضرت ابودرداءؓ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپؐ کہہ رہے تھے: مسجد ہرمتقی پرہیز گار کا گھر ہے۔ جس نے مسجد کو اپنا ٹھکانا بنایا اسے اللہ تعالیٰ رحمت وراحت کی ضمانت دیتا ہے اور اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ایسا شخص پل صراط سے باسلامت گزر کر اللہ کی رضا کے ٹھکانے جنت میں بہ آسانی چلا جائے گا۔( الطبرانی وصحہ الالبانی )

یہ ہیں وہ عظیم بشارتیں جو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے ان افراد کے لیے عطا کی ہیں جو رب کی بندگی کو زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں اور صبح وشام فرائض وسنن کا اہتمام کرتے ہیں۔

اپریل کے اختتام پر سری لنکا جانے کا اتفاق ہوا۔ ایشیائی ممالک میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کے بارے میں ایک سیمی نار میں شرکت کی۔ شرکا نے بہت مفید گفتگو اور مشاورت کے بعد مستقبل کے لیے اہم فیصلے کیے۔ اللہ کی توفیق سے ان پر عمل درآمد ہوگیا تو یقینا مفید ہوگا۔ بالخصوص ان ممالک میں کہ جہاں مسلم اقلیت کو اکثریت کے ہاتھوں گمبھیر مشکلات کا سامنا ہے۔

خود سری لنکا میں اکثریتی آبادی کا تعلق بدھ مت سے ہے (تقریباً ۷۰ فی صد)، دوسرے نمبر پہ مسیحی، تیسرے نمبر پہ ہندو ہیں اور چوتھے نمبر پہ مسلمان۔ ماضی میں نسلی تعصبات کی آگ نے بہت نقصانات پہنچائے۔ تامل باغیوں نے ۲۰۰۹ء تک وہاں بہت خوں ریزی مچائی جسے بھارت کی واضح سرپرستی بھی حاصل تھی، بالآخر سری لنکن فوج نے باغیوں کا مکمل خاتمہ کردیا۔ اب الحمد للہ مجموعی طور پر تمام شہری باہم شیر و شکر ہیں۔ سیمی نار کا افتتاحی سیشن قصر صدارت میں ہوا۔ صدر مملکت، وزیراعظم،ا سپیکر، تین مسلمان وزرا، بھارت سے آئے ہوئے مولانا ارشد مدنی صاحب اور سعودی مشیر براے مذہبی اُمور نے خطاب کیا۔

 سری لنکا اپنی تاریخ، جغرافیے، موسم اور تہذیب و عادات کے حوالے سے بہت دل چسپ اور اہم ملک ہے۔ اگرچہ سری لنکا تیسری بار جانا ہوا لیکن اس سفر میں کئی بہت دل چسپ انکشافات ہوئے۔ اتوار کے روز، سفر کے دوران میں پانچ اہم شہروں سے گزرہوا۔ ہرجگہ بچے یونیفارم پہنے اسکول جارہے تھے۔ پوچھنے پرمعلوم ہوا کہ چھٹی کے دن ہرمذہب کے بچے اپنے مذہبی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس مذہبی تعلیم کے نمبر بعدازاں بچے کی مجموعی تعلیمی اسناد میں شامل کیے جاتے ہیں۔ مسلمان بچوں اور بچیوں کے شان دار تعلیمی اداروں میں بھی جانے کا موقع ملا۔ جماعت اسلامی سری لنکا کے کارکنان سے بڑی تعداد میں ملاقاتیں ہوئیں۔ اس ابتدائی تعارف کے بعد صرف ایک مختصر بات پہ غور کرنا پیش نظر ہے۔ اسمبلی کے اسپیکر جناب کارو جے سوریا نے اپنے گھر پہ مہمانوں کے اعزاز میں عشائیہ دیا تو اپنی استقبالیہ تقریر میں کہنے لگے: ’’سری لنکن عوام کی ایک نمایاں پہچان اور عادت یہ ہے کہ We  are the nation of smiling face (ہم مسکراتے چہروں والی قوم ہیں)۔ ہمارے شہری آپ کو ہمیشہ مسکراتے ہوئے ملیں گے۔ بعض اوقات دو افراد لڑ رہے ہوتے ہیں، تو اس وقت بھی مسکرا رہے ہوتے ہیں‘‘۔ یقینا یہ بات ۱۰۰ فی صد اسی طرح نہیں ہوگی، لیکن اس دعوے کا جس سری لنکن شہری سے بھی ذکر ہوا، اس نے تائید کی۔

جب سے یہ دعویٰ سنا اور مشاہدہ کیا ہے رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بار بار یاد آرہا ہے کہ: تَبَسُّمُکَ لِوَجْہِ اَخِیْکَ صَدَقَۃ ’’اپنے بھائی سے مسکراتے چہرے سے تمھارا ملنا بھی صدقہ ہے‘‘۔ذہن میں بار بار سوال اُٹھتا ہے کہ بدھ اکثریت پر مشتمل ایک پوری ریاست اور پوری قوم اگر مسکراہٹ کو اپنی شناخت اور عادت کے طور پر متعارف کروا سکتی ہے، تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل کرتے ہوئے ہم مسلمانوں کا باہم مسکرانا تو عین عبادت ہے، ہم اسے کیوں نہیں اپنا سکتے؟ آپؐ کے فرمان ’صدقہ‘ پر غور فرمائیے۔ گویا ہم جب بھی مسکراتے ہیں تو کچھ بھی خرچ کیے بغیر، اللہ کی راہ میں خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔ آپؐ اس بارے میں ہماری مزید حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا وَ لَو اَنْ تَلْقٰي اَخَاکَ بِوَجْہِ طَلْقٍ ’’کسی بھی نیکی کو حقیر نہ جانو، خواہ وہ تمھارا کھِلے ہوئے چہرے اور خندہ پیشانی سے اپنے بھائی کو ملنا ہی کیوں نہ ہو‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کَانَ رَسُولَ اللہ علیہ وسلم بَسَّامًا ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت مسکرایا کرتے تھے‘‘۔ حضرت جریر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد جب بھی آپؐ نے مجھے دیکھا، آپؐ مجھے دیکھ کر مسکرادیے: وَ لَا رآنی الا تَبَسَّمَ فِی وَجہِی (متفق علیہ)۔ اس کے باوجود ہم اسے اپنی پہچان کیوں نہیں بناسکے؟

آپؐ کی تعلیمات پر تھوڑا سا مزید غور کیا تو یاددہانی ہوئی، کہ آپؐ نے تو ہمیں ہر قدم پر نیکیاں سمیٹنے کی بشارت اور ترغیب دی ہے۔ خلق خدا کے لیے ہر ہر بھلائی کو صدقہ قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ فرمائیے:

تَسْلِیمَہ عَلٰی مَنْ لَقِیَہ صَدَقَۃٌ ،جو بھی ملے اسے سلام کہنا صدقہ ہے۔

رَدُّ  الْمُسْلِم عَلَی الْمُسْلِمِ صَدَقَۃٌ، مسلمان کا مسلمان کے سلام کا جواب دینا صدقہ ہے۔

اِمَا طَۃُ الْاَذَی عَنِ الطَّرِیْقِ صَدَقَۃٌ، راستے سے کوئی بھی تکلیف دینے والی چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔

اِرْشَادُکَ الرَّجُلَ الطَّرِیْقَ صَدَقَۃٌ، کسی کو راستہ بتادینا صدقہ ہے۔

مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَہٗ کُلَّ یَوْمٍ مِثْلَہٗ صَدَقَۃٌ، تنگ دست مقروض کو مہلت دینا ہر روز قرض کے برابر صدقہ کرنا ہے۔

اِتَّبَاعُکَ الْجَنَازَۃَ صَدَقَۃٌ، کسی جنازے کے ساتھ تمھارا چلنا صدقہ ہے۔

اِفْرَاغُکَ مِنْ دَلْوِکَ فِی دَلْوِ اَخِیْکَ صَدَقَۃٌ، اپنے برتن سے اپنے بھائی کا برتن بھردینا صدقہ ہے۔

نَصْرُکَ الرَّجُلَ الرَّدِیَٔ الْبَصَرِ لَکَ صَدَقَۃٌ، کمزور نگاہ والے کی مدد کردینا صدقہ ہے۔

تَعْدِلُ بَیْنَ الْاِثْنَیْنِ صَدَقَۃٌ، دو افراد کے درمیان صلح کروادینا صدقہ ہے۔

تُعِیْنُ الرَّجُلَ فِی دَابَتِہ فَتَحْمِلُہٗ عَلَیْہَا اَوْ تَرْفَعُ لَہٗ عَلَیْہَا مَتَاعَہٗ صَدَقَۃٌ، کسی کو  اس کی سواری پر بیٹھنے میں مدد دینا یا اس کا سامان رکھوانے میں مدد کرنا صدقہ ہے۔

اَلْکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃٌ صَدَقَۃٌ، کوئی بھی اچھی بات کہہ دینا صدقہ ہے۔

کُلُّ خُطْوَۃٍ تَمْشِیْہَا اِلَی الصَّلَاۃِ صَدَقَۃٌ، نماز کے لیے جاتے ہوئے ہر قدم صدقہ ہے۔

کُلُّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃٌ، ہر تسبیح صدقہ ہے۔

کُلُّ تَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃٌ، اللہ کی ہر حمد بیان کرنا صدقہ ہے۔

کُلُّ تَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃٌ، کلمۂ طیبہ پڑھنا صدقہ ہے۔

کُلَّ تَکْبِیْرَۃٍ صَدَقَۃٌ، ہر تکبیر صدقہ ہے۔

بُضْعَۃُ اَھْلِہٖ صَدَقَۃٌ، میاں بیوی کا ملنا صدقہ ہے۔

مَا اَطعْمَتْ نَفْسَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ، تم جو (رزق حلال) خود کو کھلاتے ہو وہ صدقہ ہے۔

مَا اَطعْمَتْ  وَلَدَکَ فَہُوَ لَکَ  صَدَقَۃٌ، جو کچھ اپنے بچوں کو کھلایا صدقہ ہے۔

مَا اَطعْمَتْ  زَوْجَکَ فَہُوَ لَکَ  صَدَقَۃٌ، جو کچھ اپنی اہلیہ / اپنے شوہر کو کھلایا وہ صدقہ ہے۔

مَا اَطعْمَتْ  خَادِمَکَ فَہُوَ لَکَ  صَدَقَۃٌ ،تم نے جو کچھ اپنے خادم کو کھلایا وہ تمھارے لیے صدقہ ہے۔

اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَۃٌ، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔

نَہْيٌ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ، برائی سے روکنا صدقہ ہے۔

یُمْسِکُ عَنِ الشَّرِّ فَاِنَّہٗ لَہٗ صَدَقَۃٌ، شر سے اپنے آپ کو روک لے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔

ان اور اس طرح کی دیگر صحیح احادیث کے آئینے میں دیکھیں تو کئی سبق حاصل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر نیت خالص اور کوشش سچی ہو تو ایک صاحبِ ایمان کی زندگی کا ہر ہر لمحہ، بہترین عبادت اور رب کی بندگی بن جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر نیت میں فتور، دل میں غرور، ذہن میں ریاکاری کا شائبہ یا زبان و نگاہ سے احسان جتلانے کا ارتکاب ہوجائے، تو بڑی سے بڑی نیکی بھی راکھ بناکر ہوا میں اڑا دی جاتی ہے (ھبائً منثوراً)۔ جن اعمال کو رحمۃ للعالمینؐ نے صدقہ قرار دیا   ان پر غور کریں تو ان کی غالب اکثریت دوسروں سے حُسنِ سلوک، ان کا بھلا سوچنے اور ان سے بھلائی کرنے پر مشتمل ہے۔

ایک اور اصولی بات بھی بہت اہم ہے۔ ہم بعض اوقات حُسن معاشرت یا حُسن عمل کے بہت سارے پہلوئوں کو غیراہم سمجھ لیتے ہیں۔ معاشرے میں پائے جانے والے بڑے بڑے ناسور، اقامت دین کا عظیم فریضہ، ظلم اور ظالموں سے نجات کی جاں گسل جدوجہد، اصلاحِ معاشرہ اور اصلاحِ حکومت جیسے کارِ نبوت ایک جانب رکھیں تو مسکرا کر ملنا، راستے سے اذیت ہٹا دینا، کھانا کھلادینا، عیادت و تعزیت کرلینا یا بعض تسبیحات و اذکار کرلینا، بہت چھوٹی باتیں محسوس ہونے لگتی ہیں۔ لیکن اسی موقعے پر ایک مسلمان کی زندگی میں توازن کا امتحان ہوتا ہے۔ ہم میں سے کچھ افراد  اذکار و اَوراد ہی پر اکتفا کرتے ہوئے صرف اسے ہی راہِ نجات سمجھ لیتے ہیں۔ بعض دوسرے ان مسنون اعمال کی استہزا تک کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔حالاں کہ دونوں پہلو ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

اُمتِ مصطفویؐ کی کئی اہم عبادات جنھیں ہم نے فراموش کر دیا اور دوسروں نے اپنا لیا ہے کا شدید احساس جاپان جاکر بھی ہوا۔ وہاں موجود احباب نے جاپانی معاشرے کی بہت سی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بتائی کہ : ’’کسی جاپانی کے بارے میں یہ سمجھنا کہ وہ آپ سے جھوٹ بولے گا، یہ نہیں ہوسکتا‘‘۔ سبحان اللہ ، ایک جاپانی صرف اس لیے جھوٹ نہیں بولے گا کہ وہ جاپانی ہے، اور اس کے معاشرے نے اسے جھوٹ نہ بولنے کی تعلیم دی ہے۔  جھوٹ سے بچنے بلکہ جھوٹ کے بارے میں سوچنے سے بھی منع کرنے کے لیے وہاں کے نرسری اسکولوں ہی سے تربیت کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ سچ ہی کی نہیں، محنت، خوداعتمادی، اور دوسروں کی مدد کرنے کی کئی مثالیں مشاہدہ کرنے کو ملیں گی۔ جاپان میں کسی سے راستہ پوچھ لیں تو مکمل تفصیل اور تسلی سے راہ بتائیں گے۔ بعض اوقات تو ساتھ ہی چل دیں گے کہ دشواری نہ ہو۔

صادق و امین ہستی کے اُمتی تو ہم ہیں…؟ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ : اَ یَکُونُ المُؤمِنُ کَذَّابًـا؟ کیا کوئی مومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، مومن جھوٹا نہیں ہوسکتا۔آپؐ نے سچ کو جنّت اور جھوٹ کو جہنّم کی راہ قرار دیا۔ نبی کاملؐ ، دین کامل لے کر آئے۔ ایک کامل اسلامی معاشرہ، اس دین کامل کو اپنا کر ہی وجود میں آسکتا ہے۔

ہم یہ حقیقت بھی جانتے ہیں کہ ذرہ برابر نیکی (مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ) بھی اکارت نہیں جاتی۔ کویت کے ایک دوست کا سنایا ہوا، سچا واقعہ سن لیجیے۔ کہنے لگے کہ: ہماری مسجد میں ایک ہندو نے اسلام قبول کرلیا سب بہت خوش ہوئے۔ نو مسلم بھائی سے قبولِ اسلام کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ ایک خاکروب ہے۔ گذشتہ طویل عرصے سے مسجد کی قریبی سڑکوں پر جھاڑو دیتا ہے۔ فلاں سڑک پر جھاڑو دیتے ہوئے، اذان کی آواز آتی۔پھر فلاں گھر سے ایک صاحب باقاعدگی سے نماز کے لیے نکلتے۔ میرے پاس سے گزرتے ہوئے وہ اپنی جیب سے عطر کی شیشی نکالتے، مسکراتے ہوئے میرے ہاتھ کی پشت پر عطر لگاتے اور مسجد چلے جاتے… بس ان کا یہ خاموش پیغام ہی مجھے آج مسجد لے آیا ہے۔ مسکراہٹ اور خوشبو کا صدقہ یقینا دونوں کو جہنم کی آگ سے بچا گیا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی عظیم الشان سلطنت میں ایک چھوٹے پرندے ہُدہُد اور چھوٹی سی چیونٹی ہی کودیکھ لیجیے۔ ہُدہُد نے دیکھا کہ ملکہ اور اس کی رعایا، اللہ کے بجاے سورج کی پوجا کررہے ہیں، آنکھوں پر یقین نہ آیا، اور تڑپ کر دربار نبوت میں پہنچا۔ پورا ماجرا سنایا اور بالآخر ایک پوری قوم کو اللہ کی بندگی میں لانے کا ذریعہ بن گیا۔

چیونٹی نے دیکھا کہ ساری چیونٹیاں اپنے کام کاج میں مگن ہیں اور سلیمان علیہ السلام کا لشکر سر پہ آن پہنچا ہے۔ تن کے کھڑی ہوگئی، پوری قوت سے چلّائی: یّٰاَیُّھَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰکِنَکُمْج   لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُہٗ (النمل۲۷: ۱۸) ’’چیونٹیو! فوراً گھروں کے اندر چلی جاؤ۔ یہ نہ ہو کہ سلیمانؑ اور ان کا لشکر تمھیں کچل کر رکھ دے‘‘۔ چیونٹی کی یہ دہائی حضرت سلیمان علیہ السلام نے بھی سن لی، فوراً لشکر کو رکنے کا حکم دیا اور بے اختیار کلمات شکر زبان پر آگئے: رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہٗ وَاَدْخِلْنِی بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیْنَ o(النمل۲۷: ۱۹)  ’’اے میرے رب، مجھے قابو میں رکھ کہ مَیں اُس  احسان کا شکر ادا کرتا رہوں، جو تُو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عملِ صالح کروں، جو تجھے پسند آئے، اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر‘‘۔ رب ذو الجلال کو یہ منظر اور اس میں پوشیدہ اسباق اتنے پسند آئے، کہ پورا واقعہ تا قیامت قرآن کریم میں ثبت کردیا۔ ہمیں تعلیم دینا مقصود تھا کہ ہُدہُد اور چیونٹی کے صدقے جتنا بھی صدقہ کروگے(نیکی کا حکم صدقہ ہے) تو پورا پورا اجر ملے گا۔

چیونٹی کی اس پکار میں ایک اور بات بھی بہت اہم ہے۔ حضرت سلیمانؑ اور آپؑ کے لشکر کی آمد سے خبردار کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی کہا: وَھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ، یعنی یہ نہ ہو کہ وہ تمھیں کچل ڈالیں اور انھیں پتا بھی نہ چلے۔ دوسروں سے حُسن ظن کی اس سے جامع مثال شاید کہیں اور نہ ملے۔

سری لنکا کی مسکراہٹ اور تعلیم کا اعلیٰ تناسب، جاپانیوں کی محنت اور سچائی، کویتی بھائی کی لگائی ہوئی خوشبو، ہُد ہُد کی زیرکی اور چیونٹی کی پکار، ہمیں بھی یہ پیغام دے رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قوانین طے شدہ ہیں۔ جو ان کی پابندی کرے گا، کامیاب و کامران ہوگا   ؎

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا ،شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

ترجمہ: محمد ظہیرالدین بھٹی

رمضان مکرم کی آمد پر مسلمانوں کا خوش ہونا برحق ہے، کیوں کہ یہ تمام بھلائیوں کو لے کر آتا ہے۔ اس کا دن روزہ، اس کی رات قیام اور اس کے شب و روز نیکیوں اور بھلائیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے ہیں۔ یہ بخشش کا موسم ہے۔ اس میں نیکیوں کے اجر و ثواب میں اضافہ ہے۔ لہٰذا، اس کی نعمتوں، عطیّوں اور مہربانیوں سے مسرور ہونا ہر مسلمان کا حق ہے۔     نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’تمھارے زمانے کے ایام میں تمھارے رب کے تمھارے لیے عطیات ہوا کرتے ہیں، لہٰذا ان عطیات کو حاصل کرنے میں لگے رہو‘‘۔

یہ نزولِ قرآن کا مہینہ ہے۔ اس ماہِ مقدس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس ماہ میں نفل کی ادایگی فرض کی مانند ہے اور اس میں فرض ادا کرنا غیر رمضان میں ۷۰فرضوں کی ادایگی کی طرح ہے۔ اس ماہ کی ان ہی برکات کی خاطر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رجب ہی سے اس کے استقبال کی تیاری شروع فرماتے تھے۔

رمضان نفس و روح کی راحت کا مہینہ اور دل کی خوشی کا زمانہ ہے۔ اس میں ایمان کے مظاہر ہر طرف نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان باہمی اخوت ہوتی ہے، خود غرضی نہیں بلکہ ایثار ہوتا ہے۔ اس میں سختی و تشدد نہیں بلکہ کرم و مہربانی ہوتی ہے۔ اس ماہِ مبارک میں مسلمان کو خواہ کوئی کتنا ہی برانگیختہ کر دے یا اسے کوئی کتنا ہی غصے میں لے آئے، یااگرخدانخواستہ اسے کوئی گالی بکے یا اس پر کوئی الزام تراشے، ان تمام صورتوں میں مسلمان بس یہ کہتا ہے کہ: ’’میں روزے سے ہوں‘‘۔ ظاہر ہے کہ مسلمان اپنے منہ سے کوئی ایسا لفظ نہیں نکالتا جو بے معنی ہو، جو نفس کی گہرائیوں میں ثبت نہ ہو، جو اس کے ایمان کی ترجمانی نہ کرتا ہو، جس سے شیاطین جِنّ و انس پر اسے فتح و کامیابی نہ ملتی ہو۔ مسلمان ’’میں روزے سے ہوں‘‘ کے الفاظ دہراتا ہے تو اس کا ظاہر و باطن ہم آہنگ ہوتا ہے۔   وہ ایک اخلاقی اسلامی شخصیت کا مظہرِ کامل بن کر یہ الفاظ ادا کرتا ہے۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے، سرکش جنوں کو پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے، دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہنے دیا جاتا۔ بہشت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اوراس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہنے دیا جاتا۔ حق تعالیٰ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: اے بھلائی کے چاہنے والے آگے بڑھ! اور اے شر کے طلب گار پیچھے ہٹ!‘‘۔  اس نداے ربانی پر لبیک کہنے کے لیے کیا مسلمان نیکی کی چاہت میں آگے نہ بڑھے گا؟ ضروربڑھے گا۔

اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ آپ اس ماہِ مبارک میں نازل ہونے والی کتاب کی تلاوت کیجیے اور اس میں خوب تدبر کیجیے۔ آپ غور کیجیے تو آپ کی سماعت سے مخاطب ہو کر کوئی کہہ رہا ہوگا: فِیْٓ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَآئَ رَکَّبَکَo (الانفطار ۸۲:۸) ’’اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا‘‘۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا، پھر اس کی نوک پلک سنواری، اسے پیدا کیا اور اسے راہ نمائی دی۔

دورانِ تلاوت ہی کوئی آپ سے مخاطب ہو کر آپ کو ایک زندہِ جاوید حقیقت سے آگاہ کررہا ہوگا: یٰٓاَیُّھَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّک کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِo(الانشقاق ۸۴:۶) ’’اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے ربّ کی طرف چلا جا رہا ہے اور اُس سے ملنے والا ہے‘‘۔

لہٰذا، توبہ کے لیے جلدی کیجیے، اپنے ربّ کی طرف رجوع کیجیے تاکہ آپ تروتازہ چہرے کے ساتھ اس سے ملاقات کر سکیں۔ آپ جلدی قدم بڑھائیے اور اس کے جودو سخا، کرم و لطف اورمغفرت و احسان کے عطیات کو سمیٹ لیجیے۔

آپ اپنے حواس خمسہ پر غور کیجیے، اپنی پیدایش کے بارے میں تدبر کیجیے، اپنی ذات کے بارے میں سوچیے۔ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کے جسم کے ہر جز کو خالقِ ارض و سما نے بہترین ساخت میں پیدا کیا ہے۔ پھر اس نے ہر عضو کو جو کام کرنا ہے اس سے ہم آہنگ کیا ہے۔  دیکھیے آنکھیں، زبان، ہونٹ اور جسم کے مختلف اعضا اور نظام اپنے اپنے افعال کے ساتھ کیسی مطابقت رکھتے ہیں۔ وہ کون سی ہستی ہے جس نے انھیں اس کام کو کرنے کے ہدایت کی ہے؟ کوئی عضو سننے کے لیے ہے، کوئی دیکھنے کے لیے ہے، کوئی چکھنے اور کوئی چھونے کے لیے ہے، کوئی ہضم کرنے کے لیے ہے۔ انسان اگر اپنے تمام اعضا کو اپنے خالق کی مرضی کے مطابق استعمال کرے تو وہ جنت کا حق دار ٹھیرتا ہے۔

اگر اس ماہِ مبارک میں اترنے والی کتاب نہ اتری ہوتی تو یقینا انسان بھٹکتا رہتا، اور اپنے آپ پر غور و فکر سے محروم رہتا۔ انسان کو کون بتاتا کہ وہ اپنی پیدایش میں، اپنے حواس میں، اوراپنے جسم کے مختلف نظاموں میں ایک معجزہ ہے، قدرت کا شاہکار ہے۔ اس کا جسم اور اس کے تمام اعضا اس کائنات کے ساتھ کس قدر ہم آہنگ ہیں جس میں وہ رہ رہا ہے۔ اگر یہ ہم آہنگی سلب کر لی جائے تو انسان اورکائنات کے مابین رابطہ واتصال ختم ہو جائے۔ ایسی صورت میں انسان کسی آرزو کو پورا کرنے یا کسی چیز کو دیکھنے یا کسی معاملے میں غور و فکر کرنے سے قاصر رہ جائے۔

بلاشبہہ اللہ ہی خالق ہے ، قادر ہے، کائنات کا اور انسان کا پیدا فرمانے والا ہے۔ وَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَo (الذٰریٰت ۵۱:۲۱) ’’اور خود تمھارے اپنے وجود میں بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم کو سوجھتا نہیں‘‘۔ اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّط یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَھُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ  لا  وَّ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عِلْمًاo(الطلاق ۶۵:۱۲) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قِسم سے بھی اُنھی کے مانند۔ اُن کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے (یہ بات تمھیں اِس لیے بتائی جارہی ہے) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے‘‘۔

روزے کی حالت میں ان تمام امور پر غوروفکر سے آپ عبادت کے سا تھ ساتھ ایمان کی لذت سے بھی آشنا ہوں گے۔ آپ کی عبادت محض رسم نہیں رہے گی۔

آپ اپنے رب کو پہچانیے، اپنے آپ پر غور کیجیے، اس کائنات کو دیکھیے جس نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ آپ اپنے اور کائنات کے مابین موازنہ کیجیے، اور قرآن کے الفاظ میں اپنے آپ سے دریافت کیجیے: ’’کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا، اس کی چَھت خوب اونچی اٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا، اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا۔ اس کے بعد اس نے زمین کو بچھایا، اُس کے اندر سے اس کا پانی اورچارہ نکالا، اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے سامانِ زیست کے طور پر تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے‘‘۔ (النّٰزٰعت ۷۹: ۲۷-۳۳)۔ قرآن مجید میں غور کرنا چاہیے۔ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَاo (محمد ۴۷:۲۴) ’’کیا اِن لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟‘‘

انسان اپنے رب کی نافرمانی کرکے اپنے ساتھ خود زیادتی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان خیانت کیوں کرتا ہے؟ اپنے پروردگار کی معصیت کیوں کرتا ہے؟ وہ تکبر کیوں کرتا ہے؟ اپنے آپ کو بڑا کیوں سمجھتا ہے؟ کیا غور وفکر تجھے اللہ کے شایانِ شان قدر دانی کی دعوت نہیں دیتا کہ تو اللہ کی رحمت کی امید رکھے اور اس کے عذاب سے ڈرے؟ قرآن نے اس ماہِ مبارک میں نازل ہو کر تجھے وہ کچھ بتا دیا جو تو نہیں جانتا تھا اور یوں اللہ نے تجھ پر فضلِ عظیم کیا۔

امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں: ’’سب سے عجیب بات یہ ہے کہ تم اللہ کو جانتے ہو اور پھر اس سے محبت نہیں کرتے۔ اس کے منادی کی پکار سنتے ہواور پھر جواب دینے اور لبیک کہنے میں تاخیر سے کام لیتے ہو۔ تمھیں معلوم ہے کہ اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں کتنا نفع ہے مگر تم دوسروں کے ساتھ معاملہ کرتے پھرتے ہو۔ تم اس کے غضب کی جانتے بوجھتے مخالفت کرتے ہو۔ تمھیں معلوم ہے کہ اس کی نافرمانی کی سزا کتنی بھیانک ہے مگر پھر بھی تم اس کی اطاعت کرکے اس کے طالب نہیں بنتے ہو‘‘۔

افسوس کہ تم اس ماہ مبارک کے قیمتی لمحات ضائع کر دیتے ہو اور ان کے دوران اللہ کے قرب کو تلاش نہیں کرتے۔ ابن قیمؒ نے کیا ہی خوب فرمایا ہے: روزے دار اپنے معبود کی خاطر اپنی لذتوں کو ترک کرتا ہے۔ وہ اللہ کی محبت اور اس کی رضا کو اپنے نفس کی لذات پر ترجیح دیتا ہے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’جو کوئی بندہ، اللہ کے راستے میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، تو اس دن کی وجہ سے اللہ جہنم کواس شخص کی ذات سے ۷۰ خریف دُور کر دیتا ہے‘‘۔

امام حسن البناؒ فرماتے ہیں: ’’لوگ دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو کوئی بھلائی کرتا ہے یا نیکی کی بات کرتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا فوری معاوضہ ملے۔ اس کے بدلے میں مال ملے جسے وہ   جمع کرے، یا اسے شہرت و نیک نامی ملے، یا اسے کوئی مرتبہ و عہدہ ملے، یا اسے کوئی لقب ملے کہ اس لقب کے ساتھ اس کا شہرہ ہر طرف ہو۔ دوسرا وہ ہے جس کا ہر قول و فعل محض اس لیے ہوتا ہے کہ وہ خیر کو خیر ہونے کی وجہ سے چاہتا ہے۔ وہ حق کا احترام کرتا ہے اور حق سے اس کے حق ہونے کی وجہ سے محبت کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ دنیا کے معاملے کا سدھار صرف اورصرف حق و خیر سے ہی ہے۔ انسان کی انسانیت دراصل یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو حق و خیر کے لیے وقف کر دے‘‘۔

اے میرے مسلمان بھائی! آپ ان دو قسموں میں سے کون سی قسم کے مسلمان بننا  چاہتے ہیں؟ کتنا اچھا ہو کہ آپ دوسری قسم میں داخل ہوں اور ایسے مسلمان بن جائیں جو حکم کو بجالاتا ہے، جس سے منع کیا گیا ہے اسے ترک کر دیتا ہے، جو کچھ مل گیا ہے اس پر صبر کرتا ہے۔ انعام ملے تو شکر کرتا ہے، آزمایش آئے تو صبر کرتا ہے، گناہ کرے تو مغفرت طلب کرتا ہے۔ آپ بھی ایسے ہی ہو جائیے۔ ایسے لوگوں میں شامل ہو جائیے جن کا دایاں ہاتھ صدقہ دے تو بائیں کو  خبر نہ ہو۔ آپ کم زور کی مدد کیجیے۔ صلہ رحمی کیجیے۔ لوگوں کے بوجھ اٹھایئے، لوگوں کی حصولِ حق میں مدد کیجیے۔ ضرورت مند کا ساتھ دیجیے اور اس کی مدد کے لیے تعاون کیجیے۔ یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھیے، بیوہ کی سرپرستی کیجیے۔

فلسطین، عراق، افغانستان، سوڈان، کشمیر، اریٹیریا اور صومالیہ کے اپنے بھائیوں کی غم خواری کیجیے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں کی جان، مال، عزت و آبرو خطرے میں ہے ان کے لیے دعائیں کیجیے۔ آپ اُن مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا کیجیے، جن کے گھروں کو منہدم کیا گیا اور انھیں ان کے علاقوں سے بے دخل کر دیا گیا۔

آپ صلاح الدین ایوبی کا یہ قول یاد رکھیے: ’’میں کیسے ہنسوں، جب کہ اقصیٰ اسیر ہے؟‘‘

آپ رات میں ضرور نوافل ادا کیجیے تاکہ آپ کا شمار ان لوگوں میں ہو جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’راتوں کو کم ہی سوتے تھے، پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے، اور اُن کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے‘‘۔(الذٰریٰت ۵۱: ۱۷۔۱۹)

دعا مومن کا ایک بڑا ہتھیار ہے۔ دعا کیجیے کہ اللہ ظالموں کے مقابلے میں اہلِ ایمان کی مدد فرمائے۔ دعا میں الحاح دزاری ضرور کیجیے۔ اللہ ظالم سامراجیوں، ان کے آلۂ کاروں کو برباد کرے۔

شیطان کے پھندے سے بچنے کی کوشش کیجیے۔ یہ شیطان انسانوں میں سے ہوں یا جنوں میں سے۔ یہ شیطان، آپ کے روزے کو بگاڑنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ وہ آپ کو تراویح اور تہجد سے ہٹا کر فلمیں دیکھنے پر آمادہ کریں گے۔ وہ آپ کو موسیقی اور لغویات میں الجھائیں گے، اور آپ ان کے چکّر میں آ کر روزوں کے مقاصد فراموش کر دیں گے اور پھر صیام و قیام کو ہی نظر انداز کردیں گے۔ حالاںکہ رات کے قیام کے بارے میں رب العزت فرماتا ہے:

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ق  عَسٰٓـے اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا o

 (بنی اسرائیل ۱۷:۷۹) اوررات کو تہجد پڑھو، یہ تمھارے لیے نفل ہے، بعید نہیں کہ تمھارا رب تمھیں مقامِ محمود پر فائز کردے۔

شیطان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ رمضان میں مومن ایک ایسی شخصیت بن جاتا ہے جس پر ایمان کا غلبہ ہوتا ہے۔ یہی شخصیت شرعاً مطلوب ہے۔ اسی شخصیت کے ہاتھوں نصرت ملتی ہے۔ اس لیے شیطان آپ کے اور اس شخصیت کی تشکیل کے مابین حائل ہو جائے گا، کیوں کہ ایسی شخصیت کی تشکیل میں اس کی ہلاکت ہے۔ اگر بحمدللہ، رمضان کے اثرات سے اسلام کی مطلوب شخصیت وجود میں آئے تو یہ انسانیت کی فتح ہے۔

رمضان کے اس پیغام اور وقت کی اس آواز کو توجہ سے سنیے اور اس پر غور کیجیے۔ اس طرح آپ کامران و کامیاب لوگوں میں شامل ہو جائیںگے اور ناکام و نامراد نہ ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ رمضان کو ہم سب کے لیے مبارک بنائے، اور ہم سب کو خوب برکتیں ، رحمتیں اور بخشش عطا فرمائے۔ رمضان المبارک کو قیمتی بنانے کے لیے اسے کیسے گزارا جائے ؟ کن اعمال کی کثرت کی جائے ؟ کن چیزوں سے بچا جائے؟ کا تذکرہ ضروری ہے۔

 ادب،احتیاط اور عاجزی سے رہیں : رمضان المبارک کے دن بھی بابرکت ہیں، اور اس کی راتیں بھی پُر نور ہیں، اور اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ اس لیے اس مہینے کے داخل ہوتے ہی ایمان والوں پر ایک ، خاص کیفیت طاری ہو جاتی ہے___ ادب ،عاجزی اور احتیاط کی کیفیت۔ ایسانہیں ہوتا کہ روزہ افطار کرتے ہی نفس کا جن بوتل سے باہر آ جائے ، اور گناہ کی زندگی شروع ہوجائے۔

انسان کا نفسِ امارہ اور شیطان اس کو الٹی راہ پر ڈالتا ہے۔ رمضان المبارک کا اصل مقصد ہے قربانی، یعنی کم کھانا ، کم پینا ، کم سونا، زیادہ مال خرچ کرنا، اللہ کی راہ میں خوب جدوجہد کرنا۔  اب شیطان نے انسانوں کو سکھا دیا ہے کہ رمضان المبارک کا مطلب ہے : خوب کھانا کہ پیٹ پھول جائے، خوب پینا کہ پیٹ پھٹنے لگے، خوب سونا کہ بستر بھی تنگ آ جائے ۔

 کچھ کام بڑھا دیں: رمضان المبارک میں عام دنوں سے زیادہ عبادات میں محنت کرنی چاہیے، اور محنت وہ ہوتی ہے جو انسان کو تھکاتی ہے۔ رمضان المبارک کے پہلے لمحے سے لے کر آخری دن سورج غروب ہونے تک ، محنت کا یہ سلسلہ جاری رہے۔ چنانچہ فوراً یہ کام بڑھا دینے چاہییں:

  • نماز : یعنی فرائض وواجبات کا خوب اہتمام ، اور نوافل کی کثرت۔ رمضان المبارک میں تراویح بہت بڑی نعمت ہے۔ تہجد کا بھر پور اہتمام کیا جائے۔
  • تلاوت : روزانہ کم از کم تین پارے اور زیادہ جس قدر ممکن ہو نیز قرآن کا فہم اور اس سے ہدایت حاصل کی جائے۔
  • صدقات: خوب سخاوت کی جائے، خوب مال خرچ کیا جائے۔ بالخصوص ان مسلمانوں تک افطار اور کھانا پہنچایا جائے، جو اپنے گھروں سے محروم ہجرت پر مجبور ہیں۔ 
  • جہاد : رمضان المبارک جہاد کا مہینہ ہے۔ غزوئہ بدر اسی مہینے میں پیش آیا۔ اس لیے غزوئہ بدرکی ہر یاد تازہ کرنی چاہیے: جان کی قربانی ،مال کی قربانی ، جہاد کی دعوت۔
  • آخرت کی فکر : اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے ۔ یہ فکر اور عقیدہ انسان کی اصلاح کے لیے لازمی ہے۔ اس کا زیادہ سے زیادہ محاسبہ اور تذکرہ کیا جائے تو فضول کام کرنے، مال جمع کرنے، اور اس دنیا کی خاطر ذلیل ہونے کے عذاب سے نجات مل جائے گی۔

کچھ کام ترک  کر دیں

  • بد نظری : اپنی آنکھوں کی خوب خوب حفاظت کرنی چاہیے ، ورنہ رمضان المبارک کانور حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
  • لغویات :کوشش کرکے ٹی وی کو مہینہ بھر بند کردینے کی مشق کریں اور دیگر لغو کاموں سے بچیں۔
  • مذموم مجلسیں:جن مجالس میں بے حیائی، غیبت اور جھوٹ کا چلن ہو، ان کو ترک کردیں۔

 چند کام کم کردیں

  • کھانا ،پینا، سونا ،جائز لذت حاصل کرنا، گفتگو کرنا کم کر دیں۔

روزانہ کا سوال روزانہ بلاناغہ : دو رکعت نماز صلوٰۃ الحاجات پڑھ کر دعا کیا کریں : یا اللہ ! اس رمضان المبارک کوہمارے لیے رحمت ، مغفرت ، جہنم سے نجات اور عافیت والا مہینہ بنا دے۔ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما، جن پر تیرا فضل ہے، اور جن کی بخشش ہوئی ہے، اور ہمیں اپنی پناہ عطا فرما ان لوگوں میں شامل ہونے سے ،جو رمضان تو پاتے ہیں ، مگر ان کی بخشش نہیں ہوتی۔

 آخری عشرے کی حفاظت :رمضان المبارک کا آخری عشرہ بہت قیمتی ہوتا ہے۔  عید کے لیے نیا جوڑا ضروری نہیں ہے، اور نئے جوتے کے بغیر بھی عید کی خوشیاں پوری طرح سے  مل جاتی ہیں۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ بازاروں میںضائع کرنا افسوس ناک ہے۔ اس لیے جس طرح بھی بن پڑے آخری عشرے کو ضائع ہونے سے بچایا جائے، اور اس عشرے کے دن اور رات قیمتی بنائے جائیں۔ افسوس کہ عید کی خریداری کے نام پر اپنی اصل خوشیوں کو برباد کرنے کا رواج مسلمانوں میں عام ہو چکا ہے۔ ممکن ہے یہ رمضان المبارک ہمارا آخری رمضان ہو، اس لیے اسے قیمتی بنا لیں، اور اسے پالیں ۔ یا ارحم الرّحمین ، ہمیں توفیق عطا فرما !

 چار اعمال کی کثرت: بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں چار کاموں کی کثرت کی ترغیب ارشاد فرمائی: اس ماہ میں چار کاموں کی کثرت کرو،  ان میں سے دو کام ایسے ہیں کہ ان کے ذریعے تم اپنے پرور دگار کو راضی کرو گے، اور دو کام ایسے ہیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہوسکتے ہو۔ وہ دو کام جن سے اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل ہو گی :

  •  لا الہ الا اللہ کا ورد رکھنا ،
  • اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے رہنا۔
  •  وہ دو چیزیں جن سے تم بے نیاز نہیں رہ سکتے ہو یہ ہیں :

  • جنت کا سوال کرنا
  •  جہنم سے پناہ مانگنا۔

رمضان المبارک میں تو ہر عمل کا اجر ویسے ہی ۷۰ گنا بڑھ جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ باقاعدہ مصلے پر بیٹھ کر ذکر کریں۔ چلتے پھرتے، کھانا پکاتے ، کپڑے دھوتے ،ہروقت زبان پر ذکر اور درود شریف جاری رکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اسی طرح روزانہ استغفار کا معمول بنانا چاہیے۔

ہر روزے کے لیے نیت اور سچی شرط ضروری ہے، تاہم نفس کو روکنے کی شرائط بہت سی ہیں۔ چنانچہ کوئی شخص اسی وقت حقیقی روزہ دار ہو گا، جب وہ اپنے پیٹ کو کھانے سے بچائے، اور اپنی آنکھ کو شہوت کی نظر سے ، کان کو غیبت کے سننے سے، زبان کو بے ہودہ اور فضول گفتگو کرنے سے ، اور جسم کو دنیا کی تابعداری اور شریعت کی مخالفت سے محفوظ رکھے۔ کیوںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا تھا کہ : جب تو روزہ رکھے تو ضروری ہے کہ تیرا کان ،تیری آنکھ ، تیری زبان، تیرا ہاتھ اور تیرا ہر عضو روزہ رکھے۔ نیز فرمایا : بہت سے روزے دار ایسے ہیں ، جنھیں روزے سے بھوکا اور پیاسا رہنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

 روایتی افطار پارٹیاں : رمضان میں شیطان کا ایک پھندا غفلت زدہ افطار پارٹیاں ہیں۔ ان پارٹیوں میں کھانے کی حرص، فضول گپ بازی، اور قیمتی وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔ ہاں، کوئی اجتماع ہو تو اس میں شرکت کر سکتے ہیں۔ بلاشبہہ افطار کی دعوت بہت فضیلت والا عمل ہے۔ اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے غریبوں کے گھر ، شہداے کرام کے ورثا، دین کے خدمت گاروں اور مہاجرین کو رقم یا کھانا بھجوا دیں۔ اگر کسی کو افطار پر گھر بلائیں تو دین کی تعلیم کا اہتمام کریں۔ ایک دوسرے کے مقابلے پر دعوتیں نہ کریں، بلکہ اپنے وقت کو قیمتی بنائیں، اور افطاری کا کھانا بھجوا دیا کریں۔

جب کسی انسان کو اللہ تعالیٰ عبادت ، خلوت اور ذکر کی توفیق عطا فرماتا ہے، تو اس انسان کو عجیب مزا آنے لگتا ہے۔ تب خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہو جائے۔  اس لیے بھر پور عبادت اور تلاوت کے ساتھ ساتھ یہ بات یاد رہے، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہیں۔

 ہمارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود میدانوں میں نکل کر تلوار اٹھاتے ، اور جہاد فرماتے تھے اور دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد فرماتے تھے۔ اس عظیم اور بہترین اُمت کا فرد ہونے کی وجہ سے ہم پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہیں، اور ہم پرانی اُمتوں کے صوفیوں کی طرح صرف خلوت، عبادت اور تنہائی کے مزے نہیں لوٹ سکتے۔ اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہمارا دل فلسطین ، افغانستان ، عراق ، کشمیر اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے درد کو محسوس کرے۔

ہم ان مجاہدین کے لیے دعا کریں جو ہمارے سرکا تاج ہیں، اس لیے کہ وہ میدانوںمیں لڑ رہے ہیں۔ہم دشمنانِ انسانیت کی جیلوں میں قید اسیرانِ اسلام کے لیے بلک بلک کر دعائیں مانگیں۔ ہم ان تمام اہلِ دین کے لیے دعائیں مانگیں، جن پر دین کی خاطر زمین تنگ کر دی گئی ہے اور ہم اپنے دل کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اُمتی کا دل بنائیں۔

ترجمہ: محمد ظہیرالدین بھٹی

ماہِ رمضان کے روزے اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہیں۔ علامہ ابن قیمؒ نے اپنی کتاب الطب النبوی میںلکھا ہے: ’’روزہ روح، دل اور بدن کی بیماریوں سے بچانے کے لیے ڈھال ہے۔ اس کے فائدے بے حد و شمار ہیں۔ روزوں کا حفظانِ صحت پر عجیب اثر پڑتا ہے۔ روزے سے مضرت رساں فضلات اڑ جاتے ہیں اور انسانی نفس اذیت سے محفوظ ہو جاتا ہے‘‘۔

بلاشبہہ روزے صحت کے لیے بہت مفید ہیں۔ بڑے بڑے طبیبوں اور ڈاکٹروں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ روزہ صحت پر مثبت اثرات ڈالتا ہے۔بالخصوص وہ لوگ جو بعض مخصوص امراض میں مبتلا ہوتے ہیں، روزے ان کے لیے نفع بخش ثابت ہوتے ہیں اور وہ ان امراض سے نجات پاجاتے ہیں، جیسے بلڈپریشر ، ہاضمے کی خرابیاں، دل کی تکلیفیں وغیرہ۔

ماہِ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی بیماریاں کم ہو جاتی ہیں۔ اس کا بہترین ثبوت ہسپتالوں کے وہ رجسٹر ہیں، جن میں مریضوں کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ ان مریضوں پر، ان کے دوا دارو اور  علاج معالجے پر اٹھنے والے اخراجات کم ہو جاتے ہیں، جنھیں ہم انسانی بہبود کے پروگراموں پر خرچ کرسکتے ہیں۔ گویا روزہ اقتصادی فائدے کا باعث بھی ہے۔

پروفیسر لولوہ صالح اپنی کتاب الوقایۃ الصحۃ علی ضوء الکتاب و السنۃ  [کتاب و سنت کی روشنی میں صحت وپرہیز] میں لکھتی ہیں: روزہ رکھنے کے فائدے جو صحت اور تندرستی کے حوالے سے حاصل ہوتے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اب تو ایک عام شخص بھی اس حقیقت کو جانتا ہے اور اس کے نتائج کو محسوس کرتا ہے۔ وہ روزوں کے عمدہ صحت بخش فوائد کا اعتراف کرتا ہے۔

ڈاکٹر جمعہ کہتے ہیں: روزے سے ہائی بلڈپریشر نارمل ہو جاتا ہے۔ ماہِ رمضان میں بلڈپریشر کے کلینک اور ہسپتالوں کے متعلقہ شعبوں میں اس مرض کے مریضوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔

نظامِ انہضام کو روزوں کی بدولت بہت فائدہ ہوتا ہے۔ جب انسان کو روحانی ماحول، خاموشی اور تزکیہ پرور آسودگی میسر ہوتی ہے تو اس کا اثر ہاضمے کے نظام پر بھی براہ راست پڑتا ہے۔ نظام انہضام ایک طویل مدت تک بدہضمی سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ پروٹین اور نشاستہ پر مشتمل غذا سے آنتوں اور انتٹریوں کو پہنچنے والی تکالیف کا علاج کرنے میں روزہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر روے وال فرڈ کہتے ہیں کہ روزہ رکھنے اور فاقہ کشی سے انسان کی عمر طویل ہو جاتی ہے، کیونکہ روزہ صحت کو بہتر بناتا ہے اور بدن کو مضرت رساں فضلوں سے پاک کرتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالعزیز اسماعیل کہتے ہیں: طبی لحاظ سے روزہ بہت سے مواقع پر اختیار کیا جاتا ہے، جب کہ اکثر اوقات میں پرہیز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ معلوم ہو چکا ہے کہ بہت سے حالات میں روزہ ہی واحد علاج ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مائیک فیڈن کہتے ہیں: ہر شخص روزہ رکھنے کا محتاج ہے، اگرچہ وہ بیمار نہ بھی ہو، کیوںکہ جسم انسانی میں غذائوں، دوائوں اور تمباکو نوشی کے زہر اکٹھے ہوتے رہتے ہیں اور انسان کو مریض بنا دیتے ہیں۔ اسے سُست اور کم متحرک بنا دیتے ہیں (ان کا یہ پیغام عام مریضوں کے لیے بالعموم اور تمباکو نوش خواتین و حضرات کے لیے بالخصوص بہت اہم ہے)۔

بہت سی طبی تحقیقات اور مطالعات نے واضح کر دیا ہے کہ تمباکو کا دھواں ایک زہر ہے۔ بدقسمتی سے تمباکو کا نشہ بہت سے ممالک میں عام ہو چکا ہے۔ مشرق و مغرب کے کروڑوں لوگ اس نشے کے عادی ہیں۔ تمباکو نوشی کے نتیجے میں مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔اب تو تمباکو نوشی کے صحت کے لیے مضر اثرات ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکے ہیں۔ ان نقصانات سے کسی کو بھی انکار نہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ تمباکو نوشی کے مضر اثرات انسان کے پورے جسم کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ یہ نظام انہضام، اعصابی نظام، دورانِ خون کے نظام، گردوں کے نظام، جنسی تعلق، بچوں، حتیٰ کہ رحمِ مادر میںپرورش پانے والے جنین کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

امریکی سرجن اریگارٹس گراہم کہتا ہے:یہ ایک بالکل واضح حقیقت ہے کہ تمباکو نوشی، کینسر کی بیماری کو ۲۰ گنا زیادہ بڑھا دیتی ہے۔

تمباکو نوشی سے صحت کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں مطالعات ، حقائق ، اعدادو شمار اور جائزے بہت مرعوب کن اور خوف ناک ہیں۔ بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک ملک میں تقریباً ۲۰ہزار افراد کا انتقال دل کی بیماریوں کی وجہ سے ہوا، ۱۵ ہزار پھیپھڑوں کے امراض کی وجہ سے جاں بحق ہوئے اور ۳۳ہزار کینسر کے مرض کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ یہ سب کچھ ایک سال میں ہوا۔

سوال یہ ہے کہ پھر کیا کرنا چاہیے؟

ڈاکٹر آندرے سویپران کہتی ہیں: حفظانِ صحت کے اصولوں کا تقاضا ہے کہ تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ تمباکو کے دھوئیں سے آلودہ مقامات سے دُور رہا جائے۔

رمضان کا مہینہ اس کے لیے بہترین موقع ہے۔ بقول ڈاکٹر رابرٹ بارٹلر: اس میں شک نہیں کہ روزہ جراثیم سے نجات پانے کے لیے ایک فعال ذریعہ ہے۔

یہاں روزوں سے متعلق حفظانِ صحت کے کچھ قواعد اور حقائق عرض کیے جاتے ہیں:

اوّلاً: ابن قیمؒ فرماتے ہیں: شرعی روزہ رکھنے سے صحت کی حفاظت ہوتی ہے، بدن اور نفس کی ریاضت و مشق ہوتی ہے۔ کوئی بھی صحیح الفطرت انسان اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا۔

ثانیاً: ایک مغربی ڈاکٹر کہتا ہے: سال میں ایک ماہ روزے رکھنے سے بدن میں ایک سال کے دوران جمع ہونے والے تمام فاسدو مُردہ مادے ختم ہو جاتے ہیں۔

ثالثاً: ایک عمر رسیدہ خاتون ’میشیل انجلو‘ کہتی ہیں: میں اپنی صحت، قوت اور اپنی بڑی عمر میں چستی و توانائی کی حفاظت کرنے پر فخر محسوس کرتی ہوں۔ اس عمر میں صحت و توانائی کا راز یہ ہے کہ میں وقتاً فوقتاً روزے رکھتی ہوں۔ میں ہر سال ایک ماہ روزے رکھتی ہوں، ہر مہینے میں ایک ہفتہ روزے رکھتی ہوں، اور ہر ہفتے ایک دن روزہ رکھتی ہوں۔

رابعاً: ایک شخص ۱۱ دن مسلسل روزے رکھے تو اس کا وزن ۱۱کلو گرام کم ہوسکتا ہے، اور معدہ صحیح اور قوی۔ دوسرے ہفتے کے روزے مکمل کرنے کے بعد، اس کے بدن سے وہ تمام نمکیات نکل گئے جو اس کی عرقِ النسا (ران سے شروع ہونے والا جوڑوں کا درد) بیماری کا سبب تھے۔

بندئہ مومن ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے عطا کی اُمید رکھتا ہے اور ہمیشہ اُس سے مانگتا ہے۔ خزانے اُس کے ہیں مگر ختم نہ ہونے والے خزانے ہیں: وَ اِنْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُہٗ وَمَا نُنَزِّلُہٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (الحجر ۱۵:۲۱) ’’کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں‘‘۔

حدیث قدسی کا مفہوم ہے: ’’اے میرے بندو! اگر تمھارا اوّل و آخر شخص اور تمام جِنّ و انس ایک جگہ کھڑے ہوکر (بیک وقت) مجھ سے مانگیں اور میں ہرایک کو اس کی طلب کے مطابق عطا کردوں، تو یہ چیز میرے خزانے میں صرف اتنی سی کمی کرسکتی ہے جتنی سوئی سمندر میں ڈبو کر باہر نکالنے سے ہوتی ہے‘‘۔ (مسلم، ۲۵۷۷)

یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی طرف اشارہ ہے۔ بندۂ مومن کی نگاہ بڑے سے بڑے معاملے سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے امر میں بھی اللہ ہی کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا دیکھتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی تعلیم فرمائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’تم میں سے ہرشخص کو اپنی ہرحاجت اور ضرورت کا سوال اپنے رب سے کرنا چاہیے۔ یہاں تک کہ اگر اُس کے جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو وہ بھی اللہ ہی سے مانگے‘‘۔ (صحیح ابن حبان)

جب مسلمان کو یہ معلوم ہوجائے کہ ہرقسم کی نعمتوں کا خزانہ اللہ کے ہاتھ میں ہے تو     پھر مومن کا فرض ہے کہ وہ قبولیت کے تصور بلکہ یقین کے ساتھ اللہ سے دعا کرے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، آپؐ نے فرمایا: اللہ سے دعا کرو تو تمھیں اس کی قبولیت کا یقین ہونا چاہیے۔ (مستدرک حاکم، ترمذی)

  •  صرف اللہ ہی سے دُعا کرنا:عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرنا ہر عبادت کی اصل اور عمل کی اساس ہے:

فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَo(المؤمن ۴۰:۱۴)     (پس اے رجوع کرنے والو) اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، خواہ تمھارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

قرآن مجید کا بیان ہے:

وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِیَّاہُ ج فَلَمَّا نَجّٰکُمْ اِلَی الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ  ط وَ کَانَ الْاِنْسَانُ کَفُوْرًا o (بنی اسرائیل ۱۷:۶۷) جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اُس ایک (اللہ) کے سوا دوسرے جن جن کو تم پکارتے ہو وہ سب گم ہوجاتے ہیں، مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اُس سے منہ موڑ جاتے ہو۔ انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا ہے: اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوْٓ ئَ (النمل ۲۷:۶۲) ’’کون ہے جو بے قرارکی دُعا سنتا ہے، جب کہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟‘‘

آدابِ دعا میں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ دعا کا آغاز خالق ارض و سما کی حمدوثنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صلاۃ و سلام سے کیا جائے۔ حضرت فضالہ بن عُبیدؓ روایت کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے ایک آدمی کو سنا کہ اُس نے نماز میں نہ اللہ کی حمدوثنا کی، نہ رسولِ کریمؐ پر صلاۃ و سلام کی دعا کی۔ اس پر رسولؐ اللہ نے فرمایا: اس شخص نے جلدبازی سے کام لیا ہے۔ پھر اُس آدمی کو بلایا اور اُس سے یا کسی اور سے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص نماز ادا کرے تو اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا سے ابتدا کرے۔ پھر نبیؐ پر درو د و سلام کی دعا کرے، پھر جو مانگنا چاہے مانگے‘‘۔ (ترمذی)

  • دل کی حضوری اور نفس کی بیداری:مومن کا یہ عقیدہ ہے کہ ثواب کے خزانے بھی اللہ کے پاس ہیں اور عذاب کا اختیار بھی اُسی کو حاصل ہے۔ قلب ِ مومن ان دونوں احساسات کے ساتھ اپنے رب کے حضور میں پہنچتا ہے۔ اجروثواب کی کشش اور عذاب و عتاب کا خوف ایسی چیزیں ہیں کہ یہ مومن کے لیے حضوری قلب کا سبب بنی رہتی ہیں۔ مومن کی دعا کی شان یہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور حکم بھی یہی ہے کہ دعا و مناجات اور ذکروتسبیحات میں حضوری قلب اختیار کرو:

وَ اذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّ دُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَ لَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَo(اعراف ۷:۲۰۵) اے نبیؐ!  اپنے رب کو  صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم اُن لوگوں میں سے نہ ہوجائو، جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے کہ اللہ سے دعا کرو تو قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے کرو، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ غافل و لاپروا دل کی دعا کبھی قبول نہیں فرماتا۔ (مستدرک حاکم ،  ترمذی)

  • عزم و پختہ یقین سے مانگنا: دعا دراصل انسان کی عاجزی و بے بسی ، ناتوانی و کمزوری اور تہی دامنی کا اظہار ہے۔ رب کی قدرتِ کاملہ اور اس کے وسیع خزانوں کا اقرار ہے۔اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش کا اعتراف ہے۔ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی مومن اس سے مانگتا اور دنیا کی ہرطاقت کو  اللہ کے سامنے ہیچ سمجھتا ہے۔ مومن جس یقین کے ساتھ یہ عقیدہ رکھتا ہے اُسے اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کرتے ہوئے بھی اسی عزم و یقین سے کام لینا چاہیے۔ رسولؐ اللہ نے اسی لیے دعا میں استثنا کے اظہار سے منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو وہ انکسار و تواضع کا پورا زور اُس میں صرف کرے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ!اگر تو چاہے تو عطا فرما دے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو اُس کے لیے نامطلوب نہیں بنانا چاہتا‘‘۔ (بخاری، مسلم)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو یہ نہ کہے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو معاف فرما دے، بلکہ اپنے سوال میں زور پیدا کرے اور اپنی طلب میں رغبت کو بڑھائے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز گراں بار نہیں جسے وہ عطا نہ فرما سکے‘‘۔(بخاری، مسلم)

  •  دُعاے مستضعفین: اہل طائف کے بدترین ردعمل کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بارگاہِ رب میں دستِ دُعا بلند فرمائے:

اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضُعْفَ قُوَّتِی وَقِلَّۃَ حِیْلَتِی وَھَوَانِیْ عَلَی النَّاسِ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ، اَنْتَ رَبُّ المُسْتَضْعَفِیْنَ وَاَنْتَ رَبِّی، اِلٰی مَنْ تَکِلُنِی؟ اِلَی بَعِیْدٍ  یَتَجَھَّمُنِیْ اَمْ اِلٰی عَدُوٍ مَلَّکْتَہُ اَمْرِی؟ اِنْ لَمْ یَکُنْ بِکَ عَلَیَّ غَضَبٌ فَلَا أُبَالِی، وَلٰکِنَّ عَافِیَتَکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ، اَعُوْذُ بِنُورِ وَجْھِکَ الَّذِی اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ وَصَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ مِنْ اَنْ یَنْزِلَ بِی غَضَبُکَ اَوْ یَحِلَّ عَلَیَّ سَخَطُکَ، لَکَ العُتَبِی حَتّٰی تَرْضٰی وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِکَ ، بار الٰہا! میں اپنی کمزوری و بے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ تجھی سے کرتا ہوں، یا ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا بھی رب ہے۔ تومجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کسی بیگانے کے جو تندی سے میرے ساتھ پیش آئے؟ یا کسی دشمن کے جس کو تو نے میرے معاملے کا مالک بنا دیا ہے؟ اگر مجھ پر تو ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی کی ذرا پروا نہیں، لیکن تیری عافیت میرے لیے زیادہ کشادہ ہے۔ میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ چاہتاہوں جس سے اندھیرے روشن ہو جاتے ہیں اور دنیا و آخرت کے معاملات کا سدھار اسی پر ہے، کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو یا تیرا عتاب مجھ پر وارد ہو، تیری ہی رضا مطلوب ہے یہاں تک کہ تو خوش ہو جائے اور تیرے بغیرکوئی زور اور طاقت نہیں۔

  •  دُعاے بدر :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیں درست کرکے واپس آتے ہی اپنے پاک پروردگار سے نصرت و مدد کا وعدہ پورا کرنے کی دُعا مانگنے لگے۔ آپؐ کی دُعا یہ تھی:

اَللّٰھُمَّ اَنْجِزْلِی مَا وَعَدْتَّنِیْ، اَللّٰھُمَّ اَنْشُدُکَ عَھْدَکَ وَ وَعْدَکَ ،اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرے وعدے کا سوال کررہا ہوں۔

پھر جب گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی تو آپؐ نے یہ دُعا فرمائی:

اَللّٰھُمَّ اِنْ تَھْلِکْ ھٰذِہِ العِصَابَۃُ الْیَوْمَ لَا تُعْبَدُ، اَللّٰھُمَّ اِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْیَوْمِ اَبَدًا،اے اللہ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت کبھی نہ کی جائے۔

آپؐ نے خوب تضرع کے ساتھ دُعا کی۔ یہاں تک کہ دونوں کندھوں سے چادر گرگئی۔ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چادر درست کی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ!بس فرمائیے! آپؐ نے اپنے رب سے بڑے الحاح کے ساتھ دُعا فرمالی۔ ادھر اللہ نے فرشتوں کو وحی کی کہ:

اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ (الانفال۸:۱۲) میں تمھارے ساتھ ہوں، تم اہلِ ایمان کے قدم جمائو، میں کافروں کے دل میں رُعب ڈال دوں گا۔

اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی بھیجی کہ:

اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ (الانفال۸:۹) ’’میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمھاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جھپکی آئی۔ پھر آپؐ نے سر اُٹھایا اور فرمایا: ’’ابوبکرؓ خوش ہوجائو، یہ جبریل ؑ ہیں ، گردوغبار میں اَٹے ہوئے‘‘۔ ابن اسحاق کی روایت میں ہے آپؐ نے فرمایا:’’ ابوبکرؓ خوش ہوجائو، تمھارے پاس اللہ کی مدد آگئی۔ یہ جبریل ؑ ہیں، اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اور اس کے آگے آگے چلتے ہوئے آرہے ہیں اور گردوغبار میں اَٹے ہوئے ہیں‘‘۔

  • قبولیت کے لیے جلدبازی نامطلوب:عموماً دعا کرنے والا اپنی تکلیف سے نجات یا نعمت کے حصول کے لیے دعا کا سہارا تو لیتا ہے مگر جلدبازی کرتا ہے۔ انسان کی یہ جلدبازی قبولیت ِ دعا میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اُس کی دعا قبولیت کو ابھی پہنچ نہیں پاتی کہ وہ ہمت ہار بیٹھتا ہے اور دُعا کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’جب تک بندہ کسی گناہ کے کام یا رشتہ داری توڑنے کے لیے دعا نہیں کرتا ، یا جلدی کا طالب نہیں ہوتا اُس کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے۔ پوچھا گیا: یارسولؐ اللہ! جلدی سے کیا مراد ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اُس کا   یہ کہنا کہ میں تو دعا کرکر کے تھک گیا ہوں، مجھے نہیں دکھائی دیتا کہ میری دعا قبول ہوگی۔ پھر اس مرحلے پر پہنچ کر وہ دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے‘‘۔(مسلم)

بندۂ مومن قبولیت ِ دعا میں ایسی نامطلوب عجلت کا متمنی کیسے ہوسکتا ہے کیوںکہ اللہ کئی اسباب اور وجوہ کی بنا پر قبولیتِ دعا کو مؤخر کرسکتا ہے اور یہ تاخیر بھی مومن کے لیے باعث ِ خیر ہوتی ہے۔ جب بندئہ مومن کی دعائیں قبول نہ ہورہی ہوں تو اُسے اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ اللہ سے اپنے    تمام گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اور ساتھ ساتھ اپنی حاجت و ضرورت کو بھی کمال ترین تواضع کے ساتھ مسلسل اپنے رب کے سامنے پیش کرتے رہنا چاہیے۔ وہ اپنی درخواست کی منظوری کا شدید حریص ہو اور بار بار اس عرض کو بارگاہ الٰہ العالمین میں پیش کرے۔ دعا کی قبولیت اور عدم قبولیت دونوں صورتوں میں دعا کا یہ مسلسل عمل اس کے لیے سراسر خیرواجر کا سبب بنے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو مسلمان بھی اللہ سے کوئی دعا کرے اور اس میں گناہ کا عمل نہ ہو اور قطع رحمی کا سوال نہ ہو تو اللہ تعالیٰ دُعا کرنے والے کو تین میں سے ایک چیز عطا کردیتا ہے۔ یا تو اُس کی دعا فوراً قبول ہوجائے گی، یا اس دعا کو آخرت میں اُس کے لیے ذخیرہ کردیا جائے گا، یا اس دعا میں مانگی گئی چیز کے برابر کسی بڑی مصیبت کو ٹال دیا جائے گا‘‘۔(مسنداحمد)

یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ کسی دعا کی قبولیت کا عمل طویل عرصے کے لیے بھی مؤخر ہوسکتا ہے۔ حضرت ایوبؑ کی بیماری سے شفا اور حضرت یوسف ؑ کی واپسی کے لیے حضرت یعقوب ؑ کی دعائیں اِس کی واضح مثال ہیں۔ حالاںکہ یہ دونوں ہستیاں زمرئہ انبیا ؑمیں شامل ہیں۔ لہٰذا ناگزیر ہے کہ بندۂ مومن اپنے رب کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو اور دعا کا عمل کبھی ترک نہ کرے۔ دعا بذاتِ خود اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو ہر صورت اور شکل میں بندے کے لیے خیروفلاح کی ضامن ہے۔

  • سرگوشی و شائستگی کا انداز :دعا ایک عرض، درخواست اور التجا ہے۔ جس طرح دنیاوی اُمور میں اس کے آداب میں نرمی، شائستگی اور ادب کا ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے، اس سے ہزار گنا زیادہ رب کے سامنے پیش ہونے والی درخواست، یعنی دعا میں اس کو ملحوظ رکھنا ناگزیر ہے۔ ان اُمور میں سے ایک بات آواز کو ہلکا اور مدھم رکھنا ہے۔ خود قرآنِ مجید کے اندر اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ: اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ط اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَo (اعراف ۷:۵۵) ’’اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔

حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ لوگوں نے ایک موقعے پر بلندآواز سے تکبیر پڑھنا شروع کر دی۔ اس پر نبی کریمؐ نے فرمایا: لوگو! اپنے اُوپر ترس کھائو، تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے، بلکہ سمیع اور قریب کو پکار رہے ہو اور وہ تمھارے ساتھ ہے۔(بخاری، مسلم)

بعض لوگ جذبات میں دعائیہ کلمات کو ایسے لب و لہجے میں ادا کرتے ہیں گویا اللہ سے دعا نہیں کی جارہی، بلکہ اُسے حکم دیا جا رہا ہے۔ ظلم کی شدت اور انتہا کا اثر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انسان دعا کے اندر شائستگی اور نرمی ہی کو بھول جائے۔ ایسی دعا تو زیادہ سے زیادہ رازدارانہ انداز میں ہونی چاہیے۔

  • وقتِ سحر و نیم شبی:رات کا پچھلا پہر، نیم شب، وقت ِ سحر ، رب سے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے اور اُس سے مانگنے کا بہترین اور خاص موقع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہمارا رب روزانہ رات کو آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ جب رات کی آخری تہائی باقی رہ جاتی ہے تو فرماتاہے: کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اُس کی دعا کو قبول کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اُسے عطا کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے گناہوں کی مغفرت طلب کرے اور میں اُسے معاف کردوں؟‘‘ (بخاری، مسلم)

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولؐ اللہ کو فرماتے سنا کہ: ’’رات کی ایک ساعت ایسی ہے جس میں کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کے کسی امر میں خیر مانگے تو اللہ اُسے وہ عطا کردیتا ہے اور یہ روزانہ کا عمل ہے‘‘۔ (مسلم)

نماز ایک ایسا عمل ہے جو اوّل و آخر ذکر و تسبیحات اور دعا و مناجات پر مشتمل ہے۔ نماز کے کسی بھی حصے میں دعا کی جائے تو اس کی قبولیت کے امکانات اسی قدر روشن ہوتے ہیں جس قدر دعا میں اخلاص و للہیت اور عاجزی و انکساری ہو۔ نماز کی اس اہمیت کے باوجود ایک خاص کیفیت ایسی ہے جو نماز ہی کا حصہ ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حالت ِ سجدہ میں بندہ اپنے رب سے قریب ترین ہوتا ہے‘‘۔(مسلم)

  • حرام رزق کے منفی اثرات: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگو! یقینا    اللہ تعالیٰ طیب ہے اور طیب (پاک) چیزوں کو ہی قبول کرتا ہے، اور اللہ نے مومنین کو بھی وہی حکم دیا ہے جو مُرسلین کو دیا ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ط(المومنون ۲۳:۵۱) اے پیغمبرو ؑ! پاک اور طیب چیزیں کھائو اور صالح عمل کرو۔

اور (دوسری جگہ) فرمایا:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ (البقرہ ۲:۱۷۲) اے    اہلِ ایمان! ہم نے تمھیں جو پاکیزہ رزق دیا ہے اس سے کھائو۔

پھر آپؐ نے اُس شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے جس سے اس کے بال اُلجھے ہوئے اور جسم غبارآلود ہوجاتا ہے۔ وہ اسی حالت میں آسمان کی طرف متوجہ ہوکر دست ِ دعا دراز کرتا ہے۔ کہتا ہے: اے رب! اے رب! جب کہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام، اور اس کی پرورش بھی حرام غذا سے ہوئی ہوتی ہے، تو پھر کیسے اس کی دعا قبول ہوگی؟(مسلم، ۱۰۱۵)

  • دُعا مومن کا ہتھیار: امام ابن قیمؒ کے مطابق مصائب و مشکلات میں دعا کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:

                ۱-            اگر دعا مصیبت سے قوی تر ہو تو مصیبت سے نجات کا ذریعہ بن جائے گی۔

                ۲-            اگر مصیبت سے دعا کمزور ہے تو مصیبت اُس کے اُوپر غلبہ پا لے گی اور بندہ اُس سے دوچار ہوجائے گا۔ لیکن اس دعا کا اتنا فائدہ ضرور ہوگا کہ مصیبت کی شدت کم ہوجائے گی۔

                ۳-            اگر مذکورہ دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو دونوں باہم کش مکش اور تصادم کے دوران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔(الجواب الکافی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی چاہتا ہو کہ کرب و بلا اور مصائب میں اُس کی دعا قبول ہو، تو وہ خوش حالی اور سلامتی کے زمانے میں کثرت سے دعا کرے۔ (ترمذی)

جب تمام سہارے ختم ہوجائیں، تمام اسباب بے کار ہوجائیں تو مومن کے پاس دعا کی صورت میں پھر بھی ایک مضبوط سہارا باقی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے:

وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ط اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ لا فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ o(البقرہ ۲:۱۸۶) اور اے نبیؐ! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انھیں بتادو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا، اُنھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں، شاید کہ وہ راہِ راست پالیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا ہے:

  • اور ظلم کرنے والے بہت جلد جان لیں گے کہ اُن کا (آخری) ٹھکانا کیا ہے؟ (الشعراء: ۲۲۷)
  •       جس دن اُن کے چہرے آگ میں پلٹ دیے جائیں گے، وہ کہیں گے: کاش، ہم نے اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کی ہوتی اور وہ کہیں گے: اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کا کہا مانا، تو انھوں نے ہمیں گمراہ کر دیا، اے ہمارے پروردگار، انھیں (ہم سے) دگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت فرما۔ (الاحزاب ۳۳:۶۶-۶۸)
  • اور متکبرین نے (اپنے عہد کے) بے بس لوگوں سے کہا: تمھارے پاس ہدایت آنے کے بعد کیا ہم نے تمھیں ہدایت سے روکا تھا، بلکہ تم (خود ہی) مجرم تھے۔ (السبا:۳۲)
  • اور جب اہلِ جہنم آپس میں جھگڑا کریں گے تو کمزور لوگ (اپنے عہد کے) متکبرین سے کہیں گے، ہم تو تمھارے پیچھے چلنے والے تھے، کیا (آج) تم جہنم کے عذاب سے نجات کے لیے ہمارے کسی کام آئوگے؟ (المومن :۴۷)

حدیث ِ پاک میں ہے، سہل بن سعد ساعدی بیان کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (میدانِ جنگ میں) ایک شخص کو دیکھا کہ وہ مشرکوں سے قتال کر رہا ہے اور وہ (بظاہر) مسلمانوں کی طرف سے بہت بڑا دفاع کرنے والا تھا۔

آپؐ نے فرمایا: ’’جو کسی جہنّمی شخص کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ اس شخص کو دیکھے‘‘۔ پھر ایک شخص (اس کی حقیقت جاننے کے لیے) مسلسل اُس شخص کا پیچھا کرتا رہا، یہاں تک کہ وہ زخمی ہوگیا،     سو اُس نے (تکلیف سے بے قرار ہوکر) جلد موت سے ہمکنار ہونے کی کوشش کی، وہ اپنی تلوار کی دھار کی طرف جھکا اور اُسے اپنے سینے کے درمیان رکھ کر اپنے پورے بدن کا بوجھ اس پر ڈال دیا، یہاں تک کہ تلوار (اُس کے سینے کو چیر کر) دو شانوں کے درمیان سے نکل گئی۔

اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بندہ لوگوں کے سامنے اہلِ جنّت کے سے عمل کرتا چلا جاتا ہے، حالاں کہ درحقیقت وہ اہلِ جہنم میں سے ہوتا ہے، اسی طرح ایک بندہ لوگوں کے سامنے بظاہر اہلِ جہنم کے سے کام کرتا چلا جاتا ہے، حالاں کہ درحقیقت وہ اہلِ جنّت میں سے ہوتا ہے اور اعمال کے نتائج کا مدار اُن کے انجام پر ہوگا‘‘۔ (بخاری: ۶۴۹۳)

اس کی شرح میں علامہ بدرالدین عینیl لکھتے ہیں: اس سے پہلی حدیث میں مذکور ہے: اُس شخص نے اپنے ترکش سے تیر نکال کر اُس سے اپنا گلا کاٹ ڈالا اور اس حدیث میں مذکور ہے: اُس نے تلوار کی نوک اپنے سینے پر رکھ کر اپنے آپ کو اُس پر گرا دیا، حتیٰ کہ وہ اُس کے بدن کے آرپار ہوگئی۔ سو ان دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض ہے۔ دونوں روایتوں میں تطبیق کی صورت  یہ ہے: ہوسکتا ہے کہ اُس نے پہلے تیر سے اپنا گلا کاٹنے کی کوشش کی ہو اور پھر تکلیف سے جلد نجات پانے کے لیے تلوار کی نوک اپنے سینے پر رکھ کر اپنے آپ کو اس پر گرا دیا ہو ۔ یہ تاویل اُس صورت میں ہے کہ دونوں حدیثیں ایک ہی واقعے سے متعلق ہوں اور اگر یہ دو الگ الگ واقعات ہیں تو پھر کوئی تعارض نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری،ج۲۳، ص ۲۳۶)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اور اُس وقت کو یاد کرو جب آپ کے ربّ نے بنی آدم کی پشتوں سے اُن کی نسل کو نکالا اور اُن کو خود اپنے آپ پر گواہ بناتے ہوئے فرمایا:کیا میں تمھارا ربّ نہیں ہوں؟ اُن سب نے (یک زبان ہوکر کہا): کیوں نہیں! (یقینا تو ہمارا ربّ ہے)۔ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، مبادا تم (کل) قیامت کے دن یہ (نہ) کہہ دو کہ ہم اس سے بے خبر تھے۔ (اعراف ۷:۱۷۲)

ایک حدیث نبویؐ میں ہے: حضرت عمرؓ بن خطاب سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی بابت فرماتے ہوئے سنا: ’’بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اُن کی پشت کو چھوا، اُس سے اُن کی اولاد کو نکالا اور فرمایا: ان کو مَیں نے جنّت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہلِ جنّت کے سے عمل ہی کرتے چلے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پھر اُن کی پشت کو چھوا، اُس سے اُن کی اولاد کو نکالا اور فرمایا: میں نے ان کو جہنّم کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ جہنمیوں کے سے عمل ہی کرتے چلے جائیں گے‘‘۔

اس پر ایک شخص نے عرض کیا: (اگر سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہے) تو عمل کی کیا حیثیت ہے؟

(حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں:) رسول ؐ اللہ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ جب بندے کو جنّت کے لیے پیدا فرماتا ہے تو اُس سے اہلِ جنّت کے سے کام کراتا ہے یہاں تک کہ اُس کی موت اہلِ جنّت ہی کے کسی عمل پر ہوتی ہے اور اُس کے سبب اُسے جنّت میں داخل فرما دیتا ہے اور جب اللہ بندے کو جہنّم کے لیے پیدا کرتا ہے تو اُس سے جہنمیوں کے سے کام کراتا ہے یہاں تک کہ اُس کی موت اہلِ جہنّم ہی کے کسی عمل پر ہوتی ہے، سو اُسے جہنم میں داخل فرما دیتا ہے‘‘۔ (موطا امام مالک، ۳۳۳۷)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’پس جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور تقویٰ پر کاربند رہا اور نیک باتوں کی تصدیق کرتا رہا، تو بہت جلد ہم اُسے آسانی مہیا کردیں گے (اللیل ۹۰:۵-۷)‘‘، یعنی بندے کی مخلصانہ مساعی بارآور ہوں گی۔

اسی مفہوم کو ایک اور حدیث پاکؐ میں ان کلمات میں بیان فرمایا: ’’ہر ایک کا انجام اللہ تعالیٰ کے ہاں مقدر ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! تو کیا ہم صحیفۂ تقدیر پر توکّل کرتے ہوئے عمل سے دست بردار نہ ہوجائیں؟

آپؐ نے فرمایا: تم (اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) نیک کام کیے چلے جائو،  جسے جس جبلّت پر پیدا کیا ہے اللہ تعالیٰ اُس منزل کے حصول کی خاطر اُس کے لیے آسانیاں مقدر فرما دیتا ہے۔ (بخاری: ۴۹۴۹)

امیرالمومنین حضرت علیؓ سے تقدیر کی بابت سوال ہوا تو آپؓ نے فرمایا: ’’یہ تاریک راستہ ہے اس پر نہ چلو (کہ بھٹک جائو گے)، یہ گہرا سمندر ہے اس میں غوطہ نہ لگائو (کہ غرق ہوجائو گے)، یہ اللہ کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز ہے، اپنے آپ کو اس کے جاننے کا پابند نہ بنائو   (کہ گمراہ ہوجائو گے)‘‘۔ یعنی انسان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور شریعت ِ مطہرہ کے احکام پر کاربند رہنا چاہیے، کیوں کہ اُنھیں اسی کا مکلف ٹھیرایا گیا ہے۔ تقدیر ایسا امر ہے جس کی حقیقت جاننے کا مسلمانوں کو پابند نہیں بنایا گیا۔

حضرت عمر فاروقؓ کا معمول تھا کہ اسلامی ریاست میں اَسفار کے دوران راستے میں آنے والی بستیوں کا مشاہدہ کرتے، لوگوں کے احوال معلوم کرتے اور اُن کی ضرورتوں کو پورا کرتے۔ وہ فتح بیت المقدس کے لیے شام کے سفر پر تھے کہ سَرغ کے مقام پر پہنچے۔ وہاں انھیں معلوم ہوا کہ اس بستی میں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ آپ نے اکابر صحابہ کرامؓ سے مشورے کے بعد اس بستی میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: اِس موقعے پر حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓنے کہا: ’’(عمر!) اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہو؟ ‘‘

حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’اے ابوعبیدہ، کاش کہ یہ بات تمھارے علاوہ کسی اور نے کہی ہوتی‘‘ (یعنی یہ بات آپ کے شایانِ شان نہیں ہے) کیونکہ حضرت عمرؓ اُن سے اختلاف کو پسند نہیں فرماتے تھے، پس اُنھوں نے جواب دیا: ’’ہاں، اللہ کی تقدیر سے بھاگ کر اُسی کی تقدیر کی پناہ میں جا رہاہوں‘‘۔

اس بحث کے دوران حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ وہاں تشریف لائے اور کہا: ’’ایسی صورتِ حال کے بارے میں میرے پاس رسولؐ اللہ کی ہدایت موجود ہے‘‘۔

آپؐ نے فرمایا: ’’جب تم سنو کہ کسی بستی میں طاعون ہے، تو وہاں نہ جائو اور جس بستی میں  یہ وباآجائے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو وہاں سے نکل کر باہر نہ جائو‘‘۔

 حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: ’’یہ حدیث سن کرحضرت عمرؓ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور چلے گئے‘‘۔ (نوٹ: یہ صحیح مسلم کی حدیث۲۲۱۹ میں بیان کردہ طویل روایت کا خلاصہ ہے۔)

واضح رہے کہ طاعون (Plague) ایک متعدی (Infectious) بیماری ہے، جو ایک سے دوسرے کو لگ جاتی ہے۔ یہاں یہ تعلیم فرمایا گیا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا تقدیر کے منافی نہیں ہے بلکہ یہ تقدیر کا حصہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ کا فرمان لَا عَدُویٰ (کوئی بیماری متعدی نہیں ہے) اس پر محمول ہے کہ بیماری کا متعدی ہونا اسباب میں سے ہے، مگر اسباب کی تاثیر مسبب الاسباب، یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے۔ اگر بیماری کی تاثیر ذاتی ہو تو جس جگہ وبا پھیل جائے، کوئی انسان نہ بچ پائے، اور اگر دوا میں ذاتی شفا ہو تو اُس دوا کے استعمال سے ہربیمار شفایاب ہوجائے، حالاں کہ ہمارا مشاہدہ اس کے برعکس ہے۔

پس، ہر چیز کی تاثیر اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیت پر موقوف ہے۔ صحابی نے رسول ؐاللہ سے دریافت کیا: ’’یارسولؐ اللہ! ہمارے اُونٹ ریگستان میں ہرنیوں کی طرح اُچھل کود کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئی خارش زدہ اُونٹ اُن میں اچانک داخل ہوتا ہے اور اُس کی وجہ سے سب کو خارش کی بیماری لگ جاتی ہے‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’’پہلے اُونٹ کو بیماری کہاں سے لگی؟‘‘ (بخاری: ۵۷۷۰)۔ یعنی اسباب کی تاثیر اللہ کی مشیت پر موقوف ہے۔

رہا یہ سوال کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیوں فرمایا ہے کہ طاعون زدہ بستی سے کوئی باہر نہ جائے؟ اگر سبھی صحت مند لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بستی سے نکل کر باہر چلے جائیں تو وبا میں مبتلا لوگوں کا علاج کون کرے گا اور قضاے الٰہی سے جن کی موت واقع ہوجائے، اُن کی نمازِجنازہ ، تکفین اور تدفین کا انتظام کون کرے گا؟ کیوںکہ یہ اُمور بھی شریعت کی رُو سے لازم ہیں اور اسلامی معاشرے پر بحیثیت مجموعی فرضِ کفایہ ہیں۔

اللہ رب العالمین نے اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے جو اسباب و وسائل عطا کیے ہیں، ان کے تعلق سے اسی نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ ان کے استعمال میں افراط و تفریط سے پرہیز کیا جائے۔ اسی افراط کو فضول خرچی یا اسراف و تبذیر کہا جاتا ہے اور تفریط کو بخل یا تقتیر کا نام دیا جاتا ہے۔ اسراف و تقتیر یہ دونوں مذموم حدیں ہیں، انھیں چھوڑ کر انسان کو میانہ روی، اعتدال اور توازن کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا (الفرقان ۲۵:۶۷) جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بُخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہائوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔

درحقیقت فضول خرچی، اللہ کی ناشکری اور نعمت کی ناقدری ہے، کیوں کہ اپنے مال و اسباب کو اِدھر اُدھر بے دردی کے ساتھ اُڑانے والا انسان، اللہ کی مرضی کو فراموش کرکے اپنے نفس امارہ کا غلام بنا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا o اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ط وَ کَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا o (بنی اسرائیل ۱۷: ۲۶-۲۷) فضول خرچی نہ کرو، فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ شیطان جس طرح رب کا ناشکرا ہے، اسی طرح فضو ل خرچ انسان اپنے عمل سے کفرانِ نعمت کا ارتکاب کرتا ہے اور رب کے غیظ و غضب کا مستحق ٹھیرتا ہے۔

فضول خرچی کی مختلف شکلیں اور مظاہر ہیں۔ ایک غیرمحتاط انسان مختلف طریقوں اور مختلف موقعوں پر اس بُری عادت اور مذموم عمل کو دُہراتا رہتا ہے، جن میں خاص طور سے کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، خوشی منانے اور مختلف مذہبی و سماجی تقریبات شامل ہیں۔ اکل و شرب کے تعلق سے قرآنی آیت بڑے واضح اور صریح الفاظ میں اہلِ ایمان کو مخاطب کرتی ہے:

وَّ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَo(اعراف ۷:۳۱) اور کھائو پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

دیکھیے کس قدر مختصر اور دوٹوک انداز میں اسراف کی ممانعت کو اکل و شرب سے جوڑا گیا ہے۔

حضرت مقدام بن معدی کربؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’آدمی پیٹ سے زیادہ بُرے کسی برتن کو نہیں بھرتا۔ انسان کے لیے   چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھ سکیں۔ البتہ آدمی اگر بضد ہے تو ایک تہائی حصے میں کھانا کھائے، ایک تہائی حصے میں پانی پیے، اور ایک تہائی حصہ سانس لینے کے لیے باقی رکھے‘‘۔ (احمد، ترمذی،  ابن ماجہ )

کھانے پینے میں اسراف اور بے احتیاطی کے جو دینی اور روحانی نقصانات ہیں وہ اپنی جگہ پر ، ساتھ ہی اس کے متعدد جسمانی اور طبی نقصانات بھی ہیں۔ پھر جو سماجی بُرائیاں اس سے جنم لیتی ہیں وہ الگ ہیں۔ آج اکل و شرب میں اسراف ایک سماجی فیشن بن چکا ہے، جو گھن کی طرح معاشرے کو چاٹ رہا ہے۔ پانچ آدمی کو کھانے یا کھلانے کے لیے ۲۵ آدمیوں کا کھانا بنایا یا خریدا جاتا ہے اور انواع و اقسام اتنے کہ سب میں سے اگر صرف ایک ایک لقمہ بھی لیا جائے تو معدہ اس کی تاب نہ لاسکے۔ اس کے بعد بچا ہوا اکثر کھانا تتربتر ہوجاتا ہے اور کوڑے دان کی نذر ہوتا ہے۔

  •  تقریبات: شادی بیاہ کے مواقع پر بھی اکثر لوگ اسراف و تبذیرکا خوب خوب مظاہرہ کرتے ہیں۔ فضول رسموں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہوتا ہے جس میں پانی کی طرح پیسہ بہایا جاتا ہے۔ ان لایعنی رسموں میں سے کسی ایک کو بھی ترک کرنا گویا جرم تصور کیا جاتا ہے ، حتیٰ کہ مالی اعتبار سے کمزور لوگ بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہتے۔ قرض لے کر اور بسااوقات امداد لے کر ہی سہی ایک ایک کر کے ان لوازمات کو فخر سے پورا کرتے ہیں۔ ہماری شریعت میں تو شادی اور نکاح کے عمل کو بہت آسان اور سادہ بنایا گیا تھا اور بے تکلفی اور سادگی سے شادی بیاہ کے مراسم انجام دینے کی ترغیب دی گئی تھی۔آسانی اور سادگی سے انجام پانے والی شادی کو خیروبرکت والی شادی گردانا گیا تھا، مگر ان تمام ہدایات کو نظرانداز کر کے ہم نے دنیا بھر کے جھمیلے پال لیے اور اپنی بربادی کا گویا خود اپنے ہاتھوں انتظام کرلیا۔ شادی بیاہ کی رسموں کو فروغ اور بڑھاوا دینے میں عورتیں پیش پیش رہتی ہیں اور کسی بھی رسم کو چاہے وہ کتنی ہی غیرضروری اور لایعنی کیوں نہ ہو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔

فضول خرچی کا ایک مظہر منگنی کی تقریبات بھی ہیں، جن کا زور روز بہ روز بڑھتا جا رہا ہے  حتیٰ کہ بعض لوگ اس کا اس اسراف کے ساتھ اہتمام کرتے ہیں کہ اس میں خرچ ہونے والے سرمایے سے ایک درمیانہ نوعیت کی شادی کا انتظام ہوسکتا ہے۔

لباس و پوشاک میں بھی بسااوقات انسان افراط و اسراف سے کام لیتا ہے۔ لباس کا اصل مقصد سترپوشی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس سے زینت بھی حاصل ہوتی ہے، جیساکہ فرمانِ الٰہی ہے:

یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَ رِیْشًا ط(اعراف ۷:۲۶) اے اولادِ آدم ؑ! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمھارے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمھارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو۔

  •  لباس: اکل و شرب کے لوازمات کی طرح اللہ جل شانہ نے انسان کو پہننے، اُوڑھنے کے سامان بھی مہیا کیے ہیں، البتہ طعام و شراب کی طرح یہاں بھی کفایت شعاری کی تعلیم ہے۔ چنانچہ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی روایت میں بسند حسن مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کُلُوْا وَتَصَدَّقُوْا وَالْبَسُوْا فِیْ غَیْرِ اِسْرَافٍ وَلَا مَخِیْلَۃٍ(نسائی و ابن ماجہ) کھائو، صدقہ کرو اور لباس استعمال کرو، لیکن اسراف اور غرور و گھمنڈ نہیں ہونا چاہیے۔

لباس ہی تک معاملہ محدود نہیں ہے۔ انسان کو اپنی پوری زندگی میں تفاخر اور عیش پرستی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجا تو انھیں نصیحت فرمائی:

اِیَّاکَ وَالتَّنَعُّمَ ، فَاِنَّ عِبَادَ اللہِ لَیْسُوْا بِالْمُتَنَعِّمِیْنَ(احمد) عیش و عشرت سے بچو، اللہ کے بندے عیش و عشرت والے نہیں ہوا کرتے۔

اب ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہم لباس و پوشاک کے معاملے میں مسرفانہ جاہ و جلال کے طلب گار تو نہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ دو تین واجبی جوڑوں کے بجاے درجن بھر یا اس سے بھی زائد کپڑوں سے ہماری الماریاں تنگ پڑتی ہیں اور ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ کی صورتِ حال سے بھی دوچار ہوتے ہیں، اتنے گراں اور بیش قیمت کپڑوں کے اَن گنت جوڑے کہ جن میں سے ایک کی قیمت سے کئی کئی انسانوں کی سترپوشی کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے۔ ہمارے پاس ایسے کپڑوں اور جوڑوں کی لائن تو نہیں لگی ہے۔

  •  رہایش : اسی طرح گھر اور مکان کی تعمیر اور ان کے لوازمات کی فراہمی میں بھی بعض لوگ پانی کی طرح پیسہ بہاتے ہیں، رہایشی ضرورت سے کئی گنا بڑا مکان بنانا، بلاضرورت متعدد مکان تعمیر کرانا، ان کی آرایش و زیبایش، فرنیچر اور دیگر لوازمات پر بے دریغ خرچ کرنا، نگاہوں کو چکاچوند کرنے والی لائنیں اور برقی قمقمے لگوانا وغیرہ وغیرہ، کیا یہ اسراف، عیش پرستی اور فخرو غرور میں داخل نہیں۔ گھر اور مکان تو بنیادی طور پر انسان کو سر چھپانے کے لیے ، سردی گرمی سے حفاظت کے لیے اور مال و اسباب کے تحفظ کے لیے ہوتا ہے۔ جس نوعیت کی تعمیر سے یہ مقاصد پورے ہوجائیں، اسی پر اکتفا کرنا چاہیے اور تکلف، تصنع یا شہرت اور نام و نمود کا قصد ہرگز نہ ہونا چاہیے، کیوں کہ   ہم جیسے انسانوں کی ایک بڑی تعداد اس سرزمین پر ایسی بھی بستی ہے جس کے پاس چند گز زمین یا معمولی ترین جھونپڑا بھی اپنا اور اپنے بال بچوں کا سر چھپانے کے لیے میسر نہیں۔
  •  پانی: پانی کے مسرفانہ استعمال کو شاید لوگ فضول خرچی نہیں تصور کرتے کیوں کہ عموماً پانی مفت میں دستیاب ہوتا ہے، حالاںکہ پانی اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ اور مخلوقات کی زندگی کا دارومدار اسی پانی پر ہے جیساکہ خالق دوعالم نے فرمایا:

وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآئِ کُلَّ شَیْ ئٍ حَیٍّ ط(الانبیاء ۲۱:۳۰) اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔

لیکن ہم نے اتنا پانی برباد کیا اور کر رہے ہیں کہ آج جگہ جگہ پانی کے مسائل کھڑے ہورہے ہیں، ہینڈپمپ، کنویں، تالاب اور ندیاں سُوکھ رہی ہیں۔ زیرزمین پانی کی سطح روز بہ روز نیچی ہوتی جارہی ہے، زمین سے پانی نکالنے والی مشینیں اور موٹریں فیل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، لیکن پھر بھی ہم محتاط ہوتے نہیں نظر آتے۔

موبائل کا بے جا استعمال بھی اسراف و تبذیر کی حدیں پار کر رہا ہے۔ مہنگے سے مہنگا موبائل خریدنا، ہر کچھ دن کے بعد نئے ماڈل کی تلاش میں اسے بدلتے رہنا ، کئی کئی موبائل بیک وقت رکھنا، عورتوں، بچوں، بوڑھوں، نوجوانوں سب کے ہاتھوں میں ایک سے اعلیٰ ایک موبائل اور اس کے بجا اور بے جا استعمال سب کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ پھر اپنے وقت کا قیمتی حصہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ضائع کرنا، اس پر اپنی کمائی کا اچھا خاصا پیسہ صرف کرنا اور اپنے مال کے ساتھ اپناوقت اور صحت سب برباد کرنا کیا اسراف میں داخل نہیں ہوگا۔

  •  دولت: یہ بات کسی پر مخفی نہ ہوگی کہ دنیا کے اکثر حصوں میں عوام کی اکثریت غربت اور فاقہ کشی کا شکار ہے۔ غذا، علاج، بنیادی تعلیم اور ڈھیر سارے مسائل اس کے سامنے ہیں، جن کے لیے وہ پائی پائی کو ترستی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ایک اعشاریہ ۲۹؍بلین افراد غریب ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے کی ۲۰۰۰ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی تمام دولت کا ۴۰ فی صد حصہ صرف ایک فی صد امیرترین لوگوں کے قبضہ میں ہے اور دنیا کے ۱۰فی صد امیر افراد ۸۵ فی صد دولت پر قابض ہیں۔ دنیا کی نصف آبادی دنیا کے ۹۹ فی صد دولت کی مالک ہے، جب کہ دنیا کی بقیہ نصف آبادی صرف ایک فی صد دولت پر گزارا کرنے پر مجبور ہے۔

دولت کی یہ غیرمنصفانہ تقسیم معاشرے پر کیا بُرا اثر چھوڑتی ہوگی، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ایک طرف اربوں اور کھربوں میں کھیلنے والوں کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ اور اسراف و تبذیر والی زندگی ہے تو دوسری طرف پائی پائی کو ترسنے والے نان شبینہ کے محتاج عوام ہیں۔

ہمارے دین نے ہمیشہ مال داروں اور آسودہ حال لوگوں کو کمزوروں اور غریبوںپر خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس نے اس سے آگے بڑھ کر ایثار و قربانی کے جذبے کو فروغ دیا ہے۔ مال و دولت کی کمائی اور خرچ دونوں کے تعلق سے اس کی ذمہ داری طے کی ہے۔ چنانچہ قیامت کے دن جن چار یا پانچ سوالوں کا جواب دیے بغیر کوئی بندہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکے گا۔ ان میں ایک سوال مال کے تعلق سے ہوگا کہ مِنْ أَیْنَ اکْتَسَبَہٗ وَفِیْمَ اَنْفَقَہٗ  (ترمذی) ’’یعنی مال کمایا کہاں سے اور خرچ کہاں کیا؟ آمدوخرچ دونوں کا حساب دینا ضروری ہوگا‘‘۔

ایک حدیث میں مال کو ضائع کرنے سے روکتے ہوئے فرمایا گیا: وَیَکْرَہُ لَکُمْ قِیْلَ وَقَالَ، وَکَثْرَۃَ السُّؤَالِ، وَ اِضَاعَۃَ الْمَالِ (مسلم)یعنی ’’اللہ تعالیٰ یاوہ گوئی، زیادہ سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو ناپسند فرماتا ہے‘‘۔

ایک سلیم الفطرت مسلمان کو چاہیے کہ اللہ کے عطاکردہ مال و دولت کو احتیاط اور کفایت شعاری سے خرچ کرے، کھانے پینے، اوڑھنے، رہنے سہنے اور دیگر تمام شعبہ ہاے زندگی میں اعتدال و میانہ روی کا مظاہرہ کرے، بے جا رسومات اور غیرضروری تکلفات میں پڑ کر خود کو اور اپنے سماج کو تباہی کے راستے پر نہ لے جائے۔ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اس میں غریبوں، مسکینوں اور حاجت مندوں کا حق تسلیم کرے اور ان تک برضا و رغبت اسے پہنچائے۔    یہ ایک دینی فریضہ بھی ہے اور انسانی و اخلاقی ذمہ داری بھی۔ اگر ایسا نہ کیا گیا اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو پاکر فسق و فجور اور اسراف و تبذیر کے راستے پر چلنے لگے، تو سابقہ قوموں اور سرمایہ داروں کا انجام سامنے رکھنا ہوگا۔

وَ اِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّھْلِکَ قَرْیَۃً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْھَا فَفَسَقُوْا فِیْھَا فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰھَا تَدْمِیْرًاo(بنی اسرائیل ۱۷:۱۶) جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں  کھلی نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اُس بستی پر چسپاں ہوجاتا ہے  اور اسے برباد کرکے رکھ دیتے ہیں۔

اللہ رب العالمین ہمیں ہر طرح کے بُرے انجام سے بچائے، اپنی نعمتوں کی حفاظت کرنے اور ان کی قدر کرنے کی توفیق بخشے، اسراف و تبذیر جیسے شیطانی عمل سے بچاکر انفاق و ایثار کے راستے پر چلادے، آمین!

ترجمہ: مسلم سجاد

مجھے نوجوانی کی عمر ہی سے ہفتے وار درسِ قرآن میں شریک خواتین کا اللہ سے پورے انہماک سے دعا کرنا کہ ہمیں کعبے کی زیارت، حجراسود کے بوسے اور مدینے میں سلام پیش کرنے کی توفیق دے، اچھا لگتا تھا۔ گو کہ میں ایک مسلمان ملک میں، ایک مسلمان خاندان میں پیدا ہوئی، اور ایک طرح کے دینی ماحول میں پرورش پائی، لیکن افسوس کہ میں نے اتنی شدت سے مکے اور مدینے کی زیارت کے لیے اپنے اندر جذبہ محسوس نہیں کیا تھا اور نہ کبھی میری آنکھوں سے  ان مقامات پر جانے کی شدید خواہش سے آنسو اُمڈ آئے۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ میں اس جذبے سے محروم ہوں اور وہ جذبہ ہے: ایک پیاس، ایک تمنّا مکہ کے پہاڑوں کی، اللہ کے گھر کی، مدینے کے راستوں کی اور مسجد نبویؐ کی زیارت کی تمنّا!

۱۸برس کی عمر میں مَیں ایک آئن لائن مدرسے سے وابستہ ہوگئی۔ میں اس کے طلبہ و طالبات کے لیے دل میں بڑی محبت اور احترام محسوس کرتی تھی۔ اس مدرسے کا ایک جز بننے سے میں ایمان بڑھتا ہوا محسوس کرتی۔ میں اپنے فرائض کی ادایگی میں اور تلاوتِ قرآن میں باقاعدہ ہوگئی۔ گویا میں نے ایمان اور پُرخلوص عبادت کی حلاوت کا ذائقہ چکھ لیا لیکن اب بھی جب ان مقدس مقامات کی زیارت کا ذکر ہوتا تو میرے دل میں کوئی خواہش بیدار نہ ہوتی تھی۔

میں اپنے ہم جماعت طلبہ و طالبات کی جذبات سے بھری ہوئی تحریریں نیٹ پر دیکھتی تھی کہ کس طرح وہ ہمارے مولانا جی اور ان کی اہلیہ کے ساتھ عمرے اور حج کے لیے بے چین ہیں اور کس طرح ان کے دل وہاں بار بار جانے کی تمنّا کرتے ہیں، مگر میرا دل ان مقدس مقامات کے امن و سکون اور برکات کے خیال سے بے نیاز ہی رہا۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا، جب کہ میں ان مقامات پر کبھی گئی ہی نہیں۔ میں نے اپنے آپ سے سیکڑوں دفعہ سوال کیا اور اپنے کو درست جانا۔

شادی کے بعد ۲۲سال کی عمر میں مجھے وہ بابرکت موقع میسر آیا جس کے لیے ہزاروں ساری ساری عمر دُعا کرتے ہیں۔ ہم عمرہ کرنے جارہے تھے۔ میرے شوہرکا شادی کے بعد پہلا اور میرا اپنی کُل ۲۲سال کی عمر میں پہلا۔ میں اس کے بارے میں کچھ عرصے سے واقف تھی۔ ہم اس کے لیے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ درحقیقت ضمیر ’ہم‘ کا استعمال غلط ہے۔ میرے شوہر کچھ عرصے سے اس کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ میں ان کے منصوبوں کے ساتھ تھی۔ اس لیے نہیں کہ میں جانا چاہتی تھی بلکہ اس خلا کی وجہ سے جو میرے قلب میں ہمیشہ سے تھا۔

جانے کے دن جوں ہی قریب آئے میرے ذہن میں شکوک و شبہات سر اُٹھانے لگے۔ میں کچھ محسوس کیوں نہیں کر رہی؟ یہ بہت مایوس کن تھا کہ میں جوش، جذبے اور اس کے لیے بے چینی کی منصوبہ بندی کی کوشش کروں۔ مجھے وہ سب مواقع یاد آئے جب میں نے سعودی مکہ چینل کو اپنے پسندیدہ چینل کی طرف منتقل کیا۔ چینل سے مجھے درس میں سنی ایک مثال یاد آئی جس میں کسی فرد نے حج کیا لیکن وہ سارے وقت بس کعبہ نہ دیکھ سکا کیوں کہ اس نے کوئی سنگین گناہ کیا تھا۔  میں نے اپنے ان سب گناہوں کو یاد کیا جن کا میں نے ارتکاب کیا تھا اور ہردفعہ دل میں ایک خوف در آیا کہ میرے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے مجھے مکہ کی طلب سے محروم کر دیا ہے۔

کہتے ہیں کہ جو دعا آپ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی کرتے ہیں، اس کی قبولیت کی ضمانت دی گئی ہے۔ ایک ایسی دُعا سوچنے کی تلاش (خاندان والوں اور دوستوں کی طرف سے دعائوں کا ایک ڈھیر لگ گیا۔ بے شک میری اپنی دُعائیں بھی تھیں مگر مَیں اب بھی اس خاص دُعا کے بارے میں سوچ رہی تھی جو میں کعبے پر پہلی نظر پڑتے ہی کروں) الٰہ دین کی ان تین خواہشوں کو سوچنے کے مانند تھی جن کو جِنّ بلاشک و شبہہ پورا کردیتے۔ دراصل اسی کوشش میں میرے دل میں جوش کا ایک شعلہ بھڑکا۔ یہ وہ مرحلہ تھی جب میں نے حقیقی طور پر محسوس کیا کہ انسان کتنا خودغرض ہے۔ اپنی خصوصی خواہش پوری کرنے کی خواہش نے ایک ایسی خواہش کو جنم دیا جو مجھے پہلے کبھی نہیں رہی۔ کعبے کی زیارت کی خواہش!

مکہ کے پہاڑوں میں کوئی ایسی بات تھی جو ان کو اپنے ’ٹھوس پن‘ اور عظمت میں دوسرے پہاڑوں سے ممتاز کرتی تھی۔ شاید یہی امرِواقعہ تھا کہ میں ایک ایسے پہاڑ سے اتنا زیادہ قریب ہوگئی تھی، جتنا میں اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔ جب ہم مکہ کی طرف ڈرائیو کر رہے تھے تو یہ پہاڑ ہمارے دونوں اطراف میں پھیلے ہوئے تھے۔ منظم، بے حس و حرکت، بڑے بڑے اہرام کی طرح ۔ میں نے سوچا کہ اللہ کس طرح قرآن میں پہاڑوں کا ذکر بار بار کرتا ہے۔ میں نے اس کی دانش پر غوروفکر کیا۔ عرب اپنی زندگی کے ہر دن پہاڑوں کی شان و شوکت کا مشاہدہ کرتے، وہ انھیں اس ہستی کی عظمت سے کیوں نہ جوڑتے جس نے ان کو پیدا کیا اور کسی دن ان کو ریزہ ریزہ کردے گا، روئی کے گالوں کی طرح۔

آس پاس کی عمارتیں آہستہ آہستہ نظر آنا بند ہوگئیں اور ان کی جگہ ایک وسیع ریگستان نے لے لی۔ میں نے تصور کی آنکھ سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا کی پہاڑی پر چڑھ رہے ہیں، سورج کی شدید تمازت میں۔ میں نے پہاڑوں کے ڈھلوان پر صحابہ رضوان اللہ علیہم کے مکانات دیکھے۔ جب میں نے طائف جانے کا سائن بورڈ دیکھا تو رسولؐ اللہ کے زخم آلود چہرے اور خون آلود ایڑیوں کو نظر میں لائی۔ وہ جذبات جن کی میں طویل عرصے سے تمنّا کر رہی تھی میرے دل میں اُبھرنے اورآگے بڑھنے لگے۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں، اور خاموشی سے تلبیہ کے الفاظ ادا کرنے لگی۔

حرم کے فرش کے چمکتے ہوئے ٹائیل خنک اور آرام دہ محسوس ہوئے۔ تمازت بھرے سورج میں طویل مسافت کے بعد میں گھبرائی ہوئی تھی کہ عوام کے جم غفیر میں کس طرح چلوں گی جو اللہ کے گھر میں ہمیشہ ہوتا ہے۔ لیکن جب میں نے تجربے کا آغاز کیا تو مَیں خوشی و مسرت کی ایک لہر سے گزری۔ میں نے اپنے شوہر کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑلیا اور کعبے کی طرف ہجوم کے اندر راستہ بنانا شروع کیا۔ ذہن میں یہی بات تھی کہ میں اللہ سے کیا مانگوں گی جب میں آخر میں پہلی دفعہ اس کا سامنا کروں گی۔ ’تم تیار ہو؟‘ میرے شوہر نے میرا ہاتھ پکڑ کر تیسری دفعہ مجھ سے پوچھا۔ میں نے سرجھکا دیا، میرا دل سینے میں اُچھل رہا تھا اور میرے ہاتھ خوف اور گھبراہٹ سے سرد ہو رہے تھے۔

اگر میں اسے نہ دیکھ سکی اور اگر میں اس شخص کی طرح اپنے گناہوں کی وجہ سے اس خوب صورت شے سے محروم کردی گئی تو! ’’نگاہیں نیچی رکھو، میں تمھیں بتائوں گا کہ اب تم نظر اُٹھالو، میرے شوہر نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ میں کئی منٹ تک نیچے ان قدموں کو دیکھتی رہی جو تیزی سے رواں تھے یہاں تک کہ مزید نہ دیکھ سکی۔میں نے نظر اُٹھائی اور میری چیخ نکل گئی اور مَیں روپڑی۔

کعبہ میری نگاہوں کے سامنے اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑا تھا۔ میں نے چند سیکنڈ دیکھا ، پھر ایک سیکنڈ نیچے دیکھا، پھر اپنے شوہر کو ایک سیکنڈ کے لیے دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ میری آنکھوں میں آنسو نہ دیکھیں۔ میں شکرگزار تھی وہ میرے پیچھے کھڑے رہے۔ میں خانہ کعبہ سے  کچھ فاصلے پر کھڑی تھی اور اپنی دُعا کا آغاز کرنے والی تھی، اس ’خصوصی دُعا‘ کا جس کی قبولیت کی ضمانت دی گئی ہے مگر میرے منہ سے الفاظ نکل نہیں رہے تھے۔میں وہاں ہاتھ اُٹھائے کھڑی تھی۔ میری آنکھوں سے تشکر بھرے آنسو بہہ رہے تھے۔ میں اللہ کی اس طرح شکرگزار تھی جس طرح پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔ اس خوب صورت قیمتی منظر کو عطا کرکے، مجھ کو اس جیسے قیمتی خزانے سے مالامال کرکے، جب کہ میں نے اس کے لیے کبھی دل سے دُعا نہ کی تھی۔ میں یہاں کھڑی اپنے آپ کو  اللہ کی خاص بندی سمجھ رہی تھی۔ ذہن کے پردے پر سارے مناظر ایک کے بعد ایک فلم کی طرح گزر گئے۔ جب اللہ نے تجھے وہ کچھ عطا کیا جو تو نے طلب نہ کیا۔ محسوس ہوا کہ جیسے اللہ اس وقت خود مجھے ان کی یاد دلا رہا ہے!

خوف، مسرت، تشکر اور جوش کا آمیزہ میری آنکھوں سے رواں ہوگیا۔ اس وقت میرے ذہن میں یہ آیت سامنے آگئی: وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ط (البقرہ ۲:۱۶۵) ۔’’ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں‘‘۔ میں نے اپنے دل میں جان لیا کہ یہی میری خصوصی دعا تھی۔ میں نے اللہ سے دعا کی میرا دل اس کی اور اس کے رسولؐ کی محبت سے لبالب بھر جائے۔ اس لیے کہ محبت ہی خواہش کی طرف لے جاتی ہے۔

  •  چند دن بعد: شان و شوکت والا کعبہ اور مکے کی سرزمین اللہ تعالیٰ کے جلال اور عظمت کا اظہار تھی، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر نے مجھے سکون، محبت اور حرارت سے گھیر لیا۔

یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مسجد نبویؐ میں خواتین کا راستہ اس ہوٹل سے چند قدم کے فاصلے پر تھا جس میں ہم ٹھیرے ہوئے تھے۔ مسجد نبویؐ کی مقناطیسی کشش کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اسے ایک ریگستان میں نخلستان کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے جہاں پیاسے کو ٹھنڈک اور سکون ملے۔

جب میری نگاہیں موتیوں جیسی سفید چھتریوں پر پڑیں تو میرے لیے خواب کا سا منظر تھا۔ وہ بے حد حسین تھیں۔ مجھے پہلے دن مسجد کے اندر جاکر نماز پڑھنے کا موقع نہ ملا۔ میرا خیال ہے کہ میں نے شاید کافی کوشش نہیں کی تھی، اندر جانے کی۔ باہر کھلے آسمان کے نیچے اور کبھی چھتریوں تلے، مسجد نبویؐ میں نماز پڑھنے کا تجربہ خاصا سحرزدہ تھا۔ میں نے سوچا کہ مسجد نبویؐ ۱۴۳۷ھ سے پہلے کیسی نظر آتی ہوگی۔ نہ چھتریاں، نہ ریگستان کی گرمی سرد کرنے کے لیے پنکھے، نہ چمک دار پھسلنے والے ٹائل، بس صرف ایک چھوٹی سی عمارت۔ کیا میں یہاں باربار آکر نماز پڑھنا پسند کروں گی؟ یہ اس شخص کی مسجد تھی جس کے آخری الفاظ اپنے اُمتی کے لیے، میرے لیے دُعا تھے۔ کیا میں اپنے نبیؐ سے اس کے اُمتی ہونے کی حیثیت سے کافی محبت کرتی تھی، کم از کم اس سے قریب تر جو وہ مجھ سے کرتا تھا___ وہاں کھڑا ہونا میرے اس دعوے پر سیکڑوں سوال اُٹھا رہا تھا کہ میں   محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتی تھی!

مسجد کا اندرونی حصہ بیرونی کے مقابلے میں زیادہ ششدر کرنے والا تھا___ چمک دار سنہرے فانوس، منقش ستون، صفیں اور لال قالین۔ یہاں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ تھا جو دلوں کو چھوتا تھا جو بس محسوس کیا جاسکتا تھا، دل کو مسرت سے بھر دیتا تھا۔ مہربانی کے چھوٹے چھوٹے عمل جو ایک اجنبی دوسرے اجنبی کے ساتھ کر رہا تھا۔ مصلّے میں حصہ داری، دوسرے بہن یا بھائی کے لیے جگہ بنانے کی خاطر، بچے کی مدد کہ وہ اپنا گلاس زم زم سے بھرے، دوسروں کے مصلّے اپنی جگہ پر پہنچانا۔ سلام اور مسکراہٹیں بغیر یہ جانے کہ آپ کون ہیں، کون سی زبان بولتے ہیں۔ در حقیقت مہربان ترین ہستی کے بہت بڑے خاندان کا حصہ ہونے کا احساس!

میں کوئی یادگار گھر واپس نہیں لائی لیکن کوئی چیز چھوڑ ضرور دی۔ اپنا دل ایسی جگہ چھوڑ دیا جو میرے گھر سے بہت دُور گھر جیسا لگا۔ (بہ شکریہ دوماہی Intellect، کراچی، جلد۷، شمارہ۵،۲۰۱۶ء)

وقت بچانا اور اس سے صحیح معنوں میں فائدہ اُٹھانا ہی کامیاب اور منظم زندگی کی طرف پہلاقدم ہے۔ یہی تنظیمِ وقت ہے۔یا د رکھیے، وقت کو بچایا نہیں جاسکتا بلکہ اسے بہتر طریقے سے استعمال کرنے کو ہی وقت بچانا سمجھا جاتا ہے۔ وقت کی بچت کے سلسلے میں سب سے زیادہ ممدومعاون وہ شعور ہوتا ہے جو انسان وقت کی نسبت سے اپنے اندر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔   اسی کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر پہلو ایسے ہیں جن پر ہماری نظر رہنی چاہیے۔ ان میں سے بعض کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔

یہاں وقت بچانے کے حوالے سے مختلف ماہرین کی آرا اور مشوروں کو جمع کیا گیا ہے۔ چند دن ان مشوروں پر عمل کریں۔ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ نتائج غیر متوقع طور پر کتنے حوصلہ افزا ہیں۔ ہم نے ان مشوروں اور اشارات کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ ان اشارات میں اکثر کو پہلے گروپ میں ڈال کر آسانی پید ا کرنے کی کوشش کی ہے۔کہیں کہیں ان کی نوعیت کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے:  o ذاتی یا انفرادی زندگی o تعلیمی زندگی oمعاشی زندگی (دفتر اور کاروبار) oخاندانی یا گھریلو زندگی oمعاشرتی یا قومی زندگی۔

 ذاتی   تربیت  اور   تنظیمِ   وقت

  •  وقت کو کنٹرول کرنا یا اس کا نظم و نسق قائم کرنا بہتر زندگی کی طرف پہلا قدم ہے۔ سب کو روزانہ وقت کی مساوی مقدار ملتی ہے۔ یہ سب انسان کے اختیار اور کنٹرول کی بات ہے کہ وہ کس طرح وقت کے کوٹے کو استعمال کرتا ہے اور کس طرح اس کی مدد سے اپنی زندگی میں بہتری لاتا ہے۔
  •  وقت کو قابو میں کرنا دراصل اپنے آپ کو قابو میں کرنا ہے۔
  •  جو لوگ وقت کو قابو میں کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ بات یا د رکھیں کہ وقت کو کسی بھی حالت میں کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ انسان اپنے آپ کو کنٹرول کر کے ہی وہ نتائج حاصل کر سکتا ہے جو وقت کو کنٹرول کرنے کے تصور سے وابستہ ہیں۔ کہنے کو ہم وقت گزار رہے ہوتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت ہمیں گزار رہا ہوتا ہے۔
  • اپنی مصروفیات کے لیے ہفتہ وار اور ماہانہ بنیاد پر منصوبہ بندی کیجیے۔
  •    ممکن ہو تو اپنے کاموں کے لیے مناسب کیلنڈر، ڈائیری یا سوفٹ ویئر استعمال کیجیے اور   اس کے ذریعے اپنے اوقات کی منصوبہ بندی کیجیے۔ اپنے کاموں کا معمول بنایئے۔
  •  اپنے آپ کو منظم کرنے اور اپنی استعداد کار بڑھانے کے لیے کچھ خرچ کرکے کتابیں، کیلنڈر، ڈائری ، نوٹ بک،اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ خریدنے کی کوشش کیجیے۔ یہ پلاٹ کی مانند ہے ، کچھ عرصے کے بعد آپ کواس سے فائدہ حاصل ہوگا۔
  • اپنے کیلنڈر کو مربوط رکھیے۔ ایک سے زائد کیلنڈر آپ کو اُلجھا دیں گے۔
  • اپنے شب و روز کا جائزہ لیجیے اور ٹی وی، یا انٹر نیٹ یا ٹیلی فون کو دیا جانے والا وقت کم کیجیے تاکہ مستقبل کی تیاری کے لیےوقت میسر ہو۔
  • وقت کو بہتر طور پر اسی وقت گزارا جا سکتا ہے جب اس کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی گئی ہو۔ صرف کام دھندے کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ گھر والوں کے ساتھ گزارے جانے والے وقت، خریداری، تفریح، ورزش، کھانے پینے، روز مرہ کے کاموں اور دیگر امور کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی کیجیے۔ فون اور ای میل کا جواب دینے کے لیے آپ کو وقت مختص کرنا چاہیے، تاکہ اس سلسلے میں وقت نہ ضائع ہو اور نہ بہت کم مختص کیا ہوا محسوس ہو۔
  • منصوبہ بندی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ اس پر پوری طرح عمل کیا جائے۔ آپ نے جو وقت جس کام کے لیے مختص کیا ہے اس وقت وہی کام ہونا چاہیے اور کسی دوسرے کام کے بارے میں سوچنا بھی فضول ہے۔اپنی ساری توانائی اس کام پر خرچ کردیں تاکہ وہ کام اسی وقت کے اندر ہوجائے۔ یہ منصوبہ بندی کا حاصل ہے۔
  • جب آپ کام کرنے لگتے ہیں تو بہت ساری چیزیں خود آپ کو یاد آتی ہیں، جو کہ آپ کی توجہ کو منتشر کرتی ہیں اور انہماک میں خلل ڈال کر آپ کو دوسرے راستے پر لے جاتی ہیں ۔ جب آپ منصوبہ بندی کے تحت کوئی کام کرنے بیٹھیں تو انہماک میں خلل ڈالنے والی ہر چیز کو آنے سے روکنے کی صلاحیت بیدار کرلیں۔ کمرے کا دروازہ بند رکھیں، ٹیلی فون کی گھنٹی کو خاموش کر دیں اور اہلِ خانہ سے کہیں کہ انتہائی ضرورت کے سوا آپ کو زحمت نہ دیں۔
  •  کام کے دوران ہر ۴۰ منٹ کے بعد تین منٹ کا وقفہ ضرور کریں۔ چند لمحات فراغت کے نکال کر سیر کیجیے یا اپنی تھکن دور کرنے کی کوشش کیجیے،تاکہ آپ کا ذہنی بوجھ کم ہوجائے۔
  • ہر روز صبح اپنا دن بھر کا منصوبہ بنالیں اور جو کام کرنے ہیں انھیں کسی ڈائری یا کاغذ پر لکھ لیجیے۔ جو کام مکمل ہو جائیں انھیں کاٹ دیں یا ’کرنے کے کام‘ فہرست پر نشان لگادیں۔
  •   خیال بھی ایک نعمت ہے۔ کاغذ یا چھوٹی نوٹ بک ہمیشہ اپنی جیب میں رکھیں، تاکہ فارغ اوقات میں جب کوئی منصوبہ یا نیا خیال آپ کے ذہن میں آئے تو اسے فوراً لکھ لیں۔
  •     آرام کے اوقات مقرر کر کے انھیں نماز کے اوقات سے ہم آہنگ کر لیں۔
  •     فارغ اوقات کو لکھنے پڑھنے ، کوئی چیز یاد کرنے، یا کوئی تعمیری کام کرنے میں استعمال کریں۔
  •     اگر آپ کا گزر اپنے پسندیدہ فلنگ اسٹیشن (پٹرول پمپپ یا گیس اسٹیشن) کے پاس سے ہو تو اپنی کار کی پوری ٹنکی بھروالیں، تاکہ صرف ایندھن لینے کے لیے آپ کو وہاں کا سفر نہ کرنا پڑے۔ تاہم یہ خیال رکھیں کہ ایندھن راستے ہی میں نہ ختم ہو جائے۔
  •     کار پارکنگ یا پبلک ٹیلی فون کی اجرت ادا کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کھلے پیسے اپنی جیب میں ضرور رکھیں، بصورت دیگر آپ کو مشکل صورت حال پیش آ سکتی ہے۔
  •   تمام کاموں کے لیے ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ کام کرنے والوں کو معلوم ہو جائے گا کہ کس کام کے لیے کتنی محنت کرنی اور کتنا وقت دینا ہے۔
  •       ہر کام کے لیے صحیح اورمناسب طریقۂ کار اختیار کرکے وقت بچایا جاسکتا ہے۔
  •    ہر کام کے لیے وقت کا تعین کرکے وقت کو بچایا جاسکتاہے۔
  •    کا م کا آغاز صبح سویرے کیا جائے۔اس میں برکت ہے۔ جس طرح اور چیزوں میں برکت ہوتی ہے اسی طرح وقت میں بھی برکت ہو سکتی ہے لیکن اس کے لیے تقویٰ کی روش ضروری ہے۔ صبح اٹھنا اور اللہ سے برکت کی دعا کرنا ضروری ہے۔ رزق حلال اور صلہ رحمی ضروری ہے۔
  •   بعض معاملات میں انکار کردینا یا منفی جواب دینا، مثلاً یہ کہہ دینا کہ یہ نہیں ہو سکتا، معذرت خواہ ہوں، ممکن نہیں، اصول کے خلاف ہے، میرے پاس وقت نہیں، کسی اور وقت رجوع کریں وغیرہ ضروری ہوتا ہے۔کچھ لوگ اس رویے کو رواداری کے خلاف سمجھتے ہیں۔
  •   دو یا دو سے زیادہ کام بیک وقت کرنا، مثلاً ناشتہ کرنا اور خبریں سننا، دفتر جاتے ہوئے سواری میں اخبار پڑھنا، چہل قدمی کرنا اور معمول کے وظائف کی تکمیل، جہاز کے سفر میں لکھنا پڑھنا وغیرہ۔یہ عادتیں ایک دوسرے سے ٹکراتی نہیں ہیں بلکہ وقت کا بہتر استعمال ہیں۔ البتہ گاڑی چلاتے ہوئے ایس ایم ایس کرنا یا فون سننا وغیرہ آپ کے لیے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ باہم متصادم چیزوں کو ایک ساتھ کرنے کی کوشش نہ کریں۔
  •  آپ کے سفر کی تیاری کی بھی ایک فہرست ہونی چاہیے۔
  •  چھوٹے چھوٹے کاموں کو ایک ہی وقت میں نمٹانے کی کوشش کیجیے۔
  • غوروفکراور تدبر و تفکر کے لیے بھی روزانہ کچھ نہ کچھ وقت ضرور مختص کیجیے۔
  •  ان مسائل کے بارے میں جو کہ آپ کےاوقات کو کھا جاتے ہیں یا آپ ان کا نام تساہل یا بیماری دیتے ہیں، انھیں حل کرنے کے لیے ماہرین کی مدد لیں۔جو کام چند پیسے لے کر ایک کاریگر کرسکتا ہے، اس کام کو آپ خو د کرکے اپنے وقت کو مت ضائع کریں۔
  •   اپنے سفری اوقات یا سیر کے اوقات کے دوران ٹیپ ریکارڈر یا سمارٹ فون جیب میں رکھیں اور ائیرفون کان میں رکھ کر اپنی تربیت اور عبادت کی کوشش کیجیے۔
  •  انتظار کے لمحات کو بہتر طور پر استعمال کرنے لیے اپنے پاس کتاب یا ممکن ہو تو ریکارڈنگ سننے کے لیے چھوٹا ٹیپ ریکارڈر یا موبائل کی سہولت سے فائدہ اُٹھائیں۔
  •    یومیہ شیڈول بک استعمال کیجیے اور اپنے اوقات کے مصارف تحریر کیجیے اور ہفتہ وار جائزہ لیجیے۔
  •  یومیہ کاموں کی ترجیحات ان کی اہمیت کے مطابق ترتیب دیجیے۔
  • ہر کام اور منصوبے کے لیے ایک لائحہ عمل بنانے کی کوشش کیجیے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کیجیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ایک ماہر فن تعمیر کی طرح پہلے نقشہ بنائیں گے اور پھر اس کے بعد تعمیر شروع کریں گے۔
  •  اہم ترین کاموں کو اوّل وقت میں کرنے کی کوشش کیجیے۔
  •  اپنے لیے قابل عمل مقاصد متعین کیجیے۔ان مقاصد کی منازل بھی متعین کیجیے۔
  • اہم اور مطلوبہ کاموں کو پہلے کریں۔ان کے لیے بہترین وقت آپ کا پرائم ٹائم ہے۔
  •   اپنے ٹیلی فون اور مو بائل فون کے وقت کو کنٹرول کریں ۔ خیر خیریت اور حال احوال کی دریافت میں زیادہ وقت نہ لگائیں۔ صر ف سلام میں ہی بہت بڑی سلامتی ہے۔
  • اگر آپ پری پیڈ فون استعمال کرتے ہیں تو ہمیشہ اضافی کارڈ اپنی جیب میں رکھا کریں۔
  •  اپنی صحت ، توانائی اور قوت کار کا خاص خیال رکھیں۔
  • اس بات کی کوشش کریں کہ آپ کے اوقات کی ۵۰ فی صد مقدار اہم کاموں میں لگنی چاہیے۔
  • ہرنماز کی ادایگی کے بعد اپنا محاسبہ اور وقت کے استعمال کا جائزہ لیں اور اسے معمول بنایئے۔
  • توازن اور اعتدال کی حدود میں رہیں۔اس سے باہر نکلے تو افراط و تفریط کا شکار ہو جائیں گے۔
  • تعلقات میں احتیاط کریں۔ فیس بک کی دوستیاں صرف وقت گزاری ہیں۔ ان میں دوست بہت کم ہوتے ہیں۔ ضرورت کے وقت محض فائدہ اٹھانے والے لوگوں کو دوست نہیں کہا جاتا۔
  • اپنی چیزوں کو احتیاط سے مقررہ جگہ پر رکھیں، اور اس جگہ کو اچانک تبدیل بھی نہ کریں۔
  •    اپنے معاملات کو تحریر کریں۔ اپنے خیالات کو تحریر کریں۔ اپنے کرنے کے کاموں کو تحریر کریں۔ اپنی وصیت تحریر کریں۔ جو چیزیں اور کاروباری معاملات اور اثاثہ جات گھر والوں کے علم میں نہ ہوں، انھیں لکھ لیں یا گھر والوں کو بتا دیں کہ کہا ں رکھے ہیں۔ موت بتا کر نہیں آتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ کے ورثا کو آپ کی دولت اور اثاثے کا علم ہو۔
  •  ہفتہ وار اور دیگر چھٹیوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ان میں  گھر والوں کے ساتھ بطور تفریح وقت گزارنے کی شکل نکالیں ۔
  •  اپنے اور اپنے خاندان کے ذاتی ریکارڈ کو ترتیب اورمنظم طریقے سے رکھیں۔
  •  ہر فرد کے لیے ایک فولڈر بنائیں اور اس میں اہم کاغذات، جیسے برتھ سرٹیفکیٹ، بلڈ گروپ، میڈیکل ریکارڈ، تعلیمی ریکارڈ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دوسرے اہم کاغذات رکھے ہوں۔
  • ٹیلی فون، بجلی، گیس، موبائل، انٹرنیٹ اور دیگر بلوں اور واجبات کے لیے ایک جگہ ضرور بنالیں۔
  •   اپنے آپ میں لچک پیدا کریں اور ضد اور ہٹ دھرمی سے بچیں۔
  •  افسوس کرنے، پچھتانے اور غم کرنے میں وقت نہ ضائع کریں۔
  •   ٹیلی ویژن پر خبروں اور اہم ٹا ک شوز تک اپنے آپ کو محدود رکھیں تاکہ آپ کو اخبار کم سے کم پڑھنا پڑے۔ منتخب پروگرام دیکھیں۔ لغویات اور بے مقصد کاموں سے بچیں۔ بار بار چینل مت گھمایئے۔ ٹیلی ویژن یا انٹرنیٹ بغیر لگام کا گھوڑا ہے۔ اسے اپنے اوپر حاوی مت ہونے دیں۔اسے کنٹرول میں رکھیں تاکہ وقت کے گھوڑے سے آپ گر نہ جائیں۔
  •   تعلیم اور مطالعے کے لیے ٹائم ٹیبل بنائیں اور اس پر سختی سے عمل کریں۔
  •  امتحان کے دنوں میں پریشان ہونے کے بجاے باقاعدگی سے مطالعہ کریں، اور نماز اور دُعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کیجیے۔
  • مناسب آرام، اچھی صحت، متوازن غذا، باقاعدگی سے ورزش، منصوبہ بندی اور محنت کے ساتھ فرائض کی ادایگی، تفکرات کی اللہ کو سپردگی، اللہ کی نعمتوں کا شکر اور محنت کے ساتھ توکّل اور دعا___ یہ عناصر آپ کو ترقی دینے اور کامیاب بنانے میں اہم ہیں۔

 

معاشی زندگی:دفتر  اور کاروباری  اُمور

معاشی مصروفیات میں دفتری یا کاروباری معاملات اہمیت رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں  درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھنا مفید ہوگا:

  •   جب آپ کوئی وقت مقرر کریں تو اس امر کا یقین کر لیں کہ دونوں فریق اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ صحیح وقت کیا ہے۔اسے دوبارہ دہرا کرتصدیق کرنا بہتر ہے۔
  •     مقررہ مقام پر پہنچنے کے لیے سفر میں آپ کو جو وقت لگے گا اسے اس فاصلے سے ہم آہنگ کرلیں جو دونوں مقامات کے درمیان ہو۔ تاہم، ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ گنجایش غیر متوقع حالات کے لیے بھی رکھ لی جائے تاکہ مقررہ مقام پر بر وقت پہنچنے میں آپ کو کوئی دشواری نہ ہو۔ٹریفک کا ہجوم اوروی وی آئی پی موومنٹ کو بھی پیش نظر رکھیں۔
  •    اگر آپ کوئی مقصد ایک خط لکھ کر یا ٹیلی فون کے ذریعے حاصل کرسکتے ہوں تو ذاتی طور پر متعلقہ لوگوں سے ملنے کی کوشش نہ کریں۔
  •   چھوٹے چھوٹے معاملات پر فیصلے جلد ہوجایا کریں تو اس سے وقت بچایا جاسکتا ہے۔
  •  بے جا مداخلت سے پرہیز کیا جائےتاکہ وقت بچایا جائے۔
  •     دوسروں کا وقت ضائع نہ کیجیے۔ دوسروں کو انتطار کی زحمت مت دیجیے۔
  •          تیزی سے کام کیجیے۔ اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مار دھاڑ کے ساتھ کام کریں بلکہ سست روی اور سست رفتاری سے بچتے ہوئے اسے مقررہ وقت میں کرنے کی کوشش کیجیے۔ امتحان کے تین گھنٹوں میں جس کیفیت سے کام کیا جاتا ہے اسے ضرور ملحوظ رکھیں۔
  •         خطوط کو دیکھ کر فوراً فیصلہ کرلیں کہ اس پر کیا اقدام کرنا ہے۔
  •  ای میل کا جواب تحریر کرکے اس پر غور کیجیے۔ اگر کوئی جذباتی بات یا غیر مناسب جواب تحریر کرلیا گیا ہے تو اسے بھیجنے سے پہلے اہتما م کے ساتھ بار بار دیکھیے۔ کوشش کیجیے کہ ایک رات گزرنے کے بعد جواب بھیجا جائے۔
  • اپنی ای میل دن میں صر ف دو بار چیک کریں۔ اگر ادارے کی ضروریات کی وجہ سے  فوری جوابات ضروری ہوں تو اس میں لچک پیدا کرلیں اور ہر دو گھنٹے میں ایک بار دیکھ لیں۔
  •    شارٹ کٹ کے نظام کے ذریعے اپنے فون کرنے کےاوقات کو بچانے کی کوشش کریں۔
  •   کئی کالز کو جمع کرکے ایک وقت میں فون کرنے کی کوشش کریں۔
  •       عام معاملات میں فون پر کوشش کریں کہ تین منٹ میں بات ختم ہوجائے ورنہ پانچ منٹ سے زائد بات کرنا وقت کے ساتھ ظلم ہے۔
  •      میٹنگز کم از کم کرنےکی کوشش کریں اور وہ بھی ایجنڈے کے مطابق۔ میٹنگز کو ادارے کے مفاد کے لیے استعمال کیجیے۔ بحث و مباحثہ سے ٹیلی ویژن کے ٹاک شوز کا نعم البدل مت بنائیے۔
  •        دوپہر کا کھانا سادہ رکھیں اور کھانے کے بعد چند لمحات آرام کرلیں۔یہ آپ کے لیے قوت عمل کا باعث ہوگا۔

   ہم ہر کام نہیں کرسکتے۔ ان مصروفیات پر توجہ دیجیے جو بہت اہم ہیں اور جن سے آپ کو  زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کم نفع مند کاموں کو مؤخر کرسکتے ہیں یا پھر کسی کو تفویض کرکے اس پر کچھ لاگت لگاکر بہتر طریقے سے کر اسکتے ہیں۔

  •     اپنے وقت کا ریکارڈ رکھیے اور جائزہ لیتے رہیے کہ کتنا کارآمد اور کتنا غیر کارآمد خرچ ہوا۔
  •   منا سب شیڈول بنایئے لیکن شیڈولنگ کے جال میں مت پھنسیئے۔
  •  کام میں حارج ہونے والی باتوں اور مداخلت کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کیجیے۔
  •   اپنے پرائم ٹائم کی شناخت کیجیے اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھائیے۔
  •     اپنے اہم کاموں کو اس وقت کرنے کی کوشش کیجیے جب آپ کے جسم میں قوت زیادہ ہو اور یہ آپ خود اپنا جائزہ لے کر معلوم کرسکتے ہیں۔
  •    وہ کام جن کو کرنےکی طبیعت نہیں چاہ رہی ہے (جائز کام)، انھیں کرنے کے لیے اپنے آپ پر جبر کرکے جلد ازجلد کرنے کی کوشش کیجیے۔
  •    غیر متوقع کے لیے بھی تیار رہیے اور ان کاموں کو بھی اپنے شیڈول کا حصہ بنائیے جو غیر متوقع طور پر آجاتے ہیں۔
  •    اپنے سفری اوقات کو استعمال کرنے کا فن سیکھیے۔ اگر آپ ۲۰منٹ سے زیادہ کی ڈرائیو پر ہیں تو اس وقت کو بھی بہتر طورپر استعمال کرنے کی کوشش کیجیے اور دورِ حاضر کی ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھائیے۔

   q          ۲۰؍ ۸۰ کے قاعدے کے مطابق کام کیجیے۔ یعنی وہ کام خود کریں جن میں محنت کم اور استفادہ یا نتائج زیادہ ہوں۔

  •    جب بہت زیادہ کام آجائیں تو اپنے کاموں کو تقسیم کرنے کی کوشش کریں ۔ اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کارڈز لیں اور اپنے کاموں کے دو گروپ بنالیں: آج کے کرنے کے کام اور وہ کام جو کل ہو سکتےہیں ۔دو گروپ بنا کر کام کرنے کی کوشش کریں۔
  • ترجیحات کا تعین ۲۰؍۸۰ اُصول کے مطابق کریں۔
  •    ہر ۴۵منٹ کے بعد آپ چند منٹوں کا وقفہ لینے کی کوشش کریں تاکہ آپ زیادہ توجہ اور توانائی کے ساتھ کام کرسکیں۔
  •    اپنے مسائل حل کرنے کےلیے اور اپنی سوچ کو منظم کرنے کے لیے آپ کاغذ اور قلم کے استعمال کی عادت ڈالیں۔ نوٹ بک ہو تو بہتر ہے۔اسمارٹ فون بھی معاون ہیں۔
  •  اکملیت پسند بننے کی کوشش نہ کریں بلکہ کام کو اپنی استعداد کے مطابق احسن طریقے سے کرنے کی کوشش کریں۔
  •    بعض اوقات غیرضروری سوچ اور بہت بڑی منصوبہ بندی بھی آپ کے کام میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ ایسے صورت میں فوری عمل بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔تساہل آپ کو کام شروع کرنے سے روکتا ہے اور اکملیت آپ کو کام ختم کرنے سے روکتی ہے۔
  •      اپنے رویّے کو معتدل رکھیے۔
  •     اپنے آپ میں اور اپنے رویے میں لچک رکھیے۔ اتنے سخت بھی نہ بن جائیے کہ ٹوٹنا پڑے۔اتنے نرم بھی نہ بنیں کہ لوگ آپ کو موڑ کر رکھ دیں۔
  •    ایک جیسے کام ایک جگہ جمع کرلیں۔

   q          اپنے موجودہ طریقۂ کام کا جائزہ لیں اور اس میں حسب ضرورت تبدیلی کریں۔

  •    کام کرنے کے فنکار بنیے۔ محض محنت کافی نہیں بلکہ بہترین طریقے سے کام کیجیے۔
  •    اپنے کاموں اور معاملات کی چیک لسٹ بنائیے۔
  •  بیک ورڈ شیڈول بنائیے، یعنی کام ختم کرنے کی مطلوبہ تاریخ سے پیچھے کی جانب منصوبہ بندی کیجیے۔
  •  چھوٹے چھوٹے کاموں کو ایک وقت میں نمٹائیے۔
  •    ہمیشہ اپنی ترجیحات پر توجہ دیں اپنی مصروفیات پر نہیں۔
  •      دوسروں کے اوقات کی قدر کیجیے۔
  •    فیصلے کرنے میں تاخیر نہ کیجیے۔
  •   اپنے دفتر کے ساتھیوں کا وقت ضائع نہ کیجیے۔
  •     اپنی ذاتی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیتے رہیے اور اپنی اصلاح کرتے رہیے۔
  •     اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا سیکھیں۔
  •    اپنی تحریر کو بہتر بنائیے۔اپنے لہجے میں شیرینی لانے کی کوشش کیجیے۔ تیکھے لہجے سے احتراز کیجیے۔
  • اپنے کاموں کو اپنے لیے رکاوٹ مت بنائیے بلکہ معاون بنائیے ۔
  •   جو چیزیں اور معاملات عموماً تنگ کرتے ہیں ان کا حل نکالنے کی کوشش کیجیے۔
  •   ہمیشہ اپنے پاس بیک اپ پلان رکھیں جیسے آپ لوڈ شیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر جنریٹر کا انتظام رکھتے ہیں۔
  •    اپنے اوقات کو پرائم اور نان پرائم ٹائم میں تقسیم کریں اور اس کا لحاظ رکھتے ہوئے کام کریں۔
  •    کاموں کے کرنے کے لیے وقت کے بلاگز بنالیں اور اس وقت میں تیزی کے ساتھ کرنے کی کوشش کریں۔
  •      جوکام کریں صحیح کریں۔
  •     جب کام ختم کرلیں تو پھر اسے سائڈ پر رکھ دیں اور بار بار اس پر نظریں نہ دوڑائیں۔
  •    اپنی جیب میں ہمیشہ کھلے پیسےبھی رکھیں۔ بعض اوقات ریزگاری کی پڑتی ہے۔
  •    اپنے معاونین کی ہمیشہ رہنمائی کرتے رہیں۔ ان کی عزتِ نفس کا ہمیشہ خیال رکھیں۔ انسانوں کے ساتھ غرور اور تکبر کا رویہ آپ کو بہت جلد بغیر سیڑھیوں کے زمین پر پہنچا دےگا۔
  •    میٹنگ سے پہلے ہمیشہ پچھلی میٹنگ کی روداد اور اگلی میٹنگ کا ایجنڈا بھیج دیں۔
  •      اپنے اسٹاف کی استعداد کار کا اندازہ بھی رکھیں اور ان کا خیال بھی رکھیں۔
  •  اپنے معاونین کو متحرک رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہیں۔
  •      میٹنگوں کی بجاے کانفرنس کال کرلیں یا اسکائپ کال کرلیں۔
  •     جہاں ضرورت ہو دیگر ساتھیوں سے مدد طلب کرلیں۔
  •    اپنے کام سے لطف اندوز ہوں۔ کام کو اپنی پسند بنالیں اور اسے اس حق کے مطابق کرنے کی کوشش کریں۔زندگی کی جائز تفریحات سے فائدہ اٹھائیں۔
  •        اپنے کام کرنے کی جگہوں پر کنٹرول حاصل کریں۔
  •  ترجیحات کا تعین کریں اور   ضبط تحریر میں لائیں۔
  •      ترجیحات کے تعین کے ساتھ متعلقہ تبدیلی لائیں۔
  •    ترجیحات کا تعین صلے کے مطابق کریں۔
  •     صحیح وقت پر کام کریں اور کام کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔
  •    مقا صد، یعنی گولز بنائیں اور کام مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کریں اور خدا کا شکر ادا کریں۔
  •     ایک جیسے کاموں کو مجتمع کرکے کرنے کی کوشش کریں اس صورت میں ہر کام کے لیے موڈ بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
  •    بہتر طریقے سے کام دوسروں کو تفویض کریں۔
  •   معذرت کرنے کا فن استعمال کریں۔ جو کام نہیں کرسکتے اور جو کام آپ کے مقاصد کے مطابق نہیں ہے اس سے معذرت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی دنیا اور اپنی آخرت تباہ نہ کریں۔ اپنی نوکری بچانے کے لیے دوسروں کے کرپشن کا حصہ بن گئے تو دوسرے اتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو تو بچالیں گے اور جیلیں آپ کاٹیں گے اور مقدمات کی رقومات آپ کی نسلیں (وراثت سے) ادا کریں گی۔
  •     کاموں کا اور فاصلوں کا اندازہ لگائیں اور پلان بنائیں تاکہ صحیح وقت پر کام ختم کر سکیں۔
  •     سفرعقل مندی اور منصوبہ بند ی کے ساتھ کریں۔مقصدِ سفر واضح ہو۔ کاموں کی فہرست پہلے سے تیار ہو۔ ٹکٹ اور ہوٹل کی بکنگ کر لی گئی ہو۔ جن افراد سے ملنا ہے ان سے ملاقات کے اوقات طے ہوں۔ ان سے ملاقات کا ایجنڈا طے ہو۔ اس کےلیے آپ نے ہوم ورک کرلیا ہو۔
  •    بہتر کارکردگی کا مطالبہ کریں۔ اپنے ساتھیوں کو متحرک رکھیں۔ انھیں کام کے فوائد بتائیں۔ انھیں اس معاملے میں ان کے خوشگوار مستقبل کے بارے میں بتائیں۔
  •  ’خدا حافظ‘ کہنے کا فن سیکھیں۔ کچھ کاموں کو ترک کرنا سیکھیں ۔ کچھ قربانیاں دینا سیکھیں۔
  •  تنظیم وقت اور گھر کے کام کاج کے لیے ٹولز استعمال کریں۔ یہ کارآمد اور وقت بچانے کا اچھا ذریعہ ہیں۔جہاں ممکن ہو ٹولزکو اپنی ضرورت کے مطابق بنائیں۔
  •  اپنے آپ پر ذمہ داریوں کا بہت زیادہ بوجھ نہ ڈالیں۔ انسان خود بے وقوفی کرکے اپنے اوپر بوجھ لادتا ہے۔
  •  ایک وقت میں ایک چیز یا ایک کام کریں۔ بیل گاڑی یا ٹرانسپورٹ کنٹینر بننے کی کوشش نہ کریں۔
  •   جو کام شروع کریں اسے ختم بھی کریں۔ یہ ایک اچھی عادت ہے اور اس سےآپ کی کامیابی کے راز وابستہ ہیں۔ اس عادت سے آپ کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔
  •  اپنی شخصیت اور رویے میں لچک پیدا کریں۔ ہٹ دھرمی انسانی تعلقات میں زیب نہیں دیتی۔
  •  کام کے بھوت نہ بنیں۔اچھے انداز میں کام کریں۔
  •  اچھی طرح سے اور غلطیوں سے پاک کام کرنے کی کوشش کریں۔احسن طریقے سے کام کریں کیونکہ یہ انسانوں سے مطلوب ہے۔
  •  ناممکن کاموں کو کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اپنے قد سے چھوٹے ہونا یا بونا بننا ناممکن ہے۔ لیکن ایک یا دو انچ قد بڑھ سکتا ہے۔
  •   کرنے کے کاموں کی فہرست کو اپنے ساتھ بلکہ اپنے سامنے بھی رکھیں۔
  •  افراد کی تربیت کریں اور انھیں زیادہ سے زیادہ اُمور تفویض کریں اور آگے بڑھنے کا موقع دیں۔
  •  مداخلتی چیزوں کا جائزہ لیں اور انھیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ اوقات کو ضائع کرنے والی چیزوں کا جائزہ لیں، مداخلتوں کا جائزہ لیں اور پھر انھیں دُور کرنے کی کوشش کریں۔
  • اپنے ہر کام کے لیے ٹارگٹ دیں اور اس وقت میں اسے کرنے کی کوشش کریں۔
  •  اگر فون پر کام کیا جاسکتا ہے تو خط لکھنے اور ای میل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
  • غیر ضروری چیزوں کا مطالعہ نہ کریں اور اسی انداز سے روزانہ آنے والی ای میلز کو بھی فلٹر کرلیا کریں۔
  •  پہیہ دوبارہ ایجاد نہ کریں ، جو چیزیں میسر ہیں ان سے فائدہ اٹھائیے۔
  •  اپنے کام کے سلسلے میں کسی سے معاونت کی ضرورت ہے تو اسے ضرور حاصل کریں۔
  •  جب کسی کام میں کامیابی ہوجائے تو اس کی خوشی منایئے۔رب کا شکر ادا کیجیے اور اپنے معاونین کو ان کی محنت پر حوصلہ افزائی کیجیے۔ انھیں کریڈٹ دیجیے۔ یقین کیجیے آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کے لیے یہ بہت اہم ہے۔
  •  غیر متوقع چیزوں اور واقعات کا اندازہ لگایئے اور ان کے لیے بھی وقت نکالنے کی منصوبہ بندی کرلیجیے۔
  • اپنے تضیع اوقات کا عمومی طور سے جائزہ لیتے رہیے اور اس سلسلے میں اپنی اصلاح کرتے رہیے۔
  •  اپنے حافظے کے ساتھ مہربانی فرمایئے اور نوٹ بک کا استعمال کیجیے۔حافظے کو اہم چیزوں کے لیے رکھیے۔
  • مختلف کاموں کے لیے وقت مقرر کیجیےاور ان اوقات میں ان کاموں کو کرنے کی کوشش کیجیے۔
  •  جب گھر یا دفتر سے خریداری کے لیے نکلیں تو مکمل فہرست کے ساتھ نکلیں تاکہ ایک ہی چکر میں بہت سارے کام ہوجائیں۔ہمیشہ ماسٹر لسٹ اپنے پاس رکھیں۔
  •  دفتر کی عام گفتگو جسے چٹ چاٹ کہتے ہیں اور مزاحیہ چیزوں، کرکٹ اور واقعات پر تبصروں سے پرہیز کیجیے۔ اگر آپ کو اس کام میں مہارت ہے تو ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں شرکت کرکے آمدنی کا ذریعہ بن سکتاہے۔
  • اپنے پاس کاموں کی ’جائزہ فہرست‘ (چیک لسٹ) بنا کر رکھیں۔ سفر کی چیک لسٹ ، خریداری کی چیک لسٹ، پروگراموں میں شرکت کی چیک لسٹ وغیرہ۔
  • اپنے گھر اور معاشی مقام میں فاصلہ کم کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کے وقت کی بچت ہو۔
  •  دفتری زندگی میں جوابات کی ٹیمپلیٹ بنالیں تاکہ بار بار آپ کو لکھنا نہ پڑے اور آپ ایک ہی ڈرافٹ کی ایڈیٹنگ کرکے اپنا وقت بچانے کی کوشش کریں۔
  • کام کی منصوبہ بندی کریں پھر کام کریں۔ گاڑی چلانے سے پہلے منزل متعین کرلیں۔
  • کام کرنے سے پہلے منطق کے سوالات اپنے آپ سے کریں۔ کیا؟، کیوں؟ کیسے؟ اور کب؟
  •  گھر پر کام مت لے جائیں اور گھر کو کام پر مت لائیں۔ جب کام پر آئیں تو گھر سے نشریاتی رابطہ کم از کم رکھیں اور جب گھر جائیں تو گھر والوں کے حقوق ادا کریں۔دفتر والوں سے نشریاتی رابطہ کم کردیں۔ شریک حیات اور بچے اور والدین آپ سے آپ کا وقت، آپ کی باتیں اور آپ کی مسکراہٹیں مانگتے ہیں۔ ان کےلیے اجنبی نہ بنیے۔
  •  خاص اور منتخب کام کریں، جن کے بغیر گزارہ ہوسکتا ہے اسے چھوڑدیں۔
  •  وہ کام جو دماغی صلاحیت کا مطالبہ کرتے ہیں انھیں ان اوقات میں کریں جب آپ کا دماغ اس کام کے لیے تیار ہو۔
  •    ایک وقت میں ایک کام کریں۔
  •  اپنے یومیہ کاموں کے لیے ٹائم ٹیبل بنائیں۔
  •  قابل عمل مقاصد کا تعین کریں۔
  •   ہر کا م کے لیے ایک وقت مقرر کریں اور اس وقت میں اسے ختم کریں۔

خاندانی یا گھریلو زندگی

  •  آپ خواہ کھانا پکا رہے ہوں، کوئی مضمون لکھ رہے ہوں یا تقریر کر رہے ہوں، تمام متعلقہ چیزیں کام شروع کرنے سے پہلے اپنے پاس رکھ لیں تاکہ آپ کو بار بار اٹھنا نہ پڑے۔ اسے تیاری کہتے ہیں اور یہ بڑی اہم چیز ہے۔
  •  اگر آپ کو کوئی کام ہو یا کہیں سے خریداری کرنی ہو تو تمام چیزیں ایک نوٹ بک کی صورت میں لکھ لیں اور اپنی سرگرمیوں کا پورا نقشہ تیار کر لیں تاکہ آپ کو دوبارہ سفر نہ کرنا پڑے اور  کم سے کم فاصلہ طے کرکے آپ کا سارا کام مکمل ہو جائے۔
  • خریداری کے لیے پہلے سے فہرست بنا کر جائیں۔ کوشش کریں کہ مختلف معمول کی خریداری کی فہرستیں بنی ہوئی ہوں اور انھیں بوقت ضرورت استعمال کیا جائے۔
  • خریداری ایک مرتبہ کیجیے۔ ایک ہفتے میں ایک بار سے زائد خریداری دور حاضر میں تضیع اوقات میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ خریداری کی فہرست بنالیں اور ایک ہی بار یہ سب کام کرلیں، پٹرول اور گیس بھی اسی دوران میں حاصل کرلیں۔
  •  سہولیات کے بل وقت پر ادا کردیجیے اور تاخیر کرکے آخری وقت میں مشکلات مت پیداکیجیے۔
  • اپنی سالانہ چھٹیوں کو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بہتر انداز سے گزارنے کی کو شش کریں۔ یہ شیشے کی گیند کی مانند ہیں اسے زمین سے ٹکرانے کا موقع نہ دیں ورنہ یہ گیند ٹوٹ جائےگی۔
  •  وہ چیزیں نہ خریدیں جن کے لیے آپ کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہو۔ نقش ونگار والی اشیا صفائی کاوقت مانگتی ہیں۔
  •  اگر چیزیں سستی مل رہی ہیں مگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو آپ انھیں نہ خریدیں۔
  •  وہ چیزیں بھی نہ خریدیں جن کے لیے آپ کے پاس جگہ نہیں ہے،یا خصوصی جگہ کے اہتمام کی ضرورت ہوگی۔
  •  ہفتہ وار خوراک کا مینو بنالیں۔ مرغن اور مہنگی غذاؤں کی جگہ سادہ اور کم خرچ غذاؤں پر گزارہ کریں۔
  •  ضروری نہیں ہے کہ آپ برانڈیڈ فوڈ کھائیں۔ اس میں آپ کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کو رائلٹی دینی پڑتی ہے۔ اس کے بجاے آپ اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ ہفتہ وار یا ماہانہ یا چھٹیوں کے دوران ’ون ڈش‘ پارٹی کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے اجتماعی فوائد ہیں۔

 معاشرتی    یا    قومی   زندگی

  •  کسی دوست کو اطلاع دیے بغیر یا ٹیلی فون پر رابطہ قائم کیے بغیر اس سے ہرگز نہ ملیے۔اسی انداز سے اپنے دوستوں میں اس کلچر اور عادت کوپروان چڑھانے کی کوشش کریں۔
  •  عام حالات میں بھی بغیر اطلاع کے کسی کے گھر اور دفتر نہ جائیں۔ یہ تہذیب اور شائستگی کے خلاف ہے۔ ہمیشہ فون پر اطلاع دے کر جائیں۔ اگر آپ بغیر اطلاع کے جاتے ہیں تو اس شخص کوآپ آزمائش میں ڈال رہے ہیں۔
  • ایسے لوگوں سے بچیں جو بے مروت اور اتنے خود غرض ہوں کہ آپ کا وقت خواہ مخواہ ضائع کرنے کی کوشش کریں۔
  •  اپنے مشکل حالت میں اپنوں میں سے غیر اور غیروں میں سے اپنے دیکھنے کی کوشش کیجیے۔
  •  ٹیلی فون کے استعمال میں احتیاط کریں۔ بسا اوقات بہت ہی غیر ضروری باتیں سامنے آ جاتی ہیں اور کبھی غیر متعلقہ باتیں اور تفصیل بیان کی جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر حکمت سے کام لیتے ہوئے بات چیت کو مختصر کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ بلا وجہ بھی اسے استعمال کرنا مناسب نہیں۔
  •   فضول گوئی سے اجتناب کرکے بھی وقت بچایا جاسکتا ہے۔
  •  وقت کی پابندی کیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے گھر، دفتر، معاشرے میں اور تقریبات کے حوالے سے لوگوں کو پابندی وقت کی ترغیب دیجیے۔
  • عام گفتگو اور لوگوں کے ساتھ بے تکلفانہ بات چیت کو پانچ منٹ تک محدور رکھیے۔
  •                 (مجموعی طور پر زندگی کے روزمرہ اُمور میں بہتری کے لیے ہماری کتاب شاہراہِ   زندگی   پر کامیابی   کا   سفر کا مطالعہ مفید رہے گا)۔