اکتوبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

خلیج میں جنگی پھیلائو اور صہیونی چہرہ

مسعود ابدالی | اکتوبر ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

خلیج فارس کی جنگ اب بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب تک پھیل گئی ہے۔گذشتہ ہفتے ایران نواز ’انصاراللہ‘ المعروف ’حوثیوں‘ نے سعودی حمایت یافتہ یمنی فوج کو پیچھے دھکیلتے ہوئے المخا (Mokha) بندرگاہ پر قبضہ کیا اور اگلے ہی روز آبنائے باب المندب کے اہم جزیرے میون (Perim/Mayun) پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔ یہ پیش رفت محض یمن کی خانہ جنگی کا ایک اور واقعہ نہیں، بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی رسد کے ایک بڑے اہم بحری راستے کو بدلنے اور روکنے کی علامت ہے۔

l میون: باب المندب کا جغرافیائی مہرہ:تقریباً ۲۷ کلومیٹر چوڑی آبنائے باب المندب ایشیا، خلیج عرب، بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز کے درمیان عالمی تجارت کا اہم دروازہ ہے۔ جزیرہ میون اسی آبنائے کے اندر واقع ہے اور اسے دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس جزیرے پر قابض قوت کو وہاں سے گزرنے والی بحری آمدورفت کی نگرانی اور اسے خطرے میں ڈالنے کے لیے ایک اہم جغرافیائی پوزیشن حاصل ہوجاتی ہے۔

اس طرح ایک جانب آبنائے ہرمز اور دوسری طرف باب المندب میں ایران اور اس کے اتحادیوں کا دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم، میون پر حوثیوں کے قبضے کو ایران کی مکمل بحری بالادستی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ خطے میں امریکی، سعودی اور دوسری بحری و فضائی قوتیں بھی موجود ہیں۔ ان کامیابیوں کو ایران کی فتح کے بجائے تہران کی تزویراتی سودے بازی کی قوت میں اضافے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

  •  بارود بمقابلہ جغرافیہ: محلِ وقوع کے تناظر میں معاملہ اب گولہ بارود بمقابلہ جغرافیہ تک پہنچ گیا ہے۔ امریکا کے پاس غیر معمولی فوجی اور فضائی طاقت، میزائل، بحری بیڑے اور گولہ بارود ہے۔ ایران کے پاس امریکا جیسی روایتی فوجی طاقت نہیں، لیکن اس کے پاس ایک ایسی چیز ہے جسے بموں سے تباہ نہیں کیا جاسکتا اور وہ ہے جغرافیہ۔امریکا بم برسا سکتا ہے، میزائل داغ سکتا ہے اور فوجی تنصیبات تباہ کرسکتا ہے، لیکن جغرافیہ کو مٹا نہیں سکتا۔
  •  سعودی تیل بھی جنگ کی زد میں: باب المندب کے گرد طاقت کی کش مکش کے ساتھ سعودی تیل کی تنصیبات بھی اس جنگ کی زد میں آتی دکھائی دے رہی ہیں۔ گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے اپنی ’مشرقی، مغربی سپلائی لائن‘ عارضی طور پر بند کردی ہے۔ تقریباً ۱۲۰۰ کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل میدانوں سے خام تیل بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ’ینبع‘ تک پہنچاتی ہے۔ اس کی موجودہ گنجائش تقریباً ۷۰ لاکھ بیرل یومیہ ہے۔

بحیرۂ احمر سے جنوب کی جانب جانے والے تیل بردار ٹینکر باب المندب سے گزر کر بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند کے راستے ایشیائی منڈیوں تک پہنچتے ہیں، جب کہ شمال کی راہ اختیار کرنے والے ٹینکر نہر سویز عبور کرکے بحیرۂ روم کے راستے یورپی منڈیوں کی راہ لیتے ہیں۔یوں معاملہ صرف ہرمز اور باب المندب تک محدود نہیں رہا، بلکہ سعودی عرب کا وہ زمینی راستہ بھی زد میں آگیا، جو آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اہمیت رکھتا تھا۔

  •  سعودی عرب پر حملہ اور مکہ معاہدہ:۸ ستمبر کو حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، نجران اور جازان پر ڈرونز اور میزائلوں سے بڑا حملہ کیا، جس میں کم از کم ۷۳ افراد زخمی ہوئے۔ سعودی حکام کے مطابق توانائی کے بعض مراکز میں آگ لگی اور کچھ کارروائیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔۱۹،۲۰ستمبر کی درمیانی شب حوثی ملیشیا نے ریاض ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔ اس کارروائی سے مکہ دفاعی معاہدے کا امتحان بھی شروع ہوگیا ہے۔اس بڑے حملے سے صرف ایک ماہ پہلے، ۷؍اگست کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کی بنیادی شق کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ کیا سعودی عرب پر حوثیوں کے یہ حملے مکہ معاہدے کی اجتماعی دفاعی شق کو حرکت میں لاسکتے ہیں؟ فی الحال اس کا جواب ’نہیں‘ کہنا زیادہ محتاط ہوگا، کیونکہ معاہدہ اجتماعی دفاع کا اصول تو واضح کرتا ہے، لیکن یہ سوال الگ ہے کہ حملے کی صورت میں پاکستان اور ترکیہ کے لیے براہِ راست فوجی کارروائی لازم ہوگی، یا وہ سیاسی، دفاعی، انٹیلی جنس یا دیگر معاونت کے ذریعے اپنا کردار ادا کرسکیں گے؟

پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاصا حساس ہے۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پُر عزم ہے، تو دوسری طرف ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کررہا ہے۔ ترکیہ بھی براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تاہم، اگر سعودی سرزمین پر حملے مسلسل بڑھتے ہیں، انسانی اور معاشی نقصان وسیع ہوتا ہے یا سعودی فوجی تنصیبات براہِ راست نشانہ بنتی ہیں، تو مکہ معاہدے کی اصل آزمائش شروع ہوجائے گی۔

  • امریکی نقصانات کے متضاد بیانات: ایران نے اردن کے موفق السلطی اڈے پر حملے میں امریکی فوج کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا۔ امریکی ٹیلی ویژن سی بی ایس کے مطابق اس حملے میں تقریباً آٹھ ایف،۱۵ طیاروں کو نقصان پہنچا، جب کہ ایک’اے دس تھنڈر بولٹ‘ طیارے کا ایک بازو ضائع ہوگیا، مگر صدر ٹرمپ نے کہا: ’امریکا کا کوئی نقصان نہیں ہوا‘۔

دوسری طرف امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہَنگ کاؤ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’بحرین میں موجود امریکی بحری تنصیبات کو ایرانی حملوں سے بُری طرح نقصان پہنچا۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی کہ طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کے عملے کے لیے وہاں واپس آکر قیام یا جہاز کو لنگر انداز کرنے کی مناسب جگہ بھی باقی نہیں رہی‘‘۔ بحرین امریکا کے لیے خلیج میں محض ایک فوجی اڈہ نہیں بلکہ اس کی بحری حکمتِ عملی کا اہم مرکز ہے۔

  •  ایران کے ’آنکھوں والے‘ میزائل: اسی دوران ایران کی جانب سے ’آنکھوں والے جدید میزائلوں‘(الیکٹروآپٹیکل) کے استعمال کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان میزائلوں میں ہدف کی شناخت اور نشاندہی کے لیے خصوصی کیمرے اور حساس شعاعِ نور آلات (Light Sensors) استعمال کیے جاتے ہیں۔ امریکی مرکزی کمان کے مطابق ایرانی میزائل ان کے کسی اثاثے تک پہنچنے میں ناکام رہے ۔ تاہم، الیکٹروآپٹیکل میزائلوں کی موجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا و اسرائیل، ایرانی فوج کی تحقیقی تنصیبات اور میزائیل فیکٹریوں کو تباہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
  •  زیرِآب ڈرون دعویٰ، پھر امریکی اعتراف:اسی سلسلے میں ۸ ستمبر کو ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی زیرِ آب ڈرون (Underwater Drone) پکڑنے کا دعویٰ کیا۔ ابتدا میں امریکی حکام نے اس دعوے کو مسترد کیا، لیکن بعد میں امریکی مرکزی کمان نے تسلیم کیا کہ ایک Anduril Dive-LD زیرِ آب ڈرون سے رابطہ منقطع ہوا تھا۔ امریکی وضاحت کے مطابق یہ نسبتاً پرانا ماڈل تھا، جو ایک دن پہلے خراب ہوچکا تھا۔ ڈرون بنانے والی امریکی کمپنی ’انڈورِل‘ نے بھی ایک Dive-LD کے ضائع ہونے کی تصدیق کی۔ تقریباً ۱۹ فٹ طویل یہ خودکار زیرِ آب نظام سمندری تہہ کا نقشہ بنانے، بارودی سرنگوں کی تلاش اور زیرِ آب تنصیبات اور کیبلوں کی نگرانی جیسے کام انجام دے سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس میں موجود کوئی انتہائی حساس عسکری ٹکنالوجی ایران کے ہاتھ نہ لگی ہو، لیکن امریکی اعتراف نے کم از کم یہ ضرور واضح کردیا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت کے مکمل طور پر ختم ہوجانے کا دعویٰ حقیقت سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔

خلیج فارس سے باب المندب تک پھیلتی جنگ ایک نئی حقیقت سامنے لارہی ہے، یعنی جدید جنگ صرف میزائل، بم اور طیاروں کی جنگ نہیں ہوتی۔ بندرگاہیں، جزیرے، آبنائے، پائپ لائنیں، تجارتی راستے اور سرحدی گزرگاہیں بھی جنگ کے اہم ہتھیار بن سکتے ہیں۔امریکا کے پاس گولہ بارود کی غیر معمولی طاقت ہے، مگر ایران اور اس کے اتحادیوں کے پاس خطے کا پیچیدہ جغرافیہ ہے۔ دیکھنا ہے کہ عسکری قوتِ قاہرہ، جغرافیہ کو شکست دے سکے گی یا جغرافیہ گولہ بارود کی طاقت کو مفلوج کردے گا؟

صہیونیت کے خلاف بڑھتا ہوا اضطراب

اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ اب صرف غزہ اور غربِ اردن تک محدود نہیں رہا۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عالمی سطح پر سیاسی، سفارتی اور عوامی ردعمل بڑھتا جارہا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے غربِ اردن کی اسرائیلی آبادیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جب کہ مزید ممالک بھی ایسی پابندیوں کی حمایت کررہے ہیں۔

  •  آبادکاری کے خلاف برطانوی اقدام:برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دارالعوام (پارلیمان) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ، غربِ اردن پر اسرائیلی قبضے کو غیرقانونی سمجھتا ہے۔ انھوں نے فلسطینی علاقوں سے مقامی افرادکی جبری بے دخلی اور قبضہ گردوں کے تشدد کو نسلی تطہیر قراردیا، اور ان آبادیوں سے آنے والی اشیا پر پابندی کے ساتھ ان کی توسیع میں مدد دینے والی بعض کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانس اور کینیڈا نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں۔

ملی بینڈ کے بیانات پر اسرائیل اور اس کے بعض حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور انھیں یہود دشمنی سے جوڑا گیا، حالانکہ ملی بینڈ خود ایک یہودی ہیں۔ ان کے خاندان نے نازی دور میں یہودیوں پر ہونے والے مظالم کا سامنا کیا تھا۔

  •  غربِ اردن میں گرفتاریاں اور آبادکاروں کا تشدد :الجزیرہ کے مطابق گزشتہ ہفتے غربِ اردن کے مختلف علاقوں سے بچوں سمیت تقریباً ۱۰۰ فلسطینی گرفتار کیے گئے۔ طولکرم میں یتیم و بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال میں معروف سماجی کارکن محترمہ روی ابراہیم کو ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔ روی پر بچوں کو دہشت گردی کی تعلیم دینے کا الزام عائد کیا گیاہے۔
  •  غزہ میں بمباری:غزہ میں اسرائیلی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ خان یونس میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں ۹؍ افراد شہید ہوئے، جب کہ غزہ شہر کی ایک خیمہ بستی پر بمباری سے متعدد افراد زندہ جل گئے۔
  •  اسرائیلیوں کی اپنی دستاویزی فلم: اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہام اور ریشل زور کی دستاویزی فلم NAZA نے وینس (اٹلی) فلم میلے میں خصوصی جیوری انعام حاصل کیا ہے۔ فلم میں ۲۴؍ اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی گمنام گواہیاں شامل ہیں، جنھوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’غزہ میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے رہائشی علاقوں میں فون پر ہونے والی گفتگواور بچوں کی آواز کی تصدیق کے بعدایسے گھروں کو نشانہ بنایا گیا جہاں خواتین اور بچے موجودتھے‘‘۔

فلم کا نام NAZA دراصل اسرائیلی عسکری و انٹیلی جنس نظام میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے، جو کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں یا ’ضمنی نقصان‘ کی تعداد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ فلم نے اسی اصطلاح کو اپنا عنوان بنا کر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جنگی منصوبہ بندی میں جب انسانی جانیں بھی محض اعداد و شمار یا ایک ’عسکری کوڈ‘ بن جائیں تو اس کے اخلاقی اور انسانی مضمرات کیا ہوتے ہیں؟

۱۰ ستمبر کو اس کی افتتاحی نمائش کے بعد جب فلم ساز اسٹیج پر آئے تو سارا مجمع کھڑا ہوکو ۲۵ منٹ تک تالیاں بجاتا رہا۔ یہ وینس فلم میلے میں کسی بھی فلم کی طویل ترین پذیرائی تھی۔ اس موقع پر یووال ابراہام نے کہا کہ NAZA محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک ایسی دستاویزی کاوش ہے کہ جس میں غزہ کی جنگ کو اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی زبان سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس فلم سے ابھرتی AI ٹکنالوجی کے بارے میں دنیا تشویش کا شکار ہوگئی ہے۔لگتا ہے کہ جدید ٹکنالوجی نے انسان کو محض ایک ہدف میں تبدیل کردیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر ثقافت مکی ظہر نے دونوں فلم سازوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان کیاہے، جب کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے NAZA کو ’بدترین اشتعال انگیزی‘ قرار دیا۔ یہ ردعمل خود اس بات کی علامت ہے کہ فلم نے اسرائیل کے اندر بھی ایک غیرمعمولی سیاسی تنازع کھڑا کردیا ہے اور اس جابرانہ طرز عمل سے مشرق وسطیٰ کی’اکلوتی جمہوریت‘ بے نقاب ہوگئی ہے۔

  •  ایک جوتا اور ایک نیا اسرائیلی تنازع:اسرائیل نے اہلِ غزہ کو برباد کردیا، لیکن حکمرانوں کی وحشت کی بھاری قیمت اس کے سپاہی اب تک ادا کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ ہزار سے زیادہ اسرائیلی فوجی ایک یا دونوں پیروں سے محروم ہوگئے ہیں۔ جوتے بنانے والے ادارے ’ایڈی ڈاس‘ نے ایک پیر والے افراد کے لیے خصوصی جوتے تیار کیے ہیں، جس کے اشتہار میں اسرائیل کے ایک معذور فوجی کو اس جوتے کے ساتھ دوڑتے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی انتہا پسند اس پر سخت ناراض ہیں اور فوجیوں کی جانب سے ’ایڈی ڈاس‘ کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی گئی ہے۔
  •  ٹیکساس کا نیا نصاب: تاریخ یا تعصب؟:ادھر ریاست ٹیکساس (Texas) کے تعلیمی بورڈ نے ہائی اسکول کے سماجی علوم کے نئے نصاب کی منظوری دی ہے، جس میں ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں کو’Radical Islam‘ سے جوڑ کر پڑھانے اور ابتدائی اسلامی تاریخ کے بعض پہلوؤں کو جنگ، غلامی اور خواتین قیدیوں کے تناظر میں بیان کرنے کی ہدایات شامل ہیں۔ اگر تاریخ پڑھاتے ہوئے کسی ایک مذہب کو مسلسل منفی مثالوں کے ذریعے پیش کیا جائے گا تو تاریخی شعور پیدا کرنے کے بجائے بین المذاہب بداعتمادی اور معاشرتی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ یہ اعتراض صرف مسلم تنظیموں یا ناقدین کی طرف سے نہیں آیا، بلکہ بورڈ کے مقرر کردہ کم از کم تین ماہرین نے بھی نصاب میں اسلام سے متعلق بعض بیانیوں پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ممتاز ماہر تعلیم محترمہ آندریا ہچنسن نے کہا کہ متعلقہ مواد ’قریب سے تاریخی جانچ پڑتال‘ پر پورا نہیں اترتا، جب کہ جامعہ ٹیکساس، آسٹن میں فلسفے کے پروفیسر رابرٹ کونز کا کہنا تھا ہے: ’’تاریخ کا بنیادی اصول یہی ہے کہ طالب علم کو واقعات، شواہد اور مختلف نقطۂ نظر سے آگاہ کیا جائے، اُسے پہلے سے کسی نتیجے کا پابند بنانا علمی بددیانتی ہے۔ اگر اسلام کی تاریخ میں جنگیں، غلامی یا دوسرے متنازعہ پہلو پڑھانا ضروری ہے، تو ان کا پورا تاریخی پس منظر بھی بیان ہونا چاہیے۔ غلامی کو صرف اسلامی دنیا سے منسوب کرنا تاریخی تصویر کو ادھورا کردے گا، کیونکہ غلامی اسلام سے بہت پہلے بھی مختلف معاشروں میں موجود تھی۔ اور تو اور خود امریکا میں ۱۸۶۵ء تک غلامی کو آئینی تحفظ حاصل تھا‘‘۔

اسرائیل اور فلسطین کے تنازع سے لے کر ٹیکساس کے کلاس روم تک الفاظ اور بیانئے اسلام مخالف مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو یہود دشمنی اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اب اسکولوں میں تاریخ، تحقیق، شواہد اور غیر جانب داری کے بجائے مسلمانوں سے خوف اور شک کے ساتھ پڑھائی جائے گی۔جس کی بناپر کمرۂ تدریس علم کا مرکز بننے کے بجائے معاشرتی تقسیم کا میدان بن سکتا ہے۔ تاریخ کا کام کسی مذہب کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو ماضی سے سچ سیکھنے کے قابل بنانا ہے۔

_______________