اکتوبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

تفکر، ابن رشدؒ، اور ہم!

ڈاکٹر خان یاسر | اکتوبر ۲۰۲۶ | تاریخ وسوانح

Responsive image Responsive image

وہ محنت کش ہاتھ جو زندگی سے لڑتے ہیں، قسم قسم کے بوجھ ڈھوتے ہیں، لگاتار کام کرتے ہیں، بہت طاقت ور ہوتے ہیں۔ وہ پُرعزم پاؤں جو نشیب میں لپکتے ہیں، بلندیوں پہ چڑھتے ہیں، پلٹتے ہیں، جھپٹتے ہیں اور بلا تکان چلتے ہیں، بڑے مضبوط ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس حرکت کی برکت سے محروم ہو تو جسم ناتواں، کمزور و مضمحل ہوجاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی اصول عقل پر بھی صادق آتا ہے۔ 

وہ انسان جو ذہنی کاہلی میں مبتلا ہوں، جو ریلز، شارٹس اور سستے ڈوپامین کی لت کے شکار ہوں، جنھیں لمبے مضامین اور موٹی کتابوں سے وحشت ہوتی ہو، جو مشاہدے و مطالعے سے گھبراتے ہوں، جو تین، چار اور پانچ کو جمع کرنے کے لیے بھی کیلکولیٹر نکال لیتے ہوں، جو چیٹ جی پی ٹی کا دامن تھامے بغیر چار لائن کا ای میل لکھنے پر قادر نہ ہوں، جن کے حافظے میں دو چار چھوٹی سورتوں کے علاوہ نہ حدیثیں ہوں، نہ دعائیں اور نہ اذکار۔ جنھیں نہ پہاڑے یاد ہوں اور نہ فون نمبر اور راستے۔ جو ہر کام کے لیے موبائل کے محتاج ہوں ، ان کی ذہنی صلاحیتیں وقت کے ساتھ ساتھ ماؤف ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ان کی عقل کا وہی حال ہوتا ہے جو غذا اور ورزش سے محروم کسی جسم کا ہوا کرتا ہے۔ 

مطالعہ ذہن کی غذا ہے اور تفکر و تدبر اس کی ورزش! جو انسان پڑھتے ہیں، دنیا کو شعور کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، کائنات میں اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر کرتے ہیں، اپنے ذہن و دانش کی اعلیٰ صلاحیتوں کو مرکوز کرکے مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں، تلاشِ حق میں سرگرداں رہتے ہیں، انھیں فراست، دانائی اور بصیرت کے خزانے نصیب ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہیں دُور اندیش، ذہن چست، شعور پختہ و پائیدار، تفکر عمیق اور عقل فرقان ہوجاتی ہے۔ 

عقل کہتے کسے ہیں؟ 

’عقل‘ اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، جو انسان کو انسان بناتی ہے۔ ’عقل‘ حق و باطل، صحیح و غلط، نفع و نقصان، اور خیر و شر کا شعور بخشتی ہے۔ اسی کے فیصلوں پر ہماری زندگی کا دار و مدار ہے اور اسی کی وجہ سے ہم عند اللہ جوابدہ ہوں گے۔ ابن رشد کے مطابق جو تعلق محسوسات کا قوت حاسہ سے (یعنی منظر کا آنکھ سے، خوشبو کا ناک سے، یا ذائقے کا زبان سے) ہے وہی تعلق معقولات کا عقل سے ہے۔ ان معنوں میں عقل قابلِ فہم باتوں کو سمجھنے کی حس، بالفاظِ دیگر ’قوتِ ادراک‘ کا نام ہے۔ عقل کمال کے حصول کا ذریعہ ہے۔ مطالعہ، تحقیق و تفکر اس کی غذا ہے۔ حق کو پالینا اس کا منتہائے مقصود ہے۔ 

ابن رشد (پ:۱۱۱۶ء)زور دیتے ہیں کہ سعادت کا حصول اسی طور پر ممکن ہے کہ پوری عمر مطالعہ و مجاہدہ میں گزار دی جائے۔ جو ایسا نہ کرسکے، وہ ناکام و نامراد ہے۔ اپنی کتاب فصل المقال فیما بین الحکمۃ والشریعۃ من الاتصال  میں ابن رشد نے آیات قرآنی  اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ ’تعقل و تفکر واجب ہے‘۔ گویا فکروتدبر کی صلاحیت رکھنے والوں کے لیے ذہنی تعطل اور کاہلی، اللہ کی دی ہوئی نعمت کے ساتھ بدترین خیانت ہے۔ واضح رہے کہ یہ بات انھوں صرف شرعی علوم کے تناظر میں نہیں کہی بلکہ اس پر فلسفہ و منطق کے حوالے سے بھی زور دیا، کیونکہ یہ علوم بھی انسان کو حقیقت کا ادراک کراتے ہیں۔ لہٰذا، مسلمان حکمت کے ان خزانوں سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ 

یقیناً ابن رشد فلسفہ اور شریعت کے ظاہری تضاد کو دُور کرنے کے لیے کوئی فعال لائحہ عمل  نہیں دے سکے۔ وحی کی تاویل و تمثیلی تعبیر کا جو راستہ انھوں نے دکھایا اس کی افادیت مشکوک ہے، لیکن ان کا یہ خیال کہ فلسفہ و شریعت باہم رفیق، مددگار بلکہ رضاعی بھائی ہیں اور دونوں میں کوئی حقیقی تضاد نہیں ہے کیونکہ حق حق کو رَد نہیں کرتا۔ یہ بات جہاں فلسفے پر ان کے یقین کی مظہر ہے، وہیں شریعت پر ان کے پختہ ایمان کی بھی علامت ہے۔ ان مباحث کی تفصیل کے لیے ان کی کتاب الکشف عن مناہج الادلۃ فی عقائد الملۃ کا مطالعہ مفید ہوگا۔ 

ابن رشد نے اس نامعقول مگر مشہور خیال کی تردید کی کہ ’’فلسفے کا مطالعہ انسان کو کفروضلالت کی راہ پر ڈال دیتا ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ’’ بادی النظر میں فلسفے کے مطالعے سے گمراہ ہونے والے کی گمراہی کا اصلی سبب نفس فلسفہ نہیں بلکہ مطالعے کے دوران مغالطہ یا نفسانی اغراض کا غلبہ ہے۔ ایک طالب علم کو مطالعہ کے دوران صحیح علمی و روحانی رہنمائی میسر آئے تو مغالطوں سے بچا جاسکتا ہے‘‘۔ ان کے نزدیک ’’اہل نظر و بصیرت کا فلسفہ پڑھنا ناگزیر ہے کیونکہ ایک فلسفی ہی باتوں کی جڑ اور گہرائی میں اُترنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس صلاحیت کے بغیر نصوص کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا اور عصرِ حاضر میں ان کا انطباق (adaptation) دشوار ہے‘‘۔ 

ابن رشد تعقل کے پُرزور داعی ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ’’ہر بات خود نہیں جانی جاسکتی، لہٰذا اسلاف کی علمی پیش رفت سے بے نیاز ہوکر پہیے کی ایجادِ نو میں مہلتِ عمر گنوا دینا حماقت ہے۔ عقل مندی، پیش رو محققین کی تحقیقات سے استفادے میں ہے۔ البتہ اس استفادے کے دوران اندھی عقیدت سے اجتناب ضروری ہے‘‘۔ ابن رشد انسانی عقل کے ثمرات کو آنے والی نسلوں کے لیے بہترین ورثہ سمجھتے ہیں، لیکن اصرار کرتے ہیں کہ ’’اس ورثے پر غور و فکر اور اس کا محاکمہ ضروری ہے‘‘۔ وہ خود بھی تحقیق و تنقید کی اسی روش کو پسند کرتے ہیں اور پیش رو مفکرین کی کتابوں میں بیان کردہ حق کو شکریے کے ساتھ قبول کرتے ہیں، اور ساتھ ہی جس بات کو غلط سمجھتے ہیں اسے رد کرکے نئی راہ نکالنے میں کسی قسم کا تکلف نہیں کرتے۔ 

ابن رشد کی علمی آراء سے اسی طرح اختلاف کیا جاسکتا ہے، اور کیا جانا چاہیے، جیسا کہ خود انھوں نے اپنے پیش رو مفکرین سے کیا، لیکن ان کا علمی کام اور تحقیقی و تنقیدی فکر آج بھی طلبہ و محققین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ 

کون ہیں یہ ابن رشد؟ 

ابن رشد آج سے تقریباً ۹۰۰ برس  پہلے، قرطبہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان علم و فقہ کی روشن روایات کا امین تھا۔ ان کے دادا اور پھر والد نے بھی قرطبہ کے ’قاضی القضاۃ‘ (چیف جسٹس) کے طور پر اپنے فرائض انجام دیے تھے۔ ایک تعلیم یافتہ گھرانے کے چشم و چراغ ہونے کے علاوہ ابن رشد خود ایک ذہین و فطین طالب علم تھے۔ والد کی نگرانی میں انھوں نے قرآن مجید کے ساتھ ساتھ مؤطا امام مالک  بھی حفظ کرلی تھی۔ انھیں ادب سے بھی دلچسپی تھی چنانچہ حبیب ابوتمام (۸۰۴ء-۸۴۶ء)اور متنبی (۹۲۰ء- ۹۶۵ء)کا کلام انھیں زبانی یاد تھا۔ انھوں نے فقہ، کلام، فلسفہ، ریاضی اور طب کی تعلیم بھی وقت کے مایہ ناز اساتذہ سے حاصل کی اور بہت جلد علم کے اُفق پر آفتاب بن کر طلوع ہوئے۔ 

ابن رشد صرف کتابی مطالعے کے نہیں بلکہ اولو الالباب کے مصداق کائنات میں اللہ کی نشانیوں پر غور و تدبر کے قائل تھے۔ بچپن ہی سے ان کی عادت تھی کہ وہ گھنٹوں آسمان میں اجرامِ فلکی کا مشاہدہ کیا کرتے تھے۔ ان کی شہرت یقیناً بطور فلسفی ہوئی، لیکن علم فلکیات میں ان سے کئی فلکیاتی مشاہدات بھی منسوب ہیں۔ مراکش کی رصدگاہ میں اپنے مشاہدات کے دوران انھوں نے ایک نیا ستارہ ’سہیل‘ (Canopus) دریافت کیا۔ اس دریافت سے انھوں نے زمین کے گول ہونے کے دلائل اخذ کیے۔ انھوں نے کائنات سے متعلق کلاؤ دیوس بطلیموس (۱۰۰ء-۱۷۰ء) کے نظریے پر تنقید کی اور کائنات کی توضیح کے لیے نئے ماڈل پیش کیے۔ ابن رشد کی فلکیاتی خدمات کے اعتراف میں مریخ و مشتری کے درمیان واقع ’حلقۂ سیارچگان‘ (Asteroid belt) کے ایک سیارچےکو ان کے نام سےمعنون کیا گیا ہے، اسے Averroes 8318 کہتے ہیں۔ 

طب کے میدان میں بھی ابن رشد کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ خصوصاً ان کی الکلیات فی الطب کو خداداد شہرت اور مقبولیت ملی۔ سات جلدوں پر مشتمل اس طبی انسائیکلوپیڈیا میں جسم کو لاحق ہونے والے تمام امراض اور ان کے علاج پر مبنی معلومات کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ فلسفے میں استغراق نے ابن رشد کو استقلال کے ساتھ طبی تجربات کی فرصت نہیں دی۔ اس کے باوجود اس میدان میں بھی ان سے کئی اوّلیات منسوب ہیں، مثلاً:

  •   ابن رشد سب سے پہلے اس نتیجے تک پہنچے کہ چیچک کا مرض کسی کو دو بار نہیں ہوتا۔ 
  •  ابن رشد وہ پہلے طبیب ہیں، جنھوں نے پارکنسن بیماری کی علامات صراحت سے درج کیں۔ 
  •  ابن رشد کی نے یہ انکشاف کیا کہ آنکھوں میں روشنی کو محسوس کرنے والا عضو retina ہے نہ کہ عدسہ (lens)۔ 
  •  انھوں نے فالج (stroke) کے بارے میں حکیم جالینوس (۱۲۹ء-۲۱۶ء)سے اختلاف کیا اور بتایا کہ اس کا سبب دل سے دماغ تک جانے والی شریانوں میں رکاوٹ ہے۔ 

حکیم جالینوس کے نظریات کی تنقیح پر ابن رشد نے تقریباً دس رسائل تصنیف کیے۔ اسی طرح کلیات میں دوران خون اور جراثیم سے متعلق ان کی توضیحات ولیم ہاروے (۱۵۷۸ء- ۱۶۵۷ء) اور لوئس پاسچر (۱۸۲۲ء-۱۸۹۵ء)کے لیے مشعلِ راہ بنیں۔ انھوں نے تریاق پر ایک رسالہ لکھا تھا جو بڑا مقبول ہوا۔ کلیات اور ان کے دیگر طبی رسائل کے لاطینی، عبرانی و دیگر یورپی زبانوں میں ترجمے کیے گئے اور صدیوں تک وہ یورپ کی یونی ورسٹیوں میں داخلِ نصاب رہے۔ ابن رشد نے مراکش میں شاہی طبیب کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 

علمی و تصنیفی مشاغل کے ہمراہ ابن رشد ایک زمانے تک قرطبہ اور اشبیلیہ میں قاضی کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ہوئے۔ علم فقہ میں ابن رشد کی تصانیف میں سے بدایۃ المجتہد و نہایۃ المقتصد  فقہی احکام و مسائل سے متعلق مختلف آراء کے تقابلی مطالعہ پر ایک رجحان ساز کتاب ہے۔ کسی ایک مسلک کی آراء کی تعلیم و تفہیم کے بجائے یہ کتاب ان کے اس نظریے کی آئینہ دار ہے کہ فقہی مسائل میں صحیح رائے تک پہنچنے کا طریقہ تقلید جامد نہیں بلکہ عقلی استدلال ہے۔ ان کی کتاب فقہی اختلافات کو عقل کی عدالت میں پیش کرنے، اختلافات کے اسباب پر غور و خوض کرنے، اور فقہاء کی جانب سے مختلف آرا ءکے حق میں پیش کیے گئے دلائل کی تفتیش و تجزیے کے بعد قرآن و سنت کے مطابق اقرب الی الصواب رائے تک پہنچنے کی ایک قابلِ قدر کوشش ہے۔ 

امتحان ہی زندگی کی اصل ہے۔ لہٰذا، ابن رشد کو بھی اضطراب اور پیچ و تاب کے ایک کٹھن دُور سے گزرنا پڑا۔ حاسدوں کو ان کی یہ عزت افزائی راس نہ آئی۔ انھوں نے بادشاہ کے کان بھرنے شروع کیے۔ ابن رشد کی تحریروں کو سیاق و سباق سے کاٹ کر عجیب و غریب معنی پہنائے گئے اور ان پر الحاد و زندقہ کا الزام لگا۔ پھر ابن رشد کے بیباک سیاسی افکار نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ دراصل اسلامی تاریخ کے تجزیاتی مطالعے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ’’دورِ نبوی ؐ اور خلفائے راشدینؓ میں حکومت جمہوری و شورائی اصولوں پر عامل تھی۔ اس کے بعد ملوکیت کا دور شروع ہوا اور حکومت کی یہ اسلامی شناخت مسخ ہوتی چلی گئی‘‘۔ ابن رشد کی کتابوں میں حریت افکار کی دعوت، جمہوریت و شورائیت کی وکالت، سیاسی آزادی کی باتیں، اور آمریت پر جارحانہ تنقید، ملوکیت کے دور میں باغیانہ قرار پائیں۔ درباری سازشوں کا شکار ہوکر ابن رشد کو شہر بھر میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی کتابوں کو نذرِ آتش کیا گیا، اور انھیں ایک دُور دراز گاؤں میں نظر بند کردیا گیا۔ 

ابن رشد مضبوط اعصاب اور اعلیٰ کردار کے مالک تھے۔ انھوں نے ایام جلاوطنی و اسیری کا صبر و استقامت سے سامنا کیا۔ ان کی زندگی کا یہ مشکل مرحلہ بھی علمی مجاہدے سے عبارت رہا۔ حالات کی ناسازگاری کو بالائے طاق رکھ کر وہ پورے انہماک سے مطالعہ و تفکر، درس و تدریس، اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے۔ الیسانہ نامی جس گاؤں میں انھیں نظر بند کیا گیا تھا، وہاں یہودی خاطر خواہ تعداد میں بستے تھے۔ ابن رشد کی قید ان یہودیوں کے لیے بڑی سودمند ثابت ہوئی۔ چنانچہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں یہودیوں کو بھی ان سے علمی استفادے کا موقع ملا۔ بعدازاں یہ طلبہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے یورپ کے لیے علم کے مینارۂ نور ثابت ہوئے۔ 

یورپ پر ابن رشد کے علمی احسانات کی تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ان کی فلسفیانہ کاوشوں پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ 

فلسفیانہ کاوشیں

فلسفہ، ابن رشد کی خصوصی توجہ کا مرکز تھا۔ ان کی اکثر تصانیف فلسفیانہ مباحث سے متعلق ہیں۔ اس ضمن میں ابن رشد نے ارسطو (۳۸۴ ق م-۳۲۲ ق م)کی تقریباً تمام کتابوں کی شرحیں لکھیں۔ یہ شرحیں تین طرح کی ہیں:

  •  ’جامع‘یعنی کتاب کے موضوعات کا خلاصہ اور مختصر تشریح (short commentaries)۔
  •   تلخیص (middle commentaries) یعنی کتاب میں درج مضامین کی قدرے مفصل تشریح اور مصنف کے دلائل کی توضیح۔ انھیں شروحات صغریٰ یا شروحات متوسط بھی کہا جاتا ہے۔
  • شرح کبیر (long commentaries) یعنی کتاب کے مکمل متن کا سطر بہ سطر تجزیاتی مطالعہ اور مصنف کے دلائل کی مکمل وضاحت۔ انھیں شروحات بسیط بھی کہا جاتا ہے۔ 

ابن رشد کی شرحیں محض فکرِ ارسطو کی جگالی نہیں ہیں بلکہ اپنی ایک اجتہادی شان رکھتی ہیں۔ ان شروحوں، بالخصوص شروحات کبریٰ، میں ارسطو کے افکار کی توضیح کے ساتھ ساتھ ابن رشد کے طبع زاد خیالات کا اظہار بھی ہوا ہے۔ ارسطو کی کم از کم پانچ کتابوں پر ابن رشد نے تینوں طرز کی شرحیں لکھی ہیں۔ ان میں الطبیعیات، مابعدالطبیعیات ، النفس، السماء اور البرھان شامل ہیں۔ 

ابن رشد کی ان علمی فتوحات کی قدر مسلم دنیا سے بڑھ کر یورپ میں ہوئی۔ اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے یورپ کے لیے ابن رشد کی حیثیت شارحِ ارسطو، مجددِ فلسفۂ یونان اور مسیحائے علم کی تھی۔ ابن رشد نے افلاطون کی The Republic کی جو شرح لکھی، وہ یورپ میں جدید سیاسی فلسفے کا ایک اہم ماخذ بنی۔ ارسطو کا فلسفہ یورپ میں ابن رشد کے واسطے سے پہنچا۔ یورپ میں علمی بیداری اور نشاتِ ثانیہ کے سارے نقیب ابن رشد کے خوشہ چیں اور احسان مند تھے۔ 

جارج سارٹن لکھتے ہیں:’’ابن رشد کی عظمت اس زبردست اثر میں ہے، جو انھوں نے کئی صدیوں تک انسانی ذہنوں پر ڈالا۔ رشدیت کی تاریخ سولھویں صدی کے آخر تک پہنچتی ہے، یعنی چار صدیوں کا ایسا زمانہ جو قدیم اور جدید دور کے درمیان ایک حقیقی عبوری مرحلہ تھا‘‘۔ اس زمانے میں ابن رشد کی ایسی علمی دھاک بیٹھی تھی کہ اہل علم ان کا نام لینے کے بجائے صرف The Commentator  لکھتے تھے، اور پڑھنے والے جان جاتے تھے کہ کس عظیم الشان علمی ہستی کا تذکرہ ہورہا ہے۔ دھیرے دھیرے ابن رشد یورپ کے اہل علم و دانش کے لیے باوثوق ترین حوالے کی حیثیت اختیار کرگئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ کتب مقدسہ کے بعد سب سے زیادہ مقبول ابن رشد کی کتابوں کے تراجم تھے۔ آج انٹلکچول کہلانے کی آس میں لوگ جس طرح ہائیڈیگر، فوکو، سارتر، گرامسی، اور چومسکی وغیرہ کی مالا جپتے ہیں، ویسے ہی اس وقت یورپ میں شائقینِ علم ابن رشد کے مداح تھے اور ان کا حوالہ دینا مہذب، بیدار مغز، تعلیم یافتہ اور عقلیت پسند ہونے کی علامت تھی۔ 

یورپ میں علمی بیداری میں کردار

موسیٰ بن میمون اور جرسونیدس جیسے یہودی فلسفی نیز سیجر برابانتی، پیترو بومپوناتسی اور جان بیکنتھارپ جیسے عیسائی فلسفیوں پر ابن رشد کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ تھامس ایکویناس جیسے عیسائی متکلم و پادری اور راجر بیکن، ڈیکارٹ، گلیلیو، لیونارڈو ڈاونچی، برونو اور نیوٹن جیسے ارباب علم و سائنس بھی اپنی کتابوں میں ابن رشد کے افکار و دلائل کی جگالی کرتے یا ان سے مکالمہ کرتے نظر آتے ہیں۔ پیرس یونی ورسٹی، پیڈوا یونی ورسٹی، اوکسفرڈ یونی ورسٹی اور یورپ کی دیگر دانش گاہوں میں ابن رشد کا جادو کئی صدیوں تک سر چڑھ کر بولتا رہا۔اس کے اثرات تو ہونے ہی تھے سو ہو کر رہے۔ آہستہ آہستہ یورپ کی فضا بدلنے لگی، اندھی تقلید کے بجائے عقل پر زور دیا جانے لگا، علم کا شوق بڑھا، بیداری آئی، غیرمشروط اطاعت کے بجائے سوالات پوچھے جانے لگے۔

 عیسائیت کی فرسودہ تعلیمات کے خلاف ایک بغاوت کی سی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ جن کی روزی روٹی اور قوت و اقتدار، عقل و خرد پر کلیسائی تسلط سے وابستہ تھی وہ تشویش و توحش میں مبتلا ہوگئے۔ اہل کلیسا نے پایا کہ اس آزاد خیالی کے اصل محرک ابن رشد کے افکار ہیں۔ لہٰذا، ان کی کتابوں کی خرید و فروخت اور افکار کی اشاعت پر پابندی لگادی گئی۔ ۱۲۷۰ء کی دہائی میں متعدد مذہبی مجالس منعقد ہوئیں، جن میں پابندی کے اس عزم کی تائید کی گئی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں دی گئیں۔ 

سیجر برابانتی اور بوئیتھیئس دانمارکی پیرس یونی ورسٹی میں استاد تھے۔ دونوں ابن رشد کے افکار کے شیدا اور درس و تدریس کے ذریعے ان افکار کی اشاعت کرتے تھے۔ ابن رشد کے افکار سے اُلفت میں سیجر نہ صرف یہ کہ ریکٹر نہیں بن سکے بلکہ انھیں پیرس چھوڑ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس پر بھی گلو خلاصی نہیں ہوئی۔ انھیں کیتھولک عقائد سے انحراف پر تعذیب کے لیے کلیسائی عدالت (Inquisition Court) میں طلب کیا گیا، بعد میں پُراسرار حالات میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ ۱۲۷۷ء کی کلیسائی مذمتوں کے بعد بوئیتھیئس کا کیا بنا، کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ہم نہیں جانتے کہ کلیسائی استبداد سے بچنے کے لیے انھوں نے گمنامی کی زندگی اختیار کرلی یا اپنے افکار و نظریات کی قیمت اپنی جان سے چکائی۔ یہ ایک دو افراد کی نہیں، دو چار نسلوں کی سرگزشت ہے۔ 

ابن رشد کے خلاف جم کر پروپیگنڈا کیا گیا۔ انھیں الحاد کا علَم بردار گردانا گیا۔ اٹلی کے مصوروں نے مختلف چرچوں میں ابن رشد کے اہانت آمیز خاکے بنائے، جن میں وہ متکلم عیسائیت تھامس ایکویناس کے سامنے شکست خوردہ حالت میں نظر آتے ہیں۔ دانتے نے اپنی مشہورِ زمانہ رزمیہ ڈیوائن کامیڈی میں ابن رشد اور ابن سینا کی روحوں کو جہنم میں دکھایا ہے۔ 

البتہ یہ جھوٹ، پروپیگنڈا، اور ظلم و ستم ابن رشد کے اثرات پر غالب نہ آسکے۔ یورپ میں ابن رشد کے افکار سے ایک پورا مکتبۂ فکر وجود میں آیا، جسے Averroism کہتے ہیں۔ ابن رشد کے نظریات نے یورپ کے جاہلی معاشرے کی فرسودہ روایات کے خلاف ایک طوفان برپا کردیا۔ علم اور عقل کی تحریک زور پکڑ گئی، یہاں تک کہ عیسائیوں کے متعدد کلامی فرقے بھی اس پکار سے متاثر ہوئے اور پروٹسٹنٹ تحریک کے محرک ثابت ہوئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابن رشد کو ’بابائے عقلیت‘ (Father of Rationalism) بھی کہا جاتا ہے۔ 

افکار کی تازگی اور اسلوب کی قوت

ابن رشد کے افکار نے اس مستقبل کو (جو آج ہمارے لیے ماضی ہے) جس شان سے سینچا اس کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے، البتہ ہمارے سامنے جو اصل سوال ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ آج ہم ابن رشد سے کیا سیکھ سکتے ہیں ؟ 

ایک جملے میں کہا جائے تو ’’ابن رشد علمی تنقید کے مشکل محاذ پر ایک قابل تقلید نمونہ ہیں‘‘۔ پروفیسر ارنسٹ رینان لکھتے ہیں:’’مطالعہ اور علم و فضل کے معاملے میں دوسرے دانش ور بھی ابن رشد کے ہمسر ہوسکتے ہیں، لیکن جو چیز ابن رشد کو ممیز و ممتاز کرتی ہے وہ ان کی قوتِ تنقید ہے۔ اساطینِ علم و فکر کے بڑے ناموں اور عظیم کارناموں سے مرعوب ہوئے بغیر نفس مسئلہ پر مرکوز ہونا اور دلائل کو تحلیل و تجزیہ کی کسوٹی پر پرکھنا علمی تنقید کے لیے شرطِ اول ہے۔ اتنی ہی اہم یہ بات ہے کہ شخصیات کا احترام ملحوظ خاطر رہے، ان کی علمی خدمات کا صدق دل سے اعتراف کیا جائے، اور تنقید کسی صورت بھی تنقیص میں نہ ڈھلنے پائے۔ ابن رشد علمی تنقید کے ان دونوں معیارات پر کھرے اُترتے ہیں۔ 

ابن رشد نے علم فلکیات میں بطلیموس پر، علم طب میں جالینوس پر، اور علم فلسفہ میں الفارابی، ابن سینا اور امام غزالی جیسے صاحب الرائے مفکرین کے نظریات پر جرح کی ہے۔ ان کی عالمانہ تنقید سے ارسطو کے نظریات بھی مامون نہیں رہے۔ وہ ارسطو کے شارح کی حیثیت سے ضرور جانے جاتے ہیں، لیکن سچی بات یہ ہے کہ علم فلکیات سے لے کر علم نفسیات تک مختلف مسائل میں انھوں نے کھل کر ارسطو کی آراء سے اختلاف کیا ہے۔ ایک طرف یہ تنقید و اختلاف ہے تو دوسری طرف ابن رشد کے علمی کاموں میں ارسطو کی ہر کتاب کی شرح، بطلیموس کی المجسطی کا خلاصہ، اصول فقہ پر امام غزالی کی المستصفٰی کا اختصار، اور جالینوس کے طبی نظریات پر دسیوں رسائل شامل ہیں۔ عورتوں کے سماجی کردار کے تعلق سے ان کے نظریات اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ ابن رشد اپنے معاشرتی ماحول کی حدبندیوں کے اسیر نہ تھے۔ اہل علم کو اسی طرح اپنے زمانے کے فکری افق کی توسیع کا علَم بردار ہونا چاہیے۔ 

تصانیف اور خدمات

ان کی تصانیف میں تہافت التہافۃ  کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ امام غزالی کی تہافت الفلاسفہ کا جواب ہے۔ یہ کتاب ابن رشد کے علمی و تنقیدی اپروچ کا زریں شاہکار ہے۔ ابن رشد غزالی کے دلائل نقل کرتے ہیں اور ایک ایک کرکے ان کا جواب دیتے جاتے ہیں۔ وہ فلسفیوں کی تکفیر کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے:’’جن مسائل میں فلسفیوں کی تکفیر کی جاتی ہے ان کی تاویل و تعبیر کے ایسے طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں، جن سے فلسفہ و شریعت میں تصادم نہ ہو‘‘۔ انھوں نے متعدد مسائل میں اس بات کو تسلیم کیا کہ غزالی کی تنقید صحیح ہے لیکن اس بات پر زور دیا کہ ان مسائل میں فلاسفہ بالخصوص ارسطو کی رائے وہ نہیں ہے، جس پر تنقید کی گئی ہے، بلکہ یہ آراء غلط تشریحات کے نتیجے میں ارسطو سے منسوب ہوگئی ہیں۔ ارسطو کے نظریات کی غلط تشریح و تعبیر کے لیے ابن رشد نے ابن سینا اور فارابی پر تنقید کی ہے۔ اس سلسلے میں ان کے کچھ رسائل مثلاً مقالہ فی منہج الفارابی فی المنطق، مسائل فی کتاب الشفاء، الرد علی ابن سینا فی تقسیم الموجودات، اور المقال علی اراء الفارابی علی القیاس وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ 

ابن رشد بیدار ذہن کے مالک ہی نہیں وسیع القلب اسکالر بھی تھے۔ وہ صرف مطالعے کی وسعت اور تصانیف کی کثرت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق و کردار کی مناسبت سے بھی طلبہ و نوجوانوں کے لیے ایک آئیڈیل ہیں۔ ابن رشد نے اپنے سرمایۂ علم پر کبھی غرور نہیں کیا۔ بڑی انکساری کے ساتھ انھوں نے ہر آن اس پر توجہ دی کہ وہ کیا نہیں جانتے ہیں، اور جو نہیں جانتے اسے جاننے کے لیے عمر بھر مطالعہ و تفکر میں لگے رہے۔ وہیں دوسری طرف ان کی شخصیت میں عزّتِ نفس اور خود اعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ وہ بادشاہ کے سامنے عام درباریوں کے تذلیل آمیز اور خوشامدانہ رویوں سے نالاں اور مجتنب رہے۔ انھوں نے اپنے حاسدوں اور دشمنوں سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے مجمع عام میں ابن رشد کو سخت سُست کہا۔ ابن رشد نے اس آدمی سے بھلے طریقے سے بات کی، اس کا شکریہ ادا کیا کہ اس کے ذریعہ انھیں اپنے حلم اور عفو و درگزر کی صلاحیت کو آزمانے کا موقع ملا۔ مزید یہ کہ اس گستاخ کو تحفے تحائف کے ساتھ رخصت کیا۔ یہ ان کے اعلیٰ اخلاق اور تحمل کی ایک مثال ہے۔

ابن رشد وقت کے صحیح استعمال کے معاملے میں بھی مشعل راہ ہیں۔ انھوں نے مہلت زندگی کی ہر ساعت کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ دربار اور عدالت کی مصروفیات سے لے کر قید وبند کی پُرمشقت ساعتوں تک ابن رشد نے مطالعہ، تفکر و تدبر اور تصنیف و تالیف کا دامن تھامے رکھا۔ ۱۱۹۸ءمیں انتقال سے پہلے اپنی ۷۲ سالہ زندگی میں انھوں نے فلسفہ، علم کلام، طب، فقہ، قانون، نحو و صرف، طبیعیات، ریاضیات، اخلاقیات، حیوانیات اور فلکیات پر تقریباً ڈیڑھ سو کتب و رسائل تصنیف کیے۔ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی انھیں احساس تھا کہ کچھ بھی نہیں ہوسکا۔

 لکھتے ہیں: ’’میں مجبور ہو گیا ہوں صرف اہم مسئلوں تک محدود رہنے پر۔ میری مثال اس شخص کی سی ہے، جس کے چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہو، اور جس کے لیے اتنا موقع نہ ہو کہ وہ بے حد ضروری چیزیں بھی ساتھ لے جا کر جان بچا سکے‘‘۔ خود کو اہم مسائل تک محدود کرلینے کے باوجود اگر علمی تصانیف کا ایسا عظیم الشان ذخیرہ وجود میں آسکتا ہے، تو اس بات کا شاید اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا، کہ اگر مثالی حالات میسر آتے اور وہ خود کومحدود نہ کرتے تو ان کی علمی فتوحات کا کیا عالم ہوتا!

فی الوقت ابن رشد کے تعلق سے قابل ذکر اور قابل قدر بات یہ ہے کہ کفر و الحاد کے جھوٹے الزامات، جلاوطنی اور قید، حاسدوں کی سازشیں، متعدد عیسائی فرقوں کی مخالفت، متعصب مسیحی مصوروں اور ادیبوں کی اہانت، پادریوں کی متفقہ مذمتوں اور کتابوں کو نذر آتش کیے جانے کے باوجود آج بھی ابن رشد اپنی عقل کے ثمرات میں زندہ ہیں ،اور ہم سب کے لیے ذوقِ مطالعہ، علو تفکر، قوتِ تنقید، بلندئ کردار، وقت کی قدر اور صبر و توکّل کے حوالے سے روشن مثال ہیں۔ 

 _______________