ماضی میں جس طرح ’پتھر کے دور‘ میں خوراک، ’زرعی دور‘ میں زمین اور پھر ’صنعتی دور‘ میں مشینوں اور توانائی پر مشتمل فیکٹریوں کو مال کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی، اسی طرح یہ کہنا بھی شاید غلط نہ ہو کہ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد ’اطلاعاتی دور‘ میں ڈیٹا یا معلومات کو مال کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ ایک عام انسان دن بھر دفاتر میں کمپیوٹر اسکرین اور پھر فارغ وقت میں اسمارٹ فون پر جڑا ایک ڈیجیٹل زندگی گزار رہا ہے۔ اور اس کے چھوڑے ہوئے ڈیجیٹل قدموں کے نشان [Digital Footprints] ’مصنوعی ذہانت‘ کے حصول کا باعث بن رہے ہیں۔
’مصنوعی ذہانت‘ کی اس تیز رفتار ترقی کو ذہانت کی صنعتی پیداوار سے تشبیہ دی جارہی ہے۔ ماضی میں جیسے پہلے فیکٹریاں مزدوروں کی مدد سے مال تیار کرتی تھیں، اب ذہانت کی صنعتی پیداوار کی جارہی ہے۔ اور آنے والے دنوں میں انسانی مزدوروں کی جگہ ’مصنوعی ذہانت‘ سے لیس سسٹم [AI Agents] لے لیں گے۔
جس طرح آج ایک امریکی کمپنی کا پاکستانی نمائندہ پاکستان میں بیٹھ کر امریکا میں موجود کسی صارف کا مسئلہ حل کررہا ہوتا ہے، اسی طرح اب ’مصنوعی ذہانت‘ سے لیس سسٹم [AI Agents] آگئے ہیں جو دن رات، بغیر تنخواہ اور بغیر سوئے اسی کام میں جتے رہتے ہیں۔ اب یہی اے آئی ایجنٹس آپ کی دی گئی ضرورت کے مطابق سوفٹ وئیر وغیرہ بھی بنارہے ہیں اور بغیر کسی انسانی مدد کے مشکل فیصلے مثلاً کسی کی جانب سے کی گئی ڈیجیٹل ادائیگی کی واپسی کا فیصلہ، یا کسی کام کے لیے کسی دوسرے اے آئی ایجنٹ کی خریداری اور رقم کی ادائیگی بھی کررہے ہیں۔ لہٰذا، اب یہ کہا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اربوں مالیت کی کمپنیوں کے مالک بہت سارے لوگ نہیں، بلکہ فرد واحد ہوگا جو اپنی کمپنی کا سارا کام ان اے آئی ایجنٹس کی مدد سے انجام دے گا۔
ظاہر ہے جب یہ کمپیوٹر پر چلنے والے اے آئی ایجنٹس کام کریں گے، تو یہ کسی خریداری کی ادائیگی بھی ڈیجیٹل طریقے مثلاً ’بٹ کوائن‘ یا ’اسٹیبل کوائن‘ سے کریں گے۔ اور جو موضوع آج حلال و حرام کی بحث بنا ہوا ہے ایک عام چلن بن جائے گا۔
مستقبل کی کمپنیاں کیسی ہوں گی؟ اس بارے میں جاننا ہے تو چین کی ’تاریک فیکٹریوں‘ [Dark Factories] کے بارے میں پڑھیے۔ چین میں اب ٹکنالوجی، روبوٹکس اور ’مصنوعی ذہانت‘ کے ملاپ سے ایسی فیکٹریاں بنائی جارہی ہیں جہاں سارا کام خودمختار ربوٹس [Humanoid Robots] کررہے ہیں۔ کیونکہ ان فیکٹریوں میں انسانوں کا عمل دخل نہیں ہے۔ اسی لیے ان فیکٹریوں میں روشنی، ٹھنڈک اور گرمائش کا اہتمام بھی نہیں کیا جارہا۔ اسی لیے ان فیکٹریوں کو ’تاریک فیکٹریاں‘ کہا جارہا ہے۔ اس کا نتیجہ بہتر اور مسلسل پیداوار کی صورت میں مل رہا ہے۔ یہاں مزدوروں کی ہڑتال، دفتری سیاست یا انسانی غلطی کا کوئی احتمال نہیں ہے جو بالآخر بہتر منافع کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔
اسی طرح آج کل ایک کمپنی میں مختلف شعبے مثلاً مال کی پیداوار کے لیے پروڈکشن کا شعبہ، اس کے لیے درکار مال کی خریداری کے لیے خریداری کا شعبہ، پھر تیار مال کو بیچنے کے لیے سیلز اور مارکیٹنگ کا شعبہ، حساب کتاب کے لیے فنانس کا شعبہ، اور ان تمام شعبوں میں کام کرنے والی افرادی قوت کے معاملات کو سنبھالنے کے لیے الگ شعبہ درکار ہوتا ہے۔ لیکن جب ’مصنوعی ذہانت‘ کے سسٹمز عام ہوں گے تو ہر کام اے آئی ایجنٹس کریں گے۔ مال ایک ’تاریک فیکٹری‘ میں ربوٹس کی زیرنگرانی تیار ہوگا، مارکیٹنگ اور سیلز کے ماہر اس مال کو بیچنے کا کام کریں گے، حساب کتاب کے ماہر کمپنی کی مالیات سنبھالیں گے اور بہت سے شعبے مثلاً افرادِ کار کو سنبھالنے والا شعبہ [HR]، تنخواہیں دینے والا شعبہ [Payroll] وغیرہ ختم ہوجائیں گے، کیونکہ جب ملازمین ہی نہیں تو ان کو سنبھالنے اور تنخواہ دینے کا جھنجٹ بھی نہیں۔
صورت حال یوں ہوگئی ہے ’مصنوعی ذہانت‘ کی کمپنیاں بڑے پیمانے پر انسان نما ربوٹس [Humanoid Robots] کی پیداوار میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اگلے چار برسوں میں ۱۰ لاکھ سے زیادہ ربوٹس انسانوں کے درمیان گھومتے اور کام کرتے دکھائی دیں گے۔ نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ انڈیا میں پھیلی غربت کا فائدہ اٹھانے کے لیے مختلف ’مصنوعی ذہانت‘ کی کمپنیاں لوگوں کو، جن میں اکثریت خواتین کی ہے، روزمرہ کے کام کرتے وقت اس کی ویڈیو بنانے کے فی گھنٹہ ڈھائی سو روپیہ دے رہی ہیں، تاکہ وہ ویڈیوز بعد میں انسان نما ربوٹس کی تربیت میں استعمال کی جائیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کی ۲۴ جون ۲۰۲۶ء کی ایک خبر کے مطابق یہ خواتین اپنے سر پر اسمارٹ فون لگا کر دن بھر اپنا کام کرتی ہیں جس میں کھانا بنانا، صفائی کرنا، برتن دھونا وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ اور سر پر لگا اسمارٹ فون اس سارے عمل کی ویڈیو بنا کر اے آئی کی کمپنیوں کو بھیج دیتا ہے۔ پھر ان ویڈیوز کے ذریعے Humanoid Robots کی تربیت اور استعداد میں اضافہ کیا جاتا ہے۔
ظاہر ہے کہ جب کمپنی کے لیے دفتر، دفتر کے لیے لوازمات، اور سب سے بڑھ کر ملازمین کی ضرورت نہیں رہے گی، تو منافع کی شرح میں بھی بے حساب اضافہ ہوگا۔ یہاں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جب فرد واحد ہی اربوں ڈالر مالیت کی کمپنی کا مالک ہوگا تو پھر ایک نئی اشرافیہ پیدا ہوجائے گی۔ جس طرح زمین نے جاگیردار پیدا کیے، فیکٹریوں نے صنعت کار پیدا کیے، اطلاعاتی دور نے گوگل اور فیس بک جیسے ٹکنالوجی دیو [Tech Giants] پیدا کیے ، اسی طرح اب وہ کمپنیاں اس دور میں سب سے آگے نکل رہی ہیں جو ’مصنوعی ذہانت‘ پر کام کررہی ہیں۔ یعنی جتنی زیادہ ذہانت کی صنعتی پیداوار آپ کرسکتے ہیں، اس اشرافیہ میں آپ کا مقام اتنا ہی بلند ہوگا۔
فی الحال تو ارب پتی کاروباری اور ان کے ساتھ جڑے ماہرین اس سب کو نہایت خوشنما بنا کر پیش کررہے ہیں۔ کام سے آزاد معاشرہ کی باتیں ہورہی ہیں۔ گویا زمین پر اسی طرح فارغ البالی ہوگی جیسے جنت میں۔
اس تصویر کا ایک بھیانک رخ بھی ہے۔ ’مصنوعی ذہانت‘ جیسے جیسے عام ہورہی ہے، اس کو استعمال کرنے والی کمپنیوں کا منافع بھی بڑھ رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انسانی وسائل کی ضرورت بھی کم ہوتی جارہی ہے۔ لہٰذا پچھلے چند مہینوں میں دنیا کی بڑی کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کے نکالے جانے کی خبریں اب عام ہورہی ہیں۔ دلچسپ لیکن ساتھ ہی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پہلے اگر کسی کمپنی سے ملازمین کے نکالے جانے پر اس کمپنی کے شیئرز کی قیمت اسٹاک مارکیٹ میں گر جاتی تھی، تو اب ان کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ اس کی وجہ منافع میں اضافہ ہے۔
ایک اندازے کے مطابق انڈیا کی کال سینٹر انڈسٹری میں، جو تقریباً ۶۰ لاکھ لوگوں کے روزگار کا بندوبست کرتی ہے، تقریبا آدھی نوکریاں اگلے سال کے آخر تک ختم ہوجائیں گی۔ کیونکہ ان کی جگہ اے آئی ایجنٹس لے لیں گے جو خرچے میں ۸۵ فی صد تک کمی لے آئیں گے۔
آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ جس طرح ہم اپنے استعمال کے لیے بجلی خریدتے ہیں، اسی طرح مستقبل میں ہم ضرورت پڑنے پر ’ذہانت‘ خریدا کریں گے۔ یعنی کسی اکاؤنٹنٹ، استاد، وکیل، سوفٹ وئیر انجینئر کی جگہ اے آئی ایجنٹ کی سہولت خرید رہے ہوں گے۔
لیکن یہ سب کتنا تکلیف دہ ہوگا اور معاشرے پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ اس کا اندازہ ذیل میں دی گئی ایک تحریر سے لگالیں جو ایک تجربہ کار برطانوی سوفٹ وئیر انجینئر نے نوکری سے فارغ ہوجانے کے بعد سوشل میڈیا پر لکھی۔ نوکری سے نکالے جانے کے صدمے اور مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال کے خوف کے اظہار کے بعد وہ لکھتا ہے:
That's not even the sad thing. The sad thing is that I have A TON to contribute. I can upskill devs. I can fix bugs. I can design systems. I can bridge between departments. I have an exceptional track record. An impressive following. I ve written books. My GitHub is popular. I can't do anything with any of it.There's obviously work to be done. But nobody wants my services. Not in the UK and not in Europe. I've never seen anything like this.
’درد اس بات کا نہیں ہے [کہ میں تقریباً دو سال سے بے روزگار ہوں]، درد یہ ہے کہ میں اب بھی بہت کچھ کرسکتا ہوں۔ میں نئے آنے والوں کی تربیت کرسکتا ہوں، مسائل حل کرسکتا ہوں، سسٹم تیار کرسکتا ہوں، مختلف شعبوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتا ہوں۔ میری پچھلی کارکردگی شاندار ہے۔ میرے [سوشل میڈیا پر] بے شمار پیروکار ہیں۔ میں [سوفٹ وئیر کے موضوع پر] کتابیں لکھ چکا ہوں۔ میرا گٹ ہب [اوپن سورس پروگرامز کی ایک ویب سائٹ] بہت مشہور ہے، لیکن اس سب کے باوجود میرے پاس کرنے کو کچھ نہیں۔ میری خدمات کی کسی کو ضرورت نہیں۔ نہ برطانیہ میں اور نہ یورپ میں ہی۔
گویا جس مستقبل [Career] کے لیے یہ معاشرہ ہم کو بچپن سے تیار کرتا آرہا ہے، جس مستقبل کے حصول کے لیے ایک فرد اپنی زندگی کے قیمتی ترین بیس بائیس سال لگادیتا ہے، جس مستقبل کے سہانے خواب سجائے بچے، نوجوان سب ایک لگے بندھے نظام میں دن رات محنت کررہے ہیں، وہ مستقبل یا نوکری محفوظ بھی رہے گی یا نہیں؟ اس کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں۔ امریکا میں نوکریوں کی صورتِ حال اتنی نازک ہوچکی ہے کہ بعض جامعات کو اپنی تشہیر کے لیے کئی سال پرانے ڈیٹا کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ نئے فارغ التحصیل طلبہ کو حصولِ ملازمت میں زبردست مشکلات کا سامنا ہے۔
کام کی بدلتی شکلوں کی وجہ سے نوکریوں کی خراب صورتِ حال ہو، یا ملکی و غیرملکی قرضوں کے جال کے باعث کاغذی نوٹ کی گرتی اہمیت کی حکومتی پریشانی ہو، یا کم محنت سے اپنے نفع میں زیادہ اضافے کی سرمایہ دارانہ خواہش، اس وقت سب کی امیدوں کا مرکز ’مصنوعی ذہانت‘ بن چکی ہے۔ ماہرین معیشت کے خیال میں ’مصنوعی ذہانت‘ کا عروج، جسے ’خدائی ذہانت‘ کہا جاتا ہے، ہمیں صرف کام کے غم سے ہی آزاد نہیں کرے گا، بلکہ ساتھ ہی ساتھ یہ ہمیں ایسا معاشی عروج بھی دے گا جس کا تصور تاریخ انسانی میں نہیں کیا جاسکتا۔ ماہرین کے خیال میں اگر موجودہ ترقی [Growth] کی رفتار اسی طرح رہی تو انسان اپنی زندگی میں کم سے کم تین سے چار دفعہ اپنا معیار زندگی پچھلے معیار زندگی کے مقابلے دُگنا بہتر ہوتا دیکھے گا۔
اوکسفرڈ یونی ورسٹی سے وابستہ مشہور فلسفی نک بوسٹرم [Nick Bostrom] اپنی کتاب ’خدائی ذہانت: راستے، خطرات، حکمت عملی‘ [Super intelligence: Paths, Dangers, Strategies] میں انسانی تاریخ میں معاشی ترقی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انسان نے کیسے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر جنگلات سے نکل کر بستیاں بسائیں، کس طرح ’زرعی دور‘ نے ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو بہتر کیا جس کا نتیجہ مزید ترقی کی صورت میں نکلا۔ اور کس طرح ’صنعتی دور‘ نے اس ترقی کو بام عروج پر پہنچایا۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:
A few hundred thousand years ago... growth was so slow that it took on the order of one million years for human productive capacity to increase sufficiently to sustain an additional one million individuals living at subsistence level. By 5000 BC, following the agricultural revolution, the rate of growth had increased to the point where the same amount of growth took just tow centuries. Today, following the industrial revolution, the world economy grows on average by that amount every ninety minutes.
Even the present rate of growth will produce impressive results if maintained for a moderately long time. If the world economy continues to grow at the same pace as it has over the past fifty years, then the world will be some 4.8 times richer by 2050 and about 34 times richer by 2100 than it is today.
Yet the prospect of continuing on a steady exponential growth path pales in comparison to what would happen if the world were to experience another step change in the rate of growth comparable in magnitude to those associated with the Agricultural revolution and the Industrial revolution.The economist Robin Hanson estimates, based on historical economic and population data, a characteristic world economy doubling time for Pleistocene hunter-gatherer society of 224000 year; for farming society, 909 years; and for industrial society 6.3 years.... If another such transition to a different mode were to occur, and it were of similar magnitude to the previous two, it would result in a new growth regime in which the world economy would double in size about every two weeks.
چند لاکھ سال پہلے… ترقی [کی رفتار] اتنی سست تھی کہ انسانی پیداواری صلاحیت کو کافی حد تک بڑھنے میں ۱۰ لاکھ سال کا عرصہ لگا، تاکہ ۱۰لاکھ افراد کو ایک مستقل معیارِ زندگی پر برقرار رکھا جا سکے۔ لیکن ۵ہزار قبل مسیح کے آنے تک، زرعی انقلاب کے بعد، شرح نمو اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ ترقی کی اسی رفتار میں محض چند صدیاں لگیں۔ آج صنعتی انقلاب کے بعد، عالمی معیشت ہر ۹۰ منٹ میں اوسطاً اس رفتار سے بڑھ رہی ہے۔
یہاں تک کہ موجودہ شرح نمو بھی اگر طویل عرصے تک برقرار رکھی جائے تو شاندار نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر عالمی معیشت گذشتہ ۵۰برسوں کی رفتار سے ہی ترقی کرتی رہی تو ۲۰۵۰ء تک دنیا ۸ء۴گنا امیر اور اکیسویں صدی کے اختتام تک ۳۴ گنا زیادہ امیر ہو جائے گی۔
اس کے باوجود ترقی کی یہ مستحکم رفتار ’زرعی دور‘ اور ’صنعتی دور‘ جیسے اگلے کسی انقلاب کے سامنے پھیکی نظر آتی ہے۔ اگر ’زرعی دور‘ اور ’صنعتی دور‘جیسا ہی ایک اور انقلاب آگیا تو کیا ہوگا؟ ماہر اقتصادیات رابن ہینسن کے تاریخی معاشی تخمینے کی بنیاد پر اگر ’شکاری معاشرہ‘ کو ترقی کی رفتار دوگنی کرنے میں ۲ لاکھ ۲۴ہزار سال لگے، ’زرعی دور‘ کو ۹۰۰ سال لگے اور ’صنعتی دور‘ کو ساڑھے چھ سال لگتے ہیں، تو اگر ایسی ہی کوئی نئی انقلابی تبدیلی آئی تو ترقی کی رفتار محض دوہفتوں میں دوگنی ہوجایا کرے گی۔
دوسرے الفاظ میں ’مصنوعی ذہانت‘ کے انقلاب کی صورت میں قومی ترقی کی رفتار دن دوگنی رات چوگنی ترقی کیا کرے گی۔ لیکن یہ دعوے جتنے خوش گوار لگتے ہیں حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ بظاہر تو یہ صحیح ہے کہ دولت بڑھ رہی ہے مگر یہ اَعداد کا من پسند ہیر پھیر ہے۔ اوسط ترقی اور مساوی ترقی دو الگ الگ کہانی سنا رہے ہیں۔ جہاں ایلون مسک دنیا کے پہلے کھرب پتی بن چکے ہیں، وہیں ایک عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔
چند خبروں کے مطابق ترقی کی اس تیز رفتاری اور کام کی بدلتی نوعیت اور مستقبل میں بے روزگاری عام ہونے کے خوف سے اب امریکی حکومت ’مصنوعی ذہانت‘ کی مختلف کمپنیوں میں حصہ دار بننے پر غور کررہی ہے۔ جس کا بظاہر مقصد ان کمپنیوں سے ملنے والے منافع کو بے روزگاروں میں بے روزگاری الاؤنس [Universal Basic Income] کے طور پر بانٹنا نظر آتا ہے۔
لیکن ساتھ ہی امریکی سرمایہ کار اور کاروباری ’مصنوعی ذہانت‘ کی اس فضا کو اپنے حق میں خوب خوب استعمال کرکے اسٹاک مارکیٹ میں اندھا منافع کما رہے ہیں۔ ’مصنوعی ذہانت‘ میں استعمال ہونے والے مخصوص چپس [GPU] بنانے والی کمپنی نیویڈیا [NVIDIA] کا منافع آخری بارہ برسوں میں تیرہ سو گنا بڑھا ہے۔ جس کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اس کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں بھی بےپناہ اضافہ ہوا ہے۔ نوّے کی دہائی سے قائم اس کمپنی کے حصص کی مالیت ۵۰ سینٹ کے آس پاس رہتی تھی۔ لیکن آخری بارہ برسوں میں یہ قیمت بڑھتے بڑھتے دو سو ڈالر سے اوپر نکل گئی ہے۔ اسی وجہ سے یہ مالیت کے اعتبار سے ایپل [Apple]کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اب دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی ہے۔
یہ صرف ایک کمپنی کی کہانی نہیں بلکہ ہر دوسری کمپنی ہی ’مصنوعی ذہانت‘ کی اس لہر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ اعلان کرتی نظر آرہی ہے کہ وہ ’مصنوعی ذہانت‘ کا استعمال شروع کررہے ہیں، اور یہ خبر آتے ہی ان کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں۔
دوسروں کی طرح اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے دنیا کے امیر ترین کاروباری ایلون مسک بھی پیچھے نہ رہے۔ ایلون مسک نے مریخ کے سفر کو ممکن بنانے والی اپنی کمپنی اسپیس ایکس [SpaceX] کے حصص امریکی اسٹاک مارکیٹ میں لانے سے پہلے اپنی دوسری کمپنی [xAI]، جو ’مصنوعی ذہانت‘ کے میدان میں کام کرتی ہے، کا انضمام اسپیس ایکس [SpaceX] سے کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ اعلان کرنے کی دیر تھی کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ نے SpaceX کی مالیت تقریباً دو ٹریلین ڈالر تک پہنچا دی اور ساتھ ہی ایلون مسک کو پہلے کھرب پتی بننے کا اعزاز بھی دلادیا۔
لیکن جہاں ایک طرف ناقدین اس سب کو ایک بلبلہ کہہ رہے ہیں جو ایک اگلے خطرناک معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، وہیں چند مؤرخین اس سب کو نئی دنیا، یعنی امریکا کی دریافت سے مماثلت دے رہے ہیں۔ جس طرح جب نئی دنیا یا امریکا دریافت ہوا تو اس نے ترقی کے امکانات کا ایک نیا باب کھولا، ویسے ہی مریخ کا سفر ہماری معاشی ترقی میں ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا۔
مگر اہم سوال یہ ہے کہ جس طرح نئی دنیا کی تعمیر میں افریقی ممالک سے لائے گئے غلاموں کا استحصال شامل تھا، کیا مریخ کی تسخیر میں بھی اسی طرح غلاموں کا استعمال ہوگا؟ ظاہر ہے جب دنیا میں ’خدائی ذہانت‘ کے حصول کے بعد کام ختم اور بے روزگاری عام ہوجائے گی، تو انسان روزگار کے حصول کے لیے مریخ کی طرف جدید غلام بن کر جانے سے گریز نہیں کرے گا۔
ایک طرف ’مصنوعی ذہانت‘ سے دن دوگنی رات چوگنی معاشی ترقی کے حصول کے خواب دیکھے جارہے ہیں، وہیں ناقدین نوکریوں کے ختم ہوجانے کی صورت میں دو طرفہ نقصان کی طرف بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ بوسٹن یونی ورسٹی کے محققین کی تحقیق [The AI Layoff trap] اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ جب ایک فرد نوکری ختم ہوجانے کے بعدروزمرہ اشیاء خریدنا بند کردے گا، تو پھر ’مصنوعی ذہانت‘ سے لیس روبوٹس کی مدد سے تیار کردہ اشیاء آخر خریدے گا کون؟
If AI displaces human workers faster than the economy can reabsorb them, it risks eroding the very consumer demand firms depend on. In a competitive task-based model of a transitioning economy, each firm captures the full cost saving from automation but bears only a fraction of the demand loss it creates in the product market; the rest falls on rivals. This demand externality traps rational firms in an automation arms race, displacing workers well beyond what is collectively optimal. The resulting loss harms both workers and firm owners. More competition and better AI amplify the excess.
اگر ’مصنوعی ذہانت‘ کی وجہ سے بے روزگار ہوجانے والی افرادی قوت کو معیشت میں دوبارہ ضم نہ کیا گیا، تو اس کا نتیجہ [اشیاء کی] طلب کے ختم ہوجانے کی صورت میں نکلے گا جس پر خود یہ کمپنیاں انحصار کرتی ہیں۔ آٹومیشن کے نتیجے میں نکالے جانے والے ملازمین کی تنخواہ سے حاصل ہونے والی بچت کا سو فی صد فائدہ توکمپنی کو ہوتا ہے، مگر [بے روزگاری کے نتیجے میں] طلب میں کمی کا خمیازہ دیگر تمام کمپنیوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر کمپنی کو عقل مندی اسی میں نظر آتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ آٹومیشن کی جائے۔ یوں آٹومیشن کی وہ دوڑ شروع ہوجاتی ہے جو معاشی طور پر بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔ اور اس سب کا بالآخر نتیجہ بڑے پیمانے پر بے روزگاری کی صورت میں نکلتا ہے ۔ یعنی صرف فرد ہی نہیں بلکہ کمپنیاں بھی [بے روزگاری کے نتیجے میں اشیاء کی طلب کے ختم ہوجانے کی وجہ سے] نقصان میں رہتی ہیں۔ گویا ’مصنوعی ذہانت‘ کے استعمال میں جتنا اضافہ ہوتا جائے گا، طلب میں بھی اتنی ہی کمی ہوتی جائے گی۔
اگر آپ نے یہ مضمون پورا پڑھا ہے تو آپ کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا کہ دنیا کس رخ پر جارہی ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں داخل ہورہے ہیں جہاں ہر چیز مال کی شکل اختیار کرلے گی اور ہر چیز برائے فروخت ہوگی۔ پیسہ یا دولت کی نجکاری اور ساتھ ہی ایک نئی اشرافیہ کی پیدائش صرف معاشی اعتبار سے ہی نہیں سیاسی اعتبار سے بھی ایک نئی کش مکش پیدا کرے گی۔ اگر اشتراکیت کو اطلاعاتی دور [Information age] میں پروپیگنڈا نے شکست دی تھی، تو اب ’دور ذہانت‘ [Intelligence age] میں سرمایہ دارانہ نظام کو خود اپنی بقا کے لیے چند طاقت ور لوگوں کی مطلق العنانی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔
’مصنوعی ذہانت‘ کو انسانوں جیسی ذہانت حاصل کرنے کے لیے ہماری یادداشت، ہماری توجہ، ہمارے جذبات، ہماری آواز اور یہاں تک کے ہماری سوچ و شعور کو بھی سمجھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ظاہر ہے جب ان چیزوں کی اہمیت بڑھے گی تو ان کی قیمت بھی لگے گی۔ لہٰذا یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ خود انسان بھی محض ایک قابل فروخت شے بن جائے گا جس کی ضرورت محض ’مصنوعی ذہانت‘ کی تربیت کے لیے ہوگی۔
ایسا لگتا ہے کہ آنے والے پچیس پچاس برسوں میں وقت کا مؤرخ ہماری غلط ترجیحات پر افسوس کرتا نظر آئے گا۔ فی الوقت تو دنیا بھر سمیت خود پاکستان میں افراط زر، روپیہ کی ناقدری اور معاشی بے یقینی کو معاشی مسائل سمجھا جارہا ہے لیکن ان کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ اس سب نے عوام کو مستقل خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کی ترجیحات بھی بدل رہی ہیں۔ جب ترجیحات بدلتی ہیں تو اقدار بھی بدلتی ہیں اور دنیا کو دیکھنے اور برتنے کا زاویہ بھی۔ معاشرتی دباؤ، آگے نکلنے کی دوڑ اور اپنی بقا کی جنگ میں معاملہ حلال و حرام کی قیود سے نکل کر دین و اخلاق سے دُوری کی صورت نکلتا نظر آرہا ہے۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ذہانت کی صنعتی پیداوار کے نتیجے میں سب سے بے وقعت چیز خود انسان بن جائے گا۔ اگر ایلون مسک کا مریخ کو مسخر کرنے کا دو کھرب ڈالر کا جوا کامیاب ہوگیا، تو مریخ پر کس کی حکمرانی، کس کا قانون، کس کی مرضی چلے گی؟ جب خوراک سے لے کر لباس تک اور رہائش سے لے کر سفر تک سب کچھ ’مصنوعی ذہانت‘ کے ذریعے ممکن ہوگا، تو معیشت کیسے چلے گی؟ اگر ہم نے اپنی خواہشوں کے مطابق زمین پر جنت بنا بھی لی، تو زندگی کا مقصد رہ کیا جائے گا؟ یہ اور ان جیسے لاتعداد سوالات اب کوئی سائنس فکشن نہیں بلکہ حقیقت بنتے نظر آرہے ہیں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر معاشی نظام فرد کو اس مقام پر پہنچادے جہاں بقاء کی جنگ تمام دوسری اقدار پر حاوی ہوجائے، تو کیا مسئلہ صرف معیشت کا رہ جاتا ہے یا پھر یہ ایمان ، اخلاق اور تہذیب کا مسئلہ بن جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب ہمارے مستقبل کی سمت طے کرے گا!
_______________