اسلامی اخلاقیات ٹکنالوجی کی رفتار نہیں روکتیں، اسے انسانیت کی فلاح کی سمت ضرور موڑتی ہیں۔اکیسویں صدی میں ٹکنالوجی جس رفتار سے انسانی زندگی، معیشت اور ریاستی نظام کو تبدیل کررہی ہے، اس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ صنعتی انقلاب نے مشین کو انسانی جسمانی طاقت کا متبادل بنایا، کمپیوٹر نے حساب اور معلومات کے شعبے میں انسان کی استعداد بڑھائی، اور انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا، لیکن مصنوعی ذہانت نے معاملہ اس سے کہیں آگے پہنچا دیا ہے۔ اب مشین صرف انسان کے ہاتھوں سے کام نہیں کررہی بلکہ زبان سمجھ رہی ہے، تصاویر بنارہی ہے، کوڈ لکھ رہی ہے، فیصلوں میں معاونت کررہی ہے، سائنسی تحقیق میں مدد دے رہی ہے، اور بعض صورتوں میں ایسے کام بھی انجام دے رہی ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک صرف انسانی ذہانت کا میدان سمجھے جاتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض ٹکنالوجی کا موضوع نہیں رہی۔ یہ روزگار، معیشت، تعلیم، صحافت، جنگ، سائبر سیکیورٹی، جمہوریت، رازداری اور بالآخر انسانی اختیار کا سوال بن چکی ہے۔ اس بحث کی شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز اور رکنِ ایوانِ نمائندگان گریگ کاسار نے ۳ستمبر ۲۰۲۶ء کو ایسی قانون سازی کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد مصنوعی سپر انٹیلی جنس کی تیاری اور استعمال پر مستقل پابندی اور جدید طاقت ور اے آئی کی ترقی کو عارضی طور پر روکنا ہے، جب تک وفاقی سطح پر ایک باقاعدہ حفاظتی اور نگران نظام قائم نہ ہوجائے۔
یہاں ایک بنیادی وضاحت ضروری ہے۔ سینڈرز اور کاسار کی تجویز اس وقت قانون نہیں بلکہ مجوزہ قانون سازی ہے۔ اس میں مصنوعی سپر انٹیلی جنس پر پابندی، جدید اے آئی کی ترقی پر عارضی توقف، ایک نئی وفاقی نگران ایجنسی کے قیام اور بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے سپر انٹیلی جنس کے پھیلاؤ کو روکنے کی پالیسی شامل ہے۔ مجوزہ قانون میں خطرناک صلاحیتوں کی نگرانی، انھیں ختم کرنے کی نگرانی، اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزاؤں کی بات بھی کی گئی ہے۔
سینڈرز کی یہ کوشش دراصل ایک بڑے سوال کو سیاسی سطح پر سامنے لاتی ہے، اور وہ سوال یہ ہے کہ اگر انسان ایسی ذہانت تیار کررہا ہے جس کی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، تو اس کے استعمال کی آخری حد کون طے کرے گا؟ چند بڑی ٹکنالوجی کمپنیاں، ان کے انجینئرز، سرمایہ کار، حکومتیں یا دنیا کے عوام؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ اے آئی کی ترقی اب محض تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہی۔ اسٹن فرڈ یونی ورسٹی کے AI Index 2026 کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تکنیکی صلاحیتیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ صنعت نے ۲۰۲۵ء میں نمایاں Frontier Models کی تیاری میں ۹۰ فی صد سے زیادہ حصہ لیا، جب کہ اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال، شفافیت اور حکمرانی کے نظام اس رفتار کے ساتھ آگے نہیں بڑھ رہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ریکارڈ کیے گئے AI Incidents کی تعداد ۳۶۲ رہی، جو ۲۰۲۴ء کے ۲۳۳ واقعات سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
اس صورتِ حال میں برنی سینڈرز کا سوال محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا۔ تاہم، اس بحث میں خوف اور حقیقت کے درمیان فرق برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ہر ممکنہ خطرے کو ’انسانیت کی تباہی‘ قرار دینا اتنا ہی غیر سائنسی ہے جتنا یہ سمجھ لینا کہ اے آئی ہمیشہ انسان کی وفادار معاون رہے گی۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ حال اور مستقبل کے قابلِ پیمائش خطرات کو سنجیدگی سے لیا جائے، مگر مفروضوں کو حقائق بناکر پیش نہ کیا جائے۔
روزگار اس بحث کا سب سے فوری اور نمایاں پہلو ہے۔ ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ۴۰ فی صد روزگار کسی نہ کسی درجے میں اے آئی سے متاثر ہوسکتا ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں میں یہ شرح تقریباً ۶۰ فی صد ہے، جب کہ ابھرتی ہوئی منڈیوں میں تقریباً ۴۰ فی صد، اور کم آمدنی والے ممالک میں ۲۶ فی صد ہے۔ لیکن یہاں ’متاثر‘ ہونے کا مطلب لازماً ’ملازمت ختم ہونا‘ نہیں۔ ’اے آئی‘ بہت سے کاموں میں انسان کی جگہ لینے کے بجائے انسانی صلاحیت کو بڑھا سکتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اے آئی سے متاثر ہونے والی ملازمتوں میں تقریباً نصف کو پیداواری صلاحیت میں اضافے کا فائدہ پہنچ سکتا ہے، جب کہ دوسری نصف میں انسانی محنت کی طلب کم ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
یہ فرق انتہائی اہم ہے، کیونکہ اے آئی کے بارے میں سب سے زیادہ دُہرایا جانے والا دعویٰ یہی ہے کہ ’کروڑوں ملازمتیں ختم ہونے والی ہیں‘۔ Goldman Sachs نے ۲۰۲۳ء میں اندازہ لگایا تھا کہ Generative AI دنیا بھر میں تقریباً ۳۰۰ ملین کُل وقتی ملازمتوں (Full-time Jobs) کے برابر کام کو متاثر کرسکتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ۳۰۰ ملین افراد لازماً اپنی ملازمتیں کھو دیں گے۔ دراصل اے آئی کا بڑا اثر ملازمتوں کے اندر موجود Tasks کی نوعیت بدلنے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔
مک کنزے کی تحقیق بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے مطابق امریکا میں ۲۰۳۰ء تک موجودہ کام کے تقریباً ۳۰ فی صد گھنٹے خودکار کیے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جب کہ تقریباً ۱۲ ملین افراد ایک پیشے یا ملازمت سے دوسرے پیشے یا ملازمت کی طرف منتقلی کے چیلنج سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ یورپ میں بھی تیز رفتار ٹکنالوجی اپنانے کی صورت میں ۲۰۳۰ء تک تقریباً ۱۲ملین پیشہ ورانہ منتقلیاں درکار ہوسکتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ۱۲ ملین ملازمتیں ختم ہوجائیں گی، مطلب یہ ہے کہ لاکھوں کارکنوں کو ایک پیشے سے دوسرے پیشے میں منتقل ہونا پڑ سکتا ہے۔
لیکن اس تبدیلی کے فوائد خودبخود سب تک نہیں پہنچیں گے۔ اگر اے آئی سے پیدا ہونے والی اضافی دولت چند بڑی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں تک محدود رہی اور کارکنوں کو نئی مہارت حاصل کرنے کے وسائل نہ ملے، تو معاشی عدم مساوات بڑھ سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی خبردار کیا ہے کہ اے آئی عالمی سطح پر آمدنی کے فرق کو وسیع کرسکتی ہے، خصوصاً اُن ممالک میں جو نئی ٹکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے بنیادی ڈھانچے اور مہارتوں میں پیچھے ہیں۔
حالیہ برسوں میں اے آئی ایجنٹس کے زیادہ خودکار ہونے کے ساتھ یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ اگر کسی اے آئی نظام کو بیرونی نیٹ ورک، کوڈ چلانے یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع تک وسیع رسائی حاصل ہو، تو اس کی سرگرمیوں کی نگرانی اور انھیں قابو میں رکھنا کس حد تک مؤثر رہ سکتا ہے؟
یہ خدشہ اب محض ایک نظری امکان نہیں رہا،اسی لیے ستمبر ۲۰۲۶ء میں امریکی قانون سازوں نے اوپن اے آئی سے متعلق ایک ایسے واقعے پر تشویش ظاہر کی جس میں ایک اے آئی ایجنٹ نے حفاظتی تجربے کے دوران مقررہ حدود سے باہر نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور بگنگ فیس (Bugging face)کے نظام یعنی خرابی پیدا کرنے کے نظام تک رسائی کی کوشش کی۔ اس کے بعد اوپن اے آئی نے خودکار طور پر نظام بند کرنے کی صلاحیت اور نگرانی کے انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کی بات کی۔
یہ واقعہ بجائے خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ ’’اے آئی انسانوں سے زیادہ ذہین ہوچکی ہے‘‘، تاہم یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ زیادہ خودکار اے آئی نظاموں کے ساتھ سائبر سیکیورٹی اور انھیں قابو میں رکھنے کے عملی مسائل حقیقی اور سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔
جنگی میدان میں اے آئی کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ خودکار یا نیم خودکار ہتھیار انسانی فیصلے کو کم کر سکتے ہیں اور جنگ کی رفتار بڑھا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک الگورتھم کسی ہدف کو دشمن قرار دے اور حملہ کرنے کا فیصلہ کرے تو آخری ذمہ داری کس کی ہوگی؟ فوجی کمانڈر، پروگرامر، کمپنی یا ریاست کی؟ یہی وجہ ہے کہ خوداختیاری ہتھیاروں پر عالمی سطح پر انسانی نگرانی کی بحث شدت اختیار کر رہی ہے۔
اگر عوام یہ سمجھنے لگیں کہ ہر ویڈیو جعلی ہوسکتی ہے اور ہر آڈیو مصنوعی… تو مسئلہ صرف فیک نیوز کا نہیں رہے گا، اصل خبر بھی مشکوک بن سکتی ہے۔ اسے بعض ماہرین Liar’s Dividend (جھوٹے منافع)جیسے تصور سے جوڑتے ہیں، یعنی ایسی صورتِ حال جہاں جعلی یا مصنوعی مواد کی بہتات کے باعث حقیقی معلومات اور شواہد کو بھی جھوٹا قرار دینا آسان ہو جاتا ہے۔ طاقت ور افراد حقیقی ثبوت کو بھی یہ کہہ کر مسترد کرسکتے ہیں کہ وہ اے آئی سے تیار کیا گیا ہے۔ انتخابات میں یہ صورتِ حال خاص طور پر خطرناک ہے، کیونکہ جمہوریت صرف ووٹ کا نام نہیں بلکہ قابلِ اعتماد معلومات اور شواہد پر بھی قائم ہوتی ہے۔
یہ بھی ابھی ثابت شدہ حقیقت نہیں کہ ایسی سپر انٹیلی جنس دنیا میں موجود ہے یا مستقبل قریب میں لازماً وجود میں آ جائے گی۔ تاہم، اے آئی کو انسانی مقاصد اور اقدار سے ہم آہنگ رکھنے کا مسئلہ (Alignment Problem) ایک سنجیدہ تحقیقی سوال بن چکا ہے۔ اگر مستقبل میں کوئی انتہائی طاقت ور اے آئی نظام ایسے مقاصد اختیار کرلے جو انسانی اقدار سے متصادم ہوں، تو انسان اس کے رویّے کو کس حد تک قابو میں رکھ سکے گا؟
یہی وہ نظریاتی خطرہ ہے جسے سینڈرز کی مجوزہ قانون سازی میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ مجوزہ قانون ایسے اے آئی نظاموں پر پابندی کی بات کرتا ہے جو انسانی ذہانت سے آگے نکل جائیں، یا جن میں نظام کو بند کرنے کے احکامات کو ناکام بنانے جیسی خطرناک صلاحیتیں پیدا ہو جائیں۔
امریکا اور چین کے درمیان اے آئی کی مسابقت اب محض تجارتی مقابلے تک محدود نہیں رہی۔ اس میں سیمی کنڈکٹر ٹکنالوجی، ڈیٹا سینٹرز، فوجی استعمال، روبوٹکس اور سائنسی تحقیق جیسے اہم شعبے بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک ملک کے لیے اے آئی کی ترقی کو مکمل طور پر روکنے کا فیصلہ سیاسی طور پر انتہائی مشکل ہے۔ اگر امریکا اپنی جدید ترین اے آئی ٹکنالوجی کی تیاری روک دے، لیکن کوئی دوسرا ملک ایسا نہ کرے تو واشنگٹن میں یہ خدشہ پیدا ہوگا کہ وہ معاشی اور دفاعی اعتبار سے عالمی دوڑ میں پیچھے رہ سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں سینڈرز کی موجودہ تجویز میں عالمی تعاون کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ ان کا مقصد امریکا میں پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے دُنیا بھر میں سپر انٹیلی جنس کی ترقی کو روکنے کی کوشش کرنا ہے۔ تاہم، اسے ایٹمی عدمِ پھیلاؤ کے معاہدے، یعنی این پی ٹی (NPT) کا عین متبادل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ جوہری ٹکنالوجی اور اے آئی کی ساخت، رسائی، نقل سازی اور تجارتی استعمال بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
اے آئی کے کئی ماڈلز سافٹ ویئر کی صورت میں دنیا بھر میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں، اوپن ویٹ سسٹمز بھی موجود ہیں، جب کہ انھیں چلانے کے لیے درکار کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر مختلف ممالک اور نجی اداروں میں پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے اے آئی کی نگرانی اور ضابطہ کاری کے لیے عالمی سطح پر ایسے نئے اور مختلف طریقۂ کار کی ضرورت ہوگی جو اس ٹکنالوجی کی مخصوص نوعیت کو مدنظر رکھیں۔
یورپی یونین نے اس معاملے میں ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔ یورپی یونین کا اے آئی ایکٹ (EU AI Act) خطرے کی سطح پر مبنی ایک ضابطہ جاتی نظام ہے، جس کے تحت مختلف نوعیت کے اے آئی نظاموں کے لیے الگ الگ ذمہ داریاں مقرر کی گئی ہیں۔ اگست ۲۰۲۶ء سے اس قانون کی کئی اہم دفعات، جن میں ممنوع اے آئی طریقۂ کار، شفافیت کے تقاضے اور عمومی مقصد کے اے آئی ماڈلز سے متعلق بعض قواعد شامل ہیں، نافذ العمل ہوچکی ہیں، جب کہ زیادہ خطرے والے اے آئی نظاموں سے متعلق کچھ قواعد بعد کی تاریخوں میں لاگو ہوں گے۔
ملک کی نیشنل اے آئی پالیسی ۲۰۲۵ء میں تعلیم، صحت، زراعت، حکمرانی، عدالتی نظام، صنعت، توانائی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو ترجیح دی گئی ہے۔ پالیسی میں ۲۰۳۰ء تک ۱۰ لاکھ اے آئی ماہرین کی تربیت، تحقیق کے فروغ، اسکالرشپس، مقامی اے آئی مصنوعات اور سائبر سکیورٹی پر بھی زور دیا گیا ہے۔
یہ ملک کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ علاقائی زبانوں کے لسانی ڈیٹا، زرعی معلومات، موسمیاتی پیش گوئی، صحت کے ریکارڈ، ٹیکس نظام، عدالتی دستاویزات اور شہری خدمات کو بہتر بناکر اے آئی کو محض درآمد شدہ ٹکنالوجی کے بجائے مقامی ترقی کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا، رازداری کا تحفظ، مضبوط سائبر سیکیورٹی، مقامی تحقیق اور بڑی تعداد میں تربیت یافتہ انسانی وسائل ضروری ہیں۔ خود ملک کے ماہرین نے بھی نشاندہی کی ہے کہ کمزور انفراسٹرکچر، محدود فنڈنگ، انسانی سرمائے کی کمی اور کمزور ضابطہ کاری اے آئی پالیسی کے نفاذ میں بڑی رکاوٹیں بن سکتی ہیں۔
بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی نے بھی ۲۰۲۵ء میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک باقاعدہ قرارداد منظور کی، جس میں اے آئی کے احکام، رہنما اصولوں اور اخلاقی پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم دنیا میں اے آئی کو محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک فقہی، اخلاقی اور معاشرتی مسئلے کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے شاید سب سے اہم اصول انسانی جواب دہی ہے۔ اے آئی فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اخلاقی ذمہ داری انسان سے منتقل نہیں ہوجاتی۔ حالیہ اسلامی علمی مطالعات میں اسی لیے مقاصدِ شریعت، انسانی وقار، عدل، امانت، سچائی، نقصان سے بچاؤ اور انسانی نگرانی کو اے آئی کے استعمال کے بنیادی اصولوں میں شمار کیا گیا ہے۔
یہ اصول ہم جیسے ملک میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر اے آئی کسی غریب شہری کو قرض دینے سے انکار کرے، کسی طالب علم کی تعلیمی اہلیت کا فیصلہ کرے، کسی مریض کی تشخیص میں مدد دے، یا کسی شخص کو سرکاری سہولت سے محروم کرے، تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ الگورتھم نے کیا فیصلہ کیا؟ سوال یہ بھی ہوگا کہ اس فیصلے کی ذمہ داری کس پر ہے، اس میں غلطی کی صورت میں دادرسی کیسے ہوگی، اور کیا متاثرہ انسان کو فیصلے پر نظرثانی کا حق حاصل ہوگا؟
دینی معاملات میں بھی یہی اصول مزید اہم ہوجاتا ہے۔ اے آئی، قرآن، حدیث اور فقہی کتب سے مواد تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اسے خودبخود مفتی یا شرعی اتھارٹی سمجھنا حددرجہ خطرناک ہوگا۔ بعض معاصر علمی آراء واضح کرتی ہیں کہ اے آئی کو تحقیق، معلومات جمع کرنے اور مختلف آراء کو مرتب کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، مگر حتمی شرعی حکم اہلِ علم اور مستند مفتیانِ کرام ہی کی ذمہ داری رہنا چاہیے۔
اس لیے ہمارے لیے درست راستہ نہ اے آئی سے خوف زدہ ہوکر اسے روک دینا ہے اور نہ اسے بغیر کسی اخلاقی نگرانی کے کھلا چھوڑ دینا۔ ضرورت ایسے انسان مرکز اے آئی نظام کی ہے جس میں ٹکنالوجی ترقی کا ذریعہ ہو، مگر انسان اس کا مقصد اور جواب دہ فریق برقرار رہے۔
اسلامی اخلاقیات اور جدید ٹکنالوجی کے درمیان تصادم نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ٹکنالوجی کو اخلاقی سمت دی جائے۔ مقاصد ِ شریعت کا بنیادی تصور انسانی فلاح، عدل اور نقصان سے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ یہی اصول ہمارے لیے ایک ایسا راستہ فراہم کرسکتے ہیں جس میں اے آئی ترقی بھی کرے، مگر انسانی وقار، معاشرتی انصاف اور اخلاقی ذمہ داری اس ترقی کی قیمت نہ بنیں۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ مشین انسان سے زیادہ ذہین ہوگی یا نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنی ذہانت سے بنائی ہوئی مشین کی طاقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرے گا؟ ٹکنالوجی کی رفتار شاید ہمارے اختیار میں نہ ہو، لیکن اس کی سمت کا تعین اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔
_______________