انسانی زندگی میں وسائلِ معیشت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ معاشی سرگرمیوں کو نظر انداز کرکے اللہ کے نازل کردہ احکامات اور حقوق العباد کی ادائیگی ناممکن ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں معاشی، معاشرتی، خاندانی و سماجی زندگی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ایک مسلمان کے لیے کسب ِ حلال اور کسب ِ حلال کی طلب و کوشش کی ضرورت کو بیان فرماتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
طَلَبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث: ۱۰۹۲۴) [رزقِ حلال کے] فرض ہونے کے ساتھ ساتھ رزقِ حلال کمانے کی طلب و کوشش [بھی] فرض ہے۔
حضرت رافع بن خدیجؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:
یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، اَیُّ الْکَسْبِ أَطْیَبُ؟ قَالَ: عَمَلُ الرَّجُلِ بِیَدِہٖ وَکُلُّ بَیْعٍ مَبْرُوْرٍ (مسنداحمد، مسندالشامیین، حدیث: ۱۶۹۴۸) یارسولؐ اللہ! کون سی کمائی سب سے پاکیزہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر جائز تجارت‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں امت مسلمہ کی معاشی رہنمائی کے لیے نہ صرف آپؐ کے اقوال و ارشاد ملتے ہیں، بلکہ آپؐ کی معاشی سرگرمیوں کی عملی تصویر بھی ملتی ہے۔ آپؐ کی معاشی زندگی کے حوالے سے مختلف افکار و خیالات پائے جاتے ہیں۔ ذیل میں معتبر و مستند احادیث کی روشنی میں معاشِ نبویؐ کی مختلف جہتوں کو پیش کرتے ہوئے اسلام کے معاشی نظام کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مستشرقین اور جدید مؤرخین کا نظریہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم کے ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو انتہائی کمزور تھا، جس کی معاشی اور سماجی حالت انتہائی خستہ تھی، جب کہ خوش حالی معاشرے میں انسانی مقام کو بلند کرتی اور باعزّت بناتی ہے۔
دوسرا قابل غور نظریہ مشرقی سیرت نگاروں اور مسلمانوں کا ہے، جن کے مطابق آپؐ ایک ایسے اعلیٰ خاندان کے فرد تھے جس کو اس سوسائٹی میں عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ لیکن یتیمی و یسیری کے سبب آپؐ کی معاشی حالت کمزور تھی اور شاید یہ عین منشائے الٰہی تھا کیوںکہ دولت مندی کے بالمقابل فقرو فاقہ تقویٰ و طہارت سے زیادہ قریب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی کے حوالے سے جب بات کی جاتی ہے تو دواہم نکات پر نگاہ مرکوز ہوجاتی ہے جن پر غور کرنا اور ان کا جائزہ لینا نہایت اہم ہے۔ آپؐ کی مکی زندگی دو اَدوار میں منقسم ہے: بچپن سے عنفوانِ شباب، اور عنفوانِ شباب سے بعد کا دور۔ پہلا دور آپؐ کے خاندان کی معاشی و سماجی حالت کو متعین کرتا ہے۔ دوسرا دور آپؐ کی ذاتی مہارت و محنت اور دیانت پر مبنی حالات کو بیان کرتا ہے اور آپؐ کی تاجرانہ حیثیت کو سامنے لاتا ہے۔
عنفوانِ شباب تک آپؐ کے ذرائع اور وسائل آمدنی اس طرح تھے:
مکان کے علاوہ وراثت میں آپؐ کو ملنے والے اسلحے اور گھریلو سامان کا ذکر بھی ملتا ہے:
ابن سعد و بلاذری نے بیان کیا ہے:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ آئے تو آپؐ کے پاس ایک تلوار بھی تھی جو آپؐ کو اپنے والد گرامی سے ترکہ میں ملی تھی۔ اس کا قوی قرینہ ہے کہ آپؐ کو اپنے والد/ والدین سے کچھ اور اسلحے، جیسے تیر و کمان، ڈھال، خود اور گھریلو ضروری سامان بھی ملے تھے‘‘۔
اس حدیث نبویؐ کی تشریح و تفسیر میں علما کے مابین اختلاف ہے:
۱- ابن ماجہ کے شارح شیخ سوید کی رائے کے مطابق آپؐ ہر بکری ایک قیراط (سکّے) کے عوض چرایا کرتے تھے۔
۲- علامہ عینی شارح بخاری نے الگ مفہوم بیان کیا ہے کہ ’قراریط‘ ایک مقام کا نام ہے اور وہ مقام اجیاد کے قریب ہے۔ آپؐ وہاں بکریاں چرایا کرتے تھے، اُجرت پر نہیں چراتے تھے۔
مذکورہ حدیث کو مستند احادیث کے مجموعے کتاب الاجارۃ اور کتاب التجارات میں منقول ہونے کے سبب اور ان کی تائید میں متعلقہ ابواب ’باب رعی الغنم علی قراریط‘ اور’باب الصناعات‘ کی وجہ سے اس مفہوم کو راجح قرار دیا گیا ہے کہ آپؐ یہ خدمت اُجرت پر انجام دیا کرتے تھے۔
یہ امر یقینی ہے کہ آپؐ نے اپنی تجارت کی ابتدا اصولِ مضاربت کے مطابق کی، یعنی مکہ مکرمہ کے مال دار جو دُور دراز کے سفر اور بازاروں کی مصروفیات سے گریز کرتے تھے، یا بعض وجوہ سے خودتجارت نہیں کرسکتے تھے، وہ دوسرے محنتی اور کارگزار امانت دار اشخاص کو اپنا مالِ تجارت دے کر عرب کے مختلف بازاروں اور قریبی ممالک شام ویمن وغیرہ بھیجا کرتے تھے، اور نفع کا ایک تناسب جو فریقین میں طے پا جاتا تھا ’مضاربوں‘ کو ادا کردیتے تھے۔ اس طرح دونوں کو فائدہ ہوتا تھا۔ حضرت خدیجہؓ کے مالِ تجارت کو شام لے جانے سے قبل آپؐ نے تجارت کا آغاز کرلیا تھا۔ بعدازاں حضرت خدیجہؓ کے مال کے ساتھ اور ان کے غلام میسرہ کی معیت میں آپؐ نے شام کی طرف تجارت کا سفر کیا جس میں دیگر اسفار کے بالمقابل زیادہ منافع ہوا اور حضرت خدیجہؓ نے دوسروں کے مقابلے میں آپؐ کو حسب وعدہ زیادہ اُجرت دی اور اپنے غلام میسرہ سے آپؐ کے اخلاقی معاملات سن کر بہت متاثر ہوئیں اور انھی کے زیر اثر شادی کا معاملہ طے پایا ۔
بعض روایات کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعثت نبویؐ کے بعد بھی آپؐ کا تجارتی سلسلہ جاری رہا تھا۔ اس کے ثبوت میں ابن کثیر کا ایک مرفوع بیان بھی موجود ہے کہ :’’ابوسفیان بن حرب اموی اپنے دوست امیہ بن ابی الصلت ثقفی کے ساتھ تجارت کے لیے شام گئے اور وہاں دو ماہ قیام کرکے مکہ واپس آئے اور پھر یمن کے سفرِ تجارت پر چلے گئے جہاں پانچ ماہ قیام کیا اور پھر مکہ مکرمہ واپس آئے۔ لوگوں کو خبر ہوئی تو وہ ان سے ان کی قیام گاہ پر آکر ملنے اور اپنے سامان تجارت کے بارے میں پوچھنے لگے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اس وقت ابوسفیان کی اہلیہ ہند بنت عتبہ اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ آپؐ نے ابوسفیان کو سلام کرکے مبارک باد دی اور ان کے سفر و قیام کے بارے میں گفتگو کی، مگر اپنے سامان کے بارے میں کچھ نہ پوچھا اور تشریف لے گئے۔ ابو سفیان نے ہند سے کہا کہ آپؐ مجھے اچھے لگتے ہیں۔ قریش کے ہرآدمی نے جس کا سامان میرے پاس تھا، مجھ سے اس کے بارے میں ضرور پوچھا مگر آپؐ نے اس کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا‘‘۔ہند نے کہا’’آپ کو ان کا حال نہیں معلوم؟ ان کا خیال ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں‘‘۔
ابوسفیان اس کے بعد طواف کعبہ کے لیے گئے تو آپؐ سے ملاقات ہوئی اور آپؐ سے کہا کہ آپؐ کا سامان اتنا اتنا ہوگیا ہے اور اس میں نفع ہوا ہے۔ آپؐ کسی کو بھیج کر اسے منگوالیں اور آپؐ سے وہ معاوضہ بھی نہ لوں گا جو اپنی قوم سے لیتا ہوں۔ یہ سن کر آپؐ نے انکار کردیا اور فرمایا کہ تب تو میں بالکل نہ لوں گا۔ ابوسفیان نے یہ سن کر کہا کہ اچھا آپؐ کسی کو بھیج دیں اور میں اتنا ہی لے لوں گا، جو اپنی قوم سے لیتا ہوں۔ چنانچہ آپؐ نے اپنا سامان تجارت منگوالیا اور ابوسفیان نے دوسروں کی مانند آپؐ سے اپنا معاوضہ لے لیا‘‘۔
یہ روایت واضح طور پر بعثت سے ذرا قبل و بعد آپؐ کی تجارت میں فعال دل چسپی کو بیان کرتی ہے، جو مضاربت کے اصولوں پر مبنی تھی۔ اس کے علاوہ اس سلسلے کی ایک روایت انساب الاشراف میں بلا ذری نے بیان کی ہے جس کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت خدیجہؓ سے شادی کے بعد تجارت کا سلسلہ یقینا جاری رہا تھا۔ البتہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مکی عہد میں حضرت خدیجہؓ کی دولت و تجارت کو کافی اہمیت حاصل تھی۔ بعض قدیم و جدید مؤرخین اور مفسرین کے خیال میں آپؐ کی خوش حالی اور مال داری میں حضرت خدیجہؓ کی دولت کا بھی ایک کردار تھا اور یہ منجانب اللہ تھی، تاکہ آپؐ دنیا میں معاش کے مسائل سے بری الذمہ ہوکر پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ کے دین کو پھیلانے میں ہمہ وقت مصروف ہوجائیں۔
اس کے علاوہ آپؐ کے سازو سامان اور مال کا اندازہ ان روایات سے بھی ہوتا ہے کہ آپؐ بعثت سے قبل ہر سال حج میں شریک ہوتے تھے اور عرفات میں عام حجاج کے ساتھ قیام فرماتے تھے۔ کسی حج کے موقعے پر جبیر بن مطعم بن عدیؓ نے آپؐ کو اپنے ایک اونٹ (بعیر) پر وقوفِ عرفات کرتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔
حضرت خدیجہؓ نے پہلی وحی کے وقت نزولِ قرآن کے بعد آپؐ کو تسلی دی اور آپؐ کی دل جوئی کی اور آپؐ کی صفت فیاضی و مہمان نوازی، کمزوروں وبیوائوں کی امداد، اجنبیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا جو ذکر کیا، اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اوصاف پہلے ہی سے آپؐ کی فطرت میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ ابن اسحاق نے اسلام کے لیے آپؐ کے افراد خاندان کی دعوتوں کے انتظام کا ذکر کیا ہے۔
’’جب قرآن مجید کی سورۃ الشعراء کی آیت ۲۱۴: وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۲۱۴ۙ (اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو باخبر کرو) نازل ہوئی، تو آپؐ نے حضرت علیؓ کے ذریعے ایک صاع کا کھانا تیار کرایا، اور اس پر سالم بکری کا پکا ہوا گوشت رکھوا دیا اور دودھ سے بھرا ہوا ایک لگن رکھوایا اور بنوعبدالمطلب کو دعوتِ طعام دی، جس کے لیے ۴۰ مرد جمع ہوئے۔ انھوں نے کھانا پیٹ بھر کر کھایا، لیکن ابو لہب کے بہکاوے میں آکر مجلس خراب ہوگئی اور آپؐ دعوت پیش نہ کرسکے۔ آپ ؐنے پہلے دن کی مانند دوسرے دن بھی دعوتِ طعام کا انتظام کیا اور اس بار مختصر دعوت پیش کی۔ ان دونوں دعوتوں پر آپ ؐکے مال کے خرچ ہونے کا معاملہ ظاہر ہے‘‘۔
اس ضمن میں ابن اسحاق کی ایک روایت بھی ہے، جو انھوں نے ’نزول وحی کے بعد آپؐ کے معمول‘ کے عنوان کے تحت درج کی ہے، اور جس میں آپؐ نے فرمایا تھا:’’اے اولادِ عبدمناف! اے اولادِ عبد المطلب! اے فاطمہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی! اے صفیہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پھوپھی! تم لوگ اپنے آپ کو اللہ کی پکڑ سے بچائو، کیونکہ میں اللہ کی گرفت سے تم کو بچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ البتہ میرے مال میں سے تم جو چاہو مجھ سے مانگ سکتے ہو‘‘۔
lحضرت ابوبکرؓ اور دیگر صحابہ کا ایثار: مذکورہ روایات سے مکّی دور میں آپؐ کے مال کا صاف ذکر ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریبی صحابیؓ اور جاں نثار دوست حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے، جنھوں نے ہر موقعے پر اپنے تعلق و محبت کا نذرانہ پیش کیا۔ آپؐ نے خود ان کے بارے میں فرمایا کہ ’’مجھے ابوبکر کے مال و خدمت سے جتنا فائدہ پہنچا اتنا کسی سے نہیں پہنچا‘‘۔ حضرت ابوبکرؓ نے ہجرت کے وقت مدینہ جانے کے لیے سارے انتظامات، یعنی زادِ سفر، سواری، خدمت و رہبری جس خوبی کے ساتھ انجام دیے، وہ آپؐ سے محبت کا ثبوت ہے۔ اسی طرح دیگر صحابہؓ نے بھی ایثار کا مظاہرہ کیا۔ حضرت ارقم بن ابی ارقم مخزومی نے اپنا مکان دعوت و تعلیم کے لیے آپؐ کو پیش کیا تھا جو دارارقم کہلاتا تھا۔
_______________