اکتوبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

جین زی‘: تحریکِ اسلامی میں نفوذ کی حکمت عملی

فہیم الدین احمد | اکتوبر ۲۰۲۶ | تحریکِ اسلامی

Responsive image Responsive image

ہر نظریاتی تحریک کی بقا کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اگلی نسل کو اپنا ہمنوا بنا سکتی ہے یا نہیں؟ جین زی (Gen Z)، یعنی تقریباً ۱۹۹۷ء سے ۲۰۱۲ء کے درمیان پیدا ہونے والی نسل، اس وقت دنیا کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہے، اور مسلم دنیا میں تو یہ نسل اور بھی نمایاں ہے۔ اگر کوئی اسلامی تحریک اس نسل تک نہ پہنچ سکی، تو مسئلہ صرف اس کی توسیع نہ ہونے کا نہیں، بلکہ اگلے پچیس برسوں میں وہ تحریک پوری طرح سکڑ کر رہ جائے گی۔ 

جین زی کی نفسیاتی و سماجی خصوصیات

  1.  فطری  ڈیجیٹل (Digital Natives):یہ پہلی نسل ہے جس نے انٹرنیٹ کے بغیر دنیا دیکھی ہی نہیں۔ ان کے لیے ’آن لائن‘ اور ’آف لائن زندگی‘ دو الگ دائرے نہیں بلکہ ایک ہی تسلسل ہیں۔ ان کے پاس علم، تعلق، تفریح اور شناخت، سب کچھ اسکرین سے گزر کر آتا ہے۔ اس صورتِ حال کا تحریکی مفہوم یہ ہے کہ جو تحریک ڈیجیٹل فضا میں موجود نہیں، وہ ان کے لیے سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
  2.  اختیار نہیں، صداقت :یہ نسل عہدے، عمر یا روایت کی بنیاد پر کسی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ خلوص، شفافیت اور قول و عمل کی مطابقت کو دیکھتی ہے۔ منافقت، دکھاوا اور پروٹوکول کلچر اسے فوراً بدظن کر دیتا ہے۔ وہ کامل شخصیات سے زیادہ سچی شخصیات کی طرف کھنچتی ہے۔ انھیں ایسے رہنما پسند ہیں جو اپنی کمزوریوں کا اعتراف کر کے آگے بڑھیں۔
  3.  سوال اس کی فطرت ہے :انفارمیشن تک لامحدود رسائی نے اسے ہر دعوے کی تصدیق کا عادی بنا دیا ہے۔ ’بڑے کہہ رہے ہیں، مان لو‘ اس کے لیے دلیل نہیں، توہین ہے۔ وہ ہر ہدایت کی توجیہ (rationale) چاہتی ہے۔ لیکن اہم بات یہ بھی ہے کہ توجیہ ملنے پر یہ نسل روایتی نسلوں سے زیادہ گہری کمٹمنٹ دکھاتی ہے۔
  4.  مقصد سے وابستگی، تنظیم سے نہیں : پرانی نسلیں تنظیم، روایت، قبیلے اور اپنی معاشرت سے وفادار ہوتی تھیں، جین زی مقصد (cause) سے وفادار ہے۔ وہ حقوق کے حصول کے لیے سڑک پر آسکتی ہے، ماحولیات کے لیے مہم چلا سکتی ہے، مگر کسی تنظیم سے وابستگی اور کسی ڈسپلن کی پابندی کو بوجھ سمجھتی ہے۔ اس کی وابستگی پروجیکٹ بیسڈ ہے، ممبرشپ بیسڈ نہیں۔
  5. مختصر توجہ، بصری ذہن : طویل تقریریں، ضخیم کتابیں اور یک طرفہ خطابات اس کے ابلاغی مزاج سے میل نہیں کھاتے۔ وہ مختصر ویڈیو، انفوگرافک، میمز، پوڈکاسٹ اور کہانی (storytelling) کی زبان سمجھتی ہے۔ بظاہر یہ سطحیت ہے، لیکن اس نسل کے نزدیک یہ سطحیت نہیں بلکہ ابلاغ کا بدلا ہوا قالب ہے، گہری بات بھی نئے قالب میں مطلوب ہے۔
  6.  ذہنی صحت اور جذباتی تحفظ کا شعور : یہ نسل پیدائشی طور پر ذہنی دباؤ، اضطراب اور شناخت کے بحرانوں سے دوچار بھی ہے اور اس سلسلے میں بات کرنے میں بے باک بھی۔ وہ ایسے ماحول کی طرف کھنچتی ہے جہاں اسے پرکھے بغیر سنا جائے۔ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندہ کرنے والی تربیت اسے ہمیشہ کے لیے دور کر دیتی ہے۔
  7. عالمی شعور، مقامی شناخت : مسلمانوں کی جین زی فلسطین، اسلاموفوبیا، نسلی و سماجی انصاف، اُمت مسلمہ اور عالمی انصاف کے مسائل سے جذباتی طور پر جڑی ہے۔ بہت سے علاقوں میں مسلم جین زی اپنی مذہبی شناخت کے بارے میں پچھلی نسل سے زیادہ حساس اور بعض معاملات میں زیادہ دینی رجحان رکھتی ہے (شناخت اور حجاب کے حق میں اٹھنے والی نوجوان تحریکیں اس کی مثال ہیں)۔ گویا خام مواد تحریک کے حق میں ہے، مسئلہ رسائی اور اسلوب کا ہے۔
  8. انفرادیت اور شراکت داری : وہ ہجوم کا حصہ نہیں بننا چاہتی، اپنی الگ پہچان چاہتی ہے۔ وہ فیصلوں کی محض تعمیل نہیں، بلکہ فیصلہ سازی میں شرکت چاہتی ہے۔

 اسلامی تحریکوں کے لیے مطلوبہ تبدیلیاں

اس نسل سے ربط اور نفوذ کے لیے اسلامی تحریکوں کو درج ذیل اہم تبدیلیاں کرنی ہوں گی:

  1.  ابلاغی قالب کی مکمل تجدید:تحریکی فکر کو جین زی کے قالب میں ڈھالنا ہوگا۔ مقامی زبانوں میں اور نوجوان چہروں کے ساتھ مختصر ویڈیو سیریز، پوڈکاسٹ اور انٹرایکٹو مواد تیار کرنا ہوگا۔ داعی تحریک مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا اصل کمال یہی تھاکہ انھوں نے اپنے عہد کے تعلیم یافتہ نوجوان کی زبان اور اسلوب میں اسلام کو پیش کیا۔ آج ان کی اس حکمت عملی پر عمل محض ان کے اسلوب کی نقل نہیں بلکہ نئے عہد کے اسلوب کی دریافت ہے۔
  2. تنظیمی ثقافت میں تبدیلی:  نگرانی اور جواب طلبی والے نظم کے بجائے سرپرستی، رہنمائی اور ذاتی نشوونما والا ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہر نوجوان کارکن کا ایک مربی (mentor) ہو، جو اس کے دینی، پیشہ ورانہ اور نفسیاتی ارتقا میں شریک ہو۔ اجتماعات کا اسلوب یک طرفہ درس سے بدل کر مکالماتی حلقوں (discussion circles) کی طرف لے جایا جائے جہاں سوال اُٹھانا معیوب نہیں بلکہ مطلوب ہو۔لیکن اس کے لیے مربی کے مطالعے میں وسعت اور گہرائی اور حکمت کی دولت ضروری ہے۔
  3. پروجیکٹ بیسڈ شمولیت کے دروازے:رکنیت کے روایتی دروازے سے پہلے شرکت کے درجنوں چھوٹے دروازے کھولے جانے چاہئیں: تین ماہ کی سماجی خدمت مہم، کوئی ماحولیاتی پروجیکٹ، کوئی تعلیمی وظائف پروگرام، کوئی میڈیا مہم وغیرہ۔ نوجوان کام کے ذریعے تحریک کا ’تجربہ‘ کریں، فکری وابستگی تجربے کے بعد خود آئے گی۔ ہمیں یہ ترتیب پلٹنا ہوگی: پہلے شرکت، پھر تعلق، پھر فکر، پھر رکنیت، نہ کہ پہلے فکری نصاب کی تکمیل، اور پھر شرکت!
  4. فیصلہ سازی میں حقیقی نمائندگی:مقامی، علاقائی اور مرکزی سطح کی مشاورت میں ۳۵ سال سے کم عمر افراد اور خواتین کی شمولیت کا موقع نکالا جائے۔ نوجوانوں کی شمولیت محض رسمی نہ ہو بلکہ ان کی تجاویز پر عمل درآمد کی رپورٹنگ ہو۔ جو تنظیم نوجوانوں کو فیصلے میں شریک نہیں کرتی، وہ انھیں عمل میں شریک کرنے کا حق کھو دیتی ہے۔
  5. فکری سوالات کا کھلا سامنا:الحاد، لبرل ازم، فیمی نزم، صنفی مباحث، ارتقا، مذہب و سائنس اور مصنوعی ذہانت وغیرہ جیسےموضوعات پر معذرت خواہانہ یا فرار کے بجائے علمی و اجتہادی مواد تیار کیا جائے۔ جین زی جس سوال کا جواب تحریک کے لٹریچر یا تحریک کے مربی سے نہیں پاتی، وہ گوگل، یوٹیوب اور اثرانداز ہونے والے ملحدین سے پالیتی ہے۔ خاموشی، میدان خالی چھوڑنے کے مترادف ہے۔
  6. ذہنی صحت اور جذباتی سہارے کا نظام: تحریکی حلقوں میں کونسلنگ کی سہولت، سننے والی قیادت، اور کارکردگی کے دباؤ کے بجائے قبولیت کا ماحول پیدا کیا جائے۔ نوجوانوں کو یہ محسوس ہو کہ تحریک اسے استعمال نہیں کرتی بلکہ اس کی رہنمائی اور تربیت کرتی ہے۔
  7. کیریئر، مہارت اور دنیاوی ترقی سے تحریک کا ربط:جین زی معاشی عدم تحفظ کی نسل ہے۔ تحریک اگر اس کے کیریئر، مہارتوں اور معاشی مستقبل میں معاون بنے تو تعلق خود بخود گہرا ہوگا۔ مثلاً ان کے لیے تربیتی ورکشاپس، نیٹ ورکنگ اور رہنمائی وغیرہ کا نظم قائم کیا جائے۔ دین و دنیا کی جامعیت کا تحریکی دعویٰ عملی شکل میں نظر آنا چاہیے۔

اطاعت نظم کا سوال: توجیہ اور تنقید کا پہلو

جب ہم جین زی کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں، تو بالعموم اطاعتِ نظم کا سوال ہمارے اکثر افراد کے سامنے انتہائی شدت کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ اس گفتگو کا نازک ترین سوال ہے، اور اس کا دیانت دارانہ جواب یہ ہے کہ، محض (اندھی) اطاعت کا جذبہ اس نسل میں پیدا نہیں کیا جا سکتا، اور شاید کرنا بھی نہیں چاہیے، البتہ شعوری، بااعتماد اور مضبوط تر اطاعت ضرور پیدا کی جا سکتی ہے۔ اسلام میں مطلق اطاعت صرف اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ تنظیمی و امارتی اطاعت مشروط، معروف میں اور مشاورت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ گویا ’جواز مانگنا‘ اسلامی تنظیمی روایت سے انحراف نہیں بلکہ عین اس کی بازیافت ہے۔ جین زی کا سوالیہ مزاج درحقیقت تحریک کے لیے اپنی اصل شورائی روح کی طرف لوٹنے کا محرک بن سکتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگرچہ اطاعت کی نفسیات بدلی ہے، مگر ضرورت اور اہمیت نہیں۔ تنظیمی نفسیات کی تحقیق بتاتی ہے کہ نئی نسل ڈسپلن کی مخالف نہیں۔ وہ فوج، اسٹارٹ اپس اور کھیلوں کی ٹیموں میں سخت ڈسپلن قبول کرتی ہے، بشرطیکہ تین چیزیں موجود ہوں: (الف) مقصد کی وضاحت (میں یہ کیوں کر رہا ہوں؟)، (ب) قیادت پر اعتماد (کیا یہ فیصلہ اہلیت اور دیانت سے ہوا؟)، اور (ج) آواز کا حق (کیا میں اختلاف ریکارڈ کرا سکتا ہوں؟)۔ جہاں یہ تینوں موجود ہوں، وہاں جین زی کی اطاعت پرانی نسل کی رسمی اطاعت سے زیادہ گہری ثابت ہوتی ہے۔اس سلسلے میں تحریکِ اسلامی کے لیے درج ذیل عملی ماڈل قابلِ عمل ہو سکتا ہے:

  • فیصلے سے پہلے شرکت: جن فیصلوں کا تعلق نوجوانوں سے ہو، ان میں رائے لینے کا حقیقی عمل ہو۔ شریکِ مشورہ فرد فیصلے کا مالک (owner) بن جاتا ہے، اور ملکیت اطاعت سے بڑی چیز ہے۔
  • فیصلے کے ساتھ توجیہ: ہر اہم تنظیمی فیصلے کے ساتھ اس کی وجوہ و دلائل کا بیان کرنا معمول بنایا جائے۔ یہ قیادت کی کمزوری نہیں، قوت کی علامت ہے۔
  • فیصلے کے بعد جائزہ: فیصلوں پر نظر ثانی اور غلطی کے اعتراف کا کلچرپیدا کرنا ہوگا۔ جو قیادت غلطی مان سکتی ہے، نوجوان اس کے صحیح فیصلوں پر جان دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔
  • اختلاف کا محفوظ راستہ: اختلافِ رائے کو بغاوت نہیں بلکہ تنظیمی صحت کی علامت سمجھا جائے، اختلاف کے باوجود عمل میں شرکت (disagree and commit) کو تربیت کا موضوع بنایا جائے۔ یہی دراصل پختہ اطاعت ہے۔

ایک ضروری بات

اس تجزیے کا مطلب ہرگزیہ نہیں ہے کہ تحریک جین زی کی ہر خواہش کے آگے سپر ڈال دے۔ اس نسل میں عجلت پسندی، مستقل مزاجی کی کمی، آن لائن شور کو کام سمجھ لینے، اور تنقید کو ہی مقصد بنا لینے کے امراض بھی پائے جاتے ہیں۔ تحریک کا کام آئینہ بھی بننا ہے اور سانچا بھی۔ ان کے جائز مطالبات (شفافیت، شرکت، توجیہ) قبول کیے جائیں اور ان کی کمزوریوں (بے صبری، سطحیت، انفرادیت کی افراط) کی تربیت کی جائے۔ اس سلسلے میں مطلوب چیز ان کی منہ بھرائی (appeasement) نہیں بلکہ حکیمانہ مطابقت (adaptation) ہے۔

 جین زی :تحریک کی توسیع و استحکام کی کلید

جین زی کا مسئلہ محض نوجوانوں کے شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ تحریک کی توسیع اور استحکام دونوں کا مرکزی سوال ہے۔ آگے اس امر پر گفتگو کی جائے گی کہ نئی نسل میں نفوذ توسیع کی ہرجہت اور استحکام کے ہر ستون سے کس طرح براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

جین زی اور توسیع کی پانچ جہتیں

  1. افرادی قوت میں اضافے کا قابلِ عمل راستہ: دنیا بھر کی مسلم آبادی کی اوسط عمر تقریباً ۲۴ سال ہے، یعنی امت کی اکثریت جین زی اور اس کے بعد کی نسل پر مشتمل ہے۔ اعداد کی زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی تحریک کی رکنیت میں کوئی بھی بڑا اضافہ ۴۰،۵۰سالہ افراد سے نہیں آ سکتا۔ وہ نسل عموماً اپنے تنظیمی و مسلکی خانوں میں تقسیم ہو چکی ہوتی ہے۔ جو نسل ابھی اپنی فکری وابستگیاں طے کر رہی ہے، وہی جین زی ہے۔ گویا توسیع کا سوال درحقیقت جین زی کا سوال ہے، باقی سب حاشیہ ہے۔
  2. جغرافیائی توسیع کی رکاوٹ کا خاتمہ: تقریباً ہر ملک اور تحریک میں کچھ علاقے یا خطے ایسے ہوتے ہیں جہاں تحریک کمزور یا غیر موجود ہوتی ہے، اور یہ ایک اہم تحریکی مسئلہ ہے۔ روایتی ماڈل میں کسی نئے علاقے میں کام کھڑا کرنے کے لیے مقامی ارکان، دفتر اور برسوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ جین زی کا ڈیجیٹل مزاج اس رکاوٹ کو توڑ دیتا ہے۔ کسی دُور دراز قصبے کا نوجوان کسی  بڑے اورمرکزی شہر میں بیٹھے تحریکی تخلیق کار سے براہِ راست جڑ سکتا ہے۔ ڈیجیٹل دعوت دراصل جغرافیائی توسیع کی سب سے کم لاگت اور تیز رفتار شکل ہے، بشرطیکہ آن لائن تعلق کو آف لائن تنظیمی ڈھانچے میں منتقل کرنے کا نظام (online-to-offline funnel) موجود ہو۔ یہ نظام بنانا ہر کمزور علاقے میں تحریک کی توسیع کے مشن کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔
  3.  سماجی و طبقاتی نفوذ کا پل: بیشتر تحریکیں کسی ایک طبقے تک محدود ہوتی ہیں (عموماً شہری، تعلیم یافتہ اور کسی خاص لسانی یا سماجی طبقے تک )، اور اس محدودیت کو توڑنے کی صلاحیت بھی اسی نسل میں ہے۔ آج پس ماندہ برادریوں، دیہی خاندانوں اور محروم طبقات کے بچے پہلی بار بڑی تعداد میں کالجوں اور یونی ورسٹیوں تک پہنچ رہے ہیں۔ کیمپس وہ واحد مقام ہے جہاں طبقاتی، مسلکی اور لسانی دیواریں کمزور پڑتی ہیں۔ طلبہ و نوجوانوں کی ذیلی تنظیموں کے ذریعے اس پہلی نسل کے تعلیم یافتہ نوجوانوں تک رسائی دراصل ان کے پورے خاندان اور برادری تک رسائی کا دروازہ ہے۔ اسی طرح  وسیع تر معاشرے اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں کام کے لیے بھی جین زی موزوں ترین ذریعہ ہے، کیونکہ یہ نسل بین المذاہب دوستیوں اور مشترکہ سماجی مقاصد (انصاف، ماحولیات، بدعنوانی کے خلاف جدوجہد) کے سلسلے میں پچھلی نسلوں سے کہیں زیادہ کھلے ذہن کی حامل ہے۔
  4.  فکری و ثقافتی اثر اندازی: ملّی و سماجی موقف اور رجحان اب اخبارات اور جلسوں میں نہیں، سوشل میڈیا پر تشکیل پاتا ہے، اور وہاں کے رائے ساز (opinion makers) بیشتر ۲۵،۳۰ برس کے نوجوان ہیں۔ کوئی تحریک اگر سو باصلاحیت تحریکی تخلیق کار تیار کر دے تو اس کا فکری اثر ہزاروں ارکان کے اضافے سے زیادہ ہوگا۔ یعنی جین زی صرف دعوت کا ہدف نہیں بلکہ دعوت کا سب سے مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ یہ دوہری حیثیت اسے تحریکی حکمتِ عملی میں مرکزی مقام عطا کرتی ہے۔
  5. ادارہ جاتی توسیع: تحریکوں کے تعلیمی، رفاہی، صحافتی اور مالیاتی اداروں کو جن پیشہ ورانہ مہارتوں ، ٹکنالوجی، ڈیزائن، ڈیٹا، مینجمنٹ، مالیات وغیرہ، کی ضرورت ہے، وہ اسی نسل کے پاس ہیں۔ اداروں کی توسیع اور جدید کاری جین زی پیشہ وروں کی شمولیت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

ب: جین زی اور استحکام کے ستون

  1.  نسلی تسلسل: امت کی نئی نسل کی تحریکِ اسلامی سے عدم وابستگی یا محدود وابستگی استحکام کا سب سے بڑا بحران ہے۔ اس بحران کا براہِ راست حل ’جین زی حکمت ِ عملی‘ ہی ہے۔ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو تحریک کا کیڈر ہر عشرے میں عمر رسیدہ اور تعداد میں کم تر ہوتا جائے گا، یا اگر بڑھے گا تو بھی اپنے ہی خول میں سمٹتا چلا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ ایک نسلی یا طبقاتی گروہ میں تبدیل ہو سکتا ہے ، اور یہ کیفیت و رفتار دراصل تنظیمی خودکشی ہے۔
  2.  قیادت کی دوسری صف: قیادتی استحکام کا تقاضا ہے کہ ہر سطح پر متبادل قیادت تیار ہو۔ آج کا ۲۵ سالہ کارکن ہی ۲۰۳۰ء کا مقامی ذمہ دار اور ۲۰۵۰ء کا مرکزی ذمہ دار ہے۔ اگر آج جین زی تحریک میں داخل نہیں ہو رہی تو تحریک درحقیقت اپنے اگلے تین عشروں کی قیادت سے محروم ہو رہی ہے۔ قیادت راتوں رات نہیں بنتی، اسے بیس سال کی تنظیمی تربیت چاہیے۔
  3. افراد کی برقراری (Retention) کا نیا چیلنج: جین زی کی تنظیمی وفاداری مشروط ہے۔ اس لیے اس کے ساتھ مستقل تحریک سے جڑے رہنے کا مسئلہ پرانی نسل سے مختلف ہے۔ پرانا کارکن ناراض ہو کر بھی رکا رہتا تھا، جین زی خاموشی سے نکل جاتی ہے (quiet quitting)۔ اس لیے استحکام کے اشاریوں میں ایک نیا اشاریہ شامل ہونا چاہیے: نوجوان وابستگان کی سالانہ برقراری کی شرح، اور نکل جانے والوں سے اخراجی مکالمہ (exit interview) تاکہ تنظیم اپنی خامیاں جان سکے۔
  4.  مالی استحکام کا مستقبل: بیشتر تحریکوں کا مالی نظام انفاق پر قائم ہے، اور اگلی دہائیوں کا انفاق آج کے نوجوان پیشہ وروں کی جیب سے آئے گا۔ جو نسل تحریک سے جذباتی طور پر جڑی ہی نہیں، وہ مالی طور پر کیوں جڑے گی؟ نیز جین زی روایتی چندے کے بجائے شفاف، پروجیکٹ بیسڈ اور ڈیجیٹل عطیات (crowd-funding) کے ماڈل کو ترجیح دیتی ہے۔ اس لیے اپنے مالی نظام کو اس کے مطابق ڈھالنا مالی استحکام کی پیشگی شرط ہے۔
  5.  لچک (Resilience): موجودہ معاندانہ ماحول میں تحریک پر میڈیا حملے، قانونی دباؤ اور بیانیے کی جنگ ایک مستقل حقیقت ہیں۔ اس جنگ کا میدان ڈیجیٹل فضا ہے اور اس کے سپاہی جین زی ہی ہو سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں کی مختلف نوجوان تحریکوں اور عوامی احتجاجوں نے دکھایا کہ مسلم جین زی بحران کے وقت بیانیہ تشکیل دینے، عالمی رائے عامہ تک پہنچنے اور قانونی و صحافتی محاذ سنبھالنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔ جو تنظیم اس صلاحیت کو اپنے ساتھ جوڑ لے، اس کی بحرانی لچک کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
  6.  فکری تجدید کا داخلی نظام: استحکام کے لیے فکری جمود کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ جین زی کے سوالات اس جمود کو توڑنے کا قدرتی ذریعہ ہیں۔ جس تنظیم میں نوجوان سوال اٹھاتے ہیں اور علمی ادارے ان کا جواب تیار کرتے ہیں، وہاں اجتہاد و تجدید کا عمل خود بخود جاری رہتا ہے۔ سوال کرنے والی نسل دراصل تنظیم کے فکری دفاعی نظام (Immune System) کو متحرک رکھتی ہے۔

ذیلی تنظیموں سے مرکزی تحریک تک منتقلی کا مسئلہ

توسیع و استحکام کے سنگم پر ایک اہم عملی مسئلہ طلبہ و نوجوانوں کی ذیلی تنظیموں سے مرکزی تحریک میں منتقلی کی رفتار میں کمی بھی ہے۔ بیشتر تحریکوں کی طلبہ و نوجوان تنظیمیں ہر سال ہزاروں تربیت یافتہ نوجوان فارغ کرتی ہیں، مگر ان کی ایک معتدبہ تعداد مرکزی تحریک سے باقاعدہ وابستہ نہیں ہوتی۔ اس رساؤ کے اسباب پر غور کیا جائے تو تین چیزیں نمایاں ہوتی ہیں:

  • اول، ذیلی تنظیم کا متحرک اور ہم عمر ماحول مرکزی تحریک کے نسبتاً سست رفتار ماحول سے یکسر مختلف ہوتا ہے، اور اس میں منتقلی نوجوان کو ’ترقی‘ نہیں بلکہ ’تنزلی‘ محسوس ہوتی ہے۔
  • دوم، فراغت کے بعد کیریئر، ملازمت اور نقل مکانی کے ہنگامے میں تحریک سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے اور اسے دوبارہ جوڑنے کا کوئی باقاعدہ اور ذمہ دار نظام نہیں ہوتا۔
  • سوم، مرکزی تحریک میں ۲۵،۳۰  سالہ فرد کے لیے کوئی بامعنی کردار محسوس نہیں ہوتا۔

اس کا حل ایک منظم راہداری (Structured Pathway) ہے۔ فراغت سے قبل ہی ہرطالب علم کا تحریک کی مقامی تنظیم سے تعارف، فراغت کے فوراً بعد مرکزی تحریک میں باضابطہ شمولیت کی کوشش ہو۔ نئے شہر منتقل ہونے والوں کی خودکار منتقلی رابطہ (ہینڈ اوور)، اور تین سال کے اندر ذمہ داری کی تفویض۔ یہ ایک اقدام بیک وقت توسیع (تیار افرادی قوت کی شمولیت) اور استحکام (نسلی تسلسل اور دوسری صف) دونوں کی خدمت کرتا ہے۔ اس لیے اسے اولین ترجیح ملنی چاہیے۔

مستقبل کا منظر نامہ

متبادل منظرنامے کے سلسلے میں عرض ہے کہ اگر کوئی تحریک موجودہ روش پر قائم رہی تو اگلے ۱۵،۲۰ برسوں میں متوقع نتائج درج ذیل ہو سکتے ہیں:lکیڈر کی اوسط عمر میں مسلسل اضافہ اور تعداد میں بتدریج کمی۔lذیلی تنظیموں اور مرکزی تحریک کے درمیان ثقافتی خلیج مزید گہری ہوگی۔ lملت کے نوجوانوں کی توانائی غیر منظم آن لائن شخصیات، وقتی مہمات یا مسابقت پذیر تنظیموں کی طرف منتقل ہو جائے گی۔l آخرکار تحریک ایک زندہ و متحرک قوت سے سکڑ کر ایک محدود فکری حلقے اور اداروں کے نگراں ٹرسٹ میں تبدیل ہو جائے گی۔یہ منظرنامہ ناگزیر نہیں، مگر اس سے بچنے کی واحد راہ وہی ہے جو اس مقالے کا موضوع ہے: نئی نسل میں شعوری، منظم اور تیز رفتار نفوذ۔

لائحہ عمل  (تجویز کردہ روڈمیپ)

اس اہم ضرورت اور تقاضے کو سمجھتے ہوئے تحریک اسلامی کو فوری طور پر ایک متعین مدت، مثلاً چار سال ، کے لیے ایک ہنگامی لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا، جس پر مرکزی، علاقائی اور مقامی سطح تک نفاذ ہو۔ اس میں ہر سال کے لیے درج ذیل نکات کے مطابق تفصیلی پروگرام طے کیے جائیں:

  • پہلا سال : سننا اور سمجھنا: ملک گیر یا علاقائی سطح پر مسلم جین زی کا سروے اور فوکس گروپ مطالعے۔ اُمت کے اور بالخصوص تحریکی گھرانوں کے غیر وابستہ نوجوانوں سے خصوصی مکالمے (یہ سب سے قیمتی ڈیٹا ہوگا کہ وہ کیوں نہیں آئے؟)۔
  • دوسرا سال: تربیت گاہیں: منتخب شہروں میں نئے ماڈل کے یوتھ حلقے: مکالماتی اسلوب، پروجیکٹ بیسڈ کام، مینٹرشپ (سرپرستی) اور ڈیجیٹل تخلیق کے تجربات کیے جائیں،اور کامیاب تجربات کی دستاویز بندی ہو۔
  • تیسرا اور چوتھا سال: توسیع اور ادارہ سازی: کامیاب ماڈل کا وسیع پھیلاؤ، نوجوان تخلیق کاروں کی اکیڈمی، فکری سوالات پر مواد کی تیاری کے لیے علمی شعبے ،تنظیم  میں نوجوان نمائندگی کے اہداف کا نفاذ، ذیلی تنظیموں سے مرکزی تحریک میں منتقلی کی منظم راہداری۔

lمستقل اقدامات: قیادت کی ریورس مینٹرنگ (نوجوان نسل اپنی بزرگ قیادت کو ڈیجیٹل دنیا کی تربیت دے، انھیں ان کا استعمال سکھائے، اس سے دو طرفہ اعتماد بنتا ہے)۔ سالانہ یوتھ پارلیمنٹ جس کی قراردادیں مرکزی شوریٰ میں باقاعدہ زیرِ غور آئیں، اور ہر تنظیمی فیصلے پر ’جین زی ٹیسٹ‘: کیا ہم اس فیصلے کی توجیہ اپنے بیس سالہ کارکن کو اطمینان بخش انداز میں دے سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو فیصلے پر نظر ثانی ہو۔

جین زی اسلامی تحریک کے لیے خطرہ نہیں، آئینہ ہے۔ اس کے سوالات تحریک کو اس کی اپنی شورائی، اجتہادی اور دعوتی اصل کی طرف لوٹنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ جو تحریک کبھی اپنے عہد کے تعلیم یافتہ نوجوان کی زبان بول کر اٹھی تھی، اس کے لیے آج کا اصل سوال یہ نہیں کہ ’’نئی نسل ہماری بات کیوں نہیں سنتی؟‘‘ بلکہ یہ ہے کہ ’’ہم نئی نسل کی زبان میں بات کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اگر ہم ایسا کر سکیں تو نئی نسل تحریک کی آغوش میں آئے گی۔ تحریک میں اطاعت ختم نہیں ہوگی، بلکہ رسمی اطاعت سے شعوری رفاقت میں بدلے گی۔ اور شعوری رفاقت ہی درحقیقت وہ چیز ہے جو اقامت ِ دین جیسے طویل اور صبر آزما مشن کو اگلی نسل تک منتقل کر سکتی ہے۔

 _______________