بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کی دفعہ ۳۷۰ کے مندرجات کی منسوخی،اور ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوںمیں تقسیم کرنے کے سات سال بعد انڈین سول سوسائٹی سے وابستہ افراد پر مشتمل ایک گروپ نے حال ہی میں خطے کی زمینی صورت حال کا انتہائی تاریک اور تشویش ناک نقشہ پیش کیا ہے ۔ ’فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر‘ نامی اس گروپ کا کہنا ہے کہ ’’سیکورٹی میں بہتری تو آئی ہے، مگر ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کے اقدامات جمہوری حکمرانی، ادارہ جاتی احتساب اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے میں یکسر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس،جموں و کشمیر بدستور سیاسی بے یقینی، سکڑتی ہوئی شہری آزادیوں اور حکمرانی کے بحران کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے‘‘۔
اگر یہ گروپ محض رسمی حقوقِ انسانی سے وابستہ افراد پر مشتمل ہوتا تو اس کی معروضیت پر سوال کھڑے کیے جاسکتے تھے۔ مگر اس فورم کی مشترکہ صدارت انڈیا کے سابق مرکزی داخلہ سکریٹری گوپال پلئی اور حکومت کے جموں و کشمیر کے لیے مقرر کردہ سابق ثالثین کے گروپ کی رکن رادھا کمار کر رہی ہیں۔ اس کے اراکین میں سپریم کورٹ کی سابق جسٹس روما پال، دہلی اور مدراس ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے پی شاہ، اڑیسہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس بلال نازکی، جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے سابق جسٹس حسنین مسعودی، ’قومی کمیشن برائے انسانی حقوق‘ کے سابق سیکریٹری جنرل پربیر سین، معروف مؤرخ رام چندر گوہا، ’قومی کمیشن برائے تحفظ حقوقِ اطفال‘ کی سابق چیئرپرسن شانتا سنہا، سینئر ریٹائرڈ فوجی افسران بشمول لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ، میجر جنرل اشوک مہتا اور ایئر وائس مارشل کپل کاک، کے ساتھ ساتھ ممتاز وکلا، ماہرینِ تعلیم اور حقوقِ انسانی کے سرگرم کارکن شامل ہیں۔
متنازع آئینی تغیرات کی ساتویں سالگرہ کے موقع پر جاری کردہ فورم کی ۶۰ صفحات پر محیط رپورٹ، بعنوان ’جموں اینڈ کشمیر: سیون ایئرز انڈر یونین رول‘میں شہریوں کے تحفظ، سیاسی و معاشی حقوق، آزادیٔ اظہارِ رائے، خواتین اور بچوں کے حقوق، اور لداخ کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیاہے اور پہلی بار اس میں پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے حالات و واقعات پر بھی الگ تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کا آغاز اس امر کے اعتراف سے ہوتا ہے کہ ’عسکریت پسندی سے وابستہ تشدد کے واقعات میں گذشتہ برسوں کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی ہے‘۔ تاہم، رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ ’سکیورٹی میں بہتری کو کسی طور بھی سیاسی معمول سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے‘۔رپورٹ کے مطابق: ’سیاسی صورت حال بدستور غیر مستحکم اور بے یقینی کا شکار ہے۔ گذشتہ سال کے دوران منتخب عوامی نمائندوں اور ۲۰۱۹ء کے بعد قائم کردہ انتظامی ڈھانچے کے مابین خلیج وسیع ہوگئی ہے۔ اگرچہ جموں و کشمیر میں اب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں ایک منتخب عوامی حکومت موجود ہے، لیکن حقیقی اور بااختیار اقتدار بدستور لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر ہی میں مرتکز ہے جو عوام کے سامنے جواب دہ نہیں ہے۔ دوسری طرف جو عوام کے سامنے جوابدہ ہے ، اس کے پاس حکمرانی کے اختیارات برائے نام یا سرے سے ناپید ہیں‘۔
اس رپورٹ کی ایک مصنّف اور سابق مذاکرات کار رادھا کمار کا کہنا ہے :’ریاستی درجے کی بحالی میں بلا جواز تاخیر نے جمہوری احتساب کی بنیادیں ہلا دی ہیں، حکمرانی کو مفلوج کر دیا ہے اور عوام میں بیگانگی کے احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے‘۔انھوں نے یاد دلایا: ’وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ دونوں کے سامنے بارہا جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ لوٹانے کی باضابطہ یقین دہانی کرائی تھی، مگر وہ تمام وعدے تاحال پورے نہیں کیے گئے‘۔ ان کا کہنا ہے:’ دفعہ ۳۷۰ کو پہلے انتظامی و صدارتی احکامات کے ذریعے کھوکھلا کیا گیا اور پھر پارلیمانی قانون سازی کے بلڈوزر سے زمین بوس کر دیا گیا۔ جس نے انڈیا کے پورے وفاقی نظام اور جمہوری روایات کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں‘۔
رادھا کمار نے سکیورٹی کے اس جواز کو بھی چیلنج کیا کہ خطے میں جاری عسکریت پسندانہ حملے ریاستی درجے کی بحالی میں تاخیر کا جواز بن سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا:’اس کے برعکس سکیورٹی کے بے رحمانہ اور سخت گیر اقدامات اختیار کرنا، اور ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ (PSA) اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کے تحت شہریوں کو جیلوں میں ٹھونسنا دراصل مزید تشدد کو جنم دینے کی ضمانت ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا:’اس چیلنج سے نمٹنے کا راستہ کشمیری عوام کے حقوق غصب کرنے کے بجائے دو ہی صورتوں میں ممکن ہے: یا تو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائی جائے، یا پھر ایک ناقابلِ تسخیر سکیورٹی ڈیٹرنس قائم کیا جائے‘۔ رادھا کمار کے مطابق: ’حکومت ان دونوں محاذوں پر مکمل ناکام رہی ہے‘۔
اگرچہ خطے میں ۲۰۲۴ء میں اسمبلی انتخابات منعقد ہو چکے ہیں، مگر ان کا استدلال ہے: ’منتخب حکومت کے پاس کوئی معنی خیز اختیارات سرے سے موجود نہیں۔ ’ٹرانزیکشن آف بزنس رولز ۲۰۲۴‘ کے تحت سول انتظامیہ، پولیس، سرکاری وکلا اور اب ٹیلی مواصلات سے متعلق ہنگامی اختیارات بھی مکمل طور پر لیفٹیننٹ گورنر کے کنٹرول میں دے دیے گئے ہیں‘۔انھوں نے بتایا ہے: ’جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ اور ’غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ‘ (UAPA) کے غلط استعمال پر بارہا کڑی سرزنش کی ہے۔ لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی‘۔رپورٹ عدلیہ کی اس بڑھتی ہوئی مداخلت کو حقوق انسانی کے اس کٹھن اور بنجر منظر نامے میں اُمید کی چند موہوم کرنوں میں سے ایک قرار دیتی ہے۔ تاہم، فورم نے متنبہ کیا کہ عدلیہ کی جانب سے ملنے والے یہ ریلیف اسی وقت سامنے آتے ہیں، جب مظلوم شہری اپنی زندگی کے قیمتی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑ کر گنوا چکے ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں ’احتیاطی نظربندی‘ کے قوانین کے مسلسل غلط استعمال کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ رپورٹ میں سوپور کے اس واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے، جہاں ایک اسکول کی طالبہ کی مبینہ جنسی بے حرمتی کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کو پابندِ سلاسل کیا گیا، روزمرہ امن و امان کے معمولی مسائل میں پی ایس اے کے نفاذ کی نشاندہی کی گئی، اور رواں سال کے اوائل میں امریکی جارحیت کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد وادی بھر میں نکلنے والے پُرامن جلوسوں پر یو اے پی اے کی دفعات لگانے کا احاطہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق وادی بھر میں ان مظاہروں کے بعد لگ بھگ ۵۰ نوجوانوں پر دہشت گردی کے سخت قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
اس کے علاوہ فورم نے شوپیاں میں واقع دینی و عصری تعلیمی ادارے ’جامعہ سراج العلوم‘ کی بندش پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا، جسے حکام نے یو اے پی اے کے تحت ایک ’غیر قانونی تنظیم‘ قرار دے کر تالا لگا دیا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ اس اچانک فیصلے سے تقریباً ۶۰۰ بے قصور طلبہ کا تعلیمی مستقبل تاریک ہو گیا، جب کہ اس کارروائی کی وجوہ اور بنیادوں کو عوام کے سامنے ظاہر تک نہیں کیا گیا۔
نومبر ۲۰۲۵ء میں دلی کے تاریخی لال قلعہ کے باہر ہونے والے بم دھماکے کے بعد پیش آنے والے تشویش ناک حالات پر رپورٹ میں تفصیلی توجہ دی گئی ہے۔دھماکے کے چندہی گھنٹوں کے اندر سوشل میڈیا پر کشمیریوں کے خلاف افواہوں اور زہریلے، اشتعال انگیز پیغامات کا طوفان برپا کر دیا گیا۔ انڈیا کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری طلبہ، تاجروں اور ملازمت پیشہ افراد کو رہائش گاہوں سے جبری بے دخلی، کرائے پر مکان دینے سے انکار، پولیس تفتیش کے نام پر تذلیل، مکان مالکان کے جارحانہ رویے اور کام کی جگہوں پر ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک بھر کی یونی ورسٹیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے ہاں زیرِ تعلیم تمام کشمیری طلبہ کا مکمل نجی ڈیٹا اکٹھا کریں، جب کہ گرگاؤں پولیس نے مکان مالکان اور رہائشی سوسائٹیوں کو باضابطہ احکامات جاری کیے کہ وہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے اپنے تمام کرایہ داروں کی تفصیلی فہرستیں فوری جمع کرائیں۔
فورم نے حکومت کے اس رویے پر کڑی تنقید کی ہے۔ رپورٹ کا استدلال ہے کہ ماضی کے برعکس جب بڑے حملوں کے بعد مرکزی وزارت داخلہ ملک بھر میں کشمیری طلبہ کے تحفظ کے لیے فوری ایڈوائزریاں جاری کیا کرتی تھی ،اس بار ایسا کوئی بھی حفاظتی یا احتیاطی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ مگر اس کے برعکس، رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر خود سرکاری اقدامات نے شکوک و شبہات اور خوف کے اس زہریلے ماحول کو مزید تقویت دی گئی ہے۔ خود جموں و کشمیر کے اندر، لال قلعہ دھماکے کے بعد کم از کم ۵۰۰؍ افراد کو تھانوں میں بلا کر گھنٹوں تک سخت تفتیش کا نشانہ بنایا گیا، جب کہ امرناتھ یاترا کے دوران اننت ناگ میں پولیس کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کی ہلاکت کے بعد وادی بھر سے ۲ہزار سے زائدافرادکو حراست میں لیا گیا۔
فورم کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں واضح کرتی ہیں کہ یہ کسی ٹھوس بنیاد پر ٹارگٹڈ تفتیش نہیں تھی بلکہ پولیس کی جانب سے کیا گیا ایک اندھا دھند آپریشن تھا۔رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ اس سال کی امرناتھ یاترا کے سکیورٹی انتظامات اب تک کی تاریخ کے سب سے سخت ترین درجے تک پہنچ گئے تھے۔ جن میں کثیر سطحی فوجی تعیناتی، نوفلائی زونز کا قیام، یاترا میں خدمات فراہم کرنے والے مقامی شہریوں کے لیے کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈز کا لازمی اجرا، اور جموں سرینگر قومی شاہراہ پر عام شہریوں کی گاڑیوں کی آمد و رفت پر کڑی پابندیاں شامل تھیں۔ رپورٹ کہتی ہے: اگرچہ زائرین کا تحفظ بلاشبہ ضروری ہے، لیکن مقامی باشندوں کی اکثریت نے ان غیر معمولی بندشوں کو اپنی روزمرہ زندگی کی مسلسل عسکری ناکہ بندی اور تذلیل کے طور پر دیکھا۔
فورم نے مساجد، دینی مدارس، ائمہ کرام اور مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے اراکین کے وسیع ذاتی کوائف اکٹھے کرنے کی حالیہ حکومتی مہم پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مانگی گئی معلومات معمول کی انتظامی ضرورتوں سے کہیں زیادہ متجاوز تھیں، جس کے ردعمل میں وادی کے ممتاز دینی پلیٹ فارم ’متحدہ مجلس علما‘ نے اس اقدام کو شہریوں کی نجی زندگی کے تقدس اور مذہبی آزادی کے بنیادی آئینی حق پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کی معیشت بغیر سوچے سمجھے اختیار کی جانے والی ان پالیسیوں کی تباہ کاریوں کا مسلسل شکار ہے۔ اعداد و شمار کا حوالہ دے کر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قومی اوسط کے تناسب سے جموں و کشمیر کی فی کس آمدنی، جو ۱۴-۲۰۱۳ء میں ۷۹ء۶ فی صد تھی، گھٹ کر اب ۷۶ء۶ فی صد پر آ چکی ہے، یعنی اس میں ۳ء۳ فی صد پوائنٹس کی نمایاں گراوٹ درج ہوئی۔ مزید برآں گریجویٹ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح ۲۳ء۹ فی صد تک جاپہنچی ہے، جو قومی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے، جب کہ سیب کی صنعت ،جو کشمیر کی دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ،گذشتہ ایک عشرے کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ ایک مستحکم، بااختیار اور جواب دہ حکومت کی عدم موجودگی کی وجہ سے روزگار، سرمایہ کاری اور دیہی ترقی کے حوالے سے طویل مدتی پالیسیاں مرتب کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ فورم کے مطابق اس کا ناگزیر نتیجہ بالخصوص نوجوان نسل میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیزاری کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۹ء کی آئینی تبدیلیوں کے فوراً بعد جموں و کشمیر کا ریاستی انسانی حقوق کمیشن (SHRC)، خواتین کا کمیشن، احتساب کمیشن اور معلوماتی کمیشن بیک جنبشِ قلم تحلیل کر دیے گئے تھے اور یہ توقع کی گئی تھی کہ منتخب حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان اداروں کا احیا ہو جائے گا۔ مگر منتخب حکومت کے تقریباً دو سال گزرنے کے بعد بھی،یہ ادارے بحال نہیں ہوسکے ہیں۔ جموں و کشمیر میں تاحال کوئی انسانی حقوق کمیشن وجود نہیں رکھتا، اور نہ قانون ساز اسمبلی نے فورم کی بار بار کی سفارشات کے باوجود انسانی حقوق پر کوئی باضابطہ اسمبلی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
اپنی گذشتہ تمام رپورٹس کے برعکس، ’فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر‘ نے اس بار پہلی مرتبہ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے حالات پر ایک مکمل اور علاحدہ باب مختص کیا ہے۔ فورم کا استدلال ہے کہ خطے میں انسانی حقوق کی صورت حال کا کوئی بھی معتبر اور دیانت دارانہ جائزہ لائن آف کنٹرول کے اس پار ہونے والی پیش رفت کو نظر انداز کر کے مکمل نہیں ہو سکتا۔مصنفین نے واضح کیا کہ ماضی کی رپورٹس میں اس خطے کو اس لیے شامل نہیں کیا جاسکا تھا، کیونکہ وہاں سے مصدقہ اور غیر جانبدار معلومات کا شدید فقدان تھا اور پاکستان میں فورم جیسا کوئی ہم منصب ادارہ کام نہیں کر رہا تھا۔ تاہم، گذشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں اٹھنے والی عوامی مظاہروں کی بڑی لہر نے ان حالات کا احاطہ کرنا ناگزیر بنا دیا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کے حالات کا احاطہ کر کے فورم نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ دونوں جانب کا سیاسی تناظر، ملکی نظام اور اسباب مختلف ہیں، لیکن جمہوری احتساب، بااختیار عوامی نمائندہ اداروں اور شہری آزادیوں کا تڑپتا ہوا مطالبہ اس پوری منقسم ریاست کے عوام کا مشترکہ درد بن چکا ہے۔
فورم نے سفارش کی ہے: جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بلا تاخیر بحال کیا جائے اور ۲۰۱۹ء کا ری آرگنائزیشن ایکٹ فوری واپس لیا جائے۔پولیس اور انتظامی اصلاحات کو تیز کیا جائے تاکہ پولیسنگ کو جمہوری تقاضوں کے تابع کیا جا سکے۔پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور یواے پی اے (UAPA) کے تحت درج تمام مقدمات اور قیدیوں کا آزادانہ عدالتی جائزہ لیا جائے اور بے بنیاد مقدمے ختم کیے جائیں۔جموں و کشمیر کے ریاستی انسانی حقوق کمیشن، خواتین کمیشن، احتساب کمیشن اور معلوماتی کمیشن کو قانون کے مطابق فی الفور دوبارہ فعال کیا جائے۔ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری طور پر ایک بااختیار کمیٹی قائم کی جائے۔
تاہم، فورم کی سب سے پُرزور اپیل یہ ہے کہ جمہوری حقوق کو سکیورٹی پالیسی کی زنجیروں سے آزاد کیا جائے اور عسکریت پسندی کو ڈھال بنا کر ریاستی درجے کی بحالی کو غیرمعینہ مدت کے لیے التوا میں ڈالنا خود ایک سکیورٹی خطرہ بن چکا ہے۔ پوری رپورٹ کے دوران مصنّفین نے سکیورٹی کے زور پر قائم انتظامی استحکام اور عوام کے منتخب جمہوری جواز کے مابین باریک اور واضح فرق کھینچا ہے۔ رپورٹ استدلال کرتی ہے کہ حقیقی امن اور حالات کے معمول پر آنے کی واحد شرط آزاد و فعال آئینی ادارے، عوام کے سامنے جواب دہ بااختیار حکومت، عدالتی تحفظات کی بالادستی اور سلب شدہ سیاسی حقوق کی غیر مشروط بحالی ہے۔
فورم کے تمام معزز اراکین اس حتمی اور اٹل نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ، نگرانی اور جمہوری احتساب کا ایک اور صرف ایک ہی راستہ ہے: اور وہ یہ کہ جموں و کشمیر کو وہ مکمل اور باوقار درجہ بغیر کسی التوا کے لوٹایا جائے جو اگست ۲۰۱۹ء میں اس سے زبردستی چھین لیا گیا تھا۔
_______________